بے قراری سی بے قراری ہے ( قسط نمبر ٦)

(گوہر شہوار, karachi)
بے قراری سی بے قراری ایک سماجی رومانوی و روحانی ناول ہے جس کی کہانی بنیادی طور پر دو کرداروں کے ارد گرد گھومتی ہے۔ عبیر جو ایک فیشن ڈیزائنر ہے اور اسلامی فیشن میں کچھ نیا کرنا چاہتی ہے۔ تیمور درانی جو ایک ملحد ہے جس کے خیال میں محبت اور زندگی بے معنی ہے۔

اگلے کچھ دن بہت بے چینی سے کٹے، ہر وقت دھڑکا لگا رہتا کہیں شمائلہ رشتہ لے کر نہ پہنچ جائیں۔ مجھے مکس فیلنگ آ رہی تھیں جیسے میں چاہ بھی رہی ہوں کہ ایسا ہو اور نہیں بھی چاہ رہی۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔
امی کی سیکریسی کا راز بھی کھل گیا۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ ایک رشتے والی کی طرف سے ایک بہت اچھا رشتہ آیا تھا۔ تمھارے ابا اور مجھے وہ بہت پسند آیا، تمھارے ابا نے لڑکے اور اس کے خاندان کے بارے میں سب پتا بھی کروا کر رشتہ قبول کر لیا ہے۔ اگلے ہفتے وہ لوگ منگنی کرنے ہمارے گھر آ رہے ہیں۔
کیا!!
یہ خبر میرے لیے ایک دھماکے سے کم نہیں تھی۔ یعنی میری مرضی پوچھے بغیر کسی نتھو خیرے سے میری بات پکی کر دی ہے۔ مجھے شدید غم ہوا۔
لیکن امی میری مرضی۔ ۔
بیٹا لڑکا بہت اچھے گھرانے کا ہے اور بہت اچھا کماتا ہے۔ تم بہت سکھی رہو گی۔ یہ پسند نا پسند والی باتیں وقت ہوتی ہیں۔ سکھی زندگی کے لیے کچھ اور ہی چیزیں چاہئے ہوتی ہیں۔
مجھے ابا کی پسند کا پتا تھا۔ ہو گا کوئی میڑک فیل دکان دار۔
میں نے اماں سے کچھ پوچھنا یا بتانا مناسب نہیں سمجھا، اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔ میں بالکل ہی بے بس اور مجبور ہوں۔ ہم لڑکیوں کے بس میں کچھ ہے بھی یا نہیں۔
میں نے عمارہ کو فون کیا اور دیر تک اپنے دکھڑے سناتی رہی۔ اس کو بھی دکھ ہوا۔ اب وہ سوائے تسلی دینے کے کیا کر سکتی تھی۔
منگنی کا فنکشن بہت سادگی سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بہت قریبی افراد کے علاوہ کسی کو انوائٹ نہیں کیا گیا۔ مجھے اب کسی چیز سے کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی۔ میں کپڑوں اور جیولری کو ایسے دیکھنے لگی جیسے یہ کسی اور کی ہوں۔ شگفتہ نے مجھے تسلی دی، اور ہر کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
میں کیا کروں؟کہیں بھاگ چلوں، یا خود کشی کر لوں۔ یا اللہ ویسا سب نہ ہو جیسا میں سوچ رہی ہوں۔ یعنی اب میں بھی ساری زندگی اماں کی طرح گھر میں ہی مصروف رہوں گی۔ میرے سارے شوق دبے کے دبے ہی رہ جائیں گے۔ کہاں گئیں وہ دادی اماں کی باتیں، کیا وہ سب جھوٹ تھا؟ کہ کوئی شہزادہ مجھے ڈھونڈتا ہوا آئے گا۔
میں نے عمارہ کو اپنی منگنی پر آنے سے منع کر دیا۔ یہ منگنی نہیں میرا جنازہ تھا۔ میں اسے اپنا اداس چہرہ کیسے دکھاؤں۔
لیکن وہ زبردستی آ گئی۔ اور بہت قیمتی گفٹ بھی لے کر آئی۔ وہ آتے ہی اماں اور شگفتہ کے ساتھ گھل مل گئی۔ میرا روہانسا سا چہرہ دیکھ کر مجھے بار بار تسلی دیتی۔ پر مجھے چین نہ آیا۔
تب سمجھ آئی، میرے خواب کی تعبیر کیا ہے: میں ایک بھیڑیے کی قید میں جانے والی ہوں، جو مجھے ساری زندگی قید میں رکھے گا۔ میرے سارے شوق ختم ہو جائیں گے۔ میں بھی ایک جاہل قسم کی لڑاکا عورت بن جاؤں گی جو سارا دن ساس اور نندوں سے لڑتی رہے گی۔
زندگی کے کھیل بھی نرالے ہیں ہم جس خواب اور امید کے سہارے ساری زندگی گزارتے ہیں۔ وہی جھوٹا ثابت ہو جاتا ہے۔ اماں نے بھی اپنی شادی کے وقت ایسا ہی محسوس کیا ہو گا۔
کسی کے دکھ کا احساس بھی اس وقت ہوتا ہے جب آپ اسے خود محسوس کرتے ہیں۔ کتنی ہی لڑکیاں پاکستان اور دنیا بھر میں اس دکھ سے گزرتی ہوں گی۔
میری بڑی خالہ صبیحہ بانو بہت خوبصورت تھیں۔ میں نے جب انھیں دیکھا وہ اس وقت چالیس سال سے اوپر ہوں گی۔ انھیں دیکھنے والا دیکھتا ہی رہ جاتا۔ ان کے خوبصورت چہرے پر وقت اداسی چھائی رہتی۔ کبھی کبھی ان کے چہرے پر نیلے نشان بھی نظر آتے۔ اماں ان سے بہت محبت کرتی تھیں۔ نانی کی فوتگی کے بعد انھیں اپنی ماں جیسا سمجھتیں۔ مجھے اس وقت ان کی اداسی کی سمجھ نہیں آتی تھی۔ جب میں بڑی ہوئی تو معلوم ہوا کہ ان کی شادی زبردستی کی گئی تھی۔ وہ اپنے کزن کو پسند کرتی تھیں۔ غربت کی وجہ سے ان کی شادی اپنے سے بہت بڑی عمر والے شخص سے ہوئی۔
ان کے شوہر کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کرتے تھے۔ کاروبار کے شروع میں انھوں نے کافی پیسے کمائے۔ اکثر نودلتیوں کی طرح ان سے بھی پیسے سنبھالے نہیں گئے۔ بہت جلد انھیں جوئے اور شراب کی لت پڑ گئی۔ شادی کے کچھ دن بعد ہی معلوم ہو گیا کہ دونوں میاں بیوی میں کوئی مطابقت نہیں ہے۔ صبیحہ خالہ کی محبت کا زخم ابھی تازہ تھا۔ کچھ دن بعد انھیں کچھ اور طرح کے زخم بھی ملنا شروع ہو گئے۔
خالو اکثر نشے میں دھت گھر آتے۔ ذرا ذرا سی بات پر خالہ کو مارنا شروع کر دیتے۔ شروع شروع میں خالہ روٹھ کر کئی کئی دن کے لیے گھر آ کر بیٹھ جاتیں۔ تب ان کی ساس انھیں منا کر لے جاتیں۔ ان کی مصیبتیں کسی صورت کم نہ ہوتیں۔ ان دنوں طلاق کا تو تصور بھی نہ کیا جاتا۔ یہی کہا جاتا: پیا گھر سے ہی جنازہ نکلے گا۔
خالہ چپکے چپکے روتی رہتیں، اور لوگوں سے اپنے چہرے کے زخم چھپاتیں۔ اس دوران ان کی دو بیٹیاں بھی پیدا گئیں۔ چھوٹی بچیوں کو دیکھ کر بھی خالو کی حرکتیں ٹھیک نہ ہوئیں۔ ان کی جوئے کی لت نے ان کی ساری کمائی چھیننا شروع کر دی۔ کچھ ہی سالوں میں وہ صرف ایک گھر رہ گیا۔ قریب تھا کہ وہ بھی بک جاتا۔ وہ مکان خاندانی ہونے کی وجہ سے ساس کے نام پر تھا۔ انھوں نے مرنے سے پہلے یہ مکان صبیحہ خالہ کے نام لگا دیا۔ یہ وصیت بھی کر گئیں کے اس مکان کو بیچا نہیں جا سکتا۔ وہ اپنے بیٹے کو جانتی تھیں۔ انھیں افسوس تھا کہ انھوں نے اتنی خوبصورت لڑکی کی زندگی برباد کر دی۔ یہ گھر خالہ کے نام لگانا بھی ایک طرح کا کفارہ تھا۔ خالو نے اس بات پر بھی بہت شور ڈالا۔
خالو کے مالی حالات دگرگوں ہو گئے۔ خالہ نے گھر کا خرچہ چلانے کے لیے ایک فیکٹری میں نوکری شروع کر دی۔ وہ جتنا کماتیں اس سے بمشکل دو وقت کی روٹی میسر آتی۔ ان کی تین بیٹیاں اور دو بیٹے تھے۔ خالو شہر میں آوارہ گردی کرتے رہتے۔ خالہ کو کام کرنے سے روکتے۔ کئی بار سڑک پر لڑائی بھی شروع کر دیتے۔ محلے کے بچے سارا دن خالو کو تنگ کرتے۔ خالہ کی غربت اور خالو کی حرکتوں کی وجہ سے کئی بری فطرت کے لوگوں نے خالہ کی طرف اپنے غلیظ ہاتھ بڑھائے۔ ان کی خوبصورتی کے چرچے تو تھے ہی۔ کئی نوکریوں میں انھیں لالچ دے کر قائل کرنے کی کوشش کی جاتی۔ اسی حالت میں خالو فوت ہوئے۔ ان کی فوتگی کے بعد لوگ اور شیر ہو گئے۔
خالہ نے بڑی دلیری سے ان ساری مصیبتوں کا مقابلہ کیا۔ وہ اندر سے ٹوٹ گئیں۔ ان کی تینوں بیٹیاں ڈاکٹر بن گئیں، اور بیٹوں نے اکاؤنٹس کی تعلیم حاصل کی۔ جب ان کا بیٹا نوکری پر لگا اس کے کچھ دن بعد وہ خاموشی سے فوت ہو گئیں۔ انھوں نے اپنے کسی بچے کی خوشی نہیں دیکھی۔ میں ان کے جنازے پر گئی تو ان کے چہرے پر ایک سکون نظر آیا۔ جیسے ان کے سر سے کوئی بوجھ اتر گیا ہو۔
کیا میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہو گا؟
مجھے شگفتہ نے بتایا کہ وہ لوگ آ گئے ہیں۔
اب مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ وہ کس گاڑی سے اور کتنے لوگ آئے ہیں وغیرہ۔
میری بلا سے سار اشہر آ جائے یا کوئی بھی نہ آئے۔
بعد میں پتا چلا کہ میرا منگنی کا سوٹ عمارہ اور شکفتہ نے بہت مہنگے ڈیزائنر سے بنوایا تھا۔ اس پر اتنا ڈیٹیل سے کام ہوا کہ دیکھتے رہ جاؤ۔ اپنے اس فنکشن کے مجھے کتنے ارمان تھے۔ ہم لڑکیوں کی زندگی میں یہ فنکشن ہی تو ہیں۔ جہاں ہم ساری توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ میں اپنی ساری کزنز کو بلانا چاہتی تھی۔ پر میری زندگی کا سب سے اہم فنکشن میرے لیے سب سے بڑا دکھ لے کر آیا۔
عمارہ سار وقت میرے ساتھ رہی، وہ اس فنکشن کو یوں انجوائے کر تی رہی جیسے بہت خوشی کی بات ہو۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر قہقہے لگاتی۔ صحیح کہتے ہیں سہیلیاں سب نام کی ہی ہمدرد ہوتی ہیں۔ بجائے اس کے کہ وہ میرے ساتھ اداس بیٹھے وہ میرے غم کو سیلیبریٹ کر رہی تھی۔
مجھے آوازیں آئیں کہ لڑکے کے گھر کی عورتیں مجھے انگوٹھی پہنانے آ رہی ہیں۔ میرا دل بہت زور زور سے دھڑکنے لگا۔ جی بے اختیار رونے کو چاہا۔ میں بس نظریں جھکائے بیٹھی رہی۔ میں نے یہ دیکھنے کی زحمت نہیں کی کہ مجھے کون انگوٹھی پہنا رہا ہے۔ میرا ذہن سائیں سائیں کرنے لگا۔ کوئی معجزہ نہیں ہوا اور مقدر کا لکھا پورا ہو گیا۔
مبارک مبارک کی آوازیں آئیں، مٹھائیاں کھلائی گئیں۔ اس دن مجھے پہلے بار مٹھائی کڑوی لگی۔
اسی دوران کھانا بھی لگا دیا گیا۔ میری بھوک پیاس سب مر گئی۔ عمارہ پلیٹ بھر کے میرے اور اپنے لیے لے آئی۔ یعنی کوئی حد ہوتی ہے۔ اس کو اس وقت بھی بھوک لگی تھی۔ ساتھ ساتھ کھانے کی تعریف بھی کرنے لگی، توبہ ہے۔
عبیر اپنے منگیتر کی لیٹسٹ تصویر تو دیکھ لو۔ کتنا ہینڈسم لگ رہا ہے۔
میری آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔ مجھے نہیں دیکھنی۔ ساری زندگی اب یہی چہرہ تو دیکھنا ہے۔
اچھا رونا بند کرو، اتنا بھی برا نہیں ہے۔۔
کہہ دیا نا نہیں دیکھنا مجھے کچھ بھی۔
دیکھ لونا عبیر، مجھے ایک جانی پہچانی آواز سنائی دی۔
سارہ یہاں کیا کر رہی ہے۔ اس کو کس نے انوائیٹ کیا ہے، تبھی میری نظر شمائلہ پر پڑی۔ مجھے انگوٹھی شمائلہ نے ہی پہنائی تھی۔ اس بات کا کیا مطلب ہے؟ کہیں میرا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا؟
شاید غم کی حالت میں ایسا ہو رہا تھا۔
یہ خواب نہیں، یہ لوگ حقیقت میں یہاں موجود تھے۔ میں نے فوراً عمارہ کو دیکھا وہ بڑے شریر انداز سے مسکرا ئی۔
اس کا مطلب تھا میری منگنی کاشف سے۔ ۔ ۔۔
اور عمارہ کو شروع سے سب کچھ پتا تھا۔ جان بوجھ کر میرے ساتھ مذاق کر رہی تھی۔
میں نے اسے مصنوعی غصے سے ایک چٹکی کاٹی اور وہ اچھل پڑی
یہ کس لیے؟
مجھے اندھیرے میں رکھنے کے لیے، یہاں اتنے دن سے میری جان پر بنی ہوئی تھی اور تم جانتے بھوجتے انجوائے کرتی رہیں۔
انجوائے تو میں نے خوب کیا۔ پچھلے سارے بدلے اتارے ہیں۔ ویسے تمھاری پریشانی دیکھ کر مجھے یہ تو سمجھ آ گیا تھا کہ تمھیں کاشف پسند آ گیا ہے۔
میں تھوڑا شرمائی، ایسی بات نہیں ہے۔ مجھے ڈر تھا کہ ابا کسی کے بھی ساتھ میری شادی کر دیں گے۔
اس کے بعد میں بھی کھانے کو انجوائے کرنے لگی۔ سارہ اور شمائلہ کے ساتھ ہنس ہنس کے باتیں شروع کیں۔ میں اپنی ڈائمنڈ کی انگوٹھی کو دیکھ کر خوش ہوئی۔ اچانک زندگی کی ساری خوشیاں لوٹ آئیں۔ کمرے میں روشنی تھوڑی زیادہ ہو گئی۔
میں نے امی کو دیکھا تو وہ بہت خوش نظر آئیں۔ جیسے میرے چہرے میں اپنی جوانی دیکھ رہی ہوں۔ جاتے ہوئے سارانے چپکے سے پوچھا کہ اگر کاشف تم سے رابطہ کرنا چاہے تو تمھیں اعتراض تو نہیں ہو گا۔ آئی مین تم لوگ اینگیج ہو گئے ہو پھر بھی تمھاری مرضی پوچھنا ضروری ہے۔
میں اس بات کا کیا جواب دیتی۔ اس وقت نہ کہنا بھی مناسب نہیں لگا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بعد میں عمارہ نے مجھے ساری کہانی سنائی۔ شمائلہ کو میں بہت پہلے ہی پسند آ گئی تھی۔ اس نے غیر محسوسانہ طریقے سے میرے بارے میں سب پتا کروا لیا۔ اسے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ میرے رشتے میں اصل فیصلہ کرنے والے امی ابا ہی ہیں۔ اگر یونیورسٹی کے ریفرنس سے رشتہ گیا تو معاملہ بگڑ سکتا ہے۔ انھوں نے دوسرے سوشل لنکس کا استعمال کیا۔ امی ابا کی طرف سے کچھ پوزیٹیو ریسپانس ملا تو پھر انھوں نے میری اور کاشف کی ملاقات کا بھی بندوبست کر دیا۔
اس دن ہونے والی ہماری ملاقات محض اتفاقیہ نہیں، پلانڈ تھی۔۔
عمارہ بھی اس منصوبے میں برابر کی شریک تھی۔ میں نے حیرانگی سے یہ کہانی سنی اور لوگوں کی چالاکی کی داد دی۔
اس دن کے بعد میرے سر سے بوجھ اتر گیا۔ عجیب سی خوشی محسوس ہونے لگی۔ میرا مستقبل اتنا بھی تاریک نہیں ہے۔ اماں ابا بھی خوش ہو گئے۔ انھوں نے اب شادی کی تیاریاں شروع کر دیں۔ ایک سال کے اندر اندر رخصتی کا پلان ہے۔ منگنی کے ایک دو دن کے بعد مجھے کاشف کا میسج آیا۔
اب میں اس سے کیا بات کروں۔ میں نے آج تک کسی لڑکے سے موبائل پر میسجنگ اور کال نہیں کی۔ پتا نہیں وہ میری باتوں سے کیا مطلب لے گا۔
میں شروع میں ریزرو ہی رہی۔ زیادہ ایڈوانس شو کرنا بھی مناسب نہیں۔ رفتہ رفتہ میری جھجک ختم ہونے لگی۔ اس کی باتیں بھی اتنی فنی ہوتیں کہ میرا سارا خوف دور ہو گیا۔ میں اس کے ساتھ بہت کمفرٹیبل ہو گئی۔
میں نے خود کو بھی قائل کیا، میں کچھ برا تو نہیں کر رہی، آخر وہ میرا منگیتر ہے۔ واقعی منگنی کے بعد کا پیریڈ بہت مزے کاہوتا ہے۔
میسج سے ہم کالز پر آ گئے۔ مجھے ہر لمحہ اسی کا خیال رہتا۔ ہر وقت موبائل پر اس کے میسج یا کال کا انتظار ہوتا۔ اگر ایک دن وہ کال نہ کرتا تو میں بے چین ہو جاتی۔ شرم کے مارے میں خود اسے کال نہیں کرپاتی۔ جانے میرے بارے میں کیا سوچے گا۔
ہر شام جب میں شگفتہ کو کمرے سے باہر جانے کا کہتی تو وہ انجان بن کر پوچھتی۔
کیوں باجی کس لیے؟
میں اسے زور سے تکیہ مارتی تو وہ ہنستے ہوئے باہر جاتی۔
ذرا سوچیں کچھ دن کے لیے فون سروس بند ہو گئی تو کیا ہو گا۔
یا آپ مرجائیں گی یا کاشف بھائی مر جائیں گے۔
اللہ نہ کرے انھیں کچھ ہو۔
اوہو ابھی سے کاشف بھائی کو نام کے بجائے "ان " کہنا شروع کر دیا۔ ویسے اتنی دیر تک آپ لوگ کیا باتیں کرتے ہیں؟ بور نہیں ہوتے؟
ہوتی ہیں کچھ باتیں جو تمھارے پریکٹیکل ذہن کو سمجھ نہیں آئیں گی۔
کاشف اور میں کچھ دنوں میں بہت قریب آ گئے۔ میں نے اسے اپنے بارے میں سب کچھ بتا دیا۔ یہ بھی کہ شادی سے پہلے میں اسے اپنا چہرہ نہیں دکھاؤں گی۔
عبیر تمھارا یہ پردہ مجھے بہت تڑپاتا ہے۔ تم اگر مجھے برباد کرنا چاہتی ہو تو ایک بار ہی نقاب اٹھا کر برباد کر دو۔
یہ پردہ داری ہے یا تماشا مجھی میں رہ کر مجھی سے پردہ
تباہ کرنا اگر ہے مجھہ کو اٹھا نقاب اور تباہ کر دے
یہ سن کر مجھے بہت ہنسی آئی۔
سوری مجھے آپ کو تباہ کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے اسی لیے میں اپنا نقاب نہیں اٹھاؤں گی۔
وہ باہر ملنے کا اصرارکر تا لیکن میں اس پر تیار نہ ہوتی۔ کسی جاننے والے نے دیکھ لیا تو جانے میرے بارے میں کیا سوچے گا۔ فون پر بات کرنے کی تو خیر ہے میں اور کاشف شادی کے بعد کی زندگی کو بھی ڈسکس کرتے۔ اس نے ہنی مون بھی پلان کر لیا۔ ہر کچھ دن کے بعد اس کی طرف سے مجھے گفٹ آتے رہتے۔ میں اسے منع کرتی لیکن وہ باز نہ آتا۔ اس کی چاہت دیکھ کر مجھے اپنی خوش قسمتی پر یقین نہ آتا۔
کاشف عام لڑکوں جیسا چھچورا نہیں تھا۔ اس کے دل میں جو ہوتا ہے وہ بغیر جھجک کہہ دیتا۔ بولتا اتنے دھیمے اور میٹھے انداز سے ہے کہ خود بخود اس پر پیار آنے لگتا۔ میں گھنٹوں اس کی فیس بک پکس دیکھتی رہتی
تیری صورت کو دیکھ کر مری جاں
خود بخود دل میں پیار اٹھتا ہے
فنی باتیں کر کے مجھے بور نہ ہونے دیتا۔ اس کی ایکٹویٹیز بہت تھیں۔ میں سوچتی میرے لیے ٹائم کیسے نکالتا ہو گا؟
آوٹنگ کا بھی شوقین تھا۔ ہر وقت دوستوں کے ساتھ کسی نہ کسی ریسٹورنٹ میں ہوتا۔ فیس بک اور ٹوئٹر پر بھی بہت ایکٹو تھا۔ ایڈونچر اور تھرل والے کاموں میں آگے آگے ہوتا۔ کبھی بنجی جمپنگ تو کبھی ماؤنٹین کلائمبنگ۔ اس کے کولیگز میں ایلیٹ کلاس کی لڑکیاں بھی شامل تھیں۔ جب میں لڑکیوں کے ساتھ اس کی پرانی تصویریں دیکھتی تو عجیب سی جیلسی ہوتی۔ حیرت ہے ایسا لڑکا بغیر تصویر دیکھے یا ملے دیکھے شادی پر تیار کیسے ہو گیا۔
واقعی جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں۔
تجسس کے مارے ایک دن میں نے اس سے ڈائریکٹ پوچھ لیا۔ تم نے میرے ساتھ شادی کی حامی کیوں بھری۔ جب کہ تم نے میر اچہرہ بھی نہیں دیکھا۔
اس نے لمبی آہ بھری۔
عبیر یہ ایک لمبی کہانی ہے، جان کر کیا کرو گی۔ تم بس جان لو کہ ہمارا ملنا مقدر میں لکھا تھا۔
نہیں مجھے تمھاری کہانی سننا ہے۔ میں نے بھی تو تمھیں اپنی ساری باتیں بتا ئی ہیں۔
میری ضد کے سامنے اس نے گھٹنے ٹیک دیے۔ ویسے بھی وہ میری کسی بات کو نہیں ٹالتا۔
آہ! عبیر تمھارے ہونٹوں سے نکلی بات میرے لیے حکم کا درجہ رکھتی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: گوہر شہوار

Read More Articles by گوہر شہوار: 23 Articles with 15123 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Mar, 2018 Views: 447

Comments

آپ کی رائے