سید زین العابدین گیلانی سلطانپوری رحمتہ اللہ علیہ

(Syed Aadil Farooq Gillani, Okara)
برصغیر پاک و ہند کے عظیم صوفی بزرگ، جنہوں نے قریہ قریہ گھوم کر، دربدر ہو کر اسلام کا عظیم پیغام ہر گھر کی دہلیز تک پہنچایا۔

مزار پُر انوار شریف واقع موضع سلطانپور حویلیاں ضلع ایبٹ آباد

تذکرہ بڑے صاحب (1090ھ ____ 1152ھ)
سیّد نا حضرت زین العابدین گیلانی قادری (موضع سلطان پور ، حویلیاں )
بلاشبہ برصغیر پاک و ہند میں اسلام کی ترویج و تبلیغ کا سہرا اولیائے کرام کے سر ہے، جنہوں نے دینِ اسلام کی سربلندی کیلئے اپنے گھر بار چھوڑے اور اس خطے کا انتخاب کیا جہاں کفر کی ظلمت کی سیاہ رات بہت ہی دبیز تھی۔ یہاں بسنے والے باشندے خدا کی ذات سے ناآشنا تھے۔ سورج، چاند، ستاروں ، سانپوں، اور بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کی ہدایت کیلئے اپنے اولیاء کو اس سر زمین پر بھیجا تاکہ اُس وحدہ لا شریک کی عبادت کی جائے۔ اور اصنام پرستی کا مکمل خاتمہ ہو سکے۔ اس سلسلہ میں سب سے زیادہ کردار خاندان سادات کا ہے۔ جن کے بزرگوں نے اپنا گھر بار ، اپنا علاقہ اور وطن چھوڑ کر یہاں آئے اور اسلام کی آبیاری اس طرح کی کہ سرزمین ہند میں اسلام کے جھنڈے گاڑدیے۔ اور ایسا کیوں نہ ہوتا کہ حضور رحمتِ عالم ﷺ کی حدیث پاک ہے کہ میں علم کا شہر ہوں اور علیؑ اُس کا دروازہ، اسی طرح آنحضورؐ نے اپنے آخری خطبہ حج میں واضح طور پر فرمایا! اَے اُمت ! میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، اگر تم ان سے محبت رکھو گے اور ان کی پیروی کرو گے تو تم فلاح پا جاؤ گے ۔ اور وہ دو چیزیں کتاب اللہ اور میری آل ہیں۔ آلِ رسولﷺ نے پھر ہر دور میں اپنے اس اعزاز کو برقرار رکھا، برصغیر میں نامور اولیائے کرام کی فہرست اُٹھا کر دیکھیں تو سیّد علی ہجویری داتا گنج بحشؒ لاہور، سیّد معین الدین حسن سنجری المعروف سلطان الہند خواجہ غریب نواز اجمیر شریف، سیّد عبداللہ شاہ اصحابی ٹھٹھویؒ ، سیّدنا شاہ محمد غوث المعروف بالا پیر رینالہ خوردضلع اوکاڑہ،شاہ عبدالمعالی حجرہ شاہ مقیم، سیّد نا داؤد بندگی کرمانی شیرگڑھ ضلع اوکاڑہ، شاہ رُکنِ عالم ؒ ملتان، شاہ شمس تبریز ؒ ملتان، بابا بلھے شاہؒ قصور، سیّد مہر علی شاہ گیلانی قادریؒ گولڑہ شریف ، شاہ بری امامؒ راولپنڈی، اور سیّد نا حضرت زین العابدین گیلانی قادریؒ سلطانپور حویلیاں کے علاوہ ایسے سینکڑوں پیران عظام اور ایسے نابغۂ روزگار ساداتِ کرام گزرے ہیں جنہوں نے دینِ اسلام کی سر بلندی اور تبلیغ و ترویج میں اپنا سب کچھ چھوڑ کر اس خطے میں بسنے والے انسانوں کو کفر کے اندھیروں سے نکال کر اسلام کے نور سے رُوشناس کرایا۔ سیّد زین العابدین گیلانی سلطانپوری ؒ کا خاندان بھی باارادۂ خداوندی پشاور میں آباد ہوا، آپ کی ولادت پشاور میں ہی ہوئی، تاہم آپؒ دین حق کی سربلندی و ترویج کیلئے ہندوستان میں سفر در سفرکرتے ہوئے موضع سلطانپور حویلیاں میں مقیم ہوئے اور پھر اسی علاقے کو پسند فرماتے ہوئے یہاں تبلیغ دین کا سلسلہ جاری کیا۔ آپؒ کی اولادیں زیادہ تر اسی علاقہ ہزارہ میں آبادہیں، تاہم کچھ ساداتِ کرام وقت کی ضرورتوں کے تحت یہاں سے ہجرت کر کے پنجاب ، سندھ اور پاکستان کے دوسرے شہروں میں بھی آباد ہوگئے۔

آپؒ کی اولاد میں سے ایک نامور شخصیت سیّد محبوب علی شاہ گیلانی بھی ہیں،آپ ہری پور کے نواحی گاؤں بھیڑی بانڈی(چنگی بانڈی) میں سیّد محمد یوسف شاہ گیلانی کے ہاں پیدا ہوئے۔ آپ نے ایم اے اُردو ، اسلامیات کیا۔ محکمہ پاکستان پوسٹ میں پوسٹ ماسٹر ریٹائرڈ ہوئے ۔ آپ نے بھی اپنے آباو اجداد کے تعلیم اسلام کے سلسلہ کو مزید آگے بڑھایا۔ سیّد محبوب علی شاہ گیلانی ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں، جنہوں نے اپنی انتھک محنت سے پندرہ سال کا طویل عرصہ صرف کر کے اپنے خاندان ساداتِ گیلانیہ اولاد حضرت سیّد زین العابدین سلطانپوریؒ کا شجرہ نسب مرتب کیا، او ر اسے کتابی شکل دی، یقیناًیہ اُن کا خاندانِ سادات پر بہت بڑا احسان ہے۔ آپ کئی کتابوں کے بھی مصنف ہیں۔ اِنہوں نے اپنے جدِ امجد سیّد نا حضرت زین العابدین گیلانی قادریؒ کی زندگی پرایک انمول شاہکار کتاب ’’ تذکرہ بڑے صاحب‘‘ تخلیق کی ہے، جو احقر کی نظر سے گزری، پڑھ کر سیّد محبوب علی شاہ گیلانی کی علمی قابلیت کا بخوبی اندازہ ہوا۔ سیّد محبوب علی شاہ گیلانی اپنی کتاب میں درج حالات و واقعات اور شجرہ کی اصلیت جاننے کیلئے جس طرح مشکلات اُٹھا کر متعلقہ مقامات پر پہنچے ،ہر ہر روایت ،اور کتاب میں درج حقائق کی جس طرح چھان بین اور عرق ریزی سے اصل حقائق کتاب میں سامنے لائے، یقیناًقابل ستائش ہے۔ میں ذاتی طور پر ان کی اس کاوش پر ان کو مبارکباد پیش کرتاہوں۔
سیّدنا زین العابدین گیلانیؒ کی زندگی اور حالا ت و واقعات پر اسرار کا پردہ کچھ اس طرح پڑا ہو ا ہے کہ آپؒ کے حالات و واقعات کا کھوج لگانے والا حیرت میں گم ہو کر رہ جاتا ہے۔ (سیّدنا زین العابدین گیلانیؒ کی حیثیت ایک ایسے جزیرے کی مانند ہے ، جہاں زندگی اور اسر ار دونوں موجود ہیں، مگر اسرار کی دھند اس قدر دبیز ہے کہ کوئی بھی منظر واضح دکھائی نہیں دیتا)۔ مورخین کی متفقہ رائے کے مطابق آپؒ کی پیدائش 1090ھ میں پشاور کے قریب کوٹلہ محسن خان کے قصبہ بلگرام میں ہوئی ۔ جس کا قدیم نام سلطانپور ہے ۔ آپؒ کے والدگرامی سیّدنا حضرت حسن بادشاہ پشاوریؒ المعروف میراں صاحب کا شمار خانوادۂ گیلانیہ کے عظیم المرتبت اور کبائر اولیاء میں ہوتا ہے۔

آپ کی ولادت کے بارے میں دیگر مصنفین نے کسی جگہ کاتعین نہیں کیا۔ بحرکیف قلمی نسخہ سیّد میر شاہ قطب عالمؒ بن سیّد میر اسحق شاہ پوہاروی ؒ بن سیّدنا حضر ت زین العابدین گیلانی سلطانپوریؒ نے (مولد پشاور) تحریرکیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی پیدائش پشاور ہی میں ہوئی ۔ زیادہ تر اہل خاندان اور دیگر مصنفین کے مطابق آپؒ کی تاریخ پیدائش 1090ھ لکھی گئی ہے۔ اور یہی دُرست ہے۔ عظمتِ رفتہ ، شمارہ الحسن ، تاریخ ہزارہ ، خلعت رحمانی، تذکرہ سادات، قولِ محکم، بحرالجمان اور دیگر بہت سی کتب میں آپؒ کی پیدائش 1090ھ ہی لکھی گئی ہے۔

آپ کا نام نامی اسمِ گرامی سیّدنا حضرت زین العابدین المعروف بڑے صاحب سلطانپوریؒ ہے۔ بڑے صاحبؒ کی وجۂ تسمیہ بمطابق ’’تذکرہ علماء و مشائخ سرحد جلد دوم ‘‘ یہ ہے کہ ’’ آپؒ کو اس علاقے میں ’’وڈے میاں صاحب‘‘ یعنی بڑے اُستا د (صدر مدرس) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے‘‘۔ سیّد اکبر علی شاہ گیلانی نے ’’شمارہ الحسن ‘‘ میں اپنے ضخیم مضمون میں بھی بڑے صاحب کی وجۂ تسمیہ یہی لکھی ہے جو اُوپر درج ہے۔ ’’عظمتِ رفتہ‘‘ اور دیگر کئی کتب میں بھی یہی وجہ تسمیہ لکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور روایت سے پتہ چلتا ہے کہ آپؒ اپنے گھرانے میں اپنے بھائیوں میں سب سے بڑے تھے ، اس لیے بھی آپکو بڑے صاحب کہا جاتا ہے۔ ایک اور روایت یہ ہے کہ آپؒ کو عز ت و بزرگی اور علمیت و قابلیت کی وجہ سے احتراماً بڑے صاحب کہا جاتا تھا۔ اور یہ لقب اتنا مشہور و معروف ہوا کہ آپؒ کی اولاد میں دیگر اہم شخصیات کو بھی ’’صاحب‘‘ کے لاحقے سے پکارا جانے لگا۔ یہ سلسلہ اتنا وسیع ہوا کہ تمام علاقہ میں آپؒ کی اولادوں کی پہچان ہی صاحبوں کے نام سے ہوتی ہے۔

تذکرۂ علماء و مشائخ سرحد کے مطابق آپؒ کی تعلیم و تربیت آپ ؒ کے والد گرامی سیّد حسن بادشاہ پشاوری کے زیر سایہ ہوئی۔ 18برس کی عمر میں آپؒ علوم ظاہری کی تکمیل کر چکے تھے۔ تفسیر و حدیث اُس وقت کے فاضل ترین عالم جناب حافظ عنائت اللہ صاحب گجراتی اور دوسرے بلند پایہ علماء و محدثین سے حاصل کی۔ علم حدیث میں آپؒ کو اتنی دسترس حاصل تھی کہ جب آپؒ کے سامنے کوئی حدیث بیان کرتا تو جب تک ہر راوی پر تنقید و تبصرہ نہ فرما لیتے ، بے چین رہتے۔ آپؒ نے روحانی تربیت کے لیے اپنے والد گرامی و مرشد گرامی کی زیر نگرانی گوشہ نشینی اختیار کی اور تین سال خلوت گزیں رہ کر معرفت میں کمال حاصل کیا۔ 21برس کی عمر میں خلافت سے سرفراز ہو کر جادۂ سلوک میں قدم رکھا۔ اولیاء اللہ کے مزارات پر حاضر ہو کر انوار و تجلیات الہٰی کا مشاہدہ کیا۔ اکابر علماء و مشائخ کی صحبت میں رہ کر ظاہری و باطنی فیض حاصل کیا۔ آپؒ عرب و عجم کے مختلف ممالک کی سیاحت کے بعد پشاور واپس تشریف لائے اور مختصر قیام کے بعد افغانستان روانہ ہو گئے اور ڈیڑھ سال تک کابل میں مقیم رہے۔ جہان بے شمار بندگانِ خدا نے آپؒ سے دینی تربیت و روحانی فیض حاصل کیا۔ اس کے علاوہ آپؒ بڑے بڑے علماء و مشائخ کی صحبت میں رہے اورسلسلۂ عالیہ قادریہ میں ہزاروں لوگ آپؒ کے دستِ مبارک پر بیعت ہوئے۔ بڑے بڑے جید علماء آپؒ کے مرید ہوئے، چونکہ آپؒ سنّتِ نبوی ﷺ کے نہایت ہی پابند تھے، اس لیے اگر کسی شخص کو خلافِ سنّت کام کرتا دیکھتے تو آپؒ کا چہرہ مبارک متغیر ہو جاتا۔اور سختی سے اُ س کو روک دیتے ۔ علم و تصوف ، پاسدارئ شریعت اور پابندئ سنت کی وجہ سے علاقہ ہائے کابل میں آپؒ کو نہایت عزت، قدر و منزلت اور عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جاتا۔

سیّد نا حضرت زین العابدین گیلانی قادری المعروف بڑے صاحب سلطانپوریؒ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں اپنے والد گرامی سے اجازت مانگی ، والد محترم حضرت سیّد حسن بادشاہ پشاوری نےؒ ازراہِ لطف و کرم آپؒ کو اجازت مرحمت فرمائی۔ حصولِ اجازت کے بعد آپؒ تبلیغ دین کیلئے ہندوستان تشریف لے گئے۔ اور برصغیر کے کونے کونے میں اسلام کا پیغام پہنچایا۔ بڑی بڑی تکالیف اور مصائب و آلام کا مقابلہ جواں مردی سے کیا۔ دُور دراز کے سفر اؒ ختیار کیے۔ دورانِ سفر طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، چونکہ آپؒ کا یقین کامل اور اراد ہ پختہ تھا اس لیے کسی بڑی سے بڑی بات سے بھی نہیں گھبرائے۔ اور ان تمام مشکلات کا ڈٹ کر سامنا کیا حتیٰ کہ سفری مشکلات ، موسم کی تلخیاں ، گرمی ، سردی، بارش اور بھوک پیاس غرض یہ کہ کسی بھی چیزکو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ہمہ تن یکسو ہو کر اپنے مقاصد کیلئے رواں دواں رہے اور اپنے پیارے مشن کو جاری و ساری رکھا۔ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی و رضا اور اسلام کی سربلندی کیلئے اپنے آپ کو وقف کیے رکھا۔

سیّد نا حضرت زین العابدین گیلانی قادریؒ کے چہرۂ انور پر رعب و دبدبہ ، جاہ و جلال اور انوار کے آثار بچپن سے ہی نمایاں تھے۔ تذکرہ نگاروں نے بیان کیا ہے کہ حضرت سیّدنا زین العابدین گیلانی قادریؒ المعروف بڑے صاحب سلطانپوری توکل و استغنا ، جُود و سخا اور کرم و تقویٰ میں یگانہ روزگا ر تھے۔ والد گرامی حضرت سیّد حسن بادشاہ پشاوری ؒ کی رحلت کے بعد حکومتِ مغلیہ نے آنجناب کے پسماندگان کی معاشی امداد کیلئے پشاور میں کچھ اراضی بطور جاگیر پیش کی۔ لیکن آپؒ نے اس عطیہ شہنشاہی کی طر ف کبھی نظر اُٹھا کرنہ دیکھا بلکہ اس سے کنارہ کش ہو کر سلطانپور حویلیاں چلے آئے۔ تاریخی حوالوں سے آپؒ کی کئی تصانیف کا ذکر بھی ملتا ہے ، لیکن استبداد زمانہ کے ہاتھوں وہ محفوظ نہ رہ سکیں۔ آپؒ کی درس گاہ سے ہزاروں طلباء اور مریدین فیضیاب ہوئے۔ دُور دراز سے آنے والے مریدوں اور عقیدت مندوں کیلئے علیحدہ مسافر خانہ قائم تھا، اُس دورمیں مدرسے کے ساتھ ایک مسجد بھی قائم تھی، جو اَب موجو دنہیں۔درس و تدریس سے آپؒ کی دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ موضع سلطانپور مبلغ 360/-روپے کے عوض مقامی باشندوں کے پاس رہن کر کے رقم لنگر کے اخراجات کیلئے مختص کر دی۔ اس کے علاوہ ملحقہ موضعات کو 18مَن روغن (گھی) کے عوض رہن چھوڑ دیا اور روغن (گھی) استعمال کیلئے لنگر خانے کے حوالے کر دیا۔ علاوہ ازیں آپؒ نے اپنے زیر تصرف دیگر دیہات کی آمدن بھی درس و تدریس اور لنگر خانے کی ضروریات پورا کرنے کیلئے وقف کر دی۔ حضرت سیّد نا زین العابدین سلطانپوریؒ خود نہایت ہی سادہ زندگی بسر کرتے تھے ، اور طلباء کی ہر طرح کی ضروریات کا ازحد خیال رکھتے ۔ آپؒ سفید رنگ کا لباس زیر تن کرتے ۔ آپؒ کی گفتگو نہایت شائستہ اور دلنشین ہوتی تھی۔ اس کے باوجود آپؒ کی شخصیت جاہ وجلا ل کا مظہر تھی۔ شریعتِ مطہرہ کی خود بھی مکمل پابندی فرماتے اور دوسروں سے بھی کراتے۔ کئی غیر مسلم آپؒ کے حسن سلوک سے متاثر ہوکر دائرۂ اسلام میں داخل ہو گئے۔

سیّد ضامن شاہ آف دُڑنی مَیرا بتاتے ہیں کہ سیّدنا حضرت زین العابدینؒ کے معصوم بیٹے جو بچپن میں فوت ہو گئے تھے اُن سے متعلق یہ روایت مشہور ہے کہ بچپن میں دورانِ کھیل وہ ایک دیوار پر بیٹھے ہوئے تھے ، اِ س دوران وہاں سے ایک بارات کاگذر ہوا ، جس میں دُلہا گھوڑے پر سوار بڑی شان سے جارہا تھا، صاحبزادہ گان کے دل میں یہ منظر دیکھ کر سواری کا شوق پیدا ہوا، چونکہ موقع پر گھوڑا تو موجود نہیں تھا، اِ س لیے اُنھوں نے دیوار کو اپنے پاؤں کی ایڑھ لگاتے ہوئے آگے بڑھنے کا حکم دیا، جس پر دیوار چل پڑی۔ موقعہ پر موجود افرا د نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا تو اُنھوں نے فوراً حضرت بڑے صاحبؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر تمام ماجرہ بیان کیا، واقعہ کی تفصیل سُن کر بڑے صاحبؒ کا چہرہ مبارک غصّے سے سرخ ہو گیا، اور انھوں نے شدید ناراضگی کاا ظہار فرمایا۔انہوں نے فرمایا کہ اِن نا سمجھوں نے بہت بُرا کیا ہے، جو حجاب اُٹھا دیااور وہ بات جسے میں ظاہر کر نا نہیں چاہتا تھا ، اُسے ظاہر کر دیا۔ میں اَ ب دوبارہ انہیں دیکھنا پسند نہیں کرتا۔ اُن کے منہ سے اِن الفاظ کا نکلنا تھا کہ دونوں صاحبزادے زندہ ہی زمین میں دفن ہو گئے۔ عقیدت مند طلباء و حاضرین یہ منظر دیکھ کر شددر رہ گئے اور اُن کے دلوں پر ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ منہ سے ایک لفظ تک نہ نکال سکے۔ بعد میں معتقدین نے اُس مقام جہاں پر یہ واقعہ پیش آیا تھا، دو ننھی ننھی قبریں بنا دیں، یہ قبریں آج بھی احاطۂ مزار میں معصوموں کی قبروں کے نام سے مشہور ہیں۔ اور عقیدت مند یہاں بھی حاضری دیتے ہیں۔

مقامی لوگ یہ روایت بڑی کثرت سے بیان کرتے ہیں کہ موجودہ مزار کی تعمیر سے قبل احاطۂ مزار میں ملنگوں نے اپنا ڈیرہ جما لیا اور انھوں نے غیر شرعی حرکات اور نوبت وغیرہ بجانی شروع کردی، حضرت بڑے صاحبؒ جو سلسلہ عالیہ قادریہ کے نامور اور سرکردہ بزرگوں میں شمار ہوتے تھے ، اِ س صورتحال کو سخت ناپسند فرمایا ، اُن کے روحانی تصرف کے ذریعے متعدد با ر انہیں (ملنگوں کو)متنبہ کیا گیا لیکن وہ باز نہ آئے ۔اکثر اوقات جب ملنگ صبح اُٹھتے تو اپنی نوبتیں وغیرہ موجو د نہ پاتے ۔ تلاش پر احاطۂ مزار سے دُور ندی دوڑ میں پڑی ہوئی پاتے۔ متعدد بار خوشگوار موسم کے باوجود ناگہانی آندھی اور طوفان وارد ہو جاتے ، ان سب حالات سے خوفزدہ ہو کر بالاخر ملنگ بھاگ جانے پر مجبور ہو گئے۔ تعمیر مزار سے قبل بھی اکثر لوگ یہاں حاضری دیتے اور قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے۔ کہاجاتا ہے کہ تعمیر سے قبل جب قبر مبارک کچی تھی ، اُس میں ایک سوراخ تھا۔ خادمِ دربار نے کئی مرتبہ بندکرنے کی کوشش کی لیکن اگلی صبح سوراخ کو اپنی جگہ پر موجود پاتا۔ ایک دن خواب میں بڑے صاحبؒ نے اُس سے فرمایا ! سوراخ بند نہ کیا کرو، کیونکہ میں اُس سے تلاوتِ قرآنِ کریم سنتا ہوں۔

حاجی قلندر خان (موہڑہ) سلطانپور علاقے کے لوگ کثیر تعداد میں روایت بیان کرتے ہیں کہ تقریباً ہر جمعرات بعد از مغرب چُھوئی والے بابا کے مزار سے ایک عجب طرح کا نورانی شعلہ اُٹھتا ہے ، قریبی پہاڑی پر واقع ملّا والے با با کے مزار پر جاتا ہے ، کچھ وقفے بعد ایک ہی طرح کے 2نورانی شعلے اُٹھ کر لنگرہ کی پہاڑی کی جانب جاتے ہیں۔ لنگرہ کے مقام سے ایک اور نورانی شعلہ اِن میں شامل ہو کر حضرت سیّد نا زین العابدین گیلانی قادری سلطانپوریؒ کے مزار مبارک تک جاتے ہیں،اور کچھ قیام کے بعد اپنی اپنی جگہ لوٹ جاتے ہیں۔ علاقے کے بے شمار لوگوں نے نورانی شعلوں کی اس نقل و حرکت کا ذاتی طور پر مشاہدہ کیا ہے۔
عرس کے موقعہ پر نوبت وغیرہ بجانے کی اجازت نہ تھی بسا اوقات اگر کوئی نوبت وغیرہ بجانے کی کوشش بھی کرتا تو موسمی آثار یکدم بگڑ جاتے آندھی او ر طوفان اس قدر شدید ہو جاتا کہ کئی دفعہ نوبتیں وغیرہ اُڑ کے دُور دُور جا گرتیں ۔ کئی دفعہ اِن کو ندی دوڑ سے بھی اُٹھا کر لایا گیا۔ انہوں نے بتایاکہ حضرت بڑے صاحبؒ کی اولاد میں سے ایک صاحب اکبر شاہ گیلانی یہاں مقیم تھے، اُن کے پاس حضرت بڑے صاحبؒ کے موزے ، کنگھی ، سر کے بال اورایک سیاہ رنگ کی پرانی لُنگی موجود تھی، لُنگی کا کپڑا ہاتھ کا بنا ہوا پرانا خستہ حال میں تھا، اُس لُنگی کاکمال یہ تھا کہ علاقے میں جب کبھی بارشیں نہ ہوتی اورزیادہ قحط سالی ہوتی تو حضرت بڑے صاحبؒ کی اس لُنگی کو مٹی کے کسی برتن میں پانی میں بھگو کر نچوڑتے او ر گیلا کر کے اُسے چھوڑ دیتے تو حکم خداوندی سے بارش ہو جاتی۔ یہ اشیاء اُن کے خاندان میں تبرکاً کافی عرصہ موجود رہیں او ر موجودہ زمانے تک کئی لوگوں نے ان اشیاء کی زیارت کی۔ بعد میں ان اشیاء کی خستگی کی وجہ سے انہیں مزار کے اندر ہی دفن کر دیا گیا۔

آپؒ کے کمالات و کرامات اور دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے سلسلہ میں کاوشوں کا اگر ذکر کیاجائے تو اس کیلئے کتبِ ضخیم درکار ہیں۔ آپؒ نے ہندوستان اور بالخصوص ہزارہ خیبر پختونخواہ کے عوام کو ربّ ذوالجلال کے آگے سرسجدہ زیر کروایا، آپؒ کے ہاتھ پر ہزاروں بھٹکے ہوئے راہی ، راہِ راست پر آگئے ۔آپؒ بمطابق 1196ھ کو اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے ۔ آپؒ کا مزار پرُانوار موضع سلطانپور ، حویلیاں ضلع ایبٹ آباد میں مرجع الخلائق ہے۔ ہر سال آپ کا سالانہ عرس مبارک انتہائی جوش و جذبے اور عقیدت سے منایا جاتا ہے، جس میں ملک بھر سے عقیدت مند زائرین شرکت کرتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Aadil Farooq Gillani

Read More Articles by Syed Aadil Farooq Gillani: 4 Articles with 4153 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Mar, 2018 Views: 1231

Comments

آپ کی رائے