بے قراری سی بے قراری ہے (قسط نمبر ١٠)

(گوہر شہوار, Karachi)
بے قراری سی بے قراری ایک سماجی رومانوی و روحانی ناول ہے جس کی کہانی بنیادی طور پر دو کرداروں کے ارد گرد گھومتی ہے۔ عبیر جو ایک فیشن ڈیزائنر ہے اور اسلامی فیشن میں کچھ نیا کرنا چاہتی ہے۔ تیمور درانی جو ایک ملحد ہے جس کے خیال میں محبت اور زندگی بے معنی ہے۔

تو یہ سب کھیل تیمور درانی کا کھیلا ہوا تھا۔ پہلے اس نے ہمارے پلان کو فیل قرار دیا اور پھر مجھے ہی نوکری دے کر ہمارے آئیڈیا زکو اپنے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔
مجھے خود پر شدید غصہ آیا۔ ہمیں ایسے شخص پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے تھا۔
میری آنکھوں اور باڈی لینگوئج دیکھ کر وہ بولا۔
آپ سوچ رہی ہیں کہ میں نے جان بوجھ کر آپ کے پلان کو فیل کیا تاکہ آپ کے کو نوکری دے کر آپ کا آئیڈیا چوری کروں۔ آپ غلطی پر ہیں۔ آپ کے ڈیزائنز میں جدت تھی لیکن انھیں ابھی مزید ریفائن کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی کے لیے آپ کو ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے۔ دوسرا آپ کا مارکیٹنگ اور انویسٹمنت کا پلان بہت ہی ویک تھا۔ پاکستان کی مارکیٹ دیکھتے ہوئے آپ کو کبھی پرافٹ نہ ہوتا۔
ایک دو سال کے اندر ہی اس بزنس بند ہو جاتا اور آپ بہت بڑے قرضے کے نیچے آ جاتے۔ اگرچہ مجھے کسی بزنس آئیڈیا کی ناکامی پر افسوس نہیں ہوتا، یہ تو روز کا ہی معمول ہے۔
آپ کے کام کو دیکھ کر مجھے آپ کے اندر پوٹینشل نظر آیا جسے پالش کیا جا سکتا ہے۔
سب بکواس! یہ سارے بزنس مین ایسے ہی ہوتے ہیں۔ اس جیسے غیر اخلاقی بندے سے کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ مجھے یہ نوکری کی آفر ٹھکرا کر اٹھ جانا چاہیے۔ لیکن میں جیسے سیٹ سے چپک گئی۔
دیکھوں تو سہی یہ چاہتا کیا ہے؟
میری کمپنی ایک اسلامی فیشن کا برینڈ لانچ کرنا چاہتی ہے۔ یہ پاکستان سے زیادہ سنٹرل ایشیا اور یورپ میں ہو گا۔ یہ برینڈ لانچ کرنے کا فیصلہ میرا نہیں میرے ایڈوائزرز کا ہے۔ اسی لیے مجھے آپ کا خیال آیا۔
آپ کی سلیکشن میں میرا کوئی ہاتھ اتنا نہیں۔ وہ آپ نے اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر حاصل کی ہے۔ میں چاہتا ہوں آپ اپنے آئیڈیاز کو ایکسپلور کریں جو آپ کے لیے اور ہماری کمپنی کے لیے فائدہ مند ہو۔
میرے آئیڈیاز۔۔ مائی فٹ۔۔ میں دیتی ہوں تمھاری کمپنی کو اپنے آئیڈیاز۔
اس کی آواز اسی طرح بھاری اور سرد تھی جس میں جذبات کی ذرا بھی رمق نہیں تھی۔ وہ آنکھیں بھی بہت کم جھپکاتا تھا۔ دیکھنے میں وہی گہری چھبن، جیسے کپڑوں کے اندر میرے جسم تک کو دیکھ رہا ہو۔
مجھے ایک عجیب سے بے حجابی محسوس ہوئی۔ میں نے اپنا عبایہ درست کیا اور اپنا نقاب مزید آنکھوں کے اوپر چڑھا لیا۔
ہماری کمپنی کا ورکنگ انوائرمنٹ تو آپ نے دیکھ لیا ہو گا، میں یہ تو نہیں کہتا کہ یہ سب سے اچھا انوائرمنٹ ہے لیکن تخلیقی کام کے لیے اس کے اچھا انوائرمنٹ آپ کو پورے پاکستان میں کہیں نہیں ملے گا۔
بات تو سنو اس کی یعنی تھوڑا سا اچھا انوائرمنٹ دے دو اور لوگوں کا ٹیلنٹ کوڑیوں کے مول لے لو۔ یہ لوگ کبھی نہیں چاہتے کہ ہم جیسے لوگ خود اپنی تقدید کا فیصلہ کر سکیں۔
واپس جا کر کس کمپنی میں اپلائی کروں؟۔ یہاں تو کسی قیمت کام نہیں کرنا۔
وہ جیسے میری سوچوں کو پڑھ رہا تھا۔۔
مس عبیر میں لوگوں کو ایکسپلائٹ نہیں کرتا۔ آرٹ کے ساتھ میری خاص محبت ہے۔ اسی لیے آرسٹسٹ لوگوں کی میں خاص قدر کرتا ہوں۔ یہ لوگ اس بے معنی دنیا میں خوبصورتی پیدا کرتے ہیں۔
اس نے اپنی وہی ملحدانہ سوچ دہرائی۔
عجیب آدمی ہے آرٹسٹوں سے محبت کرتا ہے لیکن خدا جو سب سے بڑا تخلیق کار ہے اسے ہی نہ مانتا۔
میری باڈی لینگوج چیخ چیخ کر کہتی رہی کہ میں اس کی کسی بات میں دلچسپی نہیں۔
مس عبیر میں یہ نہیں چاہتا کہ پیسے کی لالچ دے کر آپ کو اس جاب کے لیے قائل کروں۔ میری سلیکشن ٹیم نے 50 ٹیلنٹڈ لوگوں کے انٹرویوز کے بعد آپ کا سلیکشن کیا ہے۔ اسی لیے مجھے ان کے فیصلے کا احترام کرنا ہے۔ یہ انٹرویو اسی لیے رکھا گیا ہے کہ میں آپ سے سیلری اور بینیفٹ کی بات کر سکوں۔
اگر آپ اس جاب میں انٹرسٹڈ نہیں ہیں تو۔ ۔
میں اٹھنے ہی لگی تو خیال آیا۔ ذراد یکھوں تو سہی کیا سیلری اور بینیفٹ کیا ہے۔
مس عبیر میں سیلری سے زیادہ بینیفٹ کی بات کروں گا۔ اس کمپنی میں آپ کو یہ آزادی ہو گی کہ آپ بغیر کسی پابندی کے اپنے آئیڈیاز پر کام کرسیکیں۔ سیلری پر ہم بات کر لیتے ہیں کہ آپ کتنی سیلری لینا چاہیں گی۔
آزادی سے کام کرنے والی بات اگر سچ ہو تو بہت اچھا ہے۔ پر مجھے یقین نہیں تھا کہ کمپنیاں اتنی اچھی ہوتی ہیں کہ آرٹسٹوں کو ان کی مرضی سے کام کرنے دیں۔ اتنے پیسے مانگ لیتی ہوں جو نا ممکن سے بھی زیادہ ہو۔
میں نے جیسے ہی اپنی ایکسپیکٹڈ سیلری بتائی تو اس کی آنکھوں میں ہلکی سی دلچسپی کی لہر اٹھی۔ وہ بالکل بھی اس سے حیران نہ ہوا۔ اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
مس عبیر میں جانتا ہوں تخلیقی کام انمول ہوتا ہے۔ آپ کو نہیں لگتا کہ جو سیلری مانگ رہی ہیں یہ تھوڑی غیر حقیقی ہے۔
ہے تو ایسا ہی۔ کیونکہ میرے دل میں یہ شبہ ہے کہ آپ نے ہمارا بزنس آئیڈیا جان بوجھ کر فیل کیا ہے اسی لیے میں اپنی من مانی سیلری لوں گی۔
وہ اگر میری اس بات سے ناراض بھی ہوا تھا تو اس نے اظہار نہ کیا۔
میرا اس طرح کی بات کرنا ہی مجھے فیل کر دینے کے لیے کافی تھا۔
مس عبیر جتنی سیلری آپ نے مانگی ہے اس کو آدھا کر دیں تو بات قابل قبول ہو سکتی ہے۔
سوری تیمور صاحب یہ ممکن نہیں ہے یہ کہہ کر میں اٹھ گئی۔ میں نے اس کے ساتھ وہی کیا جو اس نے میرے ساتھ بزنس پلان والی میٹنگ میں کیا تھا۔ میں دروازے تک پہنچی تو پیچھے سے اس کی آواز آئی۔
مس عبیر۔۔ جذباتیت میں ہم لائف ٹائم موقعوں کو کھو دیتے ہیں، کچھ دن ٹھنڈے دل سے اس آفر کے بارے میں سوچیں۔ پھر بھی آپ سمجھتی ہیں کہ آپ نہیں آنا چاہتیں تو آپ کی مرضی ہے۔
آپ جب بھی آنا چاہیں میری ٹیم آپ کو ویلکم کرے گی۔ لیکن میں اس ایروگنس کی کچھ سزا بھی دوں گا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
میں بیک وقت اداس اور خوش باہر نکلی۔ اداسی اس بات کی کہ ایک ہی موقع ملا اور وہ بھی ایک برے شخص کی وجہ سے ضائع ہو گیا۔
خوشی اس بات کی تھی کہ میں دوسری بار اس کی چالوں کا شکار نہیں ہوئی۔ وہ بھی کیا سوچتا ہو گا کہ کس سے پالا پڑا ہے۔ میں اپنے بچکانہ خیالات پر میں گم گھر پہنچ گئی۔
عمارہ سے سکائپ پر بات کرتے ہوئے میں نے اسے آج کی کہانی سنائی۔ وہ ان دنوں پیرس گھوم رہیتھی۔ ہر روز مجھے وہاں کی نئی نئی باتیں بتاتی۔ آرٹ گیلریز کی تصویریں شئیر کرتی۔
عبیر یہ شہر ہی آرٹ کا ہے۔ یہاں لوگ آرٹ کو اور آرٹسٹ لوگوں کی بہت قدر کرتے ہیں۔ عمارہ اب وہ پہلی والی عمارہ نہیں رہی تھی۔ یوں محسوس ہوتا، وہ وہاں کے کلچر کی چکا چوند سے متاثر ہو گئی ہے۔ فارن ٹرپس پر وہ پہلے بھی جاتی تھی لیکن اتنے لمبے عرصے کے لیے پہلی بار گئی تھی۔ اب اسے ہماری ساری لوکل چیزیں کم تر لگنے لگتیں۔ وہ پہلے کی طرح میری باتیں نہیں سنتی، بس اپنی ہی سناتی۔ مجھے اس کی تبدیلی پر دکھ ہوا۔
اسے کیا ہوتا جا رہا ہے۔ مانا پیرس بہت اچھا ہے۔ پر اتنی جلدی تبدیلی؟
جب میں نے اسے تیمور درانی کے ساتھ میٹنگ کا بتایا تو اس نے ایسے سنا جیسے یہ واقعہ کوئی اہمیت ہی نہ رکھتا ہو۔ اسے اپنا بزنس پلان والا آئیڈیا بھی سٹوپڈ سا لگنے لگا۔
جیسے جیسے دن گزرتے گئے ہماری بات بھی کم سے کم ہوتی گئی۔ وہ اکثر مصروفیت کا بہانہ کرتی، اس کی اپنی نئی سہیلیوں کے ساتھ تصویریں آتیں۔ ان میں پاکستانی کم اور باہر کی لڑکیاں زیادہ ہوتیں۔ وہ ان کے ساتھ آؤٹنگ اور فیشن شوز میں جاتی، ایک دو بار دو ڈانس کلب میں بھی گئی۔ مجھے اس کی اس تبدیلی کی سمجھ نہیں آئی۔
شاید ہم سب نئے ماحول اور نئے دوستوں کے ساتھ تبدیلی ہو جاتے ہیں اور ہمارے پرانے دوست عزیز ہمیں دیکھ کر حیران ہوتے ہیں۔ بہر حال میں اس کے لیے خوش بھی تھی کہ وہ اپنا مستقبل بنارہی ہے۔
عبیر تم بزنس پلان کو بھول جاؤ اور تیمور دارنی کی فرم میں جاب کر لو۔ کسی ملٹی نیشنل برینڈ کے ساتھ کام کرنا چھوٹے موٹے لوکل کام کرنے سے ہزار گنا بہتر ہے۔ پوری دنیا آپ کے ڈیزائنز پہنتی اور تعریف کرتی ہے۔
حیرت ہے مجھے اپنے بزنس کی کہانیاں سنانے والی اتنی جلدی تبدیل ہو گئی۔
کاشف سے بھی لمبی بات نہ ہوپاتی، ایک تو ٹائمنگ کا فرق آ گیا دوسرا سارا دن تو اس کے سیمینار چلتے رہتے۔ مجھ سے بات کرتے ہوئے بھی اس کی آواز سے تھکاوٹ ہوتی۔ میں نے اسے انٹرویو کے حوالے سے صرف اتنا بتایا کہ میں سلیکٹ نہیں ہو سکی۔ تیمور درانی والی بات میں نے گول کر دی۔ وہ اس بات کا پتہ نہیں کیامطلب لیتا۔ ویسے بھی میرا اب تیمور درانی اور اس کی کمپنی سے کیا لینا دینا۔
اماں اور ابا شادی کی تیاری میں لگے رہتے، ابا کے چہرے پر خرچوں کی ٹینشن ہوتی۔ اکثر فون پر دوستوں اور رشتے داروں سے پیسوں کو تقاضہ کرتے۔ اگرچہ کاشف کے گھر والوں کی خواہش یہی ہے کہ سادگی سے سب کچھ ہو۔ پہلے مجھے بھی دھوم دھام سے شادی کرنے کا شوق تھا۔ لیکن جیسے جیسے مجھے شادی کے خرچوں کو علم ہونا شروع ہوا۔ میں زیادہ جہیز اور خرچوں کے خلاف ہو گئی۔
اماں کہتیں جو لڑکی اچھا جہیز نہیں لے کر جاتی اس کی سسرال میں عزت نہیں ہوتی۔
ابا کی پریشانی صرف میری شادی کا خرچہ نہیں تھا۔
پچھلے ایک سال سے دکان کی سیل کچھ اتنی اچھی نہیں رہی تھی، جب سے کیش اینڈ کیری کا رواج چل پڑا تھا گروسری کی چھوٹی موٹی دکانوں کا کام کم ہو گیا تھا۔ پچھلے بیس سال سے ابا یہ دکان چلا رہے تھے، میری پیدائش سے پہلے وہ کئی سال کسی دوسرے کی دکان پر کام کرتے تھے۔ میری پیدائش کے ساتھ ہی انھوں نے اپنی دکان خریدی۔ اس دن کے بعد ان کی ترقی کا سفر شروع ہوا۔ انھوں نے دادی کو حج کروا یا، مکان بنوایا، اور ایک سیکنڈ ہینڈ گاڑی خریدی۔ بزنس کے حالاتمگر سدا ایک جیسے نہیں رہتے، سیل کم سے کم ہونے لگی اور گھر کے خرچے مہنگائی کے ساتھ بڑھتے ہی گئے۔ پچھلے ایک سال میں ان پر کئی لاکھ کا ادھار بھی چڑھ گیا۔ ابا کی ساکھ کی وجہ سے لوگ اب بھی ان پر بھروسہ کرتے ہوئے ادھار دے دیتے۔ معلوم نہیں یہ سلسلہ کب تک چلے گا۔ اماں ان کی حالت کو دیکھتے ہوئے پریشان ہوتیں تو کہتے کہ بہت سے برے وقتوں کی طرح یہ بھی گزرجائے گا۔
گھر میرے جہیز کے سامان سے بھر گیا، اماں سامان دیکھتیں اور ان کے چہرے سے خوشی اور اندیشے نظر آتے۔ میرے جوڑے بن کر آئے تو اماں نے مجھے پہن کردکھانے کو کہا۔ جب میں نے پہنے تو انھوں نے آنکھوں میں آنسو لیے میری نظر اتاری اور پیسے مدرسے بھجوادیے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میں اور شگفتہ کمرے کے کونے میں خوف سے دبکی کھڑی تھیں۔ میں نے چادر میں اپنے چہرے اور جسم کو چھپا لیا۔ جب ڈاکو نے میری طرف دیکھا تو میں نے فوراً انگوٹھی، بالیاں، اور چوڑیاں اتار کر اس کے ہاتھ میں رکھ دیا، کہ کہیں یہ تلاشی کے چکر میں میری بے حرمتی نہ کرے۔
زیور لے کر بھی اس کا گھورنا بند نہ ہوا۔ میں نظریں نیچی کیے دعائیں مانگنے لگی۔ ابا تو بے بسی کی حالت میں ایک کونے میں کھڑے ڈاکوؤں کو گھر کا صفایا کرتے دیکھتے رہے، اماں ان کی منتیں کرنے لگیں کہ وہ کچھ رحم کریں اور شادی کا زیور اور سامان لے کر نہ جائیں۔ انھوں نے ایک نہ سنی۔ کوئی بھی مزاحمت یا منت بے فائدہ تھی۔ اسی لیے ابا نے ڈاکوؤں کو آتے ہی کہا کہ انھیں جو چاہیے وہ لے جائیں، کوئی تشدد یا بدتمیزی نہ کریں۔ ہمیں بھی انھوں نے کہا کہ سب کچھ حوالے کر دو۔ مجھے سب سے زیادہ دکھ اپنی منگنی کی انگوٹھی اور شادی کے زیوروں کا ہوا۔
یہاں تک تو ٹھیک تھاپر لیکن جبب وہ سارے گھر کا صفایا کر کے جانے لگے تو نہجانے کیوں وہی ڈاکو میرے پاس آیا اور مجھے بہت ہی ہوس ناک نظروں سے دیکھنے لگا۔ اس کے منہ سے آنے والی بدبو سے مجھے قے آ گئی۔
میں نے منہ پھیر لیا۔ اس نے زبردستی میرے چہرے سے چادر کھینچنا شروع کی۔ یا اللہ مجھے بچائیں۔ بے بسی سے میرے آنسو نکل پڑے۔ وہ مجھے کھینچ کر کمرے میں لے جانے لگا۔ ایک اور بنت حوا کی عزت آج لٹنے والی تھی۔ اماں چیختی ہوئی بچانے آئیں تو کلاشنکوف کے ایک بٹ ان کے سر پر لگا۔ ابا جیسے پتھر کے بن گئے یہ تو وہی سالوں پہلے کا منظر تھا۔
کئی سال پہلے سردیوں کی ایک رات ابا نے اپنی دونوں بہنوں کو بندوق کی نوک پر کمرے میں لے جاتے دیکھا تھا۔ دادا پتھر کے بنے کھڑے رہے۔ ان کی مزاحمت پر ان کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ علیحدگی پسندوں میں اتنی نفرت آ چکی تھی کہ وہ بدترین مظالم بھی قومی خدمت سمجھ کر کر رہے تھے۔ دادا پر الزامات کی فہرست لمبی تھی۔ ایک مہاجر، دوسرا پاکستانی حکومت کے حمایتی، تیسرا کالج میں اردو زبان کے استاد۔ ان کے بدترین مخالف بھی یہ مانتے کہ انھوں نے کبھی کسی کے خلاف تعصب نہیں پھیلایا، مکمل دیانت داری سے پڑھایا۔ ہاں ان کا جرم بنگلہ دیش کی علیحدگی کی مخالفت تھا، جس کے باعث انھیں قوم کا غدار کہا گیا۔ کہتے ہیں خانہ جنگیوں میں آبرو ریزی ہوس کی تسکین کے لیے نہیں بلکہ مخالفین کی انا کو توڑنے کے لیے کی جاتی ہے۔ جنگ انسان کے اندر کا حیوان جگا دیتی ہے۔ ایسی صورتحال میں وہ ایسے کام کر دیتا ہے جو وہ عام حالات میں کرنے کا سوچتا بھی نہیں ہے۔ سالوں سے ساتھ رہنے والے اجنبی بن گئے اور لوٹ مار شروع کر دی۔
دادا کے گھر حملہ کرنے والے کوئی اجنبی نہیں اسی شہر اور محلے کے نوجوان تھے، جنھیں دادا پڑھاتے رہے۔ ابا بھی بے یقینی سے ان لوگوں کو دیکھتے رہے جو کبھی ان کے دوست تھے۔
اس دن ابا کا یقین انسانیت سے اٹھ گیا۔ جلتے گھر میں اپنے باپ اور بہنوں کی لاشیں چھوڑ کرجاتے ہوئے انھیں دل پر پتھر رکھنے پڑے۔ ان کی بڑی بہن کا ذہنی توازن اس حد تک خراب ہو گیا کہ انھوں نے جلتے گھر سے نکلنا گوارا نہ کیا اور راکھ ہو گئیں۔ ان کی آنکھوں کا دکھ ابا ساری زندگی نہ بھول سکے۔ کبھی کبھی ابا نیند میں رونا شروع کر دیتے۔ صبح اٹھ کر انھیں یاد نہ ہوتا۔ دادی کی ہمت تھی کہ وہ اتنے غموں کے بعد بھی زندہ رہیں اور ان کا اللہ پر ایمان مضبوط ہو گیا۔
ابا کی آنکھوں سے یہی لگا کہ وہ آج تاریخ کو دہرانے نہیں دیں گے۔ وہ اس انداز سے ڈاکو پر جھپٹے جیسے زخمی شیر شکار پر جھپٹتا ہے۔ ابا کی اور اس ڈاکو کی لڑائی شروع ہوئی اور آوازیں سن کر باہر گاڑی میں موجود دو ڈاکو اور آ گئے۔ ابا نے کوشش کی کہ وہ گن چھین لیں، ان پر ہوش سے زیادہ اور جوش حاوی ہو گیا۔ اسی دوران دو گولیاں چلیں اور ابا کراہ کر زمین پر گر گئے۔ اندھیرے میں یہ نہیں معلوم ہوا کہ گولی کس نے چلائی۔ اماں اور ہماری چیخیں نکل گئیں۔ ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا اور ڈاکو فوراً وہاں سے کھسک لیے۔ ڈاکوؤں کے جاتے ہی شور سن کر محلے کے لوگ بھی پہنچنا شروع ہوئے۔ ابا کو فوری ہسپتال لے کر گئے ڈاکٹروں نے بتایا گولیاں سینے میں دل کو زخمی کر گئی ہیں اور خون بھی کافی ضائع ہو گیا ہے۔ ہسپتال پہنچنے کے کچھ دیر بعد ہی ابا کا انتقال ہو گیا۔
چالیس سال پہلے وہ اپنی بہنوں کے لیے کچھ نہ کر سکے۔ چالس سال وہ ایک کرب سے گزرتے رہے۔ اپنی بیٹیوں کے ساتھ وہی ہوتے دیکھنا اور زندہ رہنا ان سے نہ ہوپاتا۔ یہ ایک ہارے ہوئے شخص کی ماضی کو تبدیل کرنے کی کوشش تھی۔
سال ہا سال اور اک لمحہ
کوئی بھی تو نہ ان میں بل آیا
خود ہی اک در پہ میں نے دستک دی
خود ہی لڑکا سا میں نکل آیا
یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ ہم سب کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت ہی ماؤف ہو گئی۔ میں خالی ذہن سے سب ابا کی میت اور قبر کو دیکھتی رہی۔ کون لوگ آ کر تعزیت کرتے رہے مجھے کوئی علم نہ ہوا۔
مجھے جب کچھ سمجھ آنا شروع ہوئی کہ یہ سب خواب نہیں حقیقت ہے تو ابا کو دفنائے دس دن سے زیادہ گزر گئے تھے ابا کو دادی کے پہلو میں دفنایا گیا۔ اماں بھی شاک کی کیفیت میں تھیں۔ شگفتہ نے خود کو سنبھالا اور گھر کے سارے معاملات دیکھنے لگی۔
ابا کے جانے کے بعد کچھ حقیقتیں ہم پر کھلنا شروع ہوئیں۔ ابا پر مختلف لوگوں کا چالیس لاکھ سے اوپر کا قرض تھا۔ جس کی ادائیگی کے تقاضے دبے اور کھلے انداز میں آنا شروع ہو گئے۔ میری شادی کا سارا سامان اور گھر کی کافی قیمتی چیزیں بھی چلی گئیں۔ فوری طور پر خرچہ چلانے کے بھی پیسے نہیں تھے۔ ابا کے سب پرانے عزیز دوست گدھے کے سر پر سینگ کی طرح غائب ہو گئے۔ اماں کے رشتے دار سب ماضی کے ہی نواب تھے، حالتیں سب کی پتلی ہیں۔
ہم نخلستان سے نکل کر سخت دھوپ میں آ گئے۔
سب سے افسوس ناک بات کچھ اور بھی ہوئی۔ اگرچہا س رات ڈاکؤوں نے میرے یا شگفتہ کے ساتھ کچھ نہ کیا تھا۔ پھر بھی نہ جانے کیوں محلے کی عورتوں میں کچھ باتیں پھیلنا شروع ہو گئیں۔ جیسے اس رات کچھ ہوا تھا جو چھپایا جا رہا ہے۔ ہم نے اس رات کے ڈاکے کی ایف آئی آر بھی درج کروا ئی، مگر کوئی خاص پیش رفت نہ ہوئی۔
ایف آئی آر میں یہ بات درج ہوئی: ڈاکوؤں نے گھر کی عورتوں کے ساتھ بدتمیزی کی جس کے باعث گھر کے سربراہ کو اشتعال آیا اوراس نے ڈاکوؤں پر حملہ کیا۔ اسی دوران ڈاکؤں کی فائرنگ سے گھر کے سربراہ کی جان چلی گئی۔ محلے کی عورتیں کرید کرید کر اس رات کے واقعات پوچھتیں پر انھیں تسلی نہ ہوتی۔
میں شاید اس بات کو زیادہ توجہ نہ دیتی۔ پر جب شمائلہ نے بھی اس بات کو دو تین بار پوچھا تو مجھے شدید غم ہوا۔ شمائلہ بھی لوگوں کی باتوں کو سچ سمجھنا شروع ہو گئی ہے۔
اس نے اس اہم موقع پر ہماری امداد بھی کی۔ پر اس کا رویہ کچھ بدل گیا۔ میں نے کاشف کے سامنے اپنا غم شئیر کیا۔ وہ فوراً پاکستان پہنچنا چاہتا تھا لیکن ٹریننگ کی وجہ سے مجبور تھا۔
میں اور شگفتہ سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ اب کیا کیا جائے۔ لاکھوں کا قرضہ اور گھر کا خرچہ۔ گھر میں صرف میں جاب کر سکتی ہوں۔ شگفتہ نے تو ابھی یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا۔
او مائی گاڈ شگفتہ کی تعلیم کا خرچہ کون اٹھائے گا۔ ابا کی دکان کا کیا بنے گا۔ زندگی کے پریکٹیکل معاملات ہمارے سر پر پہاڑ کی طرح آن پڑے تھے۔
جلد از جلد کوئی نہ کوئی فیصلہ لینا تھا۔
سچ بات یہ ہے ٹویشنوں سے گھر نہیں چلتے۔ سادہ سے سادہ گزارے کے لیے بھی مستقل آمدنی چاہیے۔ ٹیوشن کی آمدن ہوائی قسم کی ہوتی ہے۔
جلدی میں ابا کی دکان اور گاڑی بھی اونے پونے بیچنی پڑی۔ چالیس لاکھ کا قرضہ کسی بھی طرح اتارنا نا ممکن تھا۔ قرضہ چکانے کے بعد صرف اتنے پیسے بچے کہ تین چار مہینے گھر کا خرچہ چل جاتا۔ اور میری شادی؟
میری خوشیوں کو واقعی نظر لگ گئی تھی۔ زندگی بھی عجیب ہے اتنے قریب آ کر خوشیاں دور ہو جاتی ہیں۔ کل تک سب کچھ روشن تھا۔ آج سر پر ابا کا سایہ نہیں رہا، بزنس کا آئیڈیا چلنے سے پہلے فلاپ ہو گیا، منگیتر دور ہو گیا، اب نوکری اور گھر چلانے کے لالے پڑ گئے۔
میں اب خالی ہاتھ زندگی کی نئی شاہراہ پر کھڑی تھی۔ مجھے نہیں معلوم میں نے کہاں جانا اور کیا کرنا ہے۔ میرے دل میں ایک شدید غم اور مایوسی کی لہر اٹھی۔ یا اللہ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں؟ میں نے کونسے گناہ کیے ہیں جس کی یہ سزا ملی۔ کیا ٹریجیڈیزہمارے خاندان کی قسمت میں لکھ دی گئی ہیں؟
آخر ہم پر مشکلیں اور آزمائشیں کیوں آتی ہیں۔ ان کی کیا حکمت ہے۔ ہم بے نام ونشاں مارے جاتے ہیں۔ ہمارے دکھ کو سمجھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ یہ بھی تو سمجھ نہیں آتی کہ کوئی مشکل آزمائش ہے یا سزا؟
میرے نانی نیک خاتون تھیں، ساری زندگی انھوں نے کبھی نماز روزہ قضا نہیں کیا۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ باقائدگی سے تہجد پڑھتی تھیں۔ انھوں نے پانچ حج بھی ادا کیے۔ سب لوگ دینداری کی وجہ سے ان کی بے حد عزت کرتے۔ ان کی زبان پر ہروقت صرف ایک دعا رہتی، یا اللہ مجھے زندگی میں کسی کا محتاج نہ کریں اور چلتے پھر تے اس دنیا سے لے جائیں۔
ان کی سب خوبیوں کے ساتھ ان میں ایک خامی تھی کہ وہ دل کی بہت سخت اور زبان کی کڑوی تھیں۔ انھوں نے اپنی بہوؤں کی زندگی اجیرن بنائے رکھی۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا بڑھاپے میں انھیں فالج ہوا اور کئی سال شدید تکلیف میں گزارے۔ ان کی حالت دیکھ کر ان کے بچے بھی دعا کرتے کہ یا اللہ ان کی مشکلیں آسان کر دے اور انھیں اٹھا لے۔ وہ ہر وقت درد سے چلاتیں اور روتیں۔ ان کی حالت دیکھ کر سب سوچتے کہ یہ سزا ہے یا آزمائش؟
اپنی حالت دیکھ کر بھی یہی خیال آتا ہے۔ یا اللہ یہ سزا ہے یا آزمائش؟
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مجھے اس وقت ایک اچھی جاب چاہیے تھی جو اتنے پیسے دے کہ باعزت طریقے سے گھر چل سکے۔ شادی کا خیال فی الحال ذہن سے نکل ہی گیا۔ میں کسی بھی قیمت ہر اماں، اور شگفتہ کو بے آسرا نہیں چھوڑ سکتی۔ اچھا مستقبل تو ایک طرف ہماری بقا خطرے میں پڑ گئی ہے۔
دو تین مہینوں سڑکوں اور دفتروں کے دھکے کھاتے میں مایوس ہو گئی۔ ابھی تک سوائے تیمور درانی کی کمپنی کے کسی نے سیریس ہی نہیں لیا۔ تیمور درانی کی شخصیت اور باتیں مجھے زہر لگتی تھیں۔ میں اس احساس کو کیسے مٹاتی کے وہ خدا کو نہ ماننے والا ایک پتھر دل انسان ہے جس سے کسی قسم کی اخلاقیات کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
ایک مہینے تک میں نے ہر اس جگہ اپلائی کیا جہاں سے کچھ پیسے مل سکتے۔ اول تو نوکری ملتی نہیں۔ اگر ملتی بھی تو اتنے کم پیسے ہوتے کہ میرا آ نے جانے کا خرچہ بھی پورا نہ ہوتا۔ شگفتہ کی پڑھائی بھی خطرے میں پڑ گئی۔ کیونکہ اتنی مہنگی یونیورسٹی کا ایک مہینے کا خرچ بھی ہم نہیں دے سکتے۔
پہلی بار احساس ہوا کہ میں شدید دھوپ میں ننگے پیر کھڑی ہوں اور کسی نے میرے سر سے سایا چھین لیا ہو۔
لوگ اب بھی گھر آتے اور زبانی تسلیاں دے کر چلے جاتے۔ اماں کو تو چپ ہی لگ گئی، اور وہ زندہ لاش جیسی لگنے لگیں: نہ کچھ کھاتیں نہ پیتیں بس گم سم بیٹھی رہتیں۔ بیٹھے بیٹھے ان کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑتے۔ راتوں کو ان کی سسکیاں ہم سنتیں اور اپنے بستروں میں رونا شروع ہو جاتیں۔ اس سارے غم کے باوجود ہر آنے والا دن مستقبل کی تاریکی ہم پر واضح کرنے لگا۔
ایک دن یونیویرسٹی سے واپس آتے ہوئے کچھ لڑکوں نے شگفتہ کے ساتھ چھیڑ خانی کرنے کی کوشش کی۔ ایک دو نے اپنے نمبر پھینک اور آوازیں بھی کسیں۔ شگفتہ کی ڈریسنگ عموماًاچھی ہوتی، کبھی کبھی لونگ شرٹ کے ساتھ جینز پہن لیتی۔ اسے آنکھیں جھکا کر اور ڈرے سہمے رہنا پسند نہیں تھا۔ لوگ جب اسے گھور کر دیکھتے ہیں تو وہ اگنور کرنے کے بجائے انھیں غصے سے دیکھتی۔ اس کی یہی باتیں چھچھوروں کو اکساتی تھیں۔
چھیڑنے کی اصل وجہ یہ تھی کہ اب ہمارے سر پر سایہ نہیں رہا۔ ابا کے ہوتے کسی کی ہماری طرف آنکھ اٹھا نے کی ہمت نہ پڑتی تھی۔ اب لوگوں کی نظریں بدل گئیں، ان میں بیباکی آ گئی تھی۔
شگفتہ میری طرح حساس نہیں، کہ ہر بات دل پہ لے۔ اس نے اس واقعہ کا ذکر بھی ایسے کیا جیسے عام سی بات ہو۔
یہ بات میرے ذہن میں گہرے خوف اٹھانے کے لیے کافی تھی۔ میں نے اسے اپنی ڈریسنگ موڈیسٹ کرنے اور نظریں جھکا کر چلنے کو کہا۔ پر مجھے معلوم تھا وہ اپنی عادت اتنی جلدی تبدیل نہیں کر سکتی۔
میں اس کے علاوہ کہہ بھی کیا سکتی تھی۔ بے بسی سے میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔
یا اللہ یہ دنیا عورتوں اور بے سہارا لوگوں کے لیے کتنی مشکل جگہ ہے۔ میری نمازیں اور دعائیں طویل ہونے لگیں۔ اب صرف اللہ ہی کا آسرا تھا۔
دعا کے ساتھ دوا بھی جاری رہیں۔ میں نے عمارہ سے کہا کہ وہ اپنے پاپا یا کسی لنک کے ذریعے میری کہیں بھی جاب کروا دے۔ اس نے کئی جگہ میری سی ویز بھیجیں۔ چار پانچ جگہ انٹرویوز بھی ہوئے لیکن کوئی بات نہ بنی۔
مجھے شدید فریسٹریشن ہونے لگی۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا، کیا کروں؟
مجھے رہ رہ تیمور درانی کی کمپنی کی جاب کا خیال کر آتا، مگر میں اسے ریجیکٹ کر دیتی۔
ابا کا چالیسواں ہو گیا اور لوگوں کو چیزیں بھولنے لگے۔ پر ہمیں ہر گزرتا دن ابا کی یاد دلاتا۔ انھوں نے آج تک ساری مشکلات خاموشی سے سہیں۔ ہمیں کسی گرمی سردی کی ہوا نہ لگنے دی۔ اس دوران عید آ گئی۔ ہمارا غم مزید گہرا ہو گیا۔
بچپن سے ہی ہر چاند رات پر ابا ہمیں چوڑیاں پہنانے اور مہندی لگوانے لے جاتے۔ ہم اس ایونٹ کو خوب انجوائے کرتے اور ابا کے ڈھیر سارے پیسے خرچ کروا تے۔ میں جس سوٹ کو پسند کر لیتی چاہے جتنا بھی مہنگا ہوتا ابا کبھی انکار نہ کرتے۔ ہم عید سے زیادہ چاند رات کو انجوائے کرتے، عید والے دن تو بس مہمانوں نے آنا ہوتا اور کھانے پہ کھانے بنتے۔ اس عید پر لوگ ہم سے افسوس کرنے آئے۔ میں دیر تک ابا کی قبر کے سرہانے بیٹھ کر روتی رہی۔
ایسے وقت میں صرف کاشف ہی میری مشکل سمجھ رہا تھا۔ اس کا ساتھ میرے ساتھ نہ ہوتا تو میں پتہ نہیں کیا کر بیٹھتی۔ اس نے کہا کہ وہ واپس آ کر سارے معاملات ٹھیک کر دے گا۔ اس نے بھی ایک دو جگہ میری جاب کی کوشش کی لیکن کوئی سلسلہ نہ بن سکا۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: گوہر شہوار

Read More Articles by گوہر شہوار: 23 Articles with 14467 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Mar, 2018 Views: 515

Comments

آپ کی رائے
bohoth umda MashaAllah
By: farah ejaz, Karachi on Mar, 14 2018
Reply Reply
0 Like