عوامی عدالت کا فیصلہ

(Saeed Ullah Saeed, Sawat)

نااہلی کے بعد سابق وزیر اعظم اور ان کی صاحبزادی مریم نواز صاحبہ اعلیٰ عدلیہ سمیت بعض دیگر قومی اداروں پر خوب تنقید کررہے ہیں۔دوسری طرف ملک کے معروف قانون دانوں سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے باشعور افراد بھی اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کو درست سمجھ رہے ہیں۔ سنجیدہ حلقے اب بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر میاں صاحب کے پاس خود کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے کچھ ہیں تو وہ عدالت کے سامنے پیش کرے۔ نہیں تو اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کو تہہ دل سے تسلیم کرکے ملک کو انتشار سے بچانے کی کوشش کریں۔ لیکن میاں صاحب ہے کہ وہ عدلیہ کو نشانہ بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ عوامی اجتماعات سے خطاب کے دوران میاں صاحب اور انکی صاحب زادی کا اب بھی یہی استدلال ہے کہ ان کے ساتھ بڑا ظلم ہوا ہے۔ مزید یہ کہ ان کو عوام نے منتخب کیا ہے لہٰذا عدلیہ کے پاس کوئی اختیار نہیں کہ انہیں اقتدار سے بے دخل کردیں۔ میاں صاحب بڑے زور شور سے کہہ رہے ہیں کہ چونکہ اسے عوام نے منتخب کیا ہے لہٰذا عوامی عدالت اس کی نااہلی کو نہیں مانتی۔ یقیناً میاں صاحب کو ان کے ہمدردوں نے سمجھایا ہوگا کہ صاحب !ہر معاملے میں عوام کے عدالت سے رجوع نہیں کیا جاسکتا۔ باالفرض اگر ایسا ہوجائے تو پھر کئی قومی اداروں کے قیام کا مقصد ہی فوت ہوجائے ۔ آفسوسناک بات یہ ہے کہ میاں صاحب نہ صرف خود تمام قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر انتہا پسندی کی جانب مائل ہے بلکہ اپنے پیروکاروں کو بھی یہی سمجھا رہا ہے کہ آپ کے ہوتے ہوئے کون ہوتا ہے مجھے نکالنے والے۔ میاں صاحب نااہلی کے بعد سے لیکر تا دم تحریر عوام کو یہ باور کرارہا ہے کہ آپ کا فیصلہ عدالت عالیہ کے مقابلے میں زیادہ وزنی ہے اور انصاف آپ کا کام ہے ناکہ عدالتوں کا۔ یہ میاں صاحب کے عوام کو پڑھائے جانے والی سبق کا نتیجہ ہے کہ ملک کی معروف دینی درسگاہ جامعہ نعیمیہ لاہور میں میاں صاحب اپنے ہی ہم خیال لوگوں کی بیٹھک میں جوتے کا نشانہ بنے۔ جوتا مارنے والے شخص نے منور نے جو توجیہہ پیش کی ہے ، وہ اگر چہ نظر انداز کرنے والا نہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وطن عزیز میں عدالتوں کے ہوتے ہوئے منور نے کیوں یہ فیصلہ کرلیا کہ میاں صاحب جوتا کھانے کا مستحق ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ ایک دینی علمی ادارے کا فارغ التھصیل شخص نے کیوں یہ انتہائی قدم اٹھایا؟ ان تمام باتوں کا جواب میرے خیال میں میاں صاحب کے پاس ضرور ہوں گے کیونکہ یہ میاں صاحب ہی ہے جو پچھلے کچھ عرصے سے ’’عوامی عدالت‘‘ کا سب سے وکیل اور حمایتی بن کر ابھرے ہیں۔ یہ نواز شریف صاحب کے ’’تعلیمات‘‘ کا نتیجہ ہی تو ہے کہ بھرے مجمعے میں ایک شخص نے کھڑے ہوکر عوامی عدالت لگایا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا نواز شریف صاحب خود ، ان کی صاحب زادی، طلال، دانیال اور مریم اورنگزیب صاحبہ ’’عوامی عدالت‘‘ کے اس فیصلے کو کہ جس میں میاں صاحب نشانہ بنے ہیں کھلے دل سے تسلیم کریں گے؟ کیا وہ آئندہ بھی اس قسم کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کریں گے؟ کیا مندرجہ بالا تمام لوگ ٹی وی ٹاک شوز میں عوامی عدالتوں کے ان فیصلوں کے حق میں دلائل دیں گے؟ میں سمجھتا ہوں کہ ہرگز نہیں۔ کیونکہ میاں صاحب اور ان کی ٹیم نے یہ ثابت کردیا ہے کہ انہیں قانونی عدالتوں کی طرح عوامی عدالت کا فیصلہ بھی قبول نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جوتا پڑنے کے بعد نواز شریف صاحب کے حامیوں نے جوتا مارے والے شخص کی خوب درگت بنائی۔ یہاں تک کہ وہ بے ہوش ہوگیا۔

قارئین کرام کو یاد ہوگا کہ میاں صاحب کو نشانہ بنانے سے پہلے ان کے دو اہم ترین ساتھی وزیر خارجہ خواجہ آصف اور وزیر داخلہ احسن اقبال بھی ’’عوامی عدالت‘‘ کے فیصلوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس قسم کے واقعات مستقبل میں بھی خارج ازامکان نہیں۔ کیونکہ عدم برداشت اور قانون سے کھلواڑ کرنے کے جس راستے پرملک کا سینئر سیاست دان اپنے ہم خیالوں کے ساتھ چل پڑے ہیں، اس کے کچھ نہ کچھ اثرات عام آدمی پر بھی پڑرہے ہیں۔ ایسے میں سیاسی قیادت کے پاس دو ہی راستے بچے ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ میاں صاحب کے لگائے گئے تماشے سے نہ صرف خود محظوظ بلکہ کبھی کبھار قانون کا مزاق اڑانے میں ان ساتھ بھی دیتا رہے۔ اس راستے پر چلتے ہوئے ملک میں انتشار بڑھے گی اور ہر بندہ سر بازار خود کو ہر قسم کا فیصلہ کرنے میں آزاد تصور کرے گا۔ البتہ اس سے سیاست دانوں کو سیاست چمکانے کا موقع ہر لحے میسر ہوگا۔ دوسرا راستہ قانون و انصاف کے ساتھ کھڑا ہونے کا ہے۔ اس راستے پر چلتے ہوئے ملک ترقی کی جانب گامزن ہوگا، ملک سے انتشار و خلفشار کا خاتمہ ہوگا، امن و انصاف کا بول بالا ہوگا۔ البتہ اپنی کرتوتوں کے باعث بعض اہل سیاست کے گرد گھیرا تنگ بھی ہوسکتا ہے’’ اہل سیاست کے علاوہ کئی دیگر لوگ بھی اس میں شامل ہیں‘‘ لیکن یہ بات بہر حال یقینی ہے کہ ملک صیحیح معنوں میں اسلامی فلاحی پاکستان بن سکے گا۔ اب یہ اہل سیاست پر منحصر ہیں کہ وہ کس راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saeed ullah Saeed

Read More Articles by Saeed ullah Saeed: 109 Articles with 70638 views »
سعیداللہ سعید کا تعلق ضلع بٹگرام کے گاوں سکرگاہ بالا سے ہے۔ موصوف اردو کالم نگار ہے اور پشتو میں شاعری بھی کرتے ہیں۔ مختلف قومی اخبارات اور نیوز ویب س.. View More
19 Mar, 2018 Views: 308

Comments

آپ کی رائے