کیا زکوة ٹیکس ہے؟

(محمد فاروق حسن, ڈسکہ)
زکوٰة اور عشر میں بھی فرق ہوتا ہے زکوٰة 2.5 فیصد قابل نصاب مال پر ہے جبکہ عشر5 سے 10 فیصد ہے اگر بارانی زمین ہو تو 10 فیصد اور بصورت دیگر 5 فیصد ادا کرنا ہوتا ہے اگر یہ ٹیکس ہوتا تو اس کا نصاب حکمرانوں پر چھوڑدیا جاتاجتنے فیصد سے تمہارا گزارا ہوتا ہے لاگو کرلیا کرو،

پچھلے دنوں ایک دوست نے ایک ویڈیو کلپ ارسال کیا جس میں ایک مفتی نما شخص کسی ٹی وی چینل پر بتارہے تھے کہ زکواة بھی ٹیکس ہے اگر کسی نے اتنا ٹیکس ادا کردیا جتنی اس پر زکوة واجب تھی تو اب اس کی زکوة ادا ہوگئی میں اس وقت سے گہری سوچ میں گم رہا کہ اب یہ ٹی وی اسکالر اتنی بڑی باتیں کسی روانی میں کرجاتے ہیں اور ان کی زبان پر ذرہ برابر بھی لکنت ظاہر نہیں ہوتی گویا قرآن کی آیت کا ترجمہ کررہے ہیں یا پھر امت کے اجماع پر لب کشائی فرمارہے ہیں۔

1 ۔اگر شریعت کی روشنی میں بغور دیکھا جائے تو زکواة بالکل ٹیکس نہیں ہے بلکہ یہ اسلام کا اہم رکن ہے جبکہ ٹیکس کی نوعیت کچھ اورہوتی ہے ٹیکس اکثر اوقات ظلم کے زمرے میں ہی ہوتاہے آئیں ذرا دیکھتے ہیں کہ زکواة اور ٹیکس میں کیا فرق ہیں۔
1 ۔زکواة اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد فریضہ ہے اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ہے جس کا تارک واجب القتل ہیں صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ کا اس بات پر اجتماع ہے کہ ایسے شخص سے لڑائی کی جائے گی اور اگر وہ زکوٰة نہ دے تو اس کو قتل کردیا جائے گا اسی لئے عہد صدیقی اکبر میں منکرین زکوٰة کے خلاف باقاعدہ قتال ہوا جبکہ ٹیکس معروضی حالات میں وقتی طورپر لاگو کیا جاسکتا ہے پھر اس سے حاصل ہونے والی رقم کو امانت داری کے ساتھ امت اسلامیہ کی حفاظت یا بیہود کے لیے خرچ کیا جائے لیکن اگر اس کے بغیر گزارہ چلتا ہو تو پھر ٹیکس لگانا ظلم قرار پاتا ہے،
عہدنبوت میں ایک عورت نے بدکاری کرلی اس نے خود کو سزا کے لیے پیش کردیا آپﷺ نے اس کو پتھر مار کر رجم کرنے کا حکم دیا اس کاخون حضرت خالد رضی اللہ عنہ پر بھی گرگیا انہوں نے اس عورت کے بارے میں برے الفاظ استعمال کئے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا خالد رضی اللہ عنہ حوصلہ کرو اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ٹیکس لینے والا بھی ایسی توبہ کرے تو اس کو بھی بخش دیا جائے(صحیح مسلم سنن ابی داﺅد)
2 ۔
زکوٰة اور عشر میں بھی فرق ہوتا ہے زکوٰة 2.5 فیصد قابل نصاب مال پر ہے جبکہ عشر5 سے 10 فیصد ہے اگر بارانی زمین ہو تو 10 فیصد اور بصورت دیگر 5 فیصد ادا کرنا ہوتا ہے اگر یہ ٹیکس ہوتا تو اس کا نصاب حکمرانوں پر چھوڑدیا جاتاجتنے فیصد سے تمہارا گزارا ہوتا ہے لاگو کرلیا کرو،
3 ۔پھر زکوٰة عشر کے مصارف آٹھ ہیں جن کو ذکر سورة توبہ میں آیا ہے اس کے علاوہ کسی مصرف میں اس کو استعمال کرنا جائز نہیں ہے جبکہ ٹیکس کےد سیوں مصارف ہیں جہاں حکومت اس کو خرچ کرنا چاہتے اپنی مرضی سے کرسکتی ہے،جبکہ مصارف کا معاملہ بہت حساس اور اس سے بالکل مختلف ہے رسول اللہﷺ کے پاس زیاد بن حارث صدائی آکر تعاون کی درخواست کرتے ہیں تو آپﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ زکوٰة کی تقسیم کے بارے میں کسی نبی یا غیر نبی کی صوابدید پر بھی راضی نہیں ہوا بلکہ اس مصارف خود بیان فرماتے ہیں اس لئے اگرا ٓپ ان آٹھ میں شامل ہیں تو میں آپ کو زکوٰة سے فنڈدوں گا،(سنن ابی داﺅ 1630 )
4 ۔
زکوٰة سال میں ایک دفعہ ادا کرنا فرض ہے جبکہ بعض ٹیکس روزانہ بعض ماہانہ بعض سالانہ اور بعض حسب موقع لاگو ہوتے ہیں
5 ۔زکوة کے بارے میں فرمان نبویﷺ ہے کہ تو خذمن اغنیاءھم فتردعلیٰ فقراءھم کہ کسی علاقے کے صاحب حیثیت لوگوں سے لے کر انہیں کے فقراءمیں تقسیم کردی جائے اگر کسی علاقے میں فقیر کم ہیں تو جو زکوٰة بچ جائے وہ بیت المال میں جمع ہوجاتی ہے جبکہ ٹیکس غریبوں اور امیروں سے لے کر مختلف قسم کے شعبہ جات اور مدات میں خرچ کئے جاتے ہیں۔

6 ۔اللہ تعالیٰ کا فرما ن ہیں،
اے نبیﷺ ان کے مال سے زکوٰة قبول فرمائیں اور اس زکوٰة کے ساتھ ان کو ناپاک کردیں جبکہ ٹیکس کا نظام سوائے ناگریز قومی ضرورت کے ٹیکسوں کے عموماً ظلم اور چوری کے مشابہ ہیں اس سے خاک کوئی پاک ہوگا تو پھر اس مال کے ساتھ مزید عوام پر ظلم ڈھائے جاتے ہیںاس صورت میں ٹیکس کا نظام زکوٰة جسے اہم اسلامی نبوی فریضہ کے قائم مقام ہرگز نہیں ہوسکتا اس لئے اپنے آپ کو اس گناہ سے بچائیں اللہ تعالیٰ سب کی حفاظت فرمائے۔
جرمانہ بھی ٹیکس کی مد میں آتا ہے یا نہیں اس میں اختلاف پایا جاتا ہے بہت سے دانشور حضرات جرمانہ کو سود قرار دیتے ہیں مدّت پر جرمانہ آج کے دور میں سب کو ہی ادا کرنا پڑتا ہے مثال کے طور پر بل وقت پ نا ادا کرنے کی صورت میں جرمانہ دور حاضر کا اہم مسئلہ ہے اس معاملے میں حکومت اور عوام کو ایک دسرے سے تعاون کرنا چاہیے مگر جو اس مجبوری کی صورت حال کا غلط فائدۃ اٹھاتے ہیں

کہ آج کے ور میں سود سے بچنا ممکن ہی نہیں ہے اس لیے سرمایہ کاری نظام کو اپنے ماتحت نہیں کیا جاسکتا تو اس لیے سود جائز ہوگیا ہے ایسی باتوں سے اجتناب کرنا چاہیے کہ اس مذہب کو کیسے منا جاسکتا ہے جس میں سرمایہ کاری نظام کے بارے میں کوئی رہنمائی موجود نہیں ہے اس کام میں بھی افراط تفریط سے بچنا چاہیے کیونکہ شناختی کارڈ کے لئے فوٹو بنوانی ہی پڑتی ہے لیکن اس کو انتطامیہ کی مجبوری سمجھنا چاہیے اسی طرح سے جرمانے والی بات کو بھی انتظامیہ کی مجبوری سمجھنا چاہیے اور جیسا کہ احادیث سے ثاپت ہوتا ہے کہ جب خانہ کعبہ میں تین سو ساٹھ بت موجود تھے تو سب مسلمانوں نے مل کر وہاں پر نماز کا آغاز کیا اورثابت ہوا کہ بتّوں کی موجودگی میں نماز اور عمرہ ہو سکتا ہے تو نا اس بات کا اصرار کرنا چاہیے کہ اب ہندووں اور بت پرستوں کو وہاں بت رکھ کر دل خوش کرنے دیا جائے جو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے وہاں پھر سے 360 بت رکھنے کا عزم کر رکھّا ہے یہ تو قرآن وحدیث کا انکار کر کے کافروں کی طرف داری کرنے والی بات ہے اسی طرح سے سود اور جرمانہ کے بارے میں انتظامیہ کی مجبوری ہے البتّہ اس بات کو لے کر اسلام سے مرتد ہوجانا کہاں کی عقلمندی ہے یہ ساری خرابیاں جہاد نا ہونے کی وجہ سے ہیں اس لئے تمام دانشوروں کو یہ کوششیں کرنی چاہییں کہ جہاد کا آغاز ہو جائے تاکہ سود سمیت تمام کبیرہ گناہوں کا خاتمہ کیا جاسکے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد فاروق حسن

Read More Articles by محمد فاروق حسن: 108 Articles with 82653 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Mar, 2018 Views: 542

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ