بے قراری سی بے قراری ہے ( قسط نمبر ٧)

(گوہر شہوار, Karachi)
بے قراری سی بے قراری ایک سماجی رومانوی و روحانی ناول ہے جس کی کہانی بنیادی طور پر دو کرداروں کے ارد گرد گھومتی ہے۔ عبیر جو ایک فیشن ڈیزائنر ہے اور اسلامی فیشن میں کچھ نیا کرنا چاہتی ہے۔ تیمور درانی جو ایک ملحد ہے جس کے خیال میں محبت اور زندگی بے معنی ہے۔

کاشف بچپن سے ہی لاڈلا اور شرارتی تھا۔ اس کے والد کاظم صاحب ایک سیلف میڈ انسان ہیں۔ باپ کا سایہ سر پر سے اٹھ جانے کی وجہ سے بہت چھوٹی عمر میں مزدوری کرنا پڑی۔ پڑھائی تو ان سے نہ ہوئی، البتہ زندگی کی یونیورسٹی سے ساری ڈگریاں لے لیں۔ کئی سال مختلف طرح کی مزدوریاں کرنے کے بعد انھیں کپڑے کے کام کی تھوڑی سمجھ بوجھ پیدا ہوئی۔ ایک کپڑے کے بیوپاری کے ہاں بہت چھوٹے لیول سے کام کرنا شروع کیا۔ طبیعت میں مستقل مزاجی اور ہار نہ ماننے کا جذبہ تھا۔ ان کے ساتھ کے سب لوگ کسی ایک کام میں نہ ٹکتے، چوری چکاری کرتے، نشہ پہ لگ جاتے۔
اپنی والدہ کی کی ہوئی تربیت کے زیر اثر ان کے دل میں دین سے محبت موجود تھی۔ جیسے بھی حالات ہوں وہ کبھی اللہ سے مایوس نہیں ہوئے۔ نماز روزہ کبھی نہ چھوڑتے۔ بھوکوں کو بھی کھانا کھلاتے۔
کہتے، میں تیس سال کا ہو گیا۔ سالوں کی مزدور کی باوجود حالات نہ بدلے۔ میں پھر بھی اللہ سے نا امید تو نہیں ہوا۔ ایک دن بیمار ہوا اور سخت سردی میں مزدوری کرنا پڑی۔ باقی سب مزدور چھٹی چلے گئے۔ میں نے اکیلے کپڑے کی ساری گانٹھیں اتار کر گودام میں رکھیں۔ شام کو گھر سے لایا ہوا کھانا کھولا۔ کھانا کیا تھا صرف دو سوکھی روٹیاں اور اچار تھا۔ میرے سارے پیسے گھر کے کرائے پر لگ جاتے۔ اماں بھی بیمار رہتیں۔ اس دن جب میں نے ٹھنڈی خشک روٹی کھانا شروع کی تو ایک شدید مایوسی کی لہر میرے دل میں اٹھی۔
دل سے ایک آواز نکلی کہ کیا اتنی محنت کے بعد بھی میری قسمت میں یہی ہے۔ اسی وقت مجھے ایک آواز نے چونکایا۔ وہ گودام کے پاس رہنے والی ایک پاگل بڑھیا تھی۔
وہ پاگل بڑھیا پتا نہیں کون تھی اور کہاں سے آئی۔ کئی مہینوں سے گودام کے پاس ہی گھومتی رہتی۔ ارد گرد کے لڑکے اسے پتھر مارتے۔ وہ بھی آگے سے صلواتیں سناتی۔ ایسا لگتا اس نے جوانی میں اچھا وقت دیکھا ہے۔ سخت سردی میں بھی وہ ایک میلی سی شلوار قمیص پہنے ہوئے تھی۔ وہ سامنے کوڑے سے کچھ اٹھا کر کھارہی تھی۔ اس کی حالت دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ میں نے غیر ارادی طور پر اس کے پاس گیا اور اپنی روٹیاں اسے دے دیں۔ اس نے مجھے خالی نظروں سے دیکھا اور روٹی لے کر دور بیٹھ کر کھانے لگی۔ میں بھوکا ہی گھر چلا گیا۔
وہ دن اور آج کا دن، میں نے کبھی بھوک نہیں دیکھی۔ جو دن چڑھتا ہے میری دولت میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ شاید میرا اس دن اپنی بھوک کو بھلا کر اس پاگل کو کھانا کھلانا اللہ کو پسند آ گیا۔ میں چاہتا ہوں کہ قیامت میں اس واقعہ کے ذریعے میری مغفرت ہو جائے۔ یہ دنیا تو آنی جانی ہے۔
کاظم صاحب کا اللہ پر ایمان اور مضبوط ہو گیا اور انھوں نے زندگی کے ہر معاملے میں دین کو ہی آگے رکھا۔ بچوں کی بھی ایسی ہی تربیت کی۔ ان کی چار بیٹیوں کے بعد دو بیٹے پیدا ہوئے تھے۔ عاطف اور کاشف۔ دونوں نے بچپن سے ہی اچھے حالات دیکھے۔ بچیوں کو انھوں نے دینی تعلیم دلائی اور جلد شادیاں کر دیں۔ لڑکوں کی تعلیم اس طرح کی کہ وہ جلد بزنس سنبھال تاکہ وہ خود کاروبار چھوڑ کر اللہ کی یاد میں مگن ہو جائیں۔
بڑے بیٹے عاطف نے بہت جلد بزنس سنبھال لیا۔ لیکن کاشف چھوٹا اور لاڈلا تھا، اس پر پابندیاں اور ذمہ داریاں کم ڈالی گئیں۔
اس نے ہر وہ کام کرنا شروع کیا جو ہائی سوسائٹی میں ہوتا ہے۔ اپنی ذہانت کی وجہ سے پڑھائی نہ کرنے کے باوجود اس کے نمبر اچھے آتے۔ اس کا دل کسی کام میں دیر تک نہیں ٹکتا۔ ہر وقت کوئی نہ کوئی اوٹ پٹانگ حرکت کرتا رہتا۔
او لیول میں اسے پہلی محبت ہوئی۔ لڑکی بھی بہت خوبصورت تھی۔ دونوں نے ڈیٹس پر جانا شروع کر دیا۔ کاشف نے محبت کی سرشاری میں جانے کیا کیا سپنے دیکھ لیے۔ اسے ابھی ہائی سوسائٹی کے چلن کی سہی سمجھ نہیں آئی تھی۔ اس لڑکی نے کچھ مہینوں بعد اسے ڈمپ کر دیا اور کسی دوسرے لڑکے دوستی کر لی۔ کاشف کی حالت دیوانوں جیسی ہو گئی۔ شاید وہ کوئی سٹوپڈ حرکت کربیٹھتا مگر اچھی تربیت نے اسے روکے رکھا۔
اس بے وفائی کے بعد اس کو اس سوسائٹی کی چمک دمک کے پیچھے اصل چہرہ نظر آنا شروع ہوا۔ اس نے اپنی صلاحیتوں کو کسی مثبت طرف لگانے کا فیصلہ کیا۔ بزنس ایڈمنسٹریشن کے دوران وہ یونیورسٹی کا پاپولر ترین لڑکا تھا۔ لڑکیاں اس کے آگے پیچھے رہتیں حالانکہ وہ ان سے بیزار تھا۔ اسے ان کے خوشنما چہروں کے پیچھے خالی پن نظر آتا۔ کئی لڑکیوں نے اسے خود پروپوز بھی کیا لیکن اس نے بات کو آگے نہیں بڑھنے دیا۔
کاشف کو اب کسی ایسی لڑکی کی تلاش تھی جو باقی سب کی طرح فیک نہ ہو۔ جو چھپے ہوئے ہیرے کی طرح ہو۔ جس کا حسن صرف اس کے لیے ہو۔ وہ اپنی ساری خوشیاں اس لڑکی پر وار دے۔ اسے بہت ڈھونڈنے کے باوجود بھی ایسی کوئی لڑکی نہیں ملی۔ اس کے گھر والوں نے اس پر شادی کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کیا۔ کوئی بھی اس کی کیفیت کو نہیں سمجھ پایا۔ اس کی ماں اور بہنیں تو مایوس ہو گئیں۔ جب اس کی بھابھی شمائلہ آئیں تو اسے ان کے اندر بھی ایک خالص پن نظر آیا۔ وہ ماڈرن ہونے کے باوجود دل سے اچھی تھیں۔ وہ بھی اپنا سب کچھ اپنے شوہر کے لیے وقف کر چکی تھیں۔
اسے بھی ایسی ہی لڑکی چاہیے تھی۔ اس نے اپنا دل بھابھی کے سامنے کھول دیا۔ انھوں نے اس سے وعدہ کیا کہ ایسی لڑکی وہ ڈھونڈ کے لائیں گی۔ ہاں، جب وہ ایسی لڑکی پسند کریں تو ٌپھر کاشف انکار نہیں کرے گا۔
کاشف کو جب میرا پتا چلا تو پہلے تو اسے یقین نہ آیا۔ اس نے سوچا یہ بھی کوئی اور ڈرامہ نہ ہو۔ اسی لیے انھوں نے ایک غیر رسمی ملاقات کا بندوبست کیا۔ مجھے پہلی نظر میں دیکھتے ہی اس کے دل نے گواہی دی کہ یہی وہ لڑکی ہے جس کی اسے تلاش تھی۔ مجھ سے بات کرتے ہوئے وہ اپنے آپ کو میری طرف کھننچتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔ اس کے اندر کئی سالوں سے جو اداسی تھی وہ ختم ہو گئی۔ وہ بہت عرصے بعد ہنسنے لگا۔
عبیر تمھارے وجود اور باتوں سے میٹھی میٹھی پاکیزگی محسوس ہو تی ہے۔ تمھیں دیکھ کر میرے دل نے خود یہ گواہی دی۔ یہی وہ لڑکی ہے جس کی مجھے تلاش تھی۔
عبیر تم مجھ سے وعدہ کرو کے تم اپنی یہ پاکیزگی برقرار رکھو گی۔ تم کسی کا خیال بھی اپنے دل میں نہیں لاؤ گی۔ تم مجھے دھوکہ نہیں دو گی۔ اگر تم نے مجھے دھوکہ دیا تو یقین مانو میں تمھاری جان بھی لے لوں گا اور اپنی بھی۔
میں تم پر پابندی لگا کر گھر میں نہیں بٹھانا چاہتا، تم اپنے فیشن کے آئیڈیاز کو پرسیو کرو۔ ہاں بس فیشن کی اس دنیا کی چکا چوند سے متاثر نہ ہو جانا۔
اپنی تعریفیں سن کر بہت خوش ہوئی۔ یا اللہ تیرا شکر ہے۔ بس میری خوشیوں کو کسی حاسد کی نظر نہ لگے۔
وہ ڈراؤنا خواب مزید شدت سے نظر آنے لگا۔ مجھے اپنا ایک دوسرا چہرہ اس خواب میں نظر آتا۔ مجھے کس بات پر غصہ ہے؟ میں کیوں اس بھیٹریے کو مار رہی ہوں۔ کیوں اسے اپنے پیر چاٹنے پر مجبور کرنا چاہتی ہوں۔ وہ بھیڑیا مار کھا کھا کر سہما ہوا جانور بن جاتا۔ میں اس کے چہرے کو اپنے خوبصورت ننگے پیروں سے کچلتی اور وہ انھیں چاٹنے کی کوشش کرتا۔ جیسے وہ مجھے مالکن سمجھ رہا ہو۔
کچھ دن بعد دادی کی برسی پر سارے گھر والے قبرستان گئے۔ ہم نے فاتحہ پڑھی اور قبر پر پھول چڑھائے۔ فاتحہ پڑھتے میں رونے لگی۔ کاش آج دادی زندہ ہوتیں اور میری ان خوشیوں کو دیکھتیں۔
سب لوگ واپسی کے لیے چل پڑے لیکن میں قبر کے سرہانے بیٹھی رہی۔ مجھے دور ایک کالا کتا نظر آیا۔ قبرستان میں کتے ویسے ہی بہت پائے جاتے ہیں۔ میں نے اگنور کیا۔ یہ کتا تھوڑا مختلف لگا، بالکل کالا اور آنکھوں کے اوپر دو سفید نشان۔ اس سے نظریں ملتے ہی میرے جسم میں سردی کی ایک لہر دوڑ گئی وہ بجلی کی تیزی سے میری طرف لپکا۔ میرا تو سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ گھر والے کافی دور گیٹ پر پہنچ چکے تھے۔ یا اللہ خیر، کوئی لمحہ گزرتا اور اس نے مجھے چھلانگ لگا کر مجھے نیچے گرا لیتا۔ میں نے چیخنے کی کوشش کی مگر میرا گلا بند ہو گیا۔
قبر کے قریب پہنچتے ہی وہ پتا نہیں کس چیز سے ڈرا اور دم دبا کروا پس بھاگ گیا۔ میں تو جیسے سن وہاں بیٹھی رہی۔ ایک ہاتھ میرے کندھے پر آیا اور میں نے ڈر کر پیچھے مڑی۔
آپی! اب آبھی جاؤ سب لوگ تمھارا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ آپ کا چہرہ بالکل سفید کیوں ہو گیا ہے؟
کچھ نہیں ویسے ہی اور میں نے اپنے چہرے پر نقاب ڈال لیا۔ اور اردگرد دیکھا تو کتے کو کوئی اتا پتا نہیں تھا۔ میں نے اس واقعے کا کسی سے ذکر نہیں کیا۔
یہ واقعہ بہت کنفیوزنگ تھا۔ کیا وہ کتا ہی تھا کہ کچھ اور؟سنا ہے کہ ایسے کالے کتے جن کی آنکھوں کے اوپر تل ہو وہ شیطان ہوتے ہیں۔ شکر ہے اس نے کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔
۔ ۔ ۔
منگنی کے ہنگامے نے فیشن والے کام کو تو جیسے بھلا ہی دیا۔ عمارہ کچھ کام کرتی رہی۔ وہ پانچ چھ انویسٹرز سے ملی، مگر وہاں سے بھی ناکامی ہوئی۔ کاشف کی طرف سے اجازت ملنے کے بعد اب میں آزادی سے اپنا شوق پورا کر سکتی تھی۔
عمارہ تقریباً مایوس ہو گئی۔ وہ اپنے پاپا سے کافی پیسے ادھار لے کر لگا چکی تھی۔ پھر بھی کوئی امید نظر نہیں آئی۔ اب اس کے چہرے پر پریشانی نظر آنا شروع ہو گئی۔ ہمیں بالکل اندازہ نہ تھا کہ پاکستان میں کوئی نیا آئیڈیا لانچ کرنا کتنا مشکل ہے۔
اب کبھی کبھار میں بھی اس کے ساتھ میٹنگز میں چلی جاتی۔ وہاں جا کر اور لوگوں سے مل کر پہلی بار احساس ہوا کہ بزنس کی دنیا کس طرح چل رہی ہے۔ اس سے پہلے تو میں خیالی دنیا میں رہ رہی تھی۔ کسی سے پیسہ نکلوانا اتنا مشکل کام ہے کہ اس کے سامنے سارے کام مشکل لگنے لگے۔
ہر بار گھنٹوں تیاری کے بعد جب کسی بھی انویسٹر کے پاس جاتیں تو ہمیں دیکھتے ہی ان کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ بتا دیتی کہ یہ کیا فیصلہ کریں گے۔ سب نے کہا اس آئیڈیا کے کامیاب ہونے کی کوئی امید نہیں۔
واپس آ کر ہم انھیں خوب برا بھلا کہتیں۔ یہ الو کے پٹھے بزنس کیسے کر رہے ہیں۔
ایسے ہی چلا تو ہمارا پلان شروع ہونے سے پہلے ہی اپنی موت مرجائے گا۔ پھر ہماری قسمت میں کسی چھوٹے موٹے برینڈ کی نوکری کرنا ہی رہ جائے گا۔ ہم نے کچھ برینڈز کو بھی اپروچ کیا لیکن وہاں بھی ناسمجھ بچیاں سمجھ کر اگنور کر دیا گیا۔
میں اپنی مشکلیں کاشف سے بھی شئیر کرتی۔ وہ ہمیشہ پازیٹو رہنے اور کوشش جا رہی رکھنے کا کہتا۔ عمارہ نے تو مایوسی میں کچھ اور آپشنز پر غور شروع کر دیا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ پیرس سے فیشن ڈیزائننگ میں ایک سال کا ڈپلومہ کر کے آ جائے۔ انٹرنیشنل ایکپوژر بھی مل جائے گا اور واپس آ کر لوگ اسے سیرس بھی لیں گے۔
احساس کمتری ہمارے خون میں شامل ہے اسی لیے باہر سے آنے والوں کو ہی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس کے پاپا سپانسر کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ اگر عمارہ چلی گئی تو میں اکیلے کچھ بھی نہیں کر پاؤں گی۔
ایک دن عمارہ نے بتایا کہ اسے اس کو ایک انویسٹر کا پتا چلا ہے جو نئے نئے آئیڈیاز پر انویسٹ کرتا ہے۔ اس کی شخصیت کے بارے میں لوگوں کو زیادہ نہیں پتا۔ لیکن پچھلے پانچ سات سال میں اس نے جس بزنس میں بھی ہاتھ ڈالا ہے وہ کامیابی کی بلندیوں پر چلا گیا ہے۔ لوگ سے بہت لکی کہتے ہیں۔ اس کی سٹریٹیجی بھی یونیک ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ وہ ملاقات کے لیے ٹائم نہیں دیتا۔ جو لوگ اس سے ملتے ہیں وہ اسے بالکل بھی پسند نہیں کرتے۔۔ اس کے اندر لوگوں کو دبانے اور ذلیل کرنے کی ایک عجیب عادت ہے۔ کئی نیا آئیڈیا لے کر جانے والے تو اس کے آفس سے روتے ہوئے نکلے ہیں۔ کیونکہ اس نے نہ صرف ان کے آئیڈیا کی بلکہ ان کی پوری شخصیت کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔
یہ ہمارا آخری چانس ہے، ایک بار اسے اپنا آئیڈیا بتائیں گے۔ اس کی رائے دیکھ لیں گے۔ اگر اس کی رائے کے تحت اپنے آئیڈیا کو تبدیل کرنے کا سوچیں گے۔ ابھی تک جتنے لوگوں سے بھی ملے ہیں ان میں سے کوئی بھی سنجیدہ نہیں تھا۔ عمارہ نے بڑی ہی مشکل سے میٹنگ طے کی۔
میں پوری تیاری کر کے عمارہ کے انتظار میں بیٹھی تھی کہ اس کی کال آئی۔ اس کی گھبرائی ہوئی آواز سن کر میں بھی ڈر گئی۔ اس کی فرسٹ کزن کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے اور اسے بلڈ ڈونیٹ کرنے وہاں جانا بہت ضروری ہے۔
عمارہ خیریت تو ہے نا؟ میں بھی آؤں تمھارے ساتھ؟
سیریس ہو سکتا ہے کیونکہ بلڈ بہت بہہ گیا ہے۔ میرا اور اس کا بلڈ گروپ ایک ہے، میر اجانا بنتا ہے۔ مجھے افسوس ہے میں میٹنگ اٹینڈ نہیں کرپاؤں گی۔
یار تمھارے بغیر میں کیسے ہینڈل کروں گی۔ مجھ سے نہیں ہوپائے گا۔ میٹنگ کو پوسٹ پون کر دیتے ہیں۔
نہیں یار ایک بار یہ میٹنگ کینسل ہو گئی تو پھر ہمیں دوبارہ موقع نہیں ملے گا۔ یہ ہماری آخری امید ہے۔ پلیز تم کسی طرح مینج کر لو۔
میرے دل میں ہول اٹھنے لگے۔ ایک تو اس نے تیمور درانی کی شخصیت کے بارے میں بتا کر ڈرا دیا ہے۔ اس کے سامنے ہمیں اپنا پلان بہت تفصیل سے بتانا تھا۔ اس کے سارے سوالوں کے ایسے جواب دینے تھے کہ وہ قائل ہو جائے۔ میں اکیلے یہ سب کیسے کروں گی۔ میرا ایریا تو صرف ڈیزائننگ ہے باقی اصل کام تو عمارہ کا تھا۔ اگر اس نے ہمارے پلان کا مذاق اڑایا تو میں کیا کروں گی۔
دفع کرو۔ میں جاتی ہی نہیں ہوں۔ بعد میں دیکھیں گے جو ہو گا۔ باقی بھی تو بے شمار لوگوں نے انکار کیا ہے، اس نے بھی انکار ہی کرنا ہے۔ اسی بہانے عزت تو بچی رہے گی۔ میں کپڑے چینج کرنے چلی گئی۔
اسی لمحے عمارہ کی دوبارہ کال آئی۔
تم ابھی تک نکلی ہو کہ نہیں؟
یار جلدی نکلو تم لیٹ ہو جاؤ گی۔ تیمور درانی لیٹ ہونے والوں سے بات بھی کرنا پسند نہیں کرتا۔
یارمجھ سے نہ ہوپائے گا۔
چلی جاؤ نا یار پلیز۔۔ میں نے تمھارے لیے گاڑی بھجوادی ہے۔
کیا عجیب کشمکش ہے، اگر میں نہ گئی تو عمارہ کو کتنا دکھ ہو گا۔ وہ بیچاری کتنی میٹنگوں میں اکیلی ہی گئی تھی۔ کتنی جگہ اس نے اکیلے ہی بے عزتی کروا ئی۔ کیا میں اس کے لیے ایک میٹنگ اکیلے نہیں بھگتا سکتی۔
میں ہمت کر کے گھر سے نکل پڑی۔
آفس آٹھ منزلہ بلڈنگ کے ٹاپ فلور پر تھا۔ بلڈنگ کی لفٹ میں داخل ہوتے ہی میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ معلوم نہیں کیا ہو گا۔
اللہ کرے وہ مجھ سے ملنے سے ہی انکار کر دے۔ میں نے دل یہ دل میں آیت الکرسی پڑھی۔
آفس کا ڈیزائن دیکھ کر میں حیران ہوئی۔ یہ عام ماڈرن آفسز سے بہت مختلف تھا۔ یہاں زیادہ کام لکڑی سے ہوا تھا۔ دیواروں پر لینڈ سکیپس کی پینٹنگز تھیں۔ روشنی آنکھوں کو سکون پہچانے والی تھی۔ سارا فرنیچر لکڑی کا تھا۔ فضا میں ایک عجیب سی تازگی ہے۔ میں جیسے ہی دروازے کے پاس پہنچی دروازہ خود بخود کھل گیا۔ میں ریسپنشنسٹ کو اپنی میٹنگ کے بارے میں بتایا۔
اس کو میٹنگ کے بارے میں علم تھا۔ اس نے مجھے اپنے ساتھ آنے کا کہا۔ میں اس کے ساتھ پورے آفس سے گزر کر ایک بہت بڑے ویٹنگ روم میں آئی۔ آفس میں کوئی بیس کے قریب لوگ ہوں گے، وہ بھی آدھی سے زیادہ لڑکیاں۔ سب لوگ بہت ہی پروفیشنل نظر آ رہے تھے۔ ماحول سارا مغربی طرز کا تھا۔ لوگ آپس میں انگلش میں بات کر رہے تھے۔ لڑکیوں میں سے اکثر نے پینٹ شرٹس پہنی تھیں۔ کئی فارنرز بھی نظر آئے۔ مجھے صرف اتنا اندازہ تھا کہ تیمور درانی کی فرم پاکستان اور ملک سے باہر انویسٹمنٹ کرتی ہے۔ ان کا زیادہ فوکس تو انٹرنیشل کمپنیز کے شئیرز اور بانڈز میں ہوتا ہے۔
میں جس ویٹنگ روم میں بیٹھی وہاں سامنے پینٹنگ میں ایک شخص پہاڑ کی چوٹی پر کھڑا دور بادلوں کے پار دیکھ رہا تھا۔ دوسری طرف ایک پینٹنگ میں ایک مغل شہزادہ شیر کا شکار کر رہا تھا۔ تیسری طرف پکاسو کی مشہور پینٹنگ گرنیکا تھی جو سپین کی خانہ جنگی پر بنائی گئی تھی۔ کمرے میں ہر چیز کے رنگ انوکھے تھے۔ صوفوں کے رنگ ہلکے بادامی۔ ماحول میں ہلکی ہلکی خوشبو کچی لکڑی کے کٹنے جیسی تھی مگر بھینی بھینی۔ میں نیچے بچھے قالین کے ڈیزائنز پر غور کرنے لگی۔ ہر چیز جیسے چن کر رکھی گئی تھی۔
میں سوچنے لگی آج کل یہ انٹیرئر ڈیزائنز والوں کی تو موج ہے۔ یہ تیمور درانی شاید کوئی آرٹیسٹک ٹائپ کا بوڑھا ہے۔ یا شاید پیسہ آنے کے بعد یہ سارے ایسے ہو جاتے ہیں۔
آفس کے ماحول مجھ پر ایک سحر سا طاری کرنے لگا۔ رنگ اور خوبصورتی مجھے ویسے ہی اپنی طرف بہت زیادہ کھینچتی تھی۔ میں یہ بھول ہی گئی میں یہاں کس کام سے آئی ہوں۔ اسی وقت ایک لڑکی آئی جو شاید سیکریٹری تھی۔ حیرت کی بات ہے اس نے سکرٹ پہنی ہوئی ہے جو اس کے گھٹنوں سے تھوڑی نیچے تھی۔ ایسی لڑکیاں آفس کیسے آتی ہوں گی۔ بسوں اور ٹیکسیوں میں تو یقیناً نہیں آتی ہوں گی۔ اس سیکریٹری نے بتایا کہ باس کو اچانک ایک بہت ہی اہم کانفرنس کال کرنی پڑ گئی ہے جو ڈیلے نہیں ہو سکتی۔ آپ پلیز ایک گھنٹا ویٹ کریں۔ آپ کی تکلیف پر ہم معذرت خواہ ہیں۔
موقع اچھا ہے مجھے اسی بہانے یہاں سے نکل جانا چاہیے فوراً نکل پڑوں، لیکن میں بیٹھی رہی۔
شاید آفس کا ماحول ہی اتنا خوبصورت تھا کہ میں کچھ وقت وہاں گزارنا چاہتی تھی۔ کچھ دیر میں میرے لیے کافی اور سنیکس لاکر رکھ دیے گئے۔ کافی کا بڑا سا لال رنگ کا مگ بہت یونیک تھا۔ میں نے کافی کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں سمیٹا۔ پہلا سپ لیتے ہی میرے چودہ طبق روشن ہو گئے۔ کیا کمال کافی تھی۔ ہر سپ کے ساتھ ذائقہ بڑھتا ہی گیا۔
عبیر، دیکھ لو پیسے کے ساتھ کیا کیا چیزیں آتی ہیں۔ میں نے کافی انجوائے کرتے کرتے اپنی ڈیزائنز کو دیکھنا شروع کیا۔ کہ میں کس طرح پریزنٹ کروں گی؟ اس دوران ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا ابھی نہجانے کتنا وقت لگے گا، میں اتنی دیر میں نماز نہ پڑھ لوں۔ لیکن یہاں قبلہ کس طرف ہو گا۔ اتنے میں وہ سیکریٹری وہاں آئی۔
ایکس کیوز می ابھی کتنا وقت لگے گا؟
آدھے گھنٹے سے زیادہ لگ سکتا ہے۔
یہاں قبلہ کس طرف ہے؟
اس نے مجھے یوں دیکھا جیسے اسے سمجھ ہی نہیں آئی کہ میں کیا پوچھ رہی ہوں۔ میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن ایسے لگا کہ جیسے اسے پتا ہی نہیں ہے قبلہ کیا ہوتا ہے۔
فور گیٹ اٹ کیا میں یہاں نماز پڑھ سکتی ہوں۔
شیور۔
اسی وقت مجھے خیال آیا کہ میرے موبائل میں تو قبلہ فائنڈ کرنے والی ایپلیکیشن موجود ہے۔ میں واش روم کی طرف وضو کرنے گئی۔ واش روم بھی بہت جدید قسم کا نکلا۔ جس میں سب کچھ آٹو میٹک تھا۔ جیسے ہی واش روم کا دروازہ بند ہوا ہلکی ہلکی موسیقی چلنا شروع ہو گئی۔ حد ہے لگژری کی بھی۔
میں نے بہت خشوع وخضوع سے نماز پڑھی۔ اور دعا کی کہ انویسٹمنٹ ملے یا نہ ملے یہاں بے عزتی نہ ہو۔ نماز پڑھتے پڑھتے مجھے ویسے بھی کسی چیزکا ہوش نہیں رہتا۔ جیسے میں اللہ تعالیٰ سے باتیں کر رہی ہوں۔
میں جب نماز پڑھ کر اٹھنے لگی تو ٹھٹک گئی، سامنے صوفے پر ایک شخص مجھے نماز پڑھتے دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ہلکی سی دلچسپی تھی۔ مجھے یکدم شدید شرم کا احساس ہوا۔ اس شخص کو مجھے ایسی حالت میں نہیں دیکھنا چاہیے تھا۔ میں خاموشی سے صوفے پر آ کر بیٹھ گئی۔ یہ شخص بھی شاید کسی میٹنگ کے لیے آیا تھا۔ دیکھنے میں تیس کے قریب ہو گا۔ لیکن چہرے پر سنجیدگی اور تاثرات عمر کو بڑھا رہے تھے۔ اس نے سلیٹی رنگ کا فٹنگ والا سوٹ اور کالی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔
اس کو پہلی نظر میں دیکھتے ہی میرے دل میں ایک خوف کا احساس پیدا ہوا۔ اگرچہ اس کے نین نقش خوبصورت تھے لیکن اس کی آنکھوں اور وجود سے ایک درندگی ٹپک رہی تھی۔ ایسے جیسے کوئی بھیڑیا ہو۔ مجھے تو ایک لمحے کے لیے جھرجھری سی آ گئی اور دوسری طرف دیکھنا شروع کر دیا۔
اسی لمحے اس شخص نے بولنا شروع کر دیا۔ اس کی آواز بھاری لیکن واضح تھی۔ اس میں ایک یقین اور طاقت جھلکتی تھی۔ ایسے جیسے یہ الفاظ پتھر پر لکیر ہوں۔
آپ کو نماز پڑھتا دیکھ کر میں یہ سوچ رہا تھا کہ سائنسی دور میں رہنے والا انسان خدا کو کیسے مان سکتا ہے؟ خدا تو غاروں اور جنگلوں میں رہنے والے انسان کا مسئلہ تھا۔
جنگلوں اور غاروں میں رہنے والا انسان اپنی دنیا اور کائنات کے بارے میں کچھ بھی نہیں معلوم تھا۔ آج کے انسان کو خدا کی کیا ضرورت ہے؟ صرف نفسیاتی سہارے کے طور پر؟
میں اس کے طنزیہ سوالوں پر چونک گئی۔ یعنی یہ شخص صرف دیکھنے میں ہی برا نہیں تھا اس کی باتیں اس سے بھی زیادہ کڑوی تھیں۔ میں اس کے فضول سوالوں کے جواب نہیں دینا چاہتی۔ لیکن پھر بھی بول پڑی۔
ایک سائنسی انسان ہی تو خدا کو صحیح طرح مان سکتا ہے۔ غاروں اور جنگلوں میں رہنے والا تو صرف ڈر کے مارے ہی مانے گا۔ آج کا انسان پوری کائنات کو دیکھ کر یہ مانتا ہے کہ یہ بے فائدہ نہیں بنی اور اس کا صرف ایک ہی خالق ہے۔ اور خدا صرف نفسیاتی سہار انہیں ہے۔ وہ کائنات کو بنانے اور چلانے والا ہے۔ جو اس یقین کے ساتھ زندہ رہتا ہے وہ اپنی حقیر سی زندگی کی حیوانیت سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔
میرے اس جواب پر اس کے چہرے پر ایک طنزیہ مسکراہٹ آئی۔
اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہو کہ اس کائنات کا کوئی خالق نہیں ہے۔ یہ سب کچھ بے معنی ہے تو!
جو یہ سمجھنا چاہتا ہے سمجھتا رہے۔ ہر شخص کو آزادی ہے وہ جو مرضی سمجھے لیکن اس کے سمجھنے سے حقیقت تبدیل نہیں ہو جائے گی۔ میں نے بھی ترکی بترکی جواب دیا۔
وہ میرا جواب سن کر محضوظ ہوا۔ مجھے اس شخص سے وحشت سی ہوئی۔ میں اس کے پاس سے اٹھ جانا چاہا، مگر یوں لگا جیسے کسی نے باندھ کے رکھا ہوا ہے۔
اسی لمحے سیکریٹری آئی۔ اس نے اس شخص کو تیمور سر کہہ کر پکارا تو مجھے شاک لگا۔
یعنی میں اتنی دیر سے تیمور درانی سے گفتگو کر رہی تھی۔ لو جی عبیر صاحبہ واپس گھر چلنے کی تیاری کرو۔ تمھارا تو اصل بات کرنے سے پہلے ہی اختلاف ہو چکا ہے۔
وہ مجھے بہت غور سے دیکھنے لگا۔ اس کی نظریں میرے جسم کے آر پار ہوتی محسوس ہوئیں۔۔ اس کے دیکھنے میں کوئی شرمندگی، پردہ یا ڈر نہیں تھا۔ اس کی نظریں مجھے ایسے ٹٹول رہی تھیں جیسے ایک قصائی بکرے کو ٹٹولتا ہے۔ اس کے خیالات اور شخصیت دیکھ کر یہ تو اندازہ ہو گیا اس شخص کا خدا اور اخلاقیات سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ ہر چیز کو فائدہ نقصان میں دیکھتا ہے۔ اس کے لیے انسان اتنے ہی دلچسپ ہیں جتنا وہ فائدہ دے سکتے ہیں۔
میں نے بے دلی سے اسے اپنے بزنس پروپوزل کی فائل دی۔ اس نے پندرہ منٹ تک اسے بہت غور سے پڑھا۔ پھر اس نے سیکریٹری کو بلوایا اور یہ فائل اس کے حوالے کر دی اور کہا کہ اس کا ڈیپ اینالیسز کر کے رپورٹ کل تک مجھے دیں۔ اس کا انداز بہت ہی پروفیشنل تھا۔ میں اس کے چہرے سے یہ اندازہ نہیں لگا سکی وہ کیا سوچ رہا ہے۔
میں نے ایسا جذبات سے عاری شخص نہیں دیکھا۔ اس کی مسکراہٹ بھی آنکھوں تک نہیں جاتی تھی۔ جیسے وہ ایک رو بوٹ کی طرح مسکرا رہا ہو۔ مجھے کچھ ایسی فیلنگز آئیں جو میں آج تک محسوس نہیں کی تھیں۔ جیسے میں کسی درندے کے ساتھ بیٹھی ہوں۔ اور وہ پر تول رہا ہے کسی بھی وقت حملہ کرنے کے لیے۔
کیا یہ حقیقت ہے یا میرا ذہن ڈر کی وجہ سے یہ خیال پیدا کر رہا ہے۔
ہمارے درمیاں کی خاموشی اب مجھے چھبنے لگی۔ بہت ہی آکورڈ لگ رہا تھا۔ یہ کچھ کہہ کیوں نہیں رہا یا میرے بولنے کا انتظار کر رہا ہے؟
میں کیا بولوں؟اگر وہ ناراض ہو گیا توا؟
میں نے ہمت کر کے تھوڑا سا اپنے ڈیزائنز کی یونیکنس بتانا شروع کی۔ وہ آنکھیں جذبات سے عاری چہرے سے مجھے دیکھتا رہا۔ میں جیسے خود کلامی کر رہی ہوں۔ میں کوئی دس منٹ میں پتا نہیں کیا کیا بولتی رہی۔ اپنی طرف سے میں نے اسے متاثر کرنے کی پوری کوشش کر ڈالی۔
مگر وہ تو جیسے ایک پتھر ہو۔ مجال ہے جو ایک ذرا بھی پسندیدگی یا ناپسندیدگی کی لہر اس کے چہرے پر آئی ہو۔
یہ بندہ کیا چیز ہے؟
اچانک اس نے اسی بھاری آواز میں کہا۔
مس عبیر آپ کے ڈیزائن تو میں نے دیکھ لیے ہیں اور آپ کا پلان بھی میں نے سن لیا ہے۔ یہ سب باتیں تو آپ کی فائل میں بھی ہیں۔ آپ ان سے ہٹ کر اپنے بارے میں کچھ بتائیے۔
آپ کون ہیں؟ آپ کے اندر کیا خاص بات ہے جو اس پلان کو کامیاب بنا سکتی ہے؟
کاروبار کی کامیابی اور ناکامی کا اصل تعلق بندے سے ہی ہوتا ہے۔
میں اس کے ڈائریکٹ ہی اتنے ڈائریکٹ سوال پر گڑبڑا گئی۔ میں نے اپنی خوبیوں کے لیے جو خوبصورت الفاظ چنے تھے وہ سارے بھول گئے۔ میں تو کچھ لمحوں کے لیے خالی ذہن کے ساتھ بیٹھی رہی۔ اس بات کا کیا جواب دوں۔ کیا بتا دوں کہ میں ایک غریب سے گھر کی لڑکی ہوں جس کے اندرکوئی خاص خوبی نہیں ہے۔
میں نے جھوٹ بولنا چاہا، یوں لگا کہ وہ ایسا شخص نہیں جو جھوٹ سننا پسند کرتا ہو۔ کاش عمارہ ہوتی تو کتنی آسانی سے یہ صورتحال سنبھال لیتی۔
سر، میں ایک عام سے گھر کی عام سی لڑکی ہوں۔ اور میرے اندر کوئی خاص کوالٹی نہیں ہے۔ میں حقیقت سے زیادہ خوابوں خیالوں رہتی۔ مجھے خوبصورتی اور رنگوں سے دلچسپی ہے۔ یہی دلچسپی مجھے فیشن ڈیزائننگ میں لے آئی۔ میں اسلامی فیشن میں کچھ جدت پیدا کرنا چاہتی ہوں جس سے لڑکیاں بیک وقت فیشن ایبل بھی ہوں اور حیا دار بھی۔ بس اسی خواہش کی وجہ سے میں نے اور میری دوست نے یہ بزنس پلان بنایا۔ اس میں ڈیزائن تو سارے میں نے تیار کیے ہیں۔ البتہ باقی سار اکام عمارہ نے کیا ہے وہ آج ایمرجنسی کی وجہ سے نہیں آ سکی۔ ورنہ وہ مجھ سے بہت بہتر بیان کرتی، میں نے تو ویسے ہی خانہ پوری کی ہے۔
نہیں ایسی بات نہیں ہے۔ آپ نے بھی اپنا کیس اچھا ڈیفنڈ کیا ہے۔
مس عبیر کیا آپ اپنے چہرے سے یہ نقاب ہٹا سکتی ہیں تھوڑی دیر کے لیے۔
کیا!! میں تو جیسے صوفے سے اچھل ہی پڑی۔
میں کوئی جواب دے کر اسے ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی۔
مجھے آپ سے کمیونیکیٹ کرنے میں دشواری ہو رہی ہے۔ آپ کے چہرے کے تاثرات کو سمجھنا مشکل ہو رہا ہے۔ اس نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا۔
سوری سر میں اپنا نقاب نہیں اتار سکتی ایک تو مذہبی وجہ ہے دوسرامیں نے اپنی دادی سے وعدہ کیا ہے کہ شادی سے پہلے میں نقاب نہیں اتاروں گی۔
آپ کے مذہب میں تو اور بھی بہت کچھ منع ہے؟
اس کی باتوں کا طنز میرے دل میں اتر گیا۔ میں اسے کیسے بتاؤں کہ میں سادہ سی مسلمان لڑکی ہوں۔ جو کم علم اور کم عمل ہے۔ اپنی طرف سے بڑے بڑے گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتی ہوں۔ باقی جہاں مجبوری ہو وہاں کیا کیا جا سکتا ہے۔
مزید بے عزتی کروا نے سے بہتر ہے فوراً اٹھوں اور چل پڑوں اس نے ویسے بھی ہمارے پلان کو ریجیکٹ کر دینا ہے۔ ایک انجانی قوت مجھے وہاں بٹھا کر رکھا۔
میری بات سن کر اس کے چہرے پر پہلی بار مسکراہٹ آئی، جیسے وہ اس بات سے بہت محظوظ ہوا ہو۔ آپ کی دادی ایسا کیوں چاہتی تھیں۔
پتا نہیں، شاید وہ چاہتی تھیں کہ مجھے وہی شخص حاصل کر کے جو میرے چہرے سے نہیں میری اندر کی خوبصورتی سے متاثرہو۔
تو کیا آپ کو کوئی ایسا مل گیا ہے؟ اس نے میری منگنی کی انگوٹھی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
یہ شخص تو حد سے ہی بڑھتا جا رہا ہے۔ میں یہاں بزنس ڈسکس کرنے آئی ہوں اور یہ میری ذاتی زندگی میں گھسے جا رہا ہے۔ میں بھی کتنی عجیب ہوں کہ اس کے سارے سوالوں کے سیدھے سیدھے جواب دے رہی ہوں۔ مجھے اسے فوراً شٹ اپ کال دینی چاہئے
جی ہاں الحمد للہ مل گیا ہے اور میں بہت خوش ہوں۔
اسے بھی آپ نے اپنا چہرہ دکھایا ہے یا نہیں؟
اس آدمی کو کوئی شرم حیا ہی نہیں ہے۔ یہ اپنے کام سے کام رکھے۔
نہیں میں نے اسے اپنا چہرہ نہیں دکھایا اور وہ شادی کے بعد ہی میرا چہرہ دیکھے گا۔ میں بے اختیاری سے بولی۔
یہ جو مجھ سے اتنے ذاتی قسم کے سوال پوچھ رہا ہے تو میں بھی کیوں نہ اس سے اس کے بارے میں پوچھوں۔
تیمور صاحب آپ کی باتوں سے لگتا ہے آپ خدا اور مذہب کو نہیں مانتے؟میں نے بھی وار کیا۔
وہ ہلکا سا چونکا لیکن کوئی تاثرنہ دیا اور اسی جذبات سے عاری آواز میں بولنے لگا۔
نہیں میں خدا کو نہیں مانتا اسی لیے مذہب کو ماننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ خدا انسان کے ذہن کی تخلیق ہے۔
میں زندگی میں پہلی بار کسی ایسے شخص سے مل رہی ہوں۔ اس کی باتوں سے دل میں خود بخود نفرت پیدا ہوتی ہے۔
تو پھر اس کائنات اور آپ کی زندگی کا کیا مقصد ہے ا؟
یہ سب چیزیں ایک اتفاق کا نتیجہ ہیں۔ زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے، ہم بے مقصد پید اہوتے ہیں اور بے مقصدمر جاتے ہیں۔
اللہ!! کتنا بے حس انسان ہے جو ایسی ظالمانہ باتیں کر رہا ہے۔
اگر زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے تو آپ زندہ کیوں ہیں؟ ختم کیوں نہیں کر دیتے اس بے مقصد زندگی کو؟
آہ ایک بار کوشش کی تھی۔ لیکن خیال آیا اگر یہ زندگی اتفاق ہی ہے، تو اس حسین اتفاق کو چلنے دیتے ہیں۔ اس کی آنکھوں پہلی بار کہیں دور دیکھنے لگیں، جیسے کچھ یاد کر رہی ہوں۔
آپ کو مرنے کے بعد کی زندگی کا خیال نہیں آتا؟
نہیں !
جب میں مرجاؤں گا تو صرف تاریکی ہی تاریکی ہے۔ کبھی خیال آتا تھا کہ کوئی خدا ہونا چاہیے، اب نہیں آتا۔
تو آپ کے خیال میں زندگی صرف پلیژر اور خوشی حاصل کرنے کا نام ہے۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے؟
آپ جب پلیژر کی بات کرتی ہیں تو لگتا ہے آپ کو پتا ہی نہیں پلیژر کیا ہے۔ آپ نے پلیژر کا نام صرف سنا ہے، اور اس سے نفرت کرتی ہیں۔ اس میں قصور آپ کا نہیں آپ کے بیک گراؤنڈ کا ہے۔
مجھے غصہ آ گیا۔
کیا مطلب ہے اس شخص کا کہ مجھے پلیژر کے بارے میں نہیں پتا۔ اس کو کس نے پلیثر پرا تھارٹی لگایا ہے۔ اس جیسے لوگوں نے دین کی نافرمانی کے سارے کاموں کو پلیثر کا درجہ دیا ہوا ہے۔ ہم لوگ جانتے ہیں پلیثر کیا ہے۔ صرف دین کی وجہ سے نہیں کرتے۔
مس عبیر کچھ عرصے کے بعد انسان پلیژر سے بھی اکتا جاتا ہے۔ پلیژر بہت سادہ سی چیز ہے اس میں کوئی کمپلیکسٹی نہیں ہے آپ کے پاس پیسہ ہو تو آپ بہت جلد پلیژر کے سارے ذائقوں سے آشنا ہو سکتے ہیں۔ انسانی ذہن ہر لمحے جدت چاہتا ہے اسی لیے ہر بار پلیژر کی زیادہ ڈوز چاہئے ہوتی ہے اور ایک وقت کے بعد آپ بے حس ہو جاتے ہیں۔ کوئی نشہ، کوئی جسم، اور کوئی کام بھی مزہ نہیں دیتا۔
پھر آپ کو کچھ اور چاہیے ہوتا ہے۔
کہیں یہ سب کچھ انھیں لوگوں کے ساتھ تو نہیں ہوتا جو یہ سمجھتے ہیں کہ زندگی بے معنی ہے، اور مرنے کے بعد کچھ نہیں ہو گا۔
میں نے تو کسی ایمان والے تو ایسا کہتے نہیں سنا۔ میں نے بھی طنز کے تیر چلائے۔
ایمان والوں پر اتنی پابندیاں ہوتی ہیں کہ وہ ان پابندیوں کی تھوڑی تھوڑی نافرمانی کرنے میں ہی مزہ لیتے رہتے ہیں۔ خود کو ایمان والا بھی ثابت کرتے ہیں اور نافرمانی کا مزہ بھی لیتے ہیں۔ اصل بات تو یہ ہے کہ کوئی روک ٹوک نہ ہو پھر وہ کام نہ کرو۔ کسی بھی کام میں آدھا مزہ تجسس اور ڈر سے پیدا ہوتا ہے۔
آپ ہمیشہ سے ایسے تھے یا کسی واقعے کی وجہ سے ایسے ہو گئے ہیں۔
یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ آپ کو اس سے دلچسپی نہیں ہو گی۔ ہو سکتا ہے اسے سن لر آپ کا ایمان ہی ڈگمگا جائے۔
ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ میں خدا پر پورے دل سے ایمان رکھتی ہوں۔ دنیا کی کوئی طاقت مجھ سے یہ میرا یمان نہیں چھین سکتی۔
اس کے چہرے پر ایک دلچسپ مسکراہٹ آئی۔
مس عبیر بہت کم لوگ مجھے سے اس طرح سے مخاطب ہو کر ایسے سوال کرتے ہیں۔ عموماًصرف میں ہی سوال کرتا ہوں اور لوگ جواب دیتے ہیں۔
میرے پاس لوگوں کی فضولیات کا وقت نہیں ہوتا۔ کیونکہ میں وقت کے ساتھ لوگوں کو جانچنا سیکھ لیا ہے۔ میرے سامنے لوگ بڑی بڑی بڑھکیں مارتے ہیں اور مجھے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اندر سے کھوکھلے ہیں۔
آپ نے خود کو ایک عام سی لڑکی کہا۔ لیکن مجھے آپ کے اندر کچھ خاص محسوس ہو رہا ہے۔
آپ کے بزنس پروپوزل کے بارے میں میں آپ کو واضح طور پر یہ بتا سکتا ہوں کہ یہ فیل ہو جائے گا۔ وہ یہ کہہ کر اٹھ گیا۔
مجھے تو کچھ کہنے اور سننے کا موقع ہی نہیں ملا۔ میں جب تک سمجھتی وہ اٹھ کر واپس اپنے کمرے میں جاچکا تھا۔ عجیب گھامڑ شخص ہے اتنی دیر تک فضول سی باتیں پوچھتا اور بتاتا رہا۔ اصل کام کی بات پر ایک لائن کہہ کر چلا گیا۔ ایڈیٹ۔۔
میں شدید غصے میں وہاں سے نکلی۔ میں بھی کتنی سٹوپڈ ہوں جو اتنے پرسنل سوالوں کے ایک فرمانبردار بچی کی طرح جواب دیتی رہی۔ آخر میں وہی ٹھینگا ملا۔
سارا راستہ میرا موڈ خراب رہا۔ مجھے ڈر تھا کہیں وہ ہمارا آئیڈیا چوری کر کے خود نہ استعمال کر لے۔ میں نے تو سارے ڈیزائنز کے بلیو پرنٹ بھی اسے دے دیے تھے۔
شام کو عمارہ کی کال آئی۔ اس کی کزن بچ گئی۔ دو بوتل خون دینے کے بعد بھی عمارہ کے لہجے میں تازگی تھی۔
ہم تو جن سے محبت کرتے ہیں ان کو اپنا خون کیا دل اور گردے بھی دینے کو تیار رہتے ہیں۔
آج کی میٹنگ کے بعد میرا دل آدھا رہ گیا ہے اپنا دل مجھے ڈونیٹ کر دو۔ تمھار ہی حوصلہ ہے جو ایسے لوگوں کو بھگتتی رہتی ہو اور تمھیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عجیب فضول آدمی ہے یہ تیمور درانی۔
میں نے اسے آج کی دکھ بھری کہانی سنائی۔ عمارہ سنجیدہ ہو گئی پہلی بار عمارہ کی آواز میں شکست محسوس ہوئی۔ یوں جیسے کوئی خواب ٹوٹ گیا ہو۔
میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ تیمور درانی ایک ایڈیٹ ہے۔ اس نے تو کوئی بڑا اینالیسز نہیں کیا۔
عمارہ کا لہجہ بہت ہی مایوسانہ ہو گیا۔ جیسے کوئی مر گیا ہو

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: گوہر شہوار

Read More Articles by گوہر شہوار: 23 Articles with 14474 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Mar, 2018 Views: 574

Comments

آپ کی رائے