بے قراری سی بے قراری ہے (قسط نمبر ٩)

(گوہر شہوار, Karachi)
بے قراری سی بے قراری ایک سماجی رومانوی و روحانی ناول ہے جس کی کہانی بنیادی طور پر دو کرداروں کے ارد گرد گھومتی ہے۔ عبیر جو ایک فیشن ڈیزائنر ہے اور اسلامی فیشن میں کچھ نیا کرنا چاہتی ہے۔ تیمور درانی جو ایک ملحد ہے جس کے خیال میں محبت اور زندگی بے معنی ہے۔

اس رات مجھے پھر وہی بھیڑیا دکھائی دیا۔ وہ خطرناک دانت نکالے میرے چہرے سے کچھ ہی فاصلے پر کھڑا حملہ کرنے کے لیے تیار تھا۔ اسی لمحے میری آنکھ کھل گئی۔ میں پسینے سے شرابور تھی۔ میں نے فوراً ہی اٹھ کر آیت الکرسی پڑھی، اور دوبارہ سونے کی کوشش کرنے لگی۔ میری نظر شگفتہ پر پڑی۔ سوتے ہوئے اس کی معصومیت اور خوبصورتی اور بڑھ جاتی تھی۔ میں نے اس کے چہرے کو سہلایا اور بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔ پھر میں نے جھک کر اس کے ماتھے پر بوسا لیا۔
اس نے کسمسا کر آنکھیں کھولیں اور مجھے دیکھا۔
آپی بہت لاڈ آ رہا ہے مجھے پر، خیر تو ہے؟
تم سوتے ہوئے لگتی ہی اتنی خوبصورت ہو۔
میں خوبصورت لگ رہی ہوں یا۔ ۔ ۔ میرے چہرے میں کسی اور کا چہرہ نظر آ رہا ہے۔ شگفتہ نے اپنے شریر انداز سے کہا۔
میں شرم سے لال ہو گئی۔
شگفتہ کی بچی شرم کرو اپنی آپی سے ایسی باتیں کرتی ہو۔
اسی لمحے شگفتہ نے مجھے گلے لگا لیا۔ نہیں آپی ناراض نہ ہوں۔۔ اس نے میرے سینے پر سر رکھ دیا۔
میں اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔ بہت ہی سلکی اور گھنے بال تھے اس کے۔ اکثر میں اس کے بالوں میں تیل لگاتی تھی۔ جب بچپن میں اس کو جوئیں پڑتیں تو گھنٹوں دھوپ میں بیٹھ کر نکالا کرتی۔ اس کے بالوں سے بھینی بھینی سی خوشبو آتی تھی۔
شگفتہ میرے سینے سے سر لگائے میرے دل کی دھڑکن سننے لگی۔ آپی میں یہ سوچتی ہوں کہ آپ تو جلد ہی اپنے گھر جانے والی ہیں پھر میں تو اکیلی رہ جاؤں گی۔ اس نے تھوڑی اداسی سے کہا۔
میں بھی تھوڑی اداس ہو گئی۔ اور اسے مزید زور سے اپنے ساتھ لپٹالیا۔ اکیلی کیوں، اماں اور ابا ہیں نا؟
آپی آپ کی بات اور ہے نا۔ اب میں اماں سے تو اپنے دل کی بات نہیں کر سکتی
میں چونک گئی۔
شگفتہ کیا بات ہے کھل کر بتاؤ۔ کہیں کوئی لڑکا تو نہیں ہے تمھاری زندگی میں؟
ارے نہیں باجی۔ کیسی باتیں کر رہی ہیں۔ کوئی نہیں ہے میری زندگی میں۔ ہاں میں یونیورسٹی جانے والی ہوں، وہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
نہیں شگفتہ! تمھیں کسی قیمت پر ایسا کوئی کام نہیں کرنا جس سے ابا کو تکلیف ہو۔ اللہ نے چاہا تو تمھارا نصیب بھی بہت اچھا ہو گا۔
جی بالکل، ایک شہزادہ گھوڑے پر مجھے ڈھونڈنے کے لیے اپنے محل سے نکل پڑا ہے۔ ۔
اس کی یہ بات سن کر مجھے ہنسی آ گئی۔۔
اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے۔ جب وقت آئے گا سب ٹھیک ہو جائے گا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کاشف کی آوٹنگ کی تصویریں دیکھ کر میرا دل چاہتا، جلدی سے ہماری شادی ہو اور میں بھی بغیر کسی ڈر کے اس کے ساتھ باہر جا سکوں۔ اس کی کولیگ لڑکیاں مجھے زہر لگتیں۔ ان کے کپڑے ان سے بھی زیادہ واہیات ہوتے۔ مجھے کاشف پر پورا یقین تھا کہ وہ کسی ایسی ویسی لڑکی کے چکر میں نہیں پڑے گا۔ پھر بھی سٹوپڈ سے خیال آتے رہتے۔
ہے تو وہ بھی انسان ہی۔ اگر بہک گیا تو۔ ۔ اللہ نہ کرے۔۔ ایسی سوچیں بھی برا شگن ہوتی ہیں۔
امی فل ٹائم شادی کی تیاریوں میں مصروف تھیں۔ ابا کی تو خواہش تھی کہ شادی سادگی سے ہو۔ مگر اماں نہیں مانتیں۔ کہتی ان کے گھر کی پہلی خوشی ہے۔ وہ اپنی ساری خاندانی رسمیں پوری کریں گی۔
ان کے خاندان میں ہجرت سے پہلی کی شادیوں میں پورا پورا ہفتہ شادی کے فنکشن چلتے تھے۔ اس دور میں شادی کی رسمیں نہ کرنے سے عزت پر حرف آ جا تا تھا۔ کئی بار تو گھر آئی باراتیں واپس چلی جاتیں۔
ایک دن اماں نے مجھے اپنے خاندانی زیور دکھائے جو انھوں نے میرے اور شگفتہ کے لیے رکھے تھے۔ اماں بہت محبت سے ان زیوروں کو دیکھتی رہیں جیسے ان کی ساری تہذیب صرف زیوروں میں بند ہو۔
اماں اب ان ڈیزائنوں کو کون پہنتا ہے۔ آپ ایسا کریں انھیں دے کر نئے ڈیزائن والے سیٹ خرید لیں۔ میں آپ کو انٹرنیٹ سے لیٹسٹ ڈیزائن دکھاتی ہوں۔
خبردار ہمارے خاندانی زیوروں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی کوشش کی۔ ہماری خاندانی روایات کی آخری نشانی یہی تو ہے۔ تمھاری پڑنانی کے زمانے میں بنے تھے زیور۔
میں نے بحث کرنا مناسب نہ سمجھا۔
اماں کی ساری باتیں نانی جیسی ہوتی جا رہی تھیں۔ صحیح کہتے ہیں ہم وہ بن جاتے ہیں جو ہمارے ماں باپ ہوتے ہیں۔ ان کا دکھ اور محبت ہمیں اسی وقت محسوس ہوتی ہے جب ہم اس سٹیج پر خود پہنچتے ہیں۔
دہلی میں ایک امام مسجد تھے جن کے علم اور تقویٰ ٰ کی لوگ مثالیں دیتے۔ انھوں نے اپنی بڑی بیٹی شائستہ کو بہت اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ اسے نہ جانے کہاں سے ڈانس کرنے کا شوق پڑ گیا۔ اس نے گھر والوں سے چھپ کر اپنے شوق کو پروان چڑھایا۔ یونیورسٹی جاتے ہی اس نے کھل کر اپنے فن کا مظاہرہ کرنا شروع کیا۔ اس کی کئی مداح پیدا ہو گئے۔ انھی مداحوں میں سیاحت پر آیا امریکی ہینری بھی تھا۔ وہ اس کی اکثر پرفارمنسز میں آتا اور کھل کر داد دیتا۔ دونوں کے بیچ محبت کا جذبہ پروان چڑھنے لگا۔
کچھ عرصہ بعد وہ ہینری کے ساتھ بھاگ کر امریکہ چلی گئی۔ اس کے گھر سے بھاگنے اور ڈانس کا جب شہر کے لوگوں کو پتا چلا تو امام صاحب شرمندگی کے مارے کہیں منہ دکھانے کے قابل نہ رہے۔ انھوں نے خاموشی سے کسی دور دراز علاقے میں ہجرت کر لی۔ بیٹی تمام باتوں سے بے پرواہ اپنی آزادی کو انجوائے کرتی رہی۔ اس کے بوائے فرینڈ نے اس کی خوشی کے لیے دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح پڑھ لیا۔
شائستہ نے امریکہ میں کچھ محفلوں میں اپنی ڈانس پرفارمنس دکھائی۔ مگر زیادہ پذیرائی نہ ملی۔ اسی دوران شوہر سے تعلقات خراب ہونے لگے۔ بیٹی کی پیدائش کے بعد اس کے شوہر نے اسے بتایا کہ وہ شادی سے اکتا گیا ہے۔ شائستہ کو معلوم ہوا کہ ان کا قانونی نکاح تو طور پر ہوا ہی نہیں۔ اسی لیے اس کے اور اس کی بیٹی کے کوئی قانونی حقوق نہیں ہیں۔ شوہر بے سر و سامان چھوڑ کر چلا گیا تو خرچہ چلانے کی فکر ہوئی۔ کام ہنر کوئی آتا نہیں تھا اسی لیے فیکٹری میں مزدوری کرنا پڑی۔ اس نے بیٹی کی پرورش میں کوئی کسر نہ چھوڑی، سارے شوق بھول گئے۔ یہ بھی یاد نہ رہا کہ کبھی ڈانس کا بھی شوق تھا۔ بیس سال سخت محنت کرتے گزرے۔ ساری خوشیاں چھوٹ گئیں۔ بیٹی کو اچھے کالج اور ہوسٹل میں داخل کروا یا۔ وہاں جا کر بیٹی کو ماڈلنگ کا شوق چڑھ گیا۔ پتا نہیں کیوں اسے بیٹی کا یہ ماڈلنگ کرنا پسند نہ آیا۔ یہ بھی کوئی شوق ہوا کہ اپنی کم کپڑوں والی تصویریں پوری دنیا کو دکھا کر داد وصول کرو۔ یہ بھی ایک طرح کا جسم بیچنا ہی ہوا۔ یہ ہماری تہذیب کے خلاف ہے۔
بیٹی نے ماں کی نصیحت کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیا۔ اٹس آ فری کنٹری موم۔
ایک دن بیٹی نے پلے بوائے میگزین میں اپنی نیوڈ فوٹوز بڑے فخر سے اپنی ماں کو بھجوائیں۔ ان تصویروں کو دیکھ کر شائستہ کو پہلی بار احساس ہوا کہ اس کے گھر سے بھاگنے پر اس کے باپ پر کیا گزری ہو گی۔ اسے شدید شرم آنے لگی۔ جیسے یہ تصویریں اس کی بیٹی کی نہیں اس کی ہوں۔ یہ صدمی اتنا شدید تھا کہ اس نے چھت سے چھلانگ لگا کر خود کشی کر لی۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
جب میں نے کاشف کو اپنی تیمور درانی کے ساتھ میٹنگ کابتایا تو وہ چونک گیا۔ اس کو بھی تیمور درانی کے بارے میں پتا تھا۔
عبیر اس کی شہرت اچھی نہیں ہے۔
تمھیں اس سے نہیں ملنا چاہیے تھا۔ وہ شخص ایک جانور ہے۔ اس نے کئی لوگوں کے بزنس بہت بے دردی سے تباہ کر دیے ہیں۔ اسے لوگوں کے مان توڑنے میں مزہ آتا ہے۔اوپر سے وہ اخلاقی طور پر بھی اچھا انسان نہیں ہے، بری شہرت کی لڑکیاں اس کے ساتھ نظر آتی ہیں۔
اچھا ہوا اس نے خود تمھارا پروپوزل ریجیکٹ کر دیا۔ ورنہ اگر اس سے رابطہ رہتا تو نہجانے کیا کرتا۔
کاشف کی باتیں سن کر میرا دل تیزی سے دھڑکنا لگا۔ شکر ہے، میں نے کاشف کو یہ نہیں بتایا کہ میری تیمور درانی سے بات کیا ہوئی۔ میں نے بھی کتنے یقین سے یہ دعوی ٰ کیا تھا کہ میرا ایمان کبھی نہیں ڈگمگائے گا۔ او میرے خدا کہیں وہ میرے مان کو توڑنے کے پیچھے تو نہیں پڑے گا؟
عمارہ کو پورا یقین ہو گیا کہ ہمیں انویسٹر نہیں ملے گا۔ اس کو اس ملک کے سسٹم سے ہی نفرت ہو گئی ہے۔
عبیر۔۔ یہاں کوئی بھی تخلیقی اور تعمیری کام نہیں کیا جا سکتا۔ میں پیرس جا رہی ہوں۔ وہیں پر تخلیقی کام کرنے کی آزادی ہے۔ میں نے ڈپلومہ کے لیے اپلائی کر دیا ہے۔
میں اداسی سے اس کی یہ ساری باتیں سنتی رہی، اب نوکری ڈھونڈنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا۔ ایک مہینے سڑکوں پر دھکے کھانے کے بعد احساس ہوا، میری کوئی مارکیٹ ویلیو ہی نہیں ہے۔
اپنا کام کرنے کا خواب بغیر پیسوں کے ممکن نہیں تھا۔ جو لوگ یونیورسٹی سے مر کر پاس ہوئے تھے وہ اپنے ممی پاپا کی سفارشوں سے کہیں نہ کہیں ایڈجسٹ ہو گئے۔ جبکہ میں گولڈ میڈل لے کر بھی دھکے کھانے لگی۔
میری مایوسی دن بدن بڑھتی گئی، کیا میں بھی ساری زندگی گھر میں بیٹھی رہوں گی۔
کاشف میری پریشانی کو سمجھتا ہے۔ ہر ناکامی کے بعد اس کی باتیں مجھے دوبارہ سے حوصلہ دیتیں۔
عمارہ کا ایڈمیشن ہو گیا، کچھ ہی دنوں میں اس نے فرانس چلے جانا تھا۔
ہم دونوں ہی اداس تھیں۔ مگر میں اس کے بہتر مستقبل کی راہ میں حائل نہیں ہونا چاہتی تھی۔ اس نے اپنے لیے بہت سے خواب دیکھ رکھے ہوں گے۔ اگر ہمارا بزنس پلان چل جاتا تو بات کچھ اور ہوتی۔
میں اداسی سے اپنے بنائے ہوئے ڈیزائنز کو دیکھتی رہتی۔
-----------
عمارہ کو گئے ہوئے ایک مہینہ ہو گیا۔ میں اپنی فیلڈ کی نوکری کے بجائے دوسری نوکریاں کرنے کے لیے اپلائی کرنے لگی۔ زندگی بھی ہمارے ساتھ کیسے کیسے کھیل کھیلتی ہے۔ کاشف کے گھر والوں کو شادی کی جلدی تھی۔ وہ چاہ رہے تھے کہ کچھ ہی مہینوں میں شادی ہو جائے۔ اماں ابا کی اگرچہ تیاری پوری نہیں تھی، پھر بھی انھوں نے ہامی بھر لی۔
ایک دن کاشف بہت ایکسائیٹڈ نظر آیا۔ میں نے وجہ پوچھی تو بولا۔
عبیر مجھے امریکہ میں چھہ مہینے کی سپیشل ٹریننگ کے لیے نومینیٹ کر دیا گیا ہے۔ پورے پاکستان سے صرف میرا ہی سلیکشن ہوا ہے۔ لیکن ایک مسئلہ ہے۔
وہ کیا؟
اگر میں ٹریننگ پر جاؤں گا تو شادی چھ مہنے لیٹ ہو جائے گی۔ اسی لیے مجھے شادی اور ٹریننگ کے بیچ میں ڈیسائیڈ کرنا ہے۔
میں نے بہت سوچنے کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ تمھیں پانا ٹریننگ سے زیادہ ضروری ہے۔
مجھے دل میں خوشی محسوس ہونے لگی۔
کاشف میرا خیال ہے یہ کوئی عقلمندانہ فیصلہ نہیں۔ آپ کو ٹریننگ کا اتنا اہم موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
عبیر تمھیں حاصل کرنے کے لیے میں دنیا بھی چھوڑ نے پر تیار ہوں۔ یہ ٹریننگ تو معمولی سی چیز ہے۔
اچھا اب باتیں نہ بنائیں۔
میں نہیں چاہتی آپ اتنا بڑا موقع ضائع کریں۔ شادی چھ مہینے لیٹ ہونے سے کوئی قیامت نہیں آئے گی۔ اسی بہانے دونوں فیملیز کو تیاری کا موقع بھی مل جائے گا۔
عبیر ! اب مجھ سے اور دور نہیں رہا جاتا۔ مزید کتنی دوریاں بڑھاؤ گی۔ ایک تمھارا چہرہ تک تو میں دیکھ نہیں سکتا۔
کاشف میں دل وجان سے آپ کی ہی ہوں۔ بس تھوڑے دنوں کی ہی تو بات ہے۔
مجھے بہت شرم آئی۔
دیکھ لو اتنے دنوں میں اگر کہیں میں مر مرا گیا تو تمھارا چہرے کے دیدار کے بغیر ہی اس دنیا سے چلا جاؤں گا۔
قیامت تک یہی حسرت رہے گی کہ کاش ایک بار وہ چہرہ دیکھ لیتا۔
مرتے ہوئے میرا دل کہہ رہا ہو گا
مرنے والا ہے بیمار حسرت اب کہا مان جا حسن والے
دیکھ آنکھوں میں تھوڑا سا دم ہے اب تو چہرے سے پردہ ہٹا دے
کاشف نے جیسے ہی مرنے کی بات کی میری تو جیسے جان ہی نکل گئی۔
اللہ نہ کرے کاشف، کچھ تو سوچ کر بولا کریں۔ کبھی کبھی کہی وہی باتیں بھی صحیح ہو جاتی ہیں۔
اگر آپ کو کچھ ہو گیا تو یقین مانیں میں۔۔ میں۔۔ ویسے ہی مر جاؤں گی۔
میں نے روہانسی سی آواز میں کہا۔
اور اگر آپ کو میرا چہرہ دیکھنے کا اتنا ہی شوق ہے تو اپنا سکائپ آن کریں میں ابھی آپ کو اپنا چہرہ دکھاتی ہوں۔ میں دادی سے معافی مانگ لوں گی۔ یہ کہہ کر میں نے فوراً اپنا فرنٹ کیمرہ آن کیا۔
نہیں عبیر میں کچھ دن صبر کر لیتا ہوں۔ تم اپنا وعدہ نہ توڑو۔
شادی لیٹ ہونے سے مجھے تشنگی کا احساس ہونے لگا۔ اتنے قریب آ کر بھی دوریاں بڑھ گئیں۔ جانے سے پہلے کاشف ہمارے گھر آیا۔ اب ہمارے گھروں میں یہ رواج تو ہے نہیں کہ شادی سے پہلے یوں علیحدہ ملنے دیا جائے۔
یہ ویسے بھی آڈ لگتا ہے۔ وہ اماں اور ابا کے ساتھ گپ شپ لگاتا رہا۔ شگفتہ اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے لگی۔
میں چھپ کر اسے دیکھتی رہی۔ اس کی بیچینی یہی بتارہی تھی کہ وہ اصل میں مجھ سے ملنے آیا ہے۔ اس بات کو شگفتہ بھی خوب جان گئی اسی لیے اس نے راستہ نکالا۔
ابا کو اچانک محلے کی ایک میٹنگ میں جانا پڑا۔ اماں خالہ کا فون سننے میں مگن ہو گئیں۔ شگفتہ فوراً کاشف کو میرے کمرے میں لے آئی۔
میں اسے یوں سامنے دیکھ کر شرما گئی۔
میری طلب اور جذبات کی شدت میری باڈی لینگوج سے ظاہر ہونے لگی۔
میرے دل میں شدید خواہش اٹھی کہ میں اس کے سینے سے لگ جاؤں اور رونا شروع کر دوں۔ میں اسے نہیں جانے دینا چاہتی۔
میرے دل میں عجیب سے ہول اٹھنے لگے، اگر اسے وہاں کچھ ہو گیا۔ یا اسے کوئی گوری پسند آ گئی، یا مجھ سے زیادہ اچھی لڑکی پسند آ گئی تو؟
میں نے نمناک نظروں سے اسے دیکھا اور اپنا چہرہ پھیر لیا۔
وہ خود پر کنٹرول کر کے کھڑا رہا۔ تاکہ کوئی چھچھوری حرکت نہ ہو جائے۔
اس نے مجھے سونے کا بریسلیٹ گفٹ دیا۔
میں بھی کتنی سٹوپڈ تھی کہ اپنے جذبات میں یہ بھول ہی گئی کہ مجھے بھی اسے کوئی گفٹ دینا چاہیے۔
ہم دونوں نے بہت مختصر سی بات کی۔ فون پر بات کرنے میں سامنے بات کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ پردے کے پیچھے ہم کتنے کانفیڈنٹ ہوتے ہیں۔ میں اس کی آنکھوں میں بھی نہیں دیکھ پائی، بس اس کی شرٹ کے بٹنوں کو دیکھتی رہی۔
اس کی پرتجسس آنکھیں میری چادر کے پیچھے سے میرا چہرہ دیکھنے کی کوشش کرتی رہیں۔
میرا دل چاہا غلطی سے ہی چادر کا پلو ڈھلکا دوں۔ وہ جیسے میری سوچیں پڑھ رہا ہو۔ اس نے فوراً میرا ہاتھ پکڑ لیا۔
سنسنی کی ایک لہر میرے جسم میں دوڑ گئی، اور میں شرم سے لال ہو گئی۔
کیا اسے بھی میرے جسم کی سنسنی محسوس ہوئی ہو گی؟
جب وہ جانے لگا تو میں اپنے آنسو نہ روک سکی۔ اس نے میرا ہاتھ چھوڑا تو دل چاہاوہ تھوڑی دیر کے لیے اسے پکڑ کر رکھے۔
اس کے جانے کے بعد بھی میں کافی دیر روتی رہی۔ شگفتہ نے مجھے تسلی دینے کی کوشش کی۔ پر میرے دل کو چین نہیں آ رہا تھا۔
دل میں برے برے وسوسے اٹھ رہے تھے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کاشف کے جانے کے دو ہفتے بعد کسی غیر معروف فیشن ڈیزائننگ کی کمپنی سے انٹرویو کی کال آئی۔ میں نے اتنی جگہ اپلائی کیا تھا کہ کمپنیوں کے نام بھی یاد نہیں رہے۔ میں بڑی تیاری کے ساتھ انٹرویو کے لیے گئی۔ کمپنی کا نام پہلی بار سنا تھا۔ میں نے ان کی ویب سائٹ دیکھی تو حیران رہ گئی کہ یہ تو ملٹی نیشنل کمپنی ہے جو زیادہ کام باہر کرتی ہے۔ اس کمپنی کی مارکیٹ جنوبی ایشیا اور سنٹرل ایشیا میں تھی۔
میں انٹرویوز میں اپنے ڈیزائنز کو بھی لے گئی۔ انٹرویو لینے والوں میں زیادہ تر فارنرز تھے۔ میرا کانفیڈنس آدھا تو ادھر ہی لوز ہو گیا۔ لیکن ان لوگوں کا انداز بہت ہی پروفیشنل تھا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ میرے علاوہ وہاں کوئی انٹرویو دینے بھی نہیں تھا۔ شاید مختلف ٹائم اور دنوں میں بلایا گیا ہو۔
میرا انٹرویو کافی اچھا ہوا۔
ان لوگوں نے بتایا کہ وہ اسلامی فیشن کا ایک برینڈ لانچ کرنے والے ہیں۔ اسی سلسلے میں وہ ایسے لوگوں کی تلاش میں ہیں جن کے پاس نئے آئیڈیاز ہوں۔ انھوں نے مجھے اپنے آفس کا ٹور بھی کروا یا۔ میں جتنا دیکھتی گئی اتنا ہی متاثر ہوئی۔
آفس کا ماحول بہت ہی آرٹسٹک تھا۔ ہر بندے کو ایک چھوٹا سا کمرہ الاٹ تھا جسے وہ اپنی مرضی سے سجا سکتا تھا۔ ہر جگہ پینٹنگز اور ڈیزائنز لٹکے ہوئے تھے۔ کہیں میوزک چل رہا تھا تو کہیں لوگ آرام سے بیٹھے تھے۔ یہ آفس کم اور انٹرٹینمنٹ کی جگہ زیادہ تھی۔ تخلیق اور نیا خیال پابندیوں کے ماحول میں پیدا نہیں ہو سکتا۔ آفس میں پاکستانی لوگوں سے زیادہ لوگ فارنر تھے۔ پاکستانی لوگوں میں زیادہ تر ہائی سوسائٹی کے لگ رہے تھے۔ ان لوگوں میں میری جیسی لڑکی جانے کیسے ایڈجسٹ ہو گی؟
یاللہ! کسی طرح یہ جاب مجھے مل جائے۔ اتنا زبردست ماحول مجھے کہیں نہیں مل سکتا۔
دو دن کے بعد مجھے انھوں نے سیکنڈ انٹرویو کے لیے بلایا۔ مجھے بتایا گیا کہ انٹرویو کمیٹی نے میری سلیکشن ریکیمنڈ کر دی ہے۔ مگر پیکج اور سلیکشن کمپنی کے باس ہی فائنل کریں گے۔ آپ کا ان کے ساتھ انٹرویو ہے۔
میں ڈرتے ڈرتے کمپنی کے سی ای او کے کمرے میں داخل ہوئی۔ میں اس کا چہرہ نہیں دیکھ پائی کیونکہ وہ دیوار پر لگی ایک بڑی سی پینٹنگ کو دیکھنے میں مصروف تھا۔
اس پینٹنگ میں ایک شخص ویرانے میں اداس بیٹھا ہے۔ ایسے جیسے پوری کائنات میں وہ صرف تنہا انسان ہو۔ اس تصویر میں ایک کائناتی تنہائی، خاموشی اور اداسی دکھائی دیتی تھی۔ اس پینٹنگ کو جتنا دیکھتے جاؤ اتنا اس منظر کی گہرائی اور اداسی آپ کے اندر اترتی جاتی۔ مجھے بھی کچھ دیر کے لیے احساس ہوا کہ جیسے وقت رک گیا ہو۔ وہ سی ای او بھی اس پینٹنگ میں کھویا رہا۔ پھر مجھے آواز آئی۔
اس پینٹنگ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔؟
اس کے ساتھ ہی وہ شخص میری طرف متوجہ ہوا۔
سر یہ منظر دیکھنے والے کو کسی اور ہی دنیا میں لے جاتا ہے۔ یہ ہمیں اپنے اور کائنات کے بارے میں گہرے سوال اٹھانے پر مجبور کرتا ہے۔ ۔
اس لمحے اس کے چہرے نے مجھے چونکایا
وہ تیمور درانی تھا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: گوہر شہوار

Read More Articles by گوہر شہوار: 23 Articles with 14861 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Mar, 2018 Views: 665

Comments

آپ کی رائے