وہ روشنی ...!!

(فاطمہ عنبرین, کراچی)

۱۔ لَقَدْخَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ(البلد۹۰:۴) ’’درحقیقت ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے‘‘
یعنی انسان پیدا ہونے سے لے کر مرنے تک کا عرصہ محنت، مشقت اورسختیاں جھیلنے میں گزارتا ہے۔

الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً (الملک ۶۷:۲)
جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔

اچھے عمل کیا ہیں ؟؟
نعمتوں کا شکر ادا کرنا اور مصائب پر صبر کرنا ! دونوں حالتوں میں الله کا ذکر کرنا اسکے احکامات کو مقصد حیات بنانا !

***********************************************************

"آج کیمو کا روم نمبر ون مل جاۓ تو بڑی بات ہے " اس نے امّاں کا بیگ اپنے بیگ کے ساتھ بائیں کندھے پر ہی منتقل کیا دونوں فائل بائیں ہاتھ میں تھامی بائیں ہاتھ ہی کی دو انگلیوں میں پانی کی بوتل کا ہنڈل لٹکایا اور دائیں ہاتھ سے امّاں کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر ہسپتال کی سیڑھیوں کی سمت بڑھتے ہوۓ بڑبڑائی "پندرہ منٹ لیٹ ہوگئے ہیں آج" ٹریفک جان لیوا پھر جگہ جگہ دھرنا ٹریفک بلاک ! ایک گھنٹے کا راستہ دو گھنٹے میں طے ہوا تھا !
اماں کا ہاتھ تھام کر وہ اندر داخل ہوئی .. گارڈ نے انٹرنس کا دروازہ تو ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکوں نے اندر داخل ہونے سے پہلے اسکے قدم چومے وہ بے اختیار مسکرا اٹھی " مہنگا علاج اور مہنگی جگہ سے علاج کا بس یہی تو فائدہ ہے !" بیماری اپنے ساتھ سو دکھ لاتی ہے مگر میرے پیارے وطن میں صحیح علاج کرانے کا اہل ہونا بھی بذات خود کسی دوا سے کم نہیں ! شہر کے سب سے مشہور کینسر ہسپتال میں داخل ہوتے ہوۓ وہ دھیرے دھیرے اماں کا ہاتھ پکڑ کے کیمو سیکشن کی طرف جارہی تھی .
"ہائے ثنا ! " کیمو کے روم نمبر وں میں داخل ہونے سے پہلے اس نے صرف سر اندر کیا اور ثنا کو دیکھ کر مسکرائی اور چور نظروں سے دائیں طرف سر گھما کر وارڈ کی جانب نظر ڈالی حسب توقع بیڈ پر کوئی لیٹا ہوا تھا صرف پیروں پر پڑی چادر نظر آرہی تھی جس سے بیڈ پر موجود شخصیت کا حجم سمجھ میں آرہا تھا کہ وہ انتہائی دبلی پتلی شخصیت ہے "ہیلو مریم ! پلیز کم ان " کیمو انچارج نے جواباً اپنے پروفیشنل انداز میں مسکراتے هوئے اندر بلایا . مریم اماں کو باہر ویٹنگ روم میں بٹھا کر کیمو روم میں داخل ہوئی ثنا سے ہاتھ ملا کر وہ اس زاوئیے سے بیٹھ گئی کہ بیڈ پر موجود شخصیت کو ٹھیک سے دیکھ سکے اس نے اپنی فائل نکالی اور ثنا کو دی "یہ امّاں کی لیبس ہیں رپورٹس دیکھ لیں آپ آج فورتھ کیمو ہے تھوڑا پیٹ ڈسٹرب ہے ساتھ میں ٹمپریچر بھی رہتا ہے پچھلے تین دن سے ١٠٠ سے کم ہے .. مگر ہے ! "
" کوئی اچنگ یا گھبراہٹ وغیرہ؟؟ " ثنا نے رپورٹس دیکھتے ہوۓ فون کی طرف ہاتھ بڑھایا
"نہیں ایسا کچھ نہیں ابھی الحمد للہ بال بھی گرنے نہیں شروع ہوۓ ہیں جبکہ ڈاکٹرز کی راۓ تھی کہ ایسا تو پہلے ہی انجکشن کے بعد ہوجاۓ گا !" اس نے بات کرتے ہوۓ بے دھیانی میں بیڈ کی طرف نظر ڈالی ایک لمحے کے لئے اسکی آواز حلق میں اٹک گئی اور دل بھی ساکن سا ہوگیا وہ چوبیس پچیس سال کا ایک نوجوان سا لڑکا تھا اسکے سر پر بال بالکل جھڑ چکے تھے آنکھوں میں صحرا کی وحشت و ویرانی تھی اتنی اداس آنکھیں ! مریم کے اندر کہیں چشمے پھوٹ پڑے ! اس لڑکے کی ویران اور بنجر سی آنکھیں دیوار پر جمی ہوئی تھیں ! مریم کو لگا کہ اسنے غلط وقت پر غلط جملہ کہا ہے شاید بالوں والی بات سن کر وہ اتنا اداس ہوگیا ہے ؟
"او کے آپ پیشنٹ کو لے آئیں ہم روم نمبر ٹو میں انھیں کیمو لگائیں گے " ثنا فون پر رپورٹس بتا کر اور آگے کی ہدایات لے کر فارغ ہوچکی تھی مریم نے غیر حاضر دماغی سے اسے دیکھا ثنا اپنی چیزیں سمٹتی ہوئی برابر والے روم میں جانے کے لئے نکل گئی مریم نے چئیر کھسکا کر باہر کی طرف قدم بڑھاۓ پھر ایکدم سے روک کر بیڈ پر لیٹے نوجوان کی طرف مڑی "السلام علیکم " اس نوجوان نے نظروں کا رخ بدلا اسکے ہونٹ ہلے تھے شاید اس نے سلام کا جواب دیا تھا ہلکی سی لرزش سے معلوم ہورہا تھا کہ وہ مسکرانا بھی چاہ رہا تھا ! (مسکرانا اتنا مشکل کام ہوسکتا ہے؟؟) مریم کے اندر عجیب سی بے چینی جاگ رہی تھی "کچھ چاہیے تو نہیں ؟؟ آپ اکیلے ہیں کیا؟؟ " مریم نے ایک قدم اسکی طرف بڑھایا
" نو تھینکس ! میری بھابی ہیں میرے ساتھ " وہ اب کی بار مسکرانے میں کامیاب ہو ہی گیا
" اچھا ؟ گڈ میں برابر والے روم میں ہوں میری ساس اماں کو بھی کیمو لگ رہا ہے کوئی کام ہو تو بتانا ؟؟ او کے ؟؟ " وہ مسکرا کر کہنے لگی
"جی شکریہ " اس نے دوبارہ شکریہ ادا کیا اور گردن موڑ کر سیدھا ہوکر لیٹ گیا
" تمہارا نام ؟؟ " وہ پلٹی، پھر رک گئی
" حیات " اب کی بار بہت ہی گہری مسکراہٹ اسکے چہرے پر آئی تھی طنز آمیز اور مذاق اڑاتی !
"حیات کیا ہے اگر تلخئ حیات نہیں ؟؟
وہ زندگی ہی کیا جس میں حادثات نہیں "
مریم نے مسکرا کر اسے دیکھا وہ پھر سے سر ہلا کر مسکرا دیا .
بیسٹ آف لک ... اور ہاں " وہ کہتے کہتے پھر سے رکی " سمائل لکس گڈ ان یور فیس سر جی ! " وہ شرارت سے کہہ کر باہر نکل گئی اور حیات آہستہ سے ہنس دیا
" پھر آئیے گا " اس نے آواز لگائی تو وہ دوبارہ اندر جھانک کر بولی
"ضرور" ! اور پھر غائب ہوگئی.
مریم روم نمبر ٹو میں آئی تو امّاں کو ازحد پریشان پایا "کیا ہوا امّاں ؟" وہ تیزی سے آگے بڑھی امّاں اسے دیکھتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں
" بیٹا ! مجھ سے اب برداشت نہیں ہوتی یہ تکلیف تم لوگ چھوڑ دو مجھے میرے حال پر جو دن باقی رے گئے ہیں زندگی کے وہ سکوں سے کاٹ لوں میں " اس نے امّاں کو گلے سے لگا لیا اور ثنا کی طرف دیکھا جو بے تاثر چہرے کے ساتھ انکی طرف دیکھ رہی تھی " ثنا ؟؟ " مریم نے سوالیہ انداز میں اسے دیکھا ثنا کے ہاتھ میں کینولا اور اسے لگانے کے لئے مختلف سامان تھے کچھ ٹیپ جو ڈرپ سٹینڈ کے ساتھ چپکا رکھے تھے
"میم آپ ٢٤ نمبر کا کینولا لے کر آئیں مجھے اس سے وین نہیں مل رہی شاید سائز چینج کرنے سے مل جاۓ اس سے تو جگہ جگہ سویلنگ (سوجن) ہورہی ہے " ثنا فائلز پر کچھ اندراج کرتے ہوۓ کہنے لگی تو مریم گہری سانس لے کر رہ گئی اذیت در اذیت ... وین کا ملنا بھی نہایت عجیب ہے پورا ہاتھ سوج جاتا ہے مگر ہزاروں کی تعداد میں گزرتی خون کی نالیوں میں سے کسی ایک میں سے بھی خون برآمد نہیں ہوتا اس ایک مرحلے کے لئے کئی گھنٹے انکو سمجھانا بجھانا پڑتا ہے تب کہیں جا کر وہ راضی ہوتی ہیں کہ کینولا لگائیں گی مگر پھر وہی .. اذیت سے گھبرا کر رونے لگتیں ! مریم کینولا بدل کر لائی تو ثنا نے دوبارہ اپنا کام شروع کیا چند منٹوں کی محنت کے بعد بالاخر وین مل ہی گئی امّاں بیڈ پر آرام سے لیٹ گئیں ڈرپ شروع ہوگئی تھی دس سے پندرہ منٹ میں امّاں پر غنودگی طاری ہونے لگی
"تھوڑی دیر میں انجکشن آجائیں گے تو پیمنٹ کرنی ہے جب تک امّاں آرام کر رہی ہیں میں پانی کی بوتل لے آؤں " مریم نے اپنے بیگ میں رقم کی موجودگی کا اطمنان کیا اور کمرے سے باہر نکلنے کا سوچنے لگی
"امّاں ! آپ کچھ کھائیں گی ؟؟ کوئی بسکٹ ؟ دودھ کا پیک تو میں لائی ہوں بسکٹ میٹھا یا نمکین ؟" امّاں نے بوجھل آنکھیں کھولیں " ابھی نہیں تھوڑی دیر بعد تم کوئی نمکین بسکٹ لے لینا " اتنا کہہ کر انہوں نے دوبارہ آنکھیں موند لیں مریم چند لمحے انھیں دیکھتی رہی ، پھر اچانک اماں وہاں سے اپنے بیڈ سمیت غائب ہوگئیں ... منظر بدلنے لگا ...
..................*...........................*..........................*..................
"خبردار !" مریم کے قریب ہی کوئی زور سے چیخا تھا اسکے ہاتھ سے آف وہائٹ کلر کا خوبصورت سا سوٹ پھسل گیا وہ کپکپا کر رہ گئی مگر اسی طرح ساکت سی کھڑی رہی بہادری کا ڈرامہ کرنا ضروری تھا آنکھوں کی سطح پر نمی سی تیرنے لگی "خبردار ! جو میرے کپڑوں کو ہاتھ لگایا ... آگ لگادوں گی میں ان کپڑوں کو .. میری زندگی کو جہنم بنا دینے والی ... میرے کام صرف فرحین کرے گی بس !" مریم کی آنکھ سے ایک موتی ٹپکا اور جھکے سر کے باعث زمین بوس ہوگیا پھنکارتی ہوئی آواز میں مریم کے لئے نفرت و حقارت کے سوا اور کیا تھا ؟؟ وہ کتنی ہی دیر سوچتی رہی ! زمین پر اتنے خدا موجود ہیں ! یہ آج کوئی پہلی بار تو نہیں ہوا تھا جب سے اسکی شادی شہریار سے ہوئی تھی یہی ہوتا تھا روز ...
انکے یہاں خاندان سے باہر شادی کا رواج نہیں تھا اور شہریار نے پسند کی شادی کی زور زبردستی کے ساتھ ..آخری اور چہیتی اولاد کی بات ٹالنا امّاں کے لئے کچھ آسان نہیں تھا مگر مریم کو وہ مقام نہیں دے پارہی تھیں جس کی وہ مستحق تھی . گھر کے باقی لوگوں کا رویہ ٹھیک ہی تھا سواۓ بڑی بھابی فرحین کے جو امّاں کی بھتیجی تھیں اور نام و نسب کی ٹھیکیدار بنتی تھیں . مریم کی جب تک شادی نہیں ہوئی تھی وہ یہ سنتی آئی تھی کہ مریم کا خاندان سب سے برتر ہے شادی کے بعد پتہ چلا کہ ان سے بھی برتر موجود ہیں ! مگر مزے کی بات مریم اور شہریار دونوں کی امیاں جب بھی اپنے خاندان کی برتری بیان کرنے پر آتیں تو فیصلہ مشکل ہوجاتا کہ برتر ہے کون ؟؟؟ مریم شادی کے پانچ سالوں میں اور کسی بات کی عادی ہوئی ہو یا نہیں .. مگر خاندان کی برتری کے بیان پر خاموش رہنا اور اپنی ساس امّاں سے ذلت آمیز فقرے سننا اسکی عادت میں شامل ہوگیا تھا ! شروع شروع میں وہ گھبراتی ہچکچاتی کبھی پیچھے بھی ہٹ جاتی مگر اب تو وہ بہت اطمنان سے ہر بات سنتی اور مسکرا کر اپنا کام کیے جاتی اور رات کو سونے سے پہلے ساس امّاں کے سرھانے دودھ کا گلاس رکھنا نہ بھولتی اور تھوڑی دیر رک بھی جاتی کہ جو بھی خامیاں ہوں دودھ کے گلاس میں وہ بتانے کے لئے ان کو صبح کا انتظار نہ کرنا پڑے !
امّاں کی صحت عام بزرگوں سے بہت بہتر تھی انھیں اس عمر میں بھی کبھی گھٹنوں کا درد یا نظر کی کمزوری کی شکایت نہیں ہوئی تھی جس پر امّاں کو بہت فخر تھا "ہمارے خاندان میں تو کسی کو کوئی ایسی بیماری ہوئی ہی نہیں جو موزی ہو " مریم حیران ہوتی.. یا رب ! کوئی مقام الحمد للہ کا بھی ہوتا ہے؟ یا بیماریاں بھی خاندان دیکھ کر لگتی ہیں ؟؟ بہرحال امّاں کی صحت مندی کی وجہ سے انکی ذرا سی تکلیف بھی سب کے لئے توجہ کا سبب بن جاتی تھی .. پچھلے کچھ دنوں سے اماں کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں رہتی تھی نزلہ بخار پھر سب سے عجیب بات، وہ خاموش سی رہنے لگیں ... پریشان سی رہنے لگیں
پھر ایک دن مریم دودھ کا گلاس رکھنے آئی تو انہوں نے اسے بہت رازداری سے اپنے قریب بلایا اور قمیض کا ایک سرا اٹھا کر اسے دکھایا .. مریم دھک سے رہ گئی ! "امّاں ! آپ کل ہی ڈاکٹر کے پاس چل رہی ہیں میرے ساتھ ، میں شہریار کو کہوں گی جلدی آجائیں " اس نے ظاہر نہیں کیا کچھ مگر امّاں خود بھی بہت کچھ سمجھ رہی تھیں
"بیٹا ! مجھے یہ بیماری کیسے لگ سکتی ہے؟؟ یہ تو بہت خراب بیماری ہے " ان کی بے بسی اور بے کسی دیکھنے والی تھی مریم نے انکا ہاتھ تھام لیا " امّاں ! و اذا مرضت فھو یشفین ... بس اسکے سوا کچھ نہیں کہنا .. الله پاک سے دعا کیجیے رپورٹس کلیئر آئیں گی انشااللہ "
مگر نہ امّاں کی بے یقینی ختم ہوئی اور نہ مریم کی امیدیں پوری ہوئیں !
اگلے دن ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا بے شمار ٹیسٹ ہوۓ اور کچھ دن میں ہی یہ سامنے آگیا کہ امّاں کو سینے کا کینسر لاحق ہوچکا ہے !
" مجھے یہ بیماری کیسے ہوسکتی ہے ؟ یہ تو ہمارے خاندان میں کسی کو نہیں ہوئی آج تک ... میری تو جگ ہنسائی ہوگئی " امّاں کے آنسو اور الفاظ روکنے میں نہیں آرہے تھے سب سے بڑی مشکل تو تب ہوئی جب انہوں نے علاج کروانے سے صاف انکار کردیا "کسی کو پتہ نہیں چلنے دینا اس مرض کا ورنہ میرا مزاق بنے گا .. سن لو تم سب کسی کو پتہ نہیں .." انکی باتیں بیچ میں ہی رہ گئیں جب فون کی بیل بجی ... فون بڑی بھابی کے گھر سے تھا اور امّاں کی بھابی یعنی بڑی بھابی کی امی رپورٹس پر اظہار افسوس کر رہی تھیں ! امّاں نے دکھ بھری نظروں سے بڑی بھابی کو دیکھا جو نظریں جھکاۓ کھڑی تھیں انھیں تو اپنی امّی کو روکنے کا موقع بھی نہ مل سکا تھا !! فون رکھے جانے کے بعد کمرے میں کئی افراد کی موجودگی کے باوجود ایسا سنّاٹا تھا کہ سوئی گرنے کی آواز بھی سنی جاسکتی تھی ...
سب کے دل میں بس ایک ہی خیال تھا کہ اب امّاں وہ ہنگامہ کریں گی جو ناقابل فراموش ہوگا ،، مریم نےتو لاشعوری طور پر کانوں پر ہاتھ رکھ لیا تھا مگر امّاں نے کچھ دیر خاموشی سے سب کے چہرے دیکھے پھر سب سے ہوتی ہوئی انکی نظریں مریم پر لمحے بھر کو رکیں اور پھر فرحین پر جم گئیں
"امّاں ! میں نے کسی بری نیت سے نہیں بتایا تھا ، امی آپکی خیریت پوچھتی ہی رہتی ہیں تو بس میں نے ذکر کر دیا " فرحین کا اعتماد واپس آچکا تھا اس کا لہجہ گواہ تھا کہ وہ سچ کہہ رہی ہے امّاں نے کسی بات کا جواب دیے بغیر لائٹ بند کرنے کا حکم جاری کیا اور آنکھیں موند کر بستر پر لیٹ گئیں . دھیرے دھیرے سب باہر نکل گئے
"آپ فکر نہ کریں بھابی ! امّاں پریشان ہیں اسلئے خاموش ہیں انکا علاج شروع ہوگا تو وہ سنبھلنے لگیں گی " مریم نے فرحین کو حوصلہ دیتے ہوۓ آہستہ سے اسکا ہاتھ دبایا .
"علاج کے لیے تیّار بھی تو ہوں ... انھیں تو الله پر بھی اعتبار نہیں ہے جیسے " فرحین سر جھٹکتے ہوۓ تلخی سے کہہ کر اپنے کمرے میں چلی گئی مریم اسکے لہجے کی تلخی کو اپنے اندر اترتے ہوۓ محسوس کر رہی تھی کچھ اسی طرح کا انداز باقی سب کا بھی تھا الجھا الجھا سا !
"تو کیا ہمیں ہے الله پر اعتبار ؟؟ دوسروں پر بے اعتباری کے فتوے لگاتے ہم کتنے بھروسہ کرنے والے ہیں؟"یہ سب وہ اولادیں ہیں جنکو امّاں نے ہتھیلی کا چھالا بنا کر پالا تھا ... جن پر فخر و تکبر کرتے انکا لہجہ مضبوط ہوجاتا تھا جنکا ذکر کرتے ہوۓ انھیں کبھی الفاظ کم نہیں پڑے ...
وہ اپنی ہی سوچوں میں گم اپنے کمرے میں داخل ہوئی . شہریار بیڈ پر دراز تھا ..
"امّاں کو سوچنا چاہیے کہ اس طرح کرینگی تو کیسے کام چلے گا؟ " شہریار جھنجلاہٹ بھرے انداز میں مخاطب ہوا تو وہ وہ اپنی سوچوں کو الفاظ میں بدلنے پر مجبور ہونے لگی " آپ نے سوچا تھا اپنے بچپن میں ؟؟ انجکشن بھی لگوانا ہوتا تو آپ زمین آسمان ایک کر دیتے تھے کہ ڈاکٹر کے پاس نہیں جانا !! امّاں ہی بتاتی ہیں یہ سب مجھے تو نہیں معلوم تھا !"
شہریار حیرت سے مریم کو دیکھنے لگا "مطلب؟"
" مطلب یہ ہے کہ یہ ہمارا کام ہے کہ انکے دل سے خوف و پریشانی نکالیں علاج تو ہونا ہی ہے انھیں اچھے طریقے سے ہنڈل کرنا بھی ہم سب کی ذمہ داری ہے " مریم کی بات پر شہریار چند لمحے خاموش رہا
"امّاں نے جو سلوک تمھارے ساتھ رکھا ہے اسکے بعد تو میرا دل نہیں چاہتا کہ... " وہ جملہ مکمل نہیں کر پایا
" میرا بھی دل نہیں چاہتا شہریار ! مگر آپ نے محسوس کیا ہے کہ امّاں ٹوٹ پھوٹ سی رہی ہیں ؟؟ اس وقت پرانے زخم ہرے مت کریں ... یہ دنیا آزمایش کی جگہ ہے ، کچھ نہیں پتہ کہ کون اس وقت کس آزمایش میں ڈالا گیا ہے ...ہم اپنے جھگڑے پھر نمٹا لیں گے الله پاک امّاں کو صحت و سلامتی والی زندگی عطا فرماۓ ، ابھی انکو صرف محبت اور ہمدردی درکار ہے ، اپنے لہجے میں شہد گھول لیں اپنے شانے شفقت کے ساتھ عاجزی کے ساتھ جھکا لیں الله پاک کا فرمان مت بھولیں
فلا تَقُل لھما اُفٍّ ولا تَنھرھُماو قُل لھما قولاً کریماً ٭ وَاخفِض لهُما جناح الذل من الرحمۃ و قُل ربّ ارحَمھُما کَما ربّیانی صغیراً)
ان کے جواب میں اف تک نه کهنا اور نه جھڑکنا اور (جو ﮐﭽﮭ کهنا سننا هو) تو بهت هی ادب سے کها کرو اور ان کے سامنے شفقت و خاکساری کے ساتھ شانے جھکائے رکھو اور دعا کرو که اے میرے پالنے والے جس طرح ان دونوں نے میرے بچپنے میں میری پرورش کی اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما "
مریم کی آواز میں نمی گھلنے لگی تو وہ خاموش ہوگئی تھوڑی دیر دونوں خاموش رہے
"میں نے امّاں کے انداز میں عجیب سی تبدیلی دیکھی ہے ایک بے چینی سی ہے .. میں انھیں بہت زبردست اور طاقتور دیکھنے کی عادی ہوں مجھے بہت برا لگ رہا ہے یہ سب ، جیسے کسی حاکم کو محکوم بنا دیا جاۓ .. کسی بادشاہ سے اسکی سلطنت چھین لی جاۓ ! چھوٹے چھوٹے خیالوں کی سلطنت ، گمانوں کی بادشاہت ! انکی ذات انکے لئے بہت فخر کا باعث ہوا کرتی تھی کچھ دن سے میں یہ فخر کھویا کھویا محسوس کر رہی ہوں انکی ٹوٹ پھوٹ کوئی اچھا سائن نہیں ہے ..اس وقت انھیں آپ سب کا حوصلہ اور مان چاہیے انھیں اپنے رویوں سے یہ باور کرائیں کہ آپ کے لئے انکی ذات آج بھی بہت اہم ہے اتنی ہی جتنی تندرستی میں تھی ! وہ بکھر گئیں تو ہم سب بکھر جایئں گے ! "
شہریار اسکے ایک ایک لفظ سے اپنے اندر سو سو دیے جلتے محسوس کر رہا تھا روشنی ہی روشنی .. نور ہی نور " واقعی زندگی ہی تو اصل شرط ہے وہی نہ رہی تو کسی شکایتیں ؟ ہم کتنے ظلم کرتے ہیں اپنے ذاتی بغض و عناد کو وجہ بنا کر بآسانی اپنی اہم ترین زمہ داریوں سے غافل ہوجاتے ہیں اگر مریم امّاں کے برے سلوک کے باوجود اپنے دل میں انکے لئے اس قدر نرم گوشہ رکھتی ہے تو میں تو مقروض ہوں انکی ممتا اور محبتوں کا ... میں کیسے اپنا دل سخت کرسکتا ہوں ؟؟ ہر گز نہیں ... یا الله مجھے وسواس سے اپنی امان میں رکھنا "
اور اگلے دن شہریار اور مریم نے سب کے ساتھ مل کر ایک لاحہ عمل ترتیب دیا .... علاج مہنگا تھا ،،، تکلف دہ تھا ،،،، مگر اس عمل سے گزرنا ہی تھا ! انجکشن اور اسکی ڈوز وغیرہ معلوم کرنے کے بعد پیسوں کے کونٹریبیوشن پر بات کی گئی .. سب کچھ ہوگیا الحمد للہ .. اب مسئلہ تھا امّاں کو راضی کرنا اور انکے ساتھ ڈے کیئر میں ساتھ رہنے کا .. خواتین میں سب ہی مصروف تھیں ، بہنوں کی شادیاں ہوچکی تھی سب اپنی ذمہ داروں میں اور بھابیاں دونوں اپنے چھوٹے بچوں میں مصروف !
" مریم جاسکتی ہے میرے خیال میں " شہریار نے تائید طلب نظروں سے مریم کو دیکھا " جی بالکل " مریم نے اقرار کرنے میں لمحے کی تاخیر نہیں کی سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ..."اماں نہیں مانیں گی مریم کے ساتھ جانے پر " فرحین نے کہا تو مریم خاموش سی ہوگئی "دیکھ لیتے ہیں ابھی تو امّاں کو راضی کرنے کا مرحلہ باقی ہے "
مریم نے ان دنوں اپنی خدمات اور توجہ امّاں کے لئے وقف کر دیں تھیں
" امّاں یہ جوس پی لیں " وہ امّاں کے کمرے میں داخل ہوئی اور جوس سائیڈ ٹیبل پر رکھنے لگی "ادھر ہی لے آؤ مریم ! " شفیق لہجہ سن کر وہ حیران نہیں ہوئی آجکل امّاں اسی طرح بات کرتی تھیں حیران تو وہ تب ہوئی جب امّاں اسکا ہاتھ پکڑ کر رو پڑیں
" تم لوگ یہی چاہتے ہو ناں کہ میں علاج کروالوں ؟ میں اتنی تکلف نہیں سہہ سکتی اس عمر میں، بہت مشکل ہے بہت مشکل ہے بہت مشکل ... "
آج انھیں صرف اپنی مشکل یاد تھی ..دنیا میں رسوا ہونے کا کہیں ذکر نہ تھا ! مریم نے امّاں کا ہاتھ ہونٹوں سے لگایا اور ان کی قریب بیٹھ گئی
"امّاں آپ صبح میں روز قران مجید تلاوت کرتی ہیں ناں ؟؟ اکثر سنا ہے میں نے آپ ترجمہ بھی پڑھتی ہیں اکثر پڑھا ہوگا ناں آپ نے .. ان مع العسر یسرا " امّاں کے آنسو پل بھر کے لئے جیسے تھم سے گئے
" بہت مشکل ہے ساتھ آسانی ہے ! اب یہ جملہ کہیں ذرا؟؟" وہ مسکرائی تو امّاں کو لگا جیسے ساری کائنات مسکرا اٹھی
" کون جانے یہ آزمایش ہے بھی یا نہیں؟؟ انسان اپنے برے اعمال کے بدلے پریشانیاں جھیلتا ہے یہ بھی تو رب کا فرمان ہے ؟؟ " امّاں اپنے آنسو پونچھ کر پرسکون سے لہجے میں کہہ رہی تھیں
"اگر آپ اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو یاد کرنے لگی ہیں تو مطلب یہ ہوا ناں کہ آپ الله کی طرف روجوع کر رہی ہیں ؟ تو آزمایش یہی ہے کہ ہم اللہ کے نزدیک ہوجائیں اور عذاب یہ ہے کہ مشکل کی گھڑی میں الله کی یاد سے غفل ہوجائیں ... اب باتیں ختم آپ جوس پئیں " مریم نے انھیں محبت سے گلاس تھمایا اہنوں نے گلاس تھام لیا
"ٹھیک ہے جو تم لوگ مناسب سمجھو وہ کرو میں تیّار ہوں " امّاں نے گلاس خالی کر کے اسے واپس کیا اسی لمحے فرحین اندر داخل ہوئیں امّاں نے ایک نظر فرحین پر ڈالی اور مریم کی طرف دیکھ کر آھستہ سے بولیں " اور میرے ساتھ ہسپتال تم چلو گی اور کوئی نہیں "
"اماں مجھے ہی ساتھ جانا ہے باقی سب ہی اپنے بچوں کی وجہ سے مجبور ہیں ورنہ کون نیکی کے مواقع چھوڑتا ہے؟؟ " اسکا لہجہ ہمیشہ کی طرح نرم تھا وہ الفاظ کو سنبھال سنبھال کر ادا کرتی کہ بس ذرا سی بے احتیاطی سے لفظ پتھر بن جاتے ہیں اور دلوں کو چور چور کردیتے ہیں ... فرحین چاہنے کے باوجود اس کی طرف سے دل میں تنگی محسوس نہ کرسکی اور امّاں بھی لاشعوری طور پر فرحین سے اپنی خفگی کو بھولنے لگیں . مریم چاہتی تو بہت آرام سے رشتوں میں دراڑ ڈالنے کا کام انجام دے سکتی تھی ..اسکے پاس جواز تھا کہ باقی سب بھی تو یہی کر رہے ہیں .. ہر کسی کی طرف سے بدگمانی پیدا کرنا خاص کر جب آپکو اخلاق سے لوگوں کو اپنی مٹھی میں بند کرنا آتا ہو تو یہ کام بہت آسان لگتا ہے اور لطف بھی آتا ہے مگر مریم جانتی تھی کہ اچھی پشکش سے بندے متاثر ہوتے ہیں الله نہیں ! پیشکش کتنی بھی اچھی ہو الله بندوں کو انکی نیتوں سے جانچے گا
انما لکل امری ما نوی (بے شک ہر آدمی کے لئے ہے جو نیت ہے اسکی ) حدیث پاک صلی الله علیہ وسلم
اور مریم صرف نیت کے کھوٹ سے بچنا چاہتی تھی
-------------------**-----------------------**---------------------**--------------
برابر والے روم میں کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا تھا اور مریم حال میں واپس آئی اور سر جھٹک کر باہر نکل گئی
ثنا کو بتا کر جانا تھا جو کہ روم نمبر ون میں ہوتی تھی . اسلیے مریم کو روم نمبر ون میں زیادہ سہولت لگتی تھی کہ ہر بات کے لئے بھاگ دوڑ نہیں کرنا پڑتی تھی "ثنا ! میں ذرا واٹر بوٹل لے کر آتی ہوں ، امّاں کی آنکھ لگ گئ ہے ذرا دیکھ لیجیے گا "
"او کے .. آپ انکو بھی ساتھ لے جایئں پلیز فارما دیکھ لیں گی انہیں معلوم نہیں ہے آج ]پہلی بار آئی ہیں بھائی کے ساتھ " ثنا نے ایک سوبر سی خاتون کی طرف اشارہ کیا شاید وہ مریم سے کچھ ہی بڑی ہونگی عمر میں . مریم نے مسکراتے ہوۓ گویا اقرار کیا اور ساتھ ہی بیڈ پر نظر ڈالی حیات آنکھیں موندے لیٹا ہوا تھا یا شاید سورہا تھا اس نے ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں سمجھا
بھابی اٹھ کر اسکے ساتھ چل پڑیں
: حیات آپکے بھائی ہیں ؟ " مریم نے راستے کا اندازہ لگاتے ہوۓ بات براۓ بات کی غرض سے پوچھ لیا .. " نہیں دیور ہے " انہوں نے جواب دیا
" الله صحت و تندرستی عطا فرماۓ " مریم نے دل کی گہرائیوں سے دعا کی
"آمین .. مگر جب سے اسکی منگنی ٹوٹ گئی ہے ... وہ ایسی دعا بھی زور سے نہیں مانگنے دیتا " بھابی کی اوز میں آنسؤوں کا نمک گھلا تھا اور مریم کے قدم تھم گئے
"کیوں ؟؟" بے اختیار ہی اسکے منہ سے نکلا تو بھابی نے اسے آگے چلنے کا اشارہ کیا " بتاؤنگی بعد میں " مریم ٹھنڈی سانس بھر کر آگے بڑھ گئی
زندہ لاشوں کی اک بھیڑ چاروں طرف
موت سے بھی بڑا حادثہ زندگی !!
پھر وہ اگلی بار آئی امّاں کو لے کر تو حیات اور اسکی بھابی سے ملاقات نہ ہوئی .. پانچویں کیمو میں جیسے ہی روم ون میں داخل ہوئی غیر ارادی طور پر اسکی نظریں بیڈ پر گئیں اور حیات کو آنکھیں موندے لیٹا دیکھ کر مسکر دی . "ثناء ! آپکی پیشنٹ آچکی ہیں " اس نے نظروں کا رخ صبا کی طرف موڑا
"میڈیسن لے آئیں پھر سٹارٹ کرتے ہیں " ثناء نے ایک دوستانہ مسکراہٹ مریم کی طرف اچھالی
"او کے ..." وہ پلٹی پھر دروازے کے قریب جا کر رک گئی ایک نظر حیات کی طرف دیکھا پھر ثناء سے پوچھا "بھابی آئیں ہیں "
ثناء ٹیلیفون کی طرف ہاتھ بڑھا کر ریسور اٹھا چکی تھی باہر کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ نمبر ڈائل کرنے لگی اور مریم باہر نکل کر فارما کی طرف بڑھنے لگی فارما کے نزدیک ہی اسے بھابی منرل واٹر لیتی ہوئی نظر آگئیں . دوائیں لے کر وہ روم کی طرف جانے لگی تو چند قدم ہی آگے جاتی بھابی کو سلام کر کے روکا "وعلیکم السلام " بھابی چونک کر پلٹن پھر اسے دیکھ کر مسکرائیں "مریم ! کسی ہو ؟" " الحمدللہ" آپ سنائیں بھابی جی ! حیات کی طبیعت کے بارے میں ؟" ایک پژمردہ سی مسکراہٹ انکے لبوں پر ٹھر گئی چند لمحے وہ دونوں خاموش رہیں "آپ نے ناشتہ کیا ہے بھابی؟" مریم نے روم کے نزدیک آکر پوچھا "نہیں .. دل نہیں چاہا " بھابی نے سر ہلایا "اوکے پھر پشینٹس کو چیزیں فراہم کر کے ہم دونوں کینٹین چلتے ہیں چاۓ کی طلب مجھے بھی ہورہی ہے اور ناشتہ بھی کرلیں گے " وہ دونوں ساتھ ساتھ ہی اندر داخل ہوئیں "ثناء ! آپ ڈرپ وغیرہ لگا لیں اور میڈیسن چیک کرلیں پھر ہمیں تھوڑی دیر کی اجازت دیں ہم چاۓ پی کر آجائیں " مریم نے ثناء کو میڈیسن کا شاپنگ بیگ تھمایا تو ثناء چیزے چیک کرنے لگی حیات کی ڈرپ لگ چکی تھی وہ بدستور آنکھیں بند کیے ہوۓ تھا ثناء روم ٹو میں آئی امّاں کی وین آج آسانی سے مل گئی .. وہ قدرے مطمئن بھی تھیں اس نے امّاں سے اجازت لی اور باہر آگئی
"جی بھابی ! اب بتائیں .. حیات کے ساتھ کیا حادثہ پیش آیا جو وہ زندگی سے اتنا بیزار ہوگیا ہے ؟ " ناشتے اور چائے کا آرڈر دینے کے بعد وہ بھابی سے مخاطب ہوئی بھابی نے مضطرب ہوکر ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں پھنسا لیں اور سر جھکا کر میز کی سطح کو دیکھنے لگیں
" حیات دس سال کا تھا جب میری شادی ہوئی ..شرارتی ہنس مکھ سا ہم سب کا بہت لاڈلا . میری اس سے بہت دوستی ہوگئی وقت دھیرے دھیرے سرکتا رہا بارہ سال کی عمر میں حیات کی والدہ کا انتقال ہوگیا تو یہ میرے اور بھی قریب آگیا اور مجھے اپنے بیٹے کی طرح عزیز ہوتا چلا گیا .....گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ حیات بہت سنجیدہ ہوگیا !تعلیمی مدارج طے کرتے ہوۓ وہ انجینئرنگ یونیورسٹی پہنچ گیا .. یونیورسٹی میں اسے میری ایک کزن ملی جو اسی کے ساتھ زیر تعلیم تھی.... ثمین ! حیات کو وہ بولڈ اور بہادر سی خوبصورت لڑکی بہت پسند آئی ... زندگی کو قدرے مختلف انداز سے دیکھنے والا یہ انسان جب محبت میں مبتلا ہوا تو بھی اس لڑکی کے پاس جاکر اظہار محبت کرنے کے بجاۓ میرے پاس آیا اور سیدھے طریقے کو اپنانے کا قائل رہا !اس نے مجھ سے ذکر کیا مجھے علم تھا کہ ثمین ایک خود پسند اور خود غرض قسم کی لڑکی تھی میں نے اسکو سمجھایا وہ مسکراتا رہا " مجھے معلوم ہے عشق کی راہوں میں رکاوٹیں تو آتی ہی ہیں "
"اس سے عشق تمہیں مہنگا پر سکتا ہے .. آئے دن اسکے رشتے آتے ہیں اور وہ کہیں رضامند نہیں ہوتی اسکا معیار بہت اعلی ہے ، کہیں شکل پسند نہیں آتی ، کہیں خاندان ، کہیں تعلیم ، صحت کے حوالے سے بھی کافی کانشس ہے وہ کھانسی بھی آجاۓ تو ٹی بی کا مریض ڈکلیئر کردیتی ہے " میں نے اسے سمجھایا تو وہ زور سے ہنس پڑا " مجھے کس بنا پر رد کرے گی وہ؟؟ " اسکے پر اعتماد انداز پر میں چند لمحے اسکو دیکھتی رہی
" الحمد للہ کہتے ہیں حیات ! الله تمہیں ہمیشہ اپنی امان میں رکھے " دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی دعا پر وہ بھر پور انداز میں مسکرایا "آمین "
"پھر آپ بات چلائیں گی ناں ؟؟" میں نے مجبورا اثبات میں سر ہلا دیا .. سب ٹھیک جارہا تھا ثمین کی طرف سے کوئی خاص اعتراض نہیں آیا سوائے اس کے کہ وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد شادی کرے گی .. اور حیات کو اس بات پر کوئی اعتراض نہیں تھا سب کی رضا مندی سے ان دونوں کی منگنی ہوگئی !
مگر زندگی کے ہزار رنگ ہیں اور ان ہزار رنگوں کے ہر رنگ میں مزید ہزار ! " بھابی کی نگاہیں میز کی سطح پر جمی ہوئیں تھیں اور انکی آواز جیسے کسی کنوئیں سے آتی محسوس ہورہی تھی انکا ذہن ماضی میں کہیں دور بھٹک رہا تھا !
------------------------٨٨٨----------------------٨٨٨ -----------------------------
خدا جانے کتنے ہی دن بعد آج حیات اور ثمین ایک ساتھ فارغ ہوۓ اور ثمین ہی کی فرمایش پر کافی پینے ایک ریسٹورنٹ کے سامنے رک گئے .
سامنے ہی دو لڑکے سگریٹ کا کش لگاتے ہوۓ جا رہے تھے عمر بمشکل چودہ پندرہ سال ہوگی .. حیات نے ناگواری سے دیکھ کر گردن موڑ لی ثمین نے غور سے اسے دیکھا " تمہیں میں نے کبھی سگریٹ پیتے نہیں دیکھا حیات " حیات نے حیرت سے اسے دیکھا پھر اسے بھابی کی بات یاد آگئی(صحت کے حوالے سے بھی کافی کانشس ہے وہ کھانسی بھی آجاۓ تو ٹی بی کا مریض ڈکلیئر کردیتی ہے) وہ بے ساختہ مسکرایا "دیکھو گی بھی نہیں "بس انشااللہ کہنا وہ بھول گیا بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے !
"کیوں بھلا؟؟" سترہ اٹھارہ سال کا ایک لڑکا کافی لے کر آچکا تھا کافی کا ایک کپ اپنے قریب کرتا ہوۓ ثمین نے کھوجتی نظریں اس پر گاڑ دیں
"مجھے کوچنگ کے زمانے سے لڑکے امپریس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بہت رغبت دلائی سب نے مگر مجھ میں بہت سمجھ ہے ہمیشہ سے مجھے خود بھی پسند نہیں اور پھر بھابی دی گریٹ کی تربیت بہت عمدہ تھی انہوں نے میرے قدموں کو ہمیشہ جما کر رکھا " باوجود اسکے کہ چہرے پر اپنی بھابی کے لئے بے حد عزت مان اور محبت جھلک رہی تھی مگر انجانے میں وہ رب کا نام لینا ایک بار پھر بھول گیا اسکے الفاظ اور انداز میں الله کا شکر کہیں نہیں تھا !

"میری زیادہ نہیں بنتی تمہاری بھابی سے " بے اختیار نکلنے والے اس جملے پر ثمین نے ایک دم ہی کپ اٹھا کر کافی کا سپ لینے لگی حیات نے بالکل بھی نوٹس نہیں لیا تھا ایسی باتیں وہ بھابی سے بھی سنتا رہتا تھا اور اسکو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتا تھا .چند لمحے خاموشی سے گذر گئے
"اچھا اگر مجھے پسند ہو سگریٹ ؟؟ اور میں کہوں پینے کو؟؟" ثمین کی عجیب بات پر وہ دم بخود رہ گیا "حیران مت ہو مجھے تو واقعی پسند ہے .. سٹائل لگتا ہے لڑکوں میں سگریٹ پینا "
"میں نے سنا تھا تم صحت کے معاملے میں بہت کانشس ہو ؟؟" حیات اب سنبھل چکا تھا مگر اسکی حیرت ختم نہیں ہوئی تھی ابھی تک
"ہاں ہوں .. تو؟؟ سگریٹ تو ہر کوئی ہی پیتا ہے اسکا صحت سے کیا تعلق؟" ثمین ادا سے مسکرائی "مشکل ہے ثمین ! میں شاید نہ کر سکوں.. "
الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر اسکے ہونٹوں سے ادا ہورہے تھے اسے اس قدر پڑھی لکھی اور سمجھدار لڑکی سے اس بات کی امید نہیں تھی .ثمین چند لمحے خاموشی سے اسے دیکھتی رہی
"اچھا ؟ پھر تمہارا کیا خیال ہے میں تم سے محبت میں چاند تاروں کی فرمایش کروں گی؟" حیات نے بغور دیکھا شاید وہ مذاق کر رہی ہو ؟ مگر ایک سرد مہر سا تاثر اسکے چہرے پر تھا "اور اگر تم ایسا نہیں کرتے ہو تو مطلب یہ ہوا کہ بھابی زیادہ عزیز ہیں تمہیں مجھ سے ..."
انتہائی فضول بات کر رہی ہو " حیات کو ایک دم ہی اسطرح مقابلہ کرنا برا لگا تو اسکی بات کاٹتے ہوۓ کہہ اٹھا ثمین نے چند لمحے خاموشی سے اسے دیکھا پھر ایک جھٹکے سے اپنا بیگ اٹھایا اور پیر پٹختے ہوۓ باہر چلی گئی
حیات اس کے پیچھے نہیں گیا چپ چاپ بیٹھا اس جگہ کو دیکھتا رہا جہاں سے وہ باہر نکل کر گئی تھی اسے گویا یقین تھا وہ واپس آئے گی اور صرف دو منٹ بعد ہی وہ واپس آگئی حیات مسکرا دیا
"مجھے معلوم تھا تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہوجاۓ گا "
انتہائی عجیب مسکراہٹ ثمین کے چہرے پر ابھری پھر اسکی عجیب حرکت اور اسکے منہ سے نکلنے والے جملے نے جیسے حیات کو پاتال میں دھکا دے دیا ..
ثمین نے دائیں ہاتھ کی تیسری انگلی میں پہنی انگوٹھی اتار کر میز پر رکھی اور ساتھ ہی سگریٹ کا ایک ڈبہ .. "دونوں میں سے ایک چیز اٹھا لو اور اپنے ساتھ لے جاؤ "
حیات کو لگا تھا یہ سب خواب ہے .. ایک بھیانک خواب ! "رشتے اتنے کمزور ہوتے ہیں ثمین؟؟ " آنسوؤں کا گولا سا حلق میں اٹکنے لگا تھا
"یہ تو تم بتاؤ گے " ثمین نے اسے جانچتی نظروں سے دیکھا حیات کچھ دیر خاموش بیٹھا میز پر پر بے جان اشیا کو دیکھتا رہا
"تم اس وقت جذباتی ہورہی ہو ثمین ہم بعد میں بات کرتے ہیں "
حیات اتنا کہہ کر اٹھ کر تیز قدموں سے باہر چلا گیا
پھر تین دن لگاتار غیرحاضر رہنے کے بعد وہ یونیورسٹی آیا . ثمین بالکل نارمل طریقے سے ملی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو نہ پچھلی کسی بات کا ذکر نہ ہی کوئی مطالبہ نہ تکرار ! حیات نے اسکو غنیمت سمجھا اور وہ بھی خود کو نارمل ظاہر کرنے کی کوشش کرنے لگا . کچھ دنوں میں بات آئی گئی ہوگئی .
سمسٹر کے بعد کچھ دنوں کی فراغت نصیب ہوئی تو ایک دن تمام فیلوز نے ڈنر کا پروگرام بنایا .. کھانے کے بعد پان اور پھر شیشہ کا شغل چلا تو حیات حسب عادت اپنے ہم مزاج ایک دو لڑکوں کے ساتھ وہاں سے ہٹ کر خوبصورت مناظر کی تصویر کشی کرنے لگا . "آجا حیات ! آج ایک راؤنڈ تو کرنا بنتا ہے " کسی منچلے نے آواز لگائی مگر وہ اپنے کام میں مگن رہا بہت خوبصورت ایکیورم تھا جسے ہر زاویے سے کیمرے میں مقیّد کرنے کی کوششس جاری تھی .
"ہونہہ ... !" ثمین نزدیک ہی کھڑی تھی اسکی طنزیہ آواز اور حقارت بھری "ہونہہ " نے حیات کو ایک بار پھر اسی کرب سے دوچار کردیا . اس نے کچھ دیر سوچا پھر دوسری جانب قدم بڑھا دیے اور بالاخر آج اس نے ابتدا کر ہی دی .. بھابی کی تربیت... بھائی کی نصیحت اور حیات کے آدرش ! سب ہی اس نے قربان کردیے .. صرف ایک محبت کی خاطر !
تھرڈ سمسٹر کے اختتام تک جب بھابی کو خبر ہوئی تب تک وہ بہت ماہرانہ انداز میں سگریٹ پینے کا عادی ہوگیا تھا ! اب نہ وہ اسکو معاشرتی برائی سمجھتا تھا اور نہ مضر صحت !
"حیات ! تم سگریٹ پینے لگے ہو " آج چھٹی کا دن تھا حیات ناشتہ کر کے اپنے کمرے میں چلا گیا تھا یہ بات بھابی کے لیے حیرت کا باعث تھی انہوں نے کچھ مہینوں سے اس میں عجیب تبدیلی محسوس کرنا شروع کردی تھی حیات چھٹی کا دن لازماً ناشتے کے بعد کھانے کا مینو بنواتا اور اکثر چیزیں بنانے میں اپنی خدمات بھی پیش کرتا مگر کچھ دنوں سے اسکے معمولات یکسر بدل گئے تھے اور بھابی کو تشویش شروع ہو گئی انہوں نے حیات کے پاس سے سگریٹ کی شدید بو محسوس کی تو انہوں نے کھوج لگانا شروع کردی اور بلاخر ایک دن سگریٹ کا ایک پیکٹ اسکے کمرے سے برامد کر ہی لیا اور رات تمام کاموں سے فراغت کے بعد انہوں نے اسکے کمرے میں اسے جالیا وہ اگلے دن کے لیے کپڑے استری کر رہا تھا انکے سوال پر حیات نے چونک کر انھیں دیکھا پھر تذبذب میں پڑ گیا کہ کیا جواب دے "تمہیں معلوم ہے کہ یہ صحت کے لئے نقصان دہ ہے ؟ تم نے تو اسکول لائف میں اسے ہاتھ نہیں لگایا اب اتنے سمجھدار ہوکر ؟؟ جب میں سمجھ رہی تھی کہ تم اپنا مقصد حیات طے کر چکے ہو ؟" نہ چاہتے ہوۓ بھی انکا لہجہ تھوڑا تلخ ہوگیا
"بھابی! دو ماہ سے پی رہا ہوں تھکن اتر جاتی ہے اس سے ، پڑھائی اچھے سے ہوتی ہے ، بھوک بھی جب شدت سے لگے تو افاقہ ہوتا ہے " حیات نے شرٹ کا کالر سیدھا کرتے ہوۓ انھیں دیکھا اور ایک جاندار مسکراہٹ اچھالی
" ثمین کا مشورہ ہے ؟" انکے اندر یقین بن کر جو خیال اترا اسکو انہوں نے فورا زبان دے دی وہ خاموش رہا بھابی کے اندازے کم ہی غلط ہوتے تھے
" تمہاری صحت سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں " بھابی نے گویا جواب پا لیا تھا ایک تھکن سی انکے لہجے میں در آئی تھی "کچھ نہیں ہوتا بھابی مجھے آج تک کھانسی اور بخار بھی نہیں ہوا صحت ایک دم ے ون ہے ، ایک دم فٹ ہوں "
" الحمدللہ" بھابی ہونٹ ہلے مگر آواز سنائی نہ دی وہ پلٹ کر جانے لگیں پھر دروازے کے ہنڈل پر ہاتھ رکھ کر پلٹیں
"کبھی کبھی الله کا شکر ادا کیا کرو یہ سب اسی کی عطا ہے کسی ایک محبت کی خاطر تم الله محبت کو نہیں چھوڑ سکتے تمہاری صحت اسکی عطا ہے صحت کی حفاظت اس سے وفا ہے " پھر بھابی اندر آئیں اسکی سائیڈ ٹیبل کا دراز کھولا ایک کارڈ نکالا اور اسکے سامنے رکھ دیا " یہ اور ایسے کئی دعوے تم نے کیے ہیں کبھی دوستوں سے کبھی مجھ سے کبھی فرحین سے ، ان سب میں بہترین دعوی ہے جب یہ بات الله کے لئے کہی جاۓ "ONLY YOURS " صرف الله کیے لئے !" انہوں نے کارڈ کھول کر حیات کی آنکھوں کے سامنے کیا پھر وہ پلٹ گئیں " الله کا ذکر بھی ایک طرح کا ٹانک ہے جو انسان کو طاقت بخشتا ہے .. الله کا شکر انسان کے اندر اترنے والی آکسیجن ہے جس سے اس کا حبس دور ہوتا ہے یہ جو الله کے انعامات ہیں ہم پر تمہاری صحت تمہاری طاقت یہ سب شکر کی ادائیگی کے ساتھ برقرار رہتے ہیں ورنہ ... لئن شکرتم لازیدنکم و لئن کفرتم ان عذابی لشدید"
(البتہ اگر تم شکر ادا کرو گے ہم زیادہ کریں گے تم پر انعامات اور اگر تم انکار کرو گے بے شک میرا عذاب سخت ہے )
بھابی اپنی بات مکمل کر کے چلی گئیں اور حیات چند لمحے کے لیے حرکت کرنا بھول گیا !! مگر پھر سر جھٹک کر مسکرا دیا "بھابی بھی نا .. لگتا ہے درس کی محفلوں میں جانے لگی ہیں آجکل "
وقت پر لگا کر اڑتا جارہا تھا ساتویں سمسٹر کی تیاری عروج پر تھی جب حیات کو مستقل کھانسی اور ہلکا ہلکا بخار رہنے لگا وہ صبح یونی جانے کی تیّاری میں مصروف تھا کہ اچانک اسے کھانسی کا دورہ پڑا اور اتنی شدت اختیار کر گیا کہ اسکی سانس اکھڑ گئی اور گلے سے خرخراہٹ کی آوازیں آنے لگیں پھر اسے متلی محسوس ہونے لگی وہ واش روم کی طرف بھاگا .. ابھی ناشتہ نہیں کیا تھا اس نے مگر حلق سے باہر آنے والے خون کو دیکھ کر وہ لمحے بھر کو گھبرا گیا پھر یہ سوچ کر خود کو مطمئن کر لیا کہ حلق میں خراش آگئی ہوگی اسی وجہ سے خون نکل گیا ہے . تھوڑی دیر میں اسکی طبیعت سنبھل گئی مگر ہلکی ہلکی کھانسی سرے دن ہی رہی .
"تم کسی اچھے ڈاکٹر کو دکھا کر دوا کیوں نہیں لیتے حیات؟؟" پچھلے دس منٹ تک مسلسل اسکی کھانسی کو برداشت کرتی ثمین نے ناگواری سے اسے دیکھا وہ دونوں یونی میں ہی اکٹھے اپنے اپنے اسائنمنٹس تیّار کر رہے تھے
"ہاں جاؤنگا آج ..ٹائم نہیں ملتا پڑھائی بہت سخت چل رہی ہے ناں " حیات نے کہا تو اسکی آواز میں عجیب سا کھردرا پن بھی محسوس ہورہا تھا اس نے گلا کھنکار کے دوبارہ بات شروع کی
"ایسی کوئی خطرناک بیماری نہیں ہے مجھے صرف وائرل انفیکشن ہوگیا ہے بس " حیات نے اسے اطمنان دلانے کو کہا مگر اسے جانے کیوں صبح والی بات بھی یاد آگئی تھی .
"ہاں مگر دکھا لو تو اچھا ہے " ثمین بھی سر ہلا کر اپنے ارد گرد بکھرے پیپرز میں دوبارہ الجھ گئی .
شام میں حیات ایک جان پہچان کے جنرل فزیشن کے پاس آگیا
"مکمل تفصیل سے اسکی حالت سننے کے بعد ڈاکٹر نے پوچھا "یہ کیفیت آپکی کب سے ہے؟"
" تقریباً ایک ہفتے سے مستقل ہے پہلے کم ہوتی تھی اور خون تو آج پہلی بار آیا ہے " ڈاکٹر نے کچھ سوچ کر سر ہلایا "یہ کچھ ٹیسٹ اور ایکسرے کروا کر آئیں آپ . اور فی الحال یہ دوائیں لیں "
"ایکسرے؟" اس نے حیرت سے دیکھا
"جی ایکسرے ! " ڈاکٹر نے سر ہلایا "اسکے علاوہ آپ کے ایک یا دو ٹیسٹ ہو سکتے ہیں۔"
"وہ کیا اور کس لئے ؟ میں تفصیل جاننا چاہتا ہوں " حیات قدرے گھبرا گیا تھا
"برونکو اسکوپی - ایک ڈاکٹر یا نرس آپ کے پھیپھڑوں میں ہوا کے راستوں کی اندرونی سطح کی جانچ کرے گی اور خلیوں کے کچھ نمونے لے گی۔ ٹیسٹ سے چند گھنٹے پہلے، آپ کچھ کھا یا پی نہیں سکتے۔ "
" پریشانی والی کوئی بات ؟؟ " حیات کسی بری خبر کے لیے اپنے ذہن کو تیّار کر رہا تھا
" نہیں کوئی پریشانی والی بات نہیں ہر بیماری کا علاج موجود ہے بس آپکو ہمت کرنا ہوگی " ڈاکٹر نے مسکرا کر ہمت بندھائی
"جو ٹیسٹ بتایا آپ نے اس میں کیا طریقہ کار ہوگا ؟؟" اس نے اندازہ لگانے کی غرض سے پوچھا
"آپ کے منہ یا ناک کے ذریعے ایک پتلی ٹیوب کو آپ کے پھیپھڑوں میں ڈالنے سے پہلے، آپ کو ٹیوب کے گزرنے کے راستے کو سُن کرنے والی اور کوئی سکون آور دوا دی جائے گی۔ اس ٹیسٹ میں 20 منٹ لگتے ہیں اور آپ کچھ گھنٹے بعد اپنے گھر جا سکتے ہیں۔
سی ٹی )کمپیوٹرائزڈ ٹوموگرافی( اسکین - سی ٹی اسکین کئی ایکسرے لیتا ہے اور ان سے آپ کے جسم کے اندرونی حصے کی ایک سہ رخی تصویر بناتا ہے۔ اس اسکین میں 30 - 10 منٹ لگتے ہیں اور اس میں درد نہیں ہوتا۔ اس میں تھوڑی مقدار میں تابکاری شعاعیں استعمال ہوتی ہیں۔ اس سے نقصان پہنچنے کے امکانات بہت کم ہیں اور نہ ہی آپ سے رابطے میں آنے والے کسی شخص کو نقصان پہنچے گا۔ آپ اسکین سے کم از کم 4 گھنٹے پہلے، کچھ کھا پی نہیں سکتے۔
ہو سکتا ہے کہ آپ کو کسی ڈائی کا ایک انجیکشن یا مشروب بھی دیا جائے جس کی مدد سے کچھ مقامات کو زیادہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس سے آپ کو کچھ منٹوں کے لیے گرمی کا احساس ہو سکتا ہے۔ اگر آپ کو آئیوڈین سے الرجی ہے یا دمہ کی بیماری ہے، تو اس کے بارے میں مجھے بتانا ضروری ہے، کیونکہ اس کی وجہ سے آپ پر اس ٹیکے کا زیادہ شدید ردعمل ہو سکتا ہے۔ "
"دمہ .. " حیات نے حیرت سے اپنی کیفیت کو محسوس کیا "کس بیماری کا اندیشہ ہے آپکو ؟" حیات کی نظریں ڈاکٹر پر گڑ گئیں
"ابھی کچھ کہنا وقت سے پہلے ہوگا ، آپ یہ ٹیسٹ کروا کر آئیں پہلے .. الله کی ذات سے ہمیشہ اچھی امید رکھیں...دعائیں کثرت سے پڑھیں میری والدہ ایک عالمہ ہیں انکا کہنا ہے الله کے ذکر میں بہت برکت ہے اندر کی تمام بیماریاں خصوصا جو سانس کی بیماریاں ہیں وہ الله کے ذکر سے دور ہوجاتی ہیں ... دنیا کے دھندے ایسے جیسے انسان چڑھائی پر چڑھتا جاۓ جتنا اوپر جایئں سانس لینے میں اتنی ہی دشواری ہوتی ہے ناں؟؟"ڈاکٹر صاحب نے تائید طلب نظروں سے اسے دیکھا وہ چپ چاپ رہا " تو جو خلا باز ہوتے ہیں وہ اپنے ساتھ آکسیجن باکس رکھتے ہیں تاکہ آکسیجن کی کمی وہاں سے پوری ہوتی ریے ، بالکل اسی طرح عمر کی چڑھائی چڑھتے ہوۓ آکسیجن باکس یعنی ذکر باری تعالی ضروری ہوتا ہے جتنا زیادہ ذکر اتنی ہی تازگی اتنی ہی فرحت " ڈاکٹر صاحب نے بات ختم کر کے مسکرا کے اسے دیکھا "آپ پریشان نہ ہوں بس یہ ٹیسٹ کروائیں آگے الله مالک ہے "
حیات ٹیسٹ کی سلپ پڑھتے ہوۓ وہاں سے اٹھ کر باہر آیا امید و ناامیدی کے درمیان اسکی انتہائی عجیب کیفیت تھی کوئی پاس بہت پاس سے کہہ رہا تھا
لئن شکرتم لازیدنکم و لئن کفرتم ان عذابی لشدید" ایک بے بس آنسو تھا جو اسکی آنکھ سے ٹپکا اور گریبان میں جذب ہوگیا
تمام ٹیسٹ کروانے کے بعد رپورٹس آنے تک حیات بوکھلایا بوکھلایا اور مضطرب سا پھرتا رہا "آخر ہوا کیا ہے تمہیں ؟ کہتی کچھ ہوں کرتے کچھ ہو " ثمین نے اسے برگر لانے بھیجا تھا اور واپسی پر اسکے ہاتھ میں چپس کا پیکٹ دیکھ کر کوفت زدہ لہجہ میں اسے مخاطب کر کے کہنے لگی حیات نے خاموش نظروں سے اسے دیکھا
"کاش ثمین ! میں ایسا ہی ہوتا تم کچھ کہتی اور میں کچھ کرتا !! تمھارے احکامات کی بجاوری کرتے کرتے تو میں زندگی کو داؤ پر لگا بیٹھا ہوں ... شاید" اسکے ہونٹ آہستگی سے ہلے اور سوچوں کا آخری لفظ آواز کی صورت ہونٹوں سے برآمد ہوا اور فضا میں پھیل گیا
" اب یہ شاید کیا؟؟ " ثمین اکھڑ کر کہہ اٹھی " اتنی سخت بھوک میں میں یہ چپس نہیں کھاؤں گی مجھے برگر لاکر دو "
"ثمین ! اگر میں بیمار ہوجاؤں تو کیا تم .." اس نے اگلا جملہ ہونٹوں پر ہی روک لیا "مجھے لگتا ہے تم بیمار ہو ہی گئے ہو !" ثمین چڑ کر اٹھی اور خود ہی کنٹین کی طرف بڑھ گئی
"تو کیا تم مجھے چھوڑ جاؤ گی ؟" اپنا ادھورا جملہ مکمل کرتے ہوے دھندلی آنکھوں کے ساتھ وہ ثمین کو جاتا دیکھ رہا تھا واقعی کسقدر خوفزدہ کردینے والا احساس ہے یہ کیسی محبت ہے جس میں ہر لمحہ ٹھکراۓ جانے کا دھڑکا ہے؟؟ میں کیسے ثمین کی محبت کو دائمی کرسکتا ہوں؟؟ اس ایک محبت نے تو مجھے ادھ مرا ہی کر ڈالا ہے ، میں تو صرف تمہارا ہوں مگر کیا تم بھی ؟؟ ثمین بھیڑ میں غائب ہوگئی تھی مگر حیات کی نظریں وہیں مرکوز تھیں "ONLY YOURS " صرف الله کیے لئے" بھابی نے گویا کان میں سرگوشی کی تھی . وہ بے چین سا ہوکر کھڑا ہوگیا تھا اور گھر کی طرف چل پڑا
راستے میں آغا خان کے کلیکٹنگ پوانٹ آیا تو اس نے گاڑی کی رفتار ہلکی کردی
پچھلے دو دن سے وہ یہاں سے بغیر اپنی رپورٹس لیے گزر رہا تھا آج بھی ارادہ نہیں تھا مگر جانے کیوں رک گیا
" تمہاری صحت اسکی عطا ہے صحت کی حفاظت اس سے وفا ہے" (جب میں ایک انسان سے وفا کر رہا ہوں تو اپنے رب سے کیوں نہیں ؟ بیماری ہوجاۓ تو اسکا علاج بھی ہوتا ہے الله نے ہر بیماری کا علاج بھی رکھا ہے ) وہ کلکٹنگ پوانٹ میں داخل ہونے کے بعد اپنی رپورٹس لیتے ہوۓ اپنے دل میں عجب سی طاقت محسوس کر رہا تھا
-------------------------****-------------------****------------------------
اگلے روز ڈاکٹر کے سامنے اس نے اپنی رپوٹس پیش کیں کچھ دیر معائینے کے بعد ڈاکٹر نے اسے پھیپڑے کے کینسر کا بتایا چند لمحے کو وہ ساکت سا ہوگیا
"گھبرانے کی بات نہیں ہے پہلی سٹیج پر ڈا ئیگنوس ہونے کی وجہ سے ہمارے لیے اس سے چھٹکارہ پانا نسبتاً آسان ہے " ڈاکٹر صاحب نے تسلی دیتے ہوۓ کچھ مزید ٹیسٹ کروانے کے لیے دیے اور ساتھ میں ایک فارم .
" آپ یہ بتائیں کہ آپ علاج کو سمجھ گئے ہیں اور اس سے متفق ہے ؟؟ یہ ظاہر کرنے کے لیے، کہ آپ علاج کو سمجھتے ہیں اور اس سے متفق ہیں، آپ کو ایک رضامندی فارم پر دستخط کرنا ہو گا۔ آپ کا اس وقت تک علاج نہیں کیا جائے گا جب تک آپ اس سے متفق نہیں ہوتے۔ آپ اپنے گھر والوں سے مشورہ کر لیں ایک بار "
"گھر والوں سے !" حیات کی نگاہوں میں بھابی کا شفیق چہرہ آگیا جو اچانک ہی حسرت و یاس کی تصویر میں ڈھل گیا انکی مسکراہٹ جو زندگی کا احساس دلایا کرتی تھی ایکدم ہی ماتم کرتے بین میں تبدیل ہوگئی "یہ صلہ دیا ہے تم نے ہماری محبتوں کا ؟ ایسی ہوتی ہیں اولادیں ؟؟" وہ نگاہ تصور سے بھابی کو رو رو کر حیات گریبان پھاڑتے ہوۓ دیکھ رہا تھا وہ لاجواب تھا اسکے پاس ایک بھی جواب نہیں تھا
"بھابی میں ناشکر گزار تھا ناقدرا تھا یہی میری سزا ہے " آنسؤوں کا گولا اسکے حلق میں اٹک گیا
"ڈاکٹر صاحب گھر والے تو بہت تکلیف میں آجائیں گے اور قصوروار بھی میں ہی ہوں تو ہم خاموشی سے علاج نہ شروع کر لیں؟؟ " اس نے امید بھری نظروں سے انھیں دیکھا
'دیکھیں حیات صاحب ! اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے اپنی پریشانیوں کا ذکر کرنا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔جس کو بھی پتہ چلے کہ اسکو کینسر ہے تو اس کو بہت دھچکا لگتا ہے اورہر ایک کے کئی مختلف جذبات ہو سکتے ہیں۔ ان میں غصہ، خفگی، احساس جرم، اضطراب اور ڈر شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ عمومی ردعمل ہیں اور یہ زیادہ تر لوگوں میں بیماری کو تسلیم کر لینے کی کوشش کا ایک حصہ ہیں۔ محسوس کرنے کا کوئی اچھا یا برا طریقہ نہیں ہے۔ مگر گھر والوں کے مشورے کے بغیر یہ علاج ممکن نہیں "
حیات کو اسی جواب کی توقع تھی وہ خاموشی سے اٹھ کر باہر نکل گیا
جرم ہوگا تو احساس جرم بھی تو ہوگا ہی ! عجیب سے احساسات اسے جکڑے جا رہے تھے وہ گھر جاکر خاموشی سے اپنے کمرے میں گیا اور ا- اپنی رپورٹس دراز میں ڈال کر کسی سے مزید بات کیے بغیر سوگیا پریشانی کی حالت میں نیند اگر آجاۓ تو اس سے بڑی نعمت اور کوئی نہیں لگتی .
حیات نے چند دن اسی شش و پنج میں گزارے کہ کس کو بتایا جاۓ پہلے ؟ پھر ایک دن وہ یونیورسٹی پہنچا اور ثمین کو بتانے کا ارادہ کیا " ثمین ! میں کل ڈاکٹر کے پاس گیا تھا میری رپورٹس میں کچھ پرابلم آئی ہے " اتنا کہہ کر وہ رک گیا اور سامنے آتے جاتے خوش باش لڑکیوں اور لڑکوں کے گروپس دیکھنے لگا ثمین اس کے چہرے پر نظریں جماۓ اسکی اگلی بات کی منتظر تھی "پرابلم ؟؟" آخر اس نے حیات کو اپنی سمت متوجہ کیا
" لنگس کینسر .." حیات نے ڈرتے ڈرتے اس پر نظر ڈالی ساکت وجود بے تاثر چہرہ پھر دھیرے دھیرے اسکے چہرے پر دکھ کا تاثر ابھرا "حیات ! یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ یہ تو جان لیوا بیماری ہے "
"نہیں نہیں ثمین ! ابھی پہلی سٹیج ہے ، ڈاکٹرز بہت مطمئن ہیں " حیات نے جلدی جلدی بات مکمل کی مبادا ثمین ابھی انگوٹھی اتار پھینکے گی
"ڈاکٹرز کا تو کام یہی ہے یہ انکی روٹی روزی ہے تمہیں حوصلہ نہیں دیں گے تو انکی جیب کیسے وزنی ہوگی ؟؟" اسکے الفاظ کا زہر حیات نے اپنے اندر اترتا محسوس کیا
" مسیحاؤں کا ایسے انداز سے ذکر نہیں کرنا چاہیے ثمین !"
" لیکچر مت دو مجھے . میں جارہی ہوں ساتھ چلو گے یا میں جاؤں ؟ " ثمین نے کسی بھی انداز سے ظاہر نہیں کیا کہ وہ حیات سے تعلق توڑدے گی . حیات بہت حیران تھا
" میں کل جاکر کیموتھراپی کا شیڈول لے کر آؤنگا آگے . علاج میں کوئی کمی نہیں ہوگی انشااللہ سب ٹھیک ہوجاۓ گا " حیات تیز قدموں سے چلتے ہوۓ اسکے ساتھ قدم سے قدم ملنے لگا
"ہمم " ثمین کو گویا پرواہ ہی نہیں تھی کہ وہ ساتھ بھی آرہا ہے یا نہیں تھوڑی دیر حیات اسکے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلتا رہا پھر رک گیا . ثمین نے اسکا رکنا محسوس کیا اور ایک لمحے کو پلٹی اور اسے اپنی جگہ منجمد دیکھ کر کچھ کہے بغیر آگے بڑھتی چلی گئی
حیات کا دل چیخ چیخ کر رونے کو مچل رہا تھا مگر اس نے بچپن سے رونے کو بزدلی کی علامت جانا تھا آنسؤں کو دھکیل کر اس نے اپنے قدم باہر کی طرف بڑھا دیے اس دن وہ گھر نہیں گیا سارا وقت باہر آوارہ گردی کرتا رہا
"کیا مجھے اس بیماری کی صورت اپنے گناہوں کی سزا ملی ہے؟ کیا بیماری گنہگاروں کو لاحق ہوتی ہے ؟ کیا مجھے میری محبت سے محروم کردینے کا فیصلہ ہوچکا ہے اوپر آسمانوں میں؟ "اس نے چلتے چلتے تاحد نظر پہلے وسیع و عریض آسمان کو دیکھا " کیا الله مجھ سے ناخوش ہے ؟ کیا نعمتیں مجھ سے چھین لی جایئں گی ؟" دل و دماغ میں چلتے جھکڑوں کے ساتھ وہ خود بھی چلتا چلا جارہا تھا
" کس سے مانگوں میں اپنے سوالوں کے جواب ؟ کون ہے جو مجھے مطمئن کرسکے؟ " یکلخت اسکے قدم ٹھر گئے اسکی نگاہوں میں ایک چہرہ روشن ہوا تھا اور اس نے اپنی سمت تبدیل کرلی

وہ روشنی !!
جس کی ضو کے لیے میں نے زندگی تج دی
وہ منزل!
جس کے لیے میں نے قدموں کو آشنائے صعوبت کیا
وہ قلب حزین!
جو تکمیل تمنا کی آرزو میں نیم بسمل رہا
ہاں!
وہ خواب ، گل رنگ خواب!
خوشبو، مہک، تازگی، زندگی!
روشنی، چاند سی روشنی
ضیاء ، نور، آشتی، آگہی!!
وہ گھر پہنچا تو نماز کا وقت ہو چکا تھا بھابی جانماز پر دعا مانگتی نظر آگئیں آنسوؤں سے تر چہرے پر عجیب سا نور تھا جس نے سارے کمرے کو گھیرے میں لے رکھا تھا . وہ اپنے کمرے میں جانے کے بجاۓ وہیں بیٹھ گیا بھابی کے قدموں کے پاس بھابی نے شاید اسکی موجودگی کو محسوس کر لیا تھا یا شاید نہیں کر سکیں مگر انہوں نے دھیرے سے ہاتھوں سے چہرے کو ڈھانپ لیا . حیات نے داخل اندازی نہیں کی خاموشی سے بیٹھا انھیں دیکھتا رہا (مجھے کس بنا پر رد کرے گی وہ؟) بھابی کو دیکھتے دیکھتے اچانک اسکے کانوں میں اپنی ہی بازگشت سنآئی دی دل میں عجیب سی بے قراری جاگ اٹھی" کیا مجھے اس بیماری کی صورت اپنے گناہوں کی سزا ملی ہے؟ کیا بیماری گنہگاروں کو لاحق ہوتی ہے ؟" سوالوں کے ناگ نے دوبارہ اپنا پھن پھیلایا وہ ایکدم اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا "الحمد للہ کہتے ہیں حیات !" کمرے کی طرف بڑھتے ہوۓ کسی نے اسے ٹوکا تھا .( تو کیا میں ناشکرا تھا ؟ ) اپنا سامان سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوۓ وہ واش روم کی سمت بڑھ رہا تھا ذہن پر ایک کے بعد ایک یاد سوچ بن کر دستک دیے جارہی تھی " تمہیں میں نے کبھی سگریٹ پیتے نہیں دیکھا حیات " ثمین کی آواز کے بعد اسکی آواز "دیکھو گی بھی نہیں " اس نے یاد کرنا چاہا کیا اس نے انشااللہ کہا تھا ؟؟؟ کیا میں نے غرور کیا تھا ؟ نہیں نہیں میں نے تو بس یونہی ... واش روم میں داخل ہوکر اس نے تیزی سے والو کھولا پانی کی موٹی دھار واش بیسن کے نل سے آنے لگی
"کیا یونہی؟" پانی میں اسکا عکس اس سے سوال کر رہا تھا "کتنے ہی مقامات آئے اور تم اپنے حسن اپنی طاقت اپنی اچھائیوں کے ہی گن گاتے رہے کتنا مان رہا تھا تمہیں اپنی قوت ارادی پر ، بس یونہی ؟ بس یونھی تم انشااللہ کہنا بھول جاتے ہو ؟ بس یونہی تم الحمد للہ کہنا بھول جاتے ہو ؟ بس یونہی ؟ پھر کیا وجہ ہو کہ وہ احسن الخالقین تمہیں نہ بھولے ؟ کیوں نہ شیطان کے وار تم پر چلیں " اس نے اپنے ہاتھوں کو دھونا شروع کیا پانی میں اسکے آنسوؤں کا نمک شامل ہو کر اسے نمکین کرنے لگا
" اچھا ؟ پھر تمہارا کیا خیال ہے میں تم سے محبت میں چاند تاروں کی فرمایش کروں گی؟" پہلا وار !! اہ... وہ لاشعوری طور پر وضو بناتا جارہا تھا اور یادیں اسکے دل و دماغ پر ضرب لگا رہی تھیں وضو مکمل کر کے وہ جانماز پر کھڑا ہوگیا اسے کیا پڑھنا تھا ؟ وہ سوچے سمجھے بغیر پہلی رکعت کے بعد سجدے میں گر کے زار زار رونے لگا "سبحان ربی الاعلیٰ " اسکا دکھ ثمین کے فراق و وصال سے آگے بڑھنا چاہ رہا تھا مگر اسے شعور نہیں تھا ہر تسبیح پر اسے اپنی کم مائیگی کا احساس ہوتا ہر تسبیح پر اسے زندگی کے زیاں کا احساس ہوتا ! نماز مکمل کرنے کے بعد اس نے دعا کے لیے ہاتھ بلند کرلیے اسے مانگنے کا سلیقہ نہیں تھا مگر اسے مانگنا بھی تھا ! آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر ہتھیلیوں میں گر رہے تھے ہر آنسو دل میں لگی آگ کو بڑھاتا جارہا تھا اس نے زبان سے ایک بھی لفظ کہے بغیر رب کو جانے کتنے پیغام بھیج دیے جب آنسو تھمنے لگے اور ہچکیاں بندھنے لگیں تو اسے اپنے سر پر نرم ہاتھوں کی شفیق سی گرمی محسوس ہوئی اس نے ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ کر آنسو صاف کیے اور سر اٹھایا بھابی نماز پڑھ کر اسی کو تلاش کرتی آئی تھیں شاید " تمھارے ڈاکٹر نے تمھارے سیل پر فون کیا تھا تم نے ریسیو نہیں کیا تو انہوں نے پی ٹی سی ایل پر کیا تھا .." حیات اسی طرح خاموش بیٹھا انھیں دیکھتا رہا اسے بھابی کا آنسوؤں سے تر چہرے کے ساتھ دعا مانگنا یاد آیا . بھابی نے لمحہ بھر توقف کیا پھر دوبارہ کہنے لگیں "تمھارے بھائی نے سارا شیڈول معلوم کر لیا ہے پرسوں سے تمہاری کیمو شروع ہے ، بیماری میں سوگ نہیں مناتے علاج کرواتے ہیں " آخر میں بھابی کا انداز قدرے سخت ہوگیا تھا "اور تمہیں کوئی حق نہیں کہ تم ایک ضدی اور خود سر لڑکی کے ہاتھوں کھلونا بن کر ہمیں اپنے بارے میں کسی فیصلے کے کرنے سے محروم کردو "
"بھابی !ثمین سے بات ہوئی آپکی ؟؟" اس نے پوچھا بھی تو کیا ! بھابی نے ایک نظر اسکے بھیگے چہرے کی طرف ڈالی "نہیں .. اسکی امی کا فون آیا تھا خاصی شرمندہ اور پریشان تھیں مگر رشتہ قایم رکھنے پر تیّار نہ تھیں کہ ثمین کی خواہش نہیں تم سے شادی کی " بھابی نے کسی لاگ لپٹ کے بغیر بتا دیا حیات کو سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ ماتم کرنے کا کونسا انداز اپناۓ ؟ اب علاج کرنے کا مقصد ہی کیا ہے ؟
"کوئی ضرورت نہیں غمزدہ ہوکر وقت برباد کرنے کی یوں سمجھو الله پاک نے چھوٹی تکلف دے کر بڑی تکلف سے بچا لیا ہے ، تم اپنے اچھے برے کا وہ حساب رکھ ہی نہیں سکتے ہو جو تمہارا رب رکھ سکتا ہے "
"مگر میں تو ناشکرا ہوں نا قدرا ہوں اسلیے ایسی موزی بیماری لاحق ہوئی مجھے ، تکلیف سے تو وہ اپنے نیک بندوں کو بچاتا ہے ناں ؟" حیات اذیت پسندی کی کیفیت میں تھا
" بالکل غلط !" بھابی نے اسے کھڑا ہونے کا اشارہ دیا اور جانماز تہہ کرنے لگیں " کبھی کبھی کوئی چھوٹی تکلیف ہمیں الله کے قریب کرنے کے لیے آتی ہے ہم آسانی کی گھڑیوں میں کبھی جانماز بچھا کر گڑگڑاتے ہیں؟ " انکی سوالیہ نظریں حیات پر گڑی تھیں وہ کچھ دیر اضطرابی کیفیت میں خاموش رہا
:بھابی ! کیا بیماری گناہ کی سزا کے طور پر ملتی ہے ؟" اس نے اچانک بے چین ہوکر سوال کیا " نہیں " بے ساختہ بھابی کے منہ سے نکلا " سزا سے بچانے کے لیے ملتی ہے لا باس طہور انشااللہ "
وہ نرمی سے مسکرائیں
" الله نے تمہیں خود سے قریب کرنے کا یہ بہانہ بنا دیا ہے آج تم شاید سمجھ نہیں پارہے ہو مگر ایک دن تم جان سکو گے کہ آج تم ثمین کے لیے نہیں اپنی صحت اور الله کی ناراضگی کے ڈر سے روۓ ہو !! " بھابی کی بات پر اس نے اپنے دل کو ٹٹولا وہاں خاموشی تھی کوئی جواب نہیں اسکا !
مگر اس نے بھابی کی بات کو رد نہیں کیا اور علاج کروانے پر تیّار ہوگیا !

---------------------*********--------------------*********----------------
زندگی کے ہزار رنگ ہیں اور ان ہزار رنگوں کے ہر رنگ میں مزید ہزار ! " بھابی کی نگاہیں میز کی سطح پر جمی ہوئیں تھیں اور انکی آواز جیسے کسی کنوئیں سے آتی محسوس ہورہی تھی. جب وہ اس ایک رنگ کی جھلک دکھا کر خاموش ہوئیں تو ناشتہ بھی ختم ہوچکا تھا اور چاۓ بھی دونوں اپنے اپنے گھر میں اپنے پیاروں کو کینسر میں مبتلا دیکھ رہی تھیں دونوں ہی کو یہ سب دیکھنا بھی تھا اور اپنے پیاروں کو جینے کا حوصلہ بھی دینا تھا . آزمائش اصل میں کس کی ہوتی ہے ؟ یہ جاننا بہت مشکل ہے واقعہ ایک ہی ہوتا ہے مگر کرداروں پر الگ الگ ڈھنگ سے اثرانداز ہوتا ہے سب کا امتحان جدا سب کی تکالیف جدا
"جب سے اسکا علاج شروع ہوا ہے گنتی کے چند دن بھی ٹھیک سے نہیں پڑھا ہے اس نے ہفتے میں ایک انجکشن لگتا ہے اسکو ، شروع کے دو بعد کے اثرات کچھ اتنے شدید ہوۓ کہ اسکی حساس جلد کے ساتھ بال بھی متاثر ہوگئے ، اب صورتحال کافی بہتر ہے مگر بیک وقت ذہنی اور جسمانی تکلیفوں کو سہنے کے بعد اسکی پڑھائی بہت متاثر ہوئی ہے اور اب تو تقریباً دو ماہ ہوگئے ہیں اس نے کچھ بھی نہیں پڑھا " بھابی افسردگی سے کہہ رہی تھیں "ہممم" مریم پر سوچ انداز میں سر ہلا کر رہ گئی "اچھا چلیں کچھ کرتے ہیں اسکا بھی ... ابھی تو روم میں چلنے کی کیجیے وہ دونوں اٹھ کھڑی ہوئیں
مریم بل کی ادائیگی سے فارغ ہوئی اور بھابی کے ساتھ کیمو روم کی طرف آگئی مریم نے اپنے روم میں جھانکا . اماں ativan کے زیر اثر گہری نیند میں تھیں . پھر وہ روم نمبر ون میں آگئی بھابی خاموشی سے تسبیح پڑھنے میں مصروف تھیں اس نے گردن موڑ کر دیکھا حیات چت لیٹا چھت کو گھور رہا تھا
"چھت میں سوراخ ہوگیا ہے " حیات کے قریب جاکر اس نے شرارتی انداز میں مخاطب کیا حیات نے چونک کر اسے دیکھا پھر تھوڑی کوشش کے بعد مسکرا دیا
"السلام علیکم .. کسی ہیں آپ ؟" اس نے قدرے اٹھنے کی کوشش کی
"میں بالکل ٹھیک ہوں اور تم لیٹے ہی رہو اٹھنے کی ضرورت نہیں میں گھر سے چاۓ شائے پی کے آئی ہوں " مریم نے ہاتھ کے اشارے سے اسے اٹھنے سے روکا اور ساتھ ہی شرارت سے آنکھیں گھمائیں وہ دوبارہ مسکرایا اس بار بھی اسکی مسکراہٹ میں بے ساختگی نہیں تھی مریم نے بھابی کی طرف دیکھا وہ چپ چاپ حیات کو دیکھ رہی تھیں ہونٹ ذکر میں مصروف تھے اور تسبیح کے دانے آہستگی سے گر رہے تھے .
"اچھا ! تو تمہاری پڑھائی کہاں تک پہنچی ؟ ابھی زیر علاج ہونے کی وجہ سے روکی ہوئی ہے یا جاری ہے ؟ یا بعد میں مکمل کرنے کا ارادہ ہے ؟" مریم نے ساتھ پڑی ریوولونگ چئیر گھسیٹ کر بیڈ کے قریب کی اور بیٹھ گئی
"فی الحال تو کوئی ارادہ نہیں " اسکے انداز میں سختی آگئی
"اور فی الحال کے بعد؟؟" مریم نے تیزی سے پوچھا تو اس نے جھنجلا کر نظریں دوسری طرف کرلیں 'زندہ رہا تو سوچوں گا "
"زندہ ہی ہو ..کوئی شک ؟" مریم نے اسکی خفگی کو محسوس کیا تھا اس لیے مدھم لہجے میں پوچھا حیات نے کوئی جواب نہیں دیا
"بھابی ! ڈرپ مکمل ہونے والی ہے گھر چلنے کی تیّاری کیجیے " اس نے مریم کو قطعی طور پر نظر انداز کیا تھا بھابی نے مریم کی طرف دیکھا وہ مسکرا رہی تھی
"چلو ثناء بی بی آپ اپنا کام نمٹاؤ پھر ہماری طرف آنا امّاں بھی اٹھ گئیں ہوں شاید میں چلوں " مریم کرسی دھکیل کر کھڑی ہوگئی "بھابی ! اپنا کونٹیکٹ نمبر دے کر جائیے گا کبھی بات کرنی ہو تو رابطہ ہوسکے " مریم نے بھابی کی طرف دیکھا
"ویسے ڈاکٹر ساحرہ کو دکھانے تو دو دن بعد آنا ہی ہے آپ کا اپائنٹمنٹ بھی جمعہ کو ہی ہے ناں ؟؟ بھابی نے سر ہلایا تو وہ باہر آگئی
------------------------
دو دن بعد ڈاکٹر ساحرہ کے پاس امّاں کا چیک اپ ہونا تھا ساتویں انجکشن سے پہلے انہوں نے امّاں کو بلایا تھا . مگر امّاں نے یہ دو دن بس ایک ہی رٹ لگاۓ رکھی "مجھے اب علاج نہیں کروانا " انکی طبیعت کیمو لگنے کے دو دن بعد بہت زیادہ خراب ہوجاتی ، ہاضمہ انتہائی کمزور ہوگیا تھا ، جسم کے مختلف حصوں میں خارش ہوجاتی ، آنکھیں پانی بہا بہا کر سوج جاتیں وہ نہ بھی روتیں تو روئی روئی سی لگتیں . دوران علاج انھیں چھری چاقو کے استمعال سے پرہیز بتایا گیا تھا وہ پہلے صرف سبزی کاٹنے کا کام کردیا کرتی تھیں ، لہذا انکی واحد مصروفیت بھی نہیں رہی ،انکا رش والی جگہوں پر جانا بند ہوگیا تھا جسکی وجہ سے وہ حددرجہ تنہا محسوس کرنے لگی تھیں . گھر کے تمام لوگ انکی حالت کے پیش نظر ان کو توجہ اور وقت دینے کی کوشش کرتے مگر امّاں اس توجہ سے بھی اکتا جاتیں "جاؤ بھئی تم سب کیوں دماغ کھاتے رہتے ہو ؟ ہمیں اپنا وظیفہ مکمل کرنا ہے" امّاں کے چڑ کر کہنے پر سب سہم کر وہاں سے ہٹ جاتے سواۓ مریم کے . وہ امّاں کی باتوں پر بالکل بھی حوصلہ نہیں ہارتی انکی ڈانٹ کو بھی مسکرا کر سہتی جاتی "آپ اپنا وظیفہ مکمل کرلیں تب تک میں آپ کے کمرے کی ڈسٹنگ کرلوں " وہ مسکرا کر کہتے ہوۓ سائیڈ ٹیبل سے چیزیں ہٹانے لگتی اس دن بھی کچھ اسی طرح ہوا "مجھے اب علاج نہیں کروانا " انکا مخصوص جملہ مریم کے کانوں سے ٹکرایا وہ خاموشی سے ریک سے فالتو اشیاء ہٹا کر ڈسٹ بن میں ڈال رہی تھی اس نے کوئی جواب نہیں دیا خاموشی سے اپنے کام میں لگی رہی "کاش کوئی میری تکلیف کو سمجھنے والا ہوتا ! " امّاں جانے کیوں نماز اور اذکار کی کثرت کے باوجود الله کی ذات کو فراموش کر جایا کرتی تھیں کیوں انکے دل میں یقین پختہ نہیں ہوتا تھا؟ مریم کرب سے سوچ کر رہ گئی
"امّاں ! کیا الله نہیں ہے؟" وہ آہستگی سے انکے پاس آگئی اور انکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا امّاں نے کوئی جواب نہیں دیا صرف دکھ بھری نظروں سے اسے دیکھتی رہیں
"اسکے ذکر سے دل اطمنان پاتے ہیں ناں؟؟ اپ بھی اسے بتاتی رہا کریں وہ سمیع العلیم ہے وہ مجیب الدعا ہے اسے پکار کر مطمئن ہوجایا کریں وہ آپکو کبھی برداشت سے زیادہ نہیں آزماۓ گا ، مومن کو ایک کانٹا بھی چبھ جاۓ تو اسکے بدلے میں کوئی گناہ دھل جاتا ہے آپ سوچیں کہ آپ کے کون سے درجات بڑھانے پر آمادہ ہے وہ رحمان ؟ مگر آپ کو شکر اور صبر کرنا ہے پہلے ! اگر آپکی تیکلف کوئی محسوس نہیں کر رہا پھر بھی آپ کے ساتھ الله کریم ہے اگر کوئی آپکی تکلیف کو محسوس کر رہا ہے تب بھی وہ اسی طرح ہے آپکے پاس آپکے ساتھ . آپکے صبر کا قدر دان آپکے شکر پر آپکی نعمتوں کو بڑھانے والا ... مگر امّاں میری پیاری امّاں !!" مریم نے انکی آنکھوں سے نکلتے آنسو کو انگلی کے پوروں میں سمیٹ کر انکے ہاتھوں کو آنکھوں سے لگایا اسکا امتحان بھی کوئی کم مشکل نہیں تھا ! "امّاں ! صبر پہلی چوٹ پر قابل قبول ہے پہلی چوٹ پر " ہائے" نہیں " الحمد للہ " نکلے تو احسن عملا کی تفسیر بنتی ہے نا زندگی ؟ تب تکلیف راحت میں ڈھلنے کے امکان پیدا ہوجاتے ہیں ورنہ تکلیف تو جھیلنی ہی ہے اور اجر بھی ہاتھ نہ آیا تو فائدہ کیا ہوا؟ "
"الحمد للہ .. الحمد للہ ..الحمد للہ " امّاں نے اپنا ہاتھ اسکےہاتھ سے کھنچا اور دونوں ہاتھ سے آنکھیں اور چہرہ صاف کیا " بے شک انسان ناشکرا ہے .. میں نے بہت ناشکری کی ہے بہت ناقدری کی ہے ، مگر اس بیماری میں مجھے واقعی نعمتوں کی قدر ہوئی مجھے تمہاری قدر ہوئی میری بچی " انہوں نے مریم کو اپنے قریب کر کے گلے لگا لیا اور دوبارہ رو پڑیں
"مریم ! بیٹا ! مجھے معاف کردینا میں نے تمہارا بہت دل دکھایا ہے پر تم نے میرا کتنا خیال رکھا کتنا ساتھ دیا اتنی بڑی نعمت کی قدر نہ کرسکی میں الله مجھے معاف کردینا ، الله مجھے معاف کردینا " وہ زار زار رو رہی تھیں اور ایسے میں مریم اپنے آنسوؤں پر کیسے اختیار رکھتی؟
-----------------------
امّاں ڈاکٹر ساحرہ کے پاس جانے پر راضی ہوگئیں تھیں آج انکا اپائنٹمنٹ تھا نمبر لے کر مریم اپنی سیٹ پر بیٹھی ہی تھی کہ حیات اور بھابی اندر داخل ہوۓ بھابی اسے دیکھ کر خوش دلی سے مسکرائیں اور کاؤنٹر پر نمبر لینے آگے پڑھ گئیں "ہمارا آٹھواں نمبر ہے ابھی دوسرا گیا ہے ایک گھنٹے سے کم تو نہیں لگے گا باری آنے میں ، تمہارا تو ہمارے بعد ہی آئے گا " مریم حیات کے نزدیک چلی آئی حیات نے دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا "اوکے بیٹھ جاؤ یہیں اب بھابی بھی آگئیں ہیں "
حیات نے مڑ کر امّاں کو دیکھا تب تک بھابی نمبر لے کر واپس آگئیں
وہ امّاں کے برابر میں بیٹھتے ہوۓ انھیں سلام کر رہی تھیں امّاں نے سوالیہ نظروں سے مریم کی طرف دیکھا حیات بھابی کے برابر والی کرسی پر بیٹھ رہا تھا " امّاں یہ حیات اور یہ اسکی بھابی ، حیات کا بھی کیمو چل رہا ہے اسے آپکی دعاؤں کی اشد ضرورت ہے "
"الله پاک آسانیاں عطا فرماۓ " امّاں نے بہت دل سے دعا کی تھی
"جوس پیو گے حیات ؟" مریم نے اس سے پوچھا پھر اسکے جواب کا انتظار کیے بغیر کینٹین کی طرف بڑھ گئی جوس کے دو ڈبے اور چپس کے دو پیک لے کر واپس آئی ایک ایک پیک حیات کو تھما کر وہ خاموشی سے باہر نظر آنے والے ٹھنڈی ہوا میں تیرتے پرندوں کی دلکشی کو محسوس کرنے لگی. ہلکی پھلکی باتوں کے دوران اچانک اس نے حیات سے پوچھا
" زندگی کو کیسا پایا ؟ بیماری سے پہلے اور بیماری کے بعد ؟" حیات کی آنکھوں میں ان گنت رنگ ایک ساتھ ابھرے اور معدوم ہوگئے مریم کا سارا جسم سماعت کا کام دینے لگا .
"کھویا ہی کھویا ہے ... پایا کیا ہے ؟؟" دھواں دھواں آنکھوں کے ساتھ اسکے جواب مریم کو مسکرانے پر مجبور کردیا
" تم صرف غور کرنا آج کہ تم نے کیا پایا ہے؟ یہ تکلیف تو محض ایک امتحان تھی اور تم آج ذرا یہ حساب لگانا کہ اس امتحان میں تم نے کتنے مارکس لیے ہیں " مریم نے مسکراتے ہوۓ ویٹنگ روم میں بیٹھے افراد پر ایک طائرانہ نظر ڈالی حیات خاموش رہا
"یہاں مجھ سمیت تم اور جتنے لوگ بیٹھے ہیں سب ہی کسی نہ کسی الجھن میں ہیں .. کیا تمہیں لگتا ہے کہ کوئی بھی ہسپتال شوق سے آتا ہوگا؟ " اسکی سوالیہ نظروں کے جواب میں حیات نے پر سوچ نگاہ ویٹنگ روم میں بیٹھے فکر مند اور ڈاکٹر کے منتظر لوگوں پر ڈالی ، کچھ ایسے بھی تھے جو فکرمند اور اداس لوگوں سے مسکرا مسکرا کر باتیں کرتے ہوۓ شاید انکے غم کو کم کر رہے تھے یا انکا بوجھ بانٹنے کی ادنی سی کوشش میں مصروف تھے
" سچ ہی ہے کہ الله جل شانہ کی انسانوں پر چار رحمتیں ایسی ہیں جو انسان سے برداشت نہیں ہوتی 1بیٹی 2 مہمان 3بارش اور 4 ...." ایک لمحے توقف کے بعد مریم نے کہا "اور 4 بیماری۔" مریم کی آواز پر حیات کی نگاہ پلٹی اور مریم پر جم گئی " بیماری ... رحمت ؟؟؟" اس کا لہمجہ ایسی تھا جیسے کہہ رہا ہو اپنے دماغ کا علاج کروائیں
"بالکل " وہ ہنس پڑی " اور یہ میں نہیں کہتی یہ تو نبی صلی الله علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ بیماری بھی خیر ہے ، نبی پاک صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بیماری کی وجہ سے انسان کے گناہ ایسے معاف ہوتے ہیں جیسے موسم خزاں میں درختوں سے پتے جھڑتے ہیں "
"یعنی بیماری گناہوں کی سزا کی صورت میں آتی ہے ؟؟ کئی دنوں سے حیات کے ذہن میں اٹھتا سوال آج اچانک ہونٹوں کی راہ پا گیا تھا مریم نے چونک کر اسے دیکھا
۔
" حیات ! میں نے کہیں پڑھا تھا کہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ الله رب العزت اپنے کسی خاص بندے کو اپنے ہاں ایک اعلیٰ او رخصوصی مقام پر دیکھنا چاہتے ہیں ،لیکن وہ قلتِ اعمال یا کسی اور سبب سے اس مقام پہ نہیں ہوتا، تو الله رب العزت اسے کسی بیماری میں مبتلا فرما دیتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اس مقام کو جا پہنچتا ہے ... اچھا تم نے کبھی دیکھا ہے کہ الله پاک ٹوٹی پھوٹی چیزوں سے کتنے عمدہ کام لیتا ہے ؟ " مریم نے سوالیہ نظریں اس پر ڈالیں وہ صرف الجھیے انداز سے مریم کو دیکھ رہا تھا "مثلاً جب بادل پھٹتے ہیں تو بارش برستی ہے بنجر زمین کو رونق ملتی ہے ، بیج ثابت ہوتا ہے تو کیا کام دیتا ہے ؟ جب الله کے حکم سے ٹوٹتا ہے تب ہی نئے پودے کو زندگی ملتی ہے ، درد کے بغیر کوئی تخلیق نہیں انسان تو تمام مخلوقات میں سے اشرف ہے تو سوچو کہ اسکا درد کیا کمال دکھاتا ہوگا؟ اسکی ٹوٹ پھوٹ کا مقصد کتنا عظیم ہوتا ہوگا؟؟ تم آج بیمار ہو کل ٹھیک ہوجاؤ گے انشااللہ
تو یہ اس لیے تھا کہ اللہ مومنوں کو ایک بہترین آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزار دے، یقیناً اللہ سُننے والا اور جاننے والا ہے
اس بیماری میں تم نے بہت سے لوگوں کو پہچانا ہوگا ، کھرے اور کھوٹے کی پہچان ہوئی ہوگی محبت اور محبت کے ڈھونگ میں فرق پتہ چلا ہوگا " (اچھا ؟ پھر تمہارا کیا خیال ہے میں تم سے محبت میں چاند تاروں کی فرمایش کروں گی؟..... یہ تو جان لیوا بیماری ہے .... ڈاکٹرز کا تو کام یہی ہے یہ انکی روٹی روزی ہے تمہیں حوصلہ نہیں دیں گے تو انکی جیب کیسے وزنی ہوگی ؟؟") حیات کے کانوں میں کسی کی تضحیک آمیز نفرت بھری آواز گونجی تھی (اور اگر مجھے یہ بیماری نہیں ہوتی تو کیا میں جان پتا اسکی حقیقت ؟) "اور بہت کچھ تمہیں سوچنا چاہیے کہ کیا ملا ہے ؟ تم اپنے انعامات پہچانو .. " (کوئی ضرورت نہیں غمزدہ ہوکر وقت برباد کرنے کی یوں سمجھو الله پاک نے چھوٹی تکلف دے کر بڑی تکلف سے بچا لیا ہے ، تم اپنے اچھے برے کا وہ حساب رکھ ہی نہیں سکتے ہو جو تمہارا رب رکھ سکتا ہے " ) واقعی کیا انعامات کی کوئی انتہا کی ہے مجھ پر میرے مالک نے ؟
" ابھی مریم کی بات ادھوری ہی تھی کہ امّاں کا نام پکارا گیا "اوہ ہمارا نمبر آگیا ہے حیات ! باقی باتیں بعد میں انشااللہ " مریم امّاں کا ہاتھ تھام کر اندر جانے کے لیے اٹھ گئی .حیات پر ایک جمود سا طاری تھا وہ بے حس و حرکت بیٹھا تھا .
ڈاکٹر کو دکھا کر جب وہ واپس آئے تب بھی مریم کی باتیں اسکے ذہن میں بازگشت بن کر ٹکراتی رہیں رات بھر اسے نیند میں کوئی بار بار کہتا رہا " تو یہ اس لیے تھا کہ اللہ مومنوں کو ایک بہترین آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزار دے، یقیناً اللہ سُننے والا اور جاننے والا ہے... تم اپنے انعامات پہچانو "
رات کے جانے کس پہر اسکی آنکھ کھلی تھی اس نے اپنے موبائل پر ٹائم دیکھا پونے پانچ بج رہے تھے ابھی فجر میں تقریباً گھنٹہ سے زیادہ تھا مگر پتہ نہیں کیوں اسکا دل چاہا کہ اٹھ کر نماز پڑھے ، اس نے اٹھ کر وضو کیا پھر جانماز پر کھڑے ہوتے ہی دل بھر آیا " اپنے انعامات پہچانو " بس ایک ہی تکرار تھی ..کھرے کھوٹے کی پہچان ... محبت اور محبت کا ڈھونگ ... زندگی کے کتنے رنگ نظر آئے تھے اسے چند ماہ میں "محبت تو الله تیری ہی خالص تھی " دعا کو ہاتھ اٹھائے تو بے اختیار اعتراف شکست کرنے لگا آج کوئی ثمین اسکے اور رب کے درمیان نہیں تھی دنیاوی محبت کا بوجھ اس سے ہٹ چکا تھا وہ ان خوش نصیبوں میں تھا جن پر تکالیف آزمائش بن کر آتی ہیں اور رحمت بن کر چھا جاتی ہیں عذاب کی صورت مسلط نہیں کردی جاتیں وہ راہ تلاش کرنے والوں میں شامل ہورہا تھا نور ہدایت انہی کو ملتا ہے جو طلب رکھتے ہیں " اس بیماری سے شفا کی طرف راستہ بہت تکلیف دہ ہے مگر جسمانی تکلف سے بڑھ کر روحانی تکلیف دل کی ٹوٹ پھوٹ ، دل کی ٹوٹ پھوٹ نے کیا عطا کیا ہے مجھے ؟ ہر ضرب پر ایک شعاع ایک کرن نے دل کو منور کیا تھا " نہیں تو گناہوں پر حساب نہیں لیتا تو تو صرف اپنی طرف بلاتا ہے تیری رحمت نہ ہو تو کہاں جائیں ہم ؟ سب منظر واضح ہوگئے ہیں " اسکے کانوں میں کوئی آواز آرہی تھی بہت دھیمی بہت معدوم وہ چہرہ صاف کرکے اٹھا اور آواز کے پیچھے چل پڑا اپنے کمرے سے نکل کر لاؤنج میں آیا ہلکی ہلکی اذان کی آواز آرہی تھی لاؤنج میں بھابی جانماز پر بیٹھی کوئی کتاب پڑھ رہی تھیں
اللهم اجعل فی قلبی نورا
وفی بصری نورا وفی سمعی نورا
اسے سمجھ میں تو نہیں آیا مگر بھابی کے پڑھنے کے انداز نے اسے وہیں روک لیا وہ عقیدت سے بھابی کے نزدیک جاکر بیٹھ گیا بھابی نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا شفیق مسکراہٹ کے ساتھ جیسے اسکی دل کی کیفیت سمجھتے ہوئے دوبارہ پڑھنے لگیں
اللهم اجعل فی قلبی نورا
وفی بصری نورا وفی سمعی نورا
اے الله میرے دل میں نور ڈال دے
اور میری بصارت اور سماعت میں نور ہو
و عن یمینی نورا و عن یساری نورا
و فوقی نورا و تحتی نورا
اور میرے دائیں اور بائیں نور ہو
اور میرے اوپر اور نیچے نور ہو
دعا مکمل کرنے کے بعد بھابی نے حیات کی طرف دیکھا اسکا چہرہ آنسوں سے تر تھا
" الله پاک تمہیں اپنے نور سے منور رکھے ہمیشہ "
"الھم اعطنی نورا " بھابی کی دعا پر وہ چہرہ صاف کرکے مسکرایا روشن مسکراہٹ سے اسکا چہرہ جگمگا رہا تھا " بھابی مجھے آج یونیورسٹی جانا ہے بہت نقصان ہوچکا اب مزید نہیں " دونوں کی آنکھیں نم تھیں احساس تشکر سے .
--------------------------------------------------------------------------------------------
اوپر کہیں بہت اوپر آسمانوں میں ہلچل تھی فرشتوں کی ڈیوٹی کے تبدیل ہونے کے اوقات تھے دنیا سے آنے والے فرشتے دنیا کے دو انسانوں کی شکرگزاری کی خبر لائے تھے اور جانے والے فرشتوں نے دو انسانوں کی شکر گزاری رقم کی تھی انکے احساس تشکر پر انھیں قدردانوں میں لکھ لیا گیا تھا اب نعمتوں میں اضافہ، مراتب میں اضافہ یقینی تھا . ان شاء الله
دنیا میں نیا امید بھرا اجالا پھیل رہا تھا..روشنی ہی روشنی وہی روشنی

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: فاطمہ عنبرین

Read More Articles by فاطمہ عنبرین: 12 Articles with 13747 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Mar, 2018 Views: 591

Comments

آپ کی رائے