بے قراری سی بے قراری ہے (قسط نمبر ١٥)

(گوہر شہوار, Karachi)
بے قراری سی بے قراری ایک سماجی رومانوی و روحانی ناول ہے جس کی کہانی بنیادی طور پر دو کرداروں کے ارد گرد گھومتی ہے۔ عبیر جو ایک فیشن ڈیزائنر ہے اور اسلامی فیشن میں کچھ نیا کرنا چاہتی ہے۔ تیمور درانی جو ایک ملحد ہے جس کے خیال میں محبت اور زندگی بے معنی ہے۔

چچا کے بنگلے میں داخل ہوتے ہی میری نظر لان میں بیٹھی ایک لڑکی پر پڑی۔ اس نے ایک لوز ٹراؤزر اور ٹی شرٹ پہنی تھی۔ وہ اپنے پیروں کے ناخنوں پر نیل پالش لگا رہی تھی۔ اس کو پہلی نظر میں دیکھ کر ہی احساس ہوا کہ میں نے آج تک اس سے زیادہ خوبصورت لڑکی نہیں دیکھی۔ مجھ جیسے گاؤں سے آئے نوجوان سے کے لیے یہ لڑکی کسی حور سے کم نہیں تھی۔ اس کا گورا رنگ نین نقش اتنے منفرد تھے کہ میں کچھ دیر تک دیکھتا ہی رہ گیا۔ وہ دور بیٹھی بالکل ایک "ایرانی بلی" لگتی۔
بعد میں معلوم ہوا کہ وہ واقعی ایرانی بلی جیسی ہے۔ جو معصوم اداؤں سے دل موہ لیتی ہے پھر گھات لگا کر بے دردی سے شکار کرتی ہے۔ اس کا نام عنبر تھا۔ وہ چچا کی سوتیلی بیٹی اور چچی کی پہلی اولاد تھی۔ چچی کو میرا گھر آنا بالکل اچھا نہ لگا۔ انھوں نے بہت کوشش کی کہ میں اس گھر میں نہ رہوں پر چچا کے غصے کے سامنے انھیں ہار ماننا پڑی۔ دادا نے مرتے وقت انھیں وصیت کی کہ اب تیمور کی دیکھ بال تمھارے ذمہ ہے۔ چچا کو برا تو لگا ہو گا، لیکن باپ کی آخری خواہش کو رد کرنا مناسب نہ سمجھا۔ دادا نے اسی لیے خاندانی حویلی اور زمینیں ان کے نام لگا دی تھیں۔ انھوں نے اپنی بہنوں کا حصہ بھی ہڑپ کر لیا۔
مجھے چچا کا گھر اجنبی اجنبی محسوس ہوا۔ یہاں پہلے دن سے ہی میری حیثیت ایک کم تر انسان جیسی تھی۔ چچی مجھے بالکل بھی قبول نہ کر سکیں۔ اسی لیے مجھ سے دور دور رہتیں۔ ان کی لگائی گئی شکایتوں کی وجہ سے آئے دن چچا میری پٹائی لگاتے۔ مجھے مدرسہ کے علاوہ کبھی پٹائی کا تجربہ نہیں تھا۔ چچا کو معلوم نہیں کیوں بہت غصہ آتا۔ یہ غصہ صرف چیخنے چلانے سے کم نہ ہوتا۔ وہ مارنا شروع کرتے تو ان کی آنکھوں میں عجیب سی لذت نظر آنا شروع ہو جاتی۔
مار کھانے کے بعد میں خاموشی سے اپنے کمرے میں بیٹھ کر روتا رہتا۔ مجھے ماں یاد آتی۔ ایک ایسی تنہائی کا احساس ہوتا کہ دم گھٹنے لگتا۔ اس گھر میں سب ہی میرے دشمن تھے۔ چچا کی بیٹی عنبر مجھ سے چار سال بڑی تھی۔ وہ بھی مجھ سے اپنی نفرت کے اظہار کو کوئی موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دیتی۔ چچی اور عنبر کو یوں لگتا جیسے کوئی شودر ان کے گھر میں گھس کر ان کے گھر کو ناپاک کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
میں نے کئی بار سوچا بھاگ جاؤں، مگر ہمت نہ پڑتی۔
میرا کمرہ سب سے الگ اور گھر کی پچھلی طرف تھا جہاں کوئی نہ آتا جاتا۔ اس گھر میں کوئی کتابیں نہ پڑھتا۔ پھر بھی پر مہینے ڈھیروں نئی کتابیں خریدی جاتیں، یا تحفے میں آتیں۔ یہ کتابیں صرف لوگوں کو دکھانے کے لیے ہوتیں۔ امیر گھرانوں میں ایسے شوق بھی ہوتے ہیں۔ مجھے پورے گھر میں صرف اسی جگہ سکون ملتا۔ میں چپکے سے جا کر اپنی پسند کی کتابیں لے آتا۔ شروع شروع میں نوکروں نے میری شکایتیں لگائیں۔ ان کا خیال تھا میں کتابیں چوری کر کے بیچتا ہوں۔
ایک دن چچا غصے سے میرے کمرے میں آئے اور مجھے کتاب پڑھتا دیکھا۔ ان کا غصہ تھوڑا ٹھنڈا ہوا۔
کہنے لگے، تو بھی اپنے باپ اور دادا پر گیا ہے جنھیں ان فضول کتابوں میں دلچسپی محسوس ہوتی تھی۔ تم کتابیں پڑھنے والے اصل زندگی سے فرار حاصل کر کے سمجھتے ہو، تمھیں زندگی کے بارے میں بہت پتا ہے۔
تو آج سے ہر ہفتے میرے ساتھ جیل جایا کرے گا تاکہ تجھے اندازہ ہو سکے، اصل زندگی کیا ہے اور انسان کیا ہوتے ہیں۔
مجھے یقین تھا تو کبھی کتابوں کو نہیں بیچ سکتا۔ تجھے جو کتاب چاہیے ہو لے لیا کر۔ ہاں پڑھنے کے بعد وہیں رکھ دینا۔
اس دن کے بعد مجھے لائبریری میں بیٹھ کر پڑھنے کی اجازت مل گئی۔
میں کتابیں پڑھنے کے علاوہ اس گھر کی دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتا۔ چچا ایک سرکاری ملازم ہونے کے باوجود کروڑوں کماتے۔ چچی ان کے پیسے کو خرچ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتیں۔ ہر وقت شاپنگ اور سوشل گیدرنگز میں مصروف رہتیں۔
آئے دن گھر میں پارٹیاں ہوتیں، جن میں شہر کی سیاسی و سماجی شخصیات مدعو ہوتیں۔ یہ دولت کی نمائش اور گوسپ کا موقع ہوتا۔ جس میں دیکھا جاتا: کس نے پلاسٹک سرجری کروا ئی ہے، کس نے ویٹ لوز کیا ہے، اور کون ینگ لگ رہی ہے۔
50 سال کی عورتیں بھی ایسا لباس پہنتیں کہ بیس سالہ لڑکی شرما جائے۔ یہ ڈسکس کیا جاتا کہ: کون ہوٹ ہے اور کون ہٹ جا رہا ہے۔ کون سی فلم اچھی ہے۔ کس عورت کا کس سے چکر چل رہا ہے۔ کون کس سے شادی کرنے جا رہا ہے۔
مردوں کی باتیں بھی گوسپ ہی ہوتیں۔ مگر ان میں بزنس اور پالیٹکس زیادہ ہوتی۔ عورت ہو یا مرد ہر کوئی طاقت ور اور مشہور شخصیات کے آگے پیچھے ہی گھومنے کی کوشش کرتا۔ یہ پارٹیاں تعلقات بنانے اور لوگوں سے کام نکلوانے کا ایک اچھا ذریعہ ہوتیں۔
مجھے ان پارٹیوں میں شامل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ اس بات کا ڈر تھا، کہیں میں اپنے پینڈو پن سے ان کا امیج خراب نہ کر دوں۔ میں نوکروں کی طرح ان پارٹیوں اور لوگوں کو دلچسپی سے دیکھتا۔ ویسے تو کبھی کسی نے مجھے نوٹ نہیں کیا۔ اگر کر بھی لیتا تو یہی سمجھتا: کوئی نوکر ہے۔
رات گئے تک یہ پارٹیاں چلتیں۔ گلاسوں میں بچی ہوئی ڈرنکس کو نوکر پیتے۔ بچا ہواکھانا نوکر کھاتے اور گھروں کو لے جاتے۔ میں حیرت سے ان ساری کاروائیوں کو دیکھتا اور ان کی سینس پیدا کرنے کی کوشش کرتا۔
یہ سارے لوگ، اتنی دولت، اتنی خوبصورتی، اتنا کھانا اور اتنی شراب اور اتنی باتیں کس لیے ہیں۔ مجھے کچھ سمجھ نہ آتی۔ یہ دنیا بھی الف لیلا کی طرح انوکھی تھی۔ ہر بات کا ظاہری مطلب کچھ اور ہوتا اور حقیقی مطلب کچھ اور۔ مسکراہٹ کے پیچھے طنز ہوتا اور سنجیدگی کے پیچھے بیوقوفی۔ کسی کی سخت ترین بات کو بھی ہنس کر سہا جاتا اور کسی کی خوشامد پر بھی غصہ دکھایا جاتا۔
کیونکہ یہ محفلیں چچی کی جانب سے دی جاتیں اسی لیے وہ ہی محفل کی جان ہوتیں۔ چچا ان پارٹیوں میں کسی نہ کسی اہم سیاسی و سماجی شخصیت کی خوشامد کرتے نظر آتے۔ یقیناً ان پارٹیوں سے انھیں کافی فائدہ ہوتا ہو گا اسی لیے تو اتنے پیسے خرچ کرتے تھے۔
ینگ لڑکے لڑکیاں ان پارٹیز میں کم ہی آتے۔ اسی لیے عنبر ان پارٹیز سے بور ہو جاتی۔ چچی اسے پارٹیز میں لوگوں سے سوشلائز کرنے کا کہتیں۔ پر وہ جلد بور ہو کر چلی جاتی۔ اسے اپنے ہم عمر لوگوں کے ساتھ ہینگ آوٹ کا شوق تھا۔ ان لڑکے لڑکیوں کی مجھے تو سمجھ نہ آتی۔ یہ لوگ صرف انگریزی میں بات کرتے۔ فارن برینڈ سے کم کی کوئی چیز نہ تو پسند کرتے اور نہ ہی استعمال کرتے۔ یہ اس ملک کی ہر چیز کو پرایا سمجھتے ہوئے باہر زندگی گزارنے کی خواہش ظاہر کرتے۔
ان کی شاپنگ اور ہولی ڈیز دبئی، فرانس اور سوئزرلینڈ میں ہوتے۔ مذہب اور اخلاقیات ان نوجوانوں کے لیے اجنبی چیزیں تھیں۔ یہ لوگ چھپے کھلے وہ سب کرتے جو حرام اور برا ہے۔ پتا نہیں کیوں عنبر کو ان لڑکی نما لڑکوں کے ساتھ دیکھ کر مجھے اچھا نہ لگتا۔ میں اپنے جذبات کو اس وقت کوئی نام نہ دے سکا۔
مجھے اس گھر میں آئے کافی مہینے ہو گئے۔ اس دوران میری اور عنبر کی گفتگو کبھی نہیں ہوئی۔ البتہ جب بھی میں اسے دکھائی دیتا، وہ حقارت کی ایک نگاہ مجھ پر ضرور ڈالتی۔ ہمیشہ طنزیہ انداز سے کوئی نہ کوئی جملہ ضرور کستی۔ ہمیشہ مجھے پینڈو کہہ کر ہی پکارتی۔ یہ بات میرے دل میں کھب جاتی۔ پر جس دن وہ مجھ پر حقارت کی نگاہ ڈالے بغیر گزر جاتی، مجھے ہلکی سی خلش بھی محسوس ہوتی۔ جیسے اس نے مجھے حقارت کے قابل بھی نہیں سمجھا۔
وہ مجھ سے جتنی نفرت کرتی اتنا ہی میرا دل اس کی جانب کھنچتا چلا گیا۔ میں چھپ چھپ کر اس کو دیکھنے کی کوشش کرتا۔ جب وہ گھر میں نہ ہوتی تو بیچینی سے اس کا انتظار کرتا۔ میں جان بوجھ کر اس کے سامنے آنے کی کوشش کرتا تاکہ وہ مجھے نوٹس تو کرے۔
وہ مجھ سے پانچ سال بڑی تھی لیکن مجھے اس بات کی کوئی فکر نہیں تھی۔ مجھے نہیں معلوم یہ محبت تھی کہ نہیں، پر میں نے ایسے جذبات کبھی کسی کے بارے نہیں محسوس کیے۔ وہ سامنے آتی تو میرے دل کی دھڑکن خود بخود تیز ہو جاتی۔ اس کے چہرے کو دیکھنے کے علاوہ کسی بات کا ہوش نہیں رہتا۔ اس کی بے پرواہی میرے جذبات پر پڑول چھڑک دیتی۔
وہ اپنے تمام دوستوں میں سب سے زیادہ پراؤڈی اور نخرے والی تھی۔ اسے ہر وقت توجہ کا مرکز بننا پسند تھا۔ اگر کوئی اسے توجہ نہ دیتا تو شدید ناراض ہو جاتی۔ اپنے دوستوں پر بھی یوں رعب جھاڑتی جیسے وہ اس کے ماتحت ہوں۔ یہ بات شاید اس نے چچا اور چچی سے سیکھی تھی۔ اپنی سہیلیوں کو ذلیل کر کے بہت انجوائے کرتی۔
ان سب برائیوں کے باوجود میں دن بدن اس کا دیوانہ ہوتا گیا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
ہر صبح ڈرائیور مجھے سکول چھوڑ کر آتا۔ یہ سکول شہر کے بڑے پرائیویٹ سکولوں میں سے ایک تھا۔ یہاں میرے پرانے سکول جیسے مار پیٹ اور سختیک کے کوئی آثار نہ تھے۔ سٹوڈنٹ ٹیچر سے زیادہ پاور فیل تھا۔ تقریباً سارے سٹوڈنٹس ہی بڑے گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ٹیچر اپنی نوکری اور عزت بچانے کے لیے دبے دبے سے رہتے۔ ویسے بھی ان سٹوڈنس کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کتنے نمبروں سے پاس ہوتے ہیں۔ ان کے ماں باپ نے ان کے پیدا ہوتے ہی ان کے لیے نوکریاں اور کاروبار بنا رکھے تھے۔
یہاں آ کر مجھے احساس ہوا کہ انسان کی اوقات بھی خوشبو کی طرح خاموشی سے پھیل جاتی ہے۔ آپ کو اعلان کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ آپ کا بیک گراؤنڈ آپ کے چہرے پر لکھا ہوتا ہے۔ دیکھنے والا ایک ہی نظر میں سمجھ جاتا ہے: آپ کتنے پانی میں ہیں۔
لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ میں ایک یتیم لڑکا ہوں۔ جس کی کفالت اس کا چچا کر رہا ہے۔ ان کے نزدیک میری کوئی حیثیت نہیں تھی۔ زیادہ سے زیادہ خیرات کی تعلیم سے کوئی اچھی نوکری کر لوں گا اور بس۔
سکول کے کئی سال میرا کوئی دوست نہ بن سکا۔ میں خاموشی سے جاتا اور خاموشی سے واپس آ جاتا۔ مجھے سکول میں نمبر لینے بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ بس پاسنگ مارکس لیتا۔ میں نے گاڑی پر آنا جانا بھی چھوڑ دیا اور پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنا شروع کر دی۔ ویسے بھی گاڑی پر آنے سے کونسا میری شان میں اضافہ ہوتا۔
میرے اندر کا خلا اب بڑھ گیا۔ اس کے ساتھ کڑواہٹ بھی شامل ہو گئی۔ لوگ جو نفرت اور حقارت مجھے دیتے، میرے اندر جمع ہو جاتی۔ میں سامنے سامنے مؤدب بنا رہتا۔ پر میرے دل سے لوگوں کا عزت و احترام ختم ہو گیا۔ میری کوئی حیثیت نہیں تھی۔ نہ ہی میں کسی کو فائدہ یا نقصان پہنچا سکتا تھا۔ اسی لیے لوگ میرے سامنے کوئی منافقت نہ دکھاتے۔ ان کا اصل چہرہ میرے سامنے عیاں ہوتا۔ ان کی حقارت اور طنز میں کوئی منافقت نہ ہوتی۔ مجھے بھی لوگوں کے ظاہری چہروں سے زیادہ لوگوں کے اصلی چہروں میں دلچسپی تھی۔
میں سکول میں بھی لوگوں کی باتوں اور حرکتوں سے ان کی شخصیت کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتا۔ میں پہچاننے کی کوشش کرتا کہ کون مسکین، چالاک، منافق، بہادر، اور لیڈر ہے۔ انھی دنوں میں مجھے نفسیات کی کتابوں میں دلچسپی ہوئی۔ میں نے انسانی شخصیت کے متعلق کئی کتابیں پڑھیں۔ مجھے کارل ینگ کی کتابیں بہت اچھی لگیں۔
میں نے اپنی سمجھ کے لیے لوگوں کی شخصیت کے بارے میں ایک تھیوری بنائی۔ اس کے مطابق ہر شخص کے اندر کسی نہ کسی ایک جانور کی خصوصیت مضبوط ہوتی ہے۔ جیسے کچھ لوگ شیروں جیسے ہوتے ہیں، کچھ گیدڑ ہوتے ہیں، کچھ الو ہوتے ہیں تو کچھ بندر۔ میری یہ تھیوری میری حد تک تو کام کر رہی تھی۔ میں اپنے خیالات میں لوگوں کو اسی پیمانے پر جج کرتا۔ اب یہ میرا بچپنا تھا یا کچھ اور آہستہ آہستہ مجھے اس میں مزا آنے لگا۔ مذاق مذاق میں شروع کیا گیا یہ کام مستقلاً میری عادت بن گیا۔ اب میں لوگوں کو ان کے اندر کے جانور سے ہی پہچانتا ہوں۔
کسی کے اندر کا جانور مجھے سمجھ نہ آئے تو کنفیوژن ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ یہی کنفیوژن مجھے تمھارے کے اند رکے جانور کے بارے میں بھی ہے۔
سوال یہ ہے: کیا مجھے اپنے اندر کے جانور کے بارے میں بھی پتا ہے؟
ہاں مجھے وقت کے ساتھ اندازہ ہونا شروع ہوا کہ میں اندر سے بھیڑیا ہوں۔ ایک اداس بھیڑیا جسے باندھ دیا گیا ہے۔ وہ بھیڑیا جس نے ابھی اپنا آپ نہیں پہچانا۔ عنبر کے اندر مجھے ایک بے رحم بلی نظر آتی۔ جو اپنی قاتل اداؤں سے شکار کرتی ہے۔ میرے چچا کے اندر ایک مردار کھانے والا گنجا گدھ تھا۔ جو ہر وقت اس انتظار میں رہتا، کوئی شکار کرے اور وہ اس کو ہڑپ کرجائیں۔
یہ آگہی کوئی روحانی یا سفلی نہیں تھی۔ کیونکہ میرا ماننا ہے کہ ایسی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ میں نے چھوٹی عمر میں ہی ادب، سائنس، فلسفہ اور تاریخ کی کتابیں پڑھنا شروع کر دیں جن کی وجہ سے میری سوچ میں وقت سے پہلے ہی پختگی آ گئی۔ میں ہر بات کو سائنسی اور لاجیکل انداز سے دیکھتا۔
مذہبی لوگوں سے میرا دل پہلے ہی اٹھ چکا تھا۔ رہی سہی کسر سائنس اور فلسفہ نے پوری کر دی۔ میں اب دنیا کو مذہبی آنکھ سی نہیں سائنسی آنکھ سے دیکھنے لگا۔ میرے اندر ہر طرح کی توہمات ختم ہو گئیں۔ اب کسی غیر مرئی چیز کا خوف محسوس نہ ہوتا۔
عنبر کا خیال میرے حواس پر دھیرے دھیرے یوں چھایا کہ میں خود کو بے بس محسوس کرنے لگا۔ اس کا چہرہ، اس کی خوشبو اور اس کی آواز ہی میری بیچینی کا علاج بن گئی۔ میں چاہتا کہ اس کے بارے میں نہ سوچوں۔ پر خود پر قابو نہ رہتا۔
وہ تو میرے وجود کو کسی ذرے سے زیادہ اہمیت نہ دیتی۔ اپنے نام نہاد دوستوں کی محفل سجا کر بیٹھی رہتی۔ میں اس کے کمرے کے باہر سے اس کی آواز سن کر تھوڑی تسلی محسوس کرتا۔ کبھی کبھی میں چھپ چھپ کر اس کے کمرے میں جھانکتا کہ وہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ انھیں سگریٹ پینے فلمیں دیکھنے، وڈیو گیمز کھیلنے اور باتیں کرتے سے فرصت ہی نہ ملتی۔ ان ساری محفلوں کی جان عنبر ہی ہوتی۔ اس کی پسند اور رائے حتمی ہوتی جس پر بحث نہ ہوپاتی۔ اگر کوئی بحث کرتا بھی تو وہ اتنی چالاکی سے اپنی بات منوالیتی کہ ماننے والا بھی حیران پریشان رہ جاتا۔
عنبر ایک بلی کی طرح ہر نئی چیز سے دلچسپی لیتی، پھر بہت جلد اس سے بور ہو جاتی، اسے خوش رہنے کے لیے ہر وقت کوئی نہ کوئی نئی سرگرمی چاہیے ہوتی۔ اس کی طبیعت کی بے چینی اس سے ایسی ایسی چیزوں کی خریداری کروا تی جو اس کے کسی کام کی نہ ہوتیں۔ وہ انھیں کچھ دن کے بعد کوڑ کباڑ میں پھینک دیتی۔ اس کے پاس الماریوں کے حساب سے کپڑے، جوتے، میک اپ اور دوسری الا بلا چیزیں پڑی تھیں۔ ایک سوٹ وہ پہن لیتی تو دوسری بار اس کی باری پورا سال نہ آتی۔ پھر بھی وہ ہر وقت میچنگ کپڑوں، بیگز اور جوتوں کی کمی کا رونا روتی۔ اس کی مما اور پاپا اسے پیسوں کے معاملے میں کبھی نہ ٹوکتے۔ ان کے پاس بھی تو پیسہ بوریوں میں بھر کر آتا تھا۔
چچا کی شادی کو پندرہ سال سے زیادہ ہو گیا لیکن ان کی کوئی اولاد نہ ہوئی، کئی ڈاکٹروں کو دکھایا۔ پھر بھی مسئلہ کی نشاندہی نہ ہو سکی۔ چچا کا رویہ عنبر کے ساتھ کہیں سے بھی سوتیلوں جیسا نہ تھا۔ وہ اس کی ہر خواہش کی تکمیل کرتے ہوئے کبھی ماتھے پر شکن نہ لاتے۔ شاید وہ اسے ہی اپنی اولاد سمجھنا شروع ہو گئے تھے۔ شاید انھیں کبھی افسوس ہوتا ہو کہ ان کی نسل کبھی آگے نہ بڑھ سکے گی۔ مجھے کبھی کبھی لگتا کہ میری کفالت کی ذمہ داری چچا نے اس لیے بھی لی تھی کہ میں دادا کا اکلوتا پوتا ہوں۔ اگر وہ ایک سوتیلی بیٹی کی پرورش کر سکتے ہیں تو اپنے سگے بھتیجے کی کیوں نہیں؟ جب کبھی ان کا موڈ اچھا ہوتا تو خود کلامی کے سے انداز میں باتیں کرتے۔ مجھے زندگی کی تلخیوں کے بارے میں بتاتے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جیل کی دنیا بھی نرالی ہے۔ یہاں بھی انسان اپنے اوپر کا خول اتار دیتا ہے۔ قید ہونے والے انسانوں کے درجے سے نیچے چلے جاتے ہیں اور قید کرنے والے انسانوں کے درجے سے اوپر۔ باہر کے ماحول کی سب پہچانیں ختم ہو جاتی ہیں۔ یہاں آ کر معلوم ہوا کہ چچا سارا وقت جیل میں کیوں بتاتے ہیں۔ جیل میں وہ ایک ناخدا ہوتے جو لوگوں کی تقدیر کا فیصلہ کرتا ہے۔ ان کے گناہوں کی سزا انھیں دیتے، ان کی التجائیں سن کر انھیں معاف کر دیتے۔ جس کا جرم ناقابل معافی ہوتا اسے پھانسی چڑھا دیتے۔ چچا نے پتا نہیں کیا سوچ کر مجھے ہر چھٹی کے دن اپنے ساتھ جیل لے جانا شروع کر دیا۔ انھیں کسی اجازت کی ضرورت نہیں تھی۔ میں سارا دن جیل میں بتاتا۔ میں بھی خود کو ایک قیدی محسوس کرنے لگتا جو ایک چھوٹی قید سے نکل کر ایک بڑی قید میں آ گیا ہے۔
"یہ دنیا بھی تو ایک جیل ہے اور زندگی ایک سزا"
قیدیوں کو جب ٹارچر کیا جاتا تو ٹارچر کرنے والا اتنے سکون سے مار رہا ہوتا جیسے کسی انسان کو نہیں کسی پتھر کو مارہا ہے۔ قیدیوں کی چیخیں دل دہلا دیتیں، پر ٹارچر کرنے والوں پر کوئی اثر نہ ہوتا۔ لوگوں کی ہڈیاں ٹوٹ جاتیں، وہ بیہوش ہو جاتے، کئی تو مر بھی جاتے۔ کسی کے ماتھے پر شکن نہ آتی اور روٹین کا کام کہہ کر سائیڈ پر کر دیا جاتا۔ ٹارچر کرنے والا بڑے اطمینان سے اپنے گھر جاتا جیسے وہ کسی انسان کو نہیں کسی چیونٹی کو مار کر گھر جا رہا ہے۔
یہاں آ کر حقیقی معنوں میں معلوم ہوا انسان کتنا بے وقعت ہے۔ اس کی خوشی، اس کا غم اور اس کی تکلیف کتنی بے معنی سے ہے۔ یہ صرف ہماری خوش فہمی ہے کہ انسان کی کوئی حیثیت ہے۔
جس دن کسی کو پھانسی دینا ہوتی۔ چچا مجھے رات کو بھی روک لیتے۔ کچھ قیدی بہت اطمینان سے پھانسی گھاٹ پر آتے اور خاموشی سے جان دیتے۔ اکثر قیدیوں کا خوف سے برا حال ہو جاتا۔ ان کے بال سفید ہو جاتے، صحت بالکل ڈاؤن ہو جاتی، وہ گڑگڑاتے اور التجائیں کرتے آتے، کئی بیہوش ہو جاتے اور انھیں اسی حالت میں پھانسی دینا پڑتی۔ اگر جان جلدی نہ نکلتی تو نیچے سے ٹانگیں کھینچی جاتیں سب کے جسم کچھ دیر تڑپتے اور پھر ساکن ہو جاتے۔
یہاں بھی انسان رائیگاں ہی نظر آیا۔ ایک دن میں بھی تو ایسے ہی مارا جاؤں گا پھر کیا ہو گا؟
اس چیز کا کیا معنی ہے کہ میں زندگی میں کیا کرتا ہوں۔ جبکہ میں نے اتفاق سے مر جانا ہے۔
قیدیوں پر تشدد دیکھ کر مجھے مدرسہ کے بچے یاد آتے۔ اپنے اوپر ہونے والا تشدد یاد آتا۔ یہ گھروں، مدرسوں، اور جیلوں میں تشدد کیوں ہے۔ شاید اکثر انسان کسی نہ کسی صورت میں تشدد کو انجوائے کرتے ہیں۔ گھر میں عنبر کو بھی اپنی پالتو بلیوں پر تشدد کر کے مزہ آتا۔ وہ مہنگی سے مہنگی بلی خریدتی اسے کچھ دن بہت لاڈ پیار سے رکھتی جب اس کا دل اکتا جاتا تو اسے قید میں ڈال دیتی۔ انھیں بھوکا رکھتی، چھڑیوں سے مارتی اور بلیوں کی بے بسی دیکھ کر خوش ہوتی۔ مجھے یہ بہت برا لگتا اور میں نے ایک دو بار اسے منع کرنے کی کوشش کی تو الٹا میری شامت آ گئی کہ میری اوقات کیا ہے ایسی بات کرنے کی۔
وہ صرف جانوروں پر ہی نہیں، انسانوں پر بھی ایسا ہی تشدد کر دیتی۔ کئی بار اس نے اپنی سہیلیوں کے منہ ناخن سے نوچ لیے۔ کئی لڑکوں پر وزنی چیزیں اٹھا کر پھینکیں۔ لوگوں کی تکلیف دیکھ کر اس کے چہرے پر عجیب سی لذت نظر آتی جس کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہوتا۔
ایک بار میں اس کے کمرے کے پاس سے گزرا، دروازہ ہلکا سے کھلا ہونے کی وجہ سے اندر کا منظر دکھائی دیا۔
میں چونک گیا!
اندر بیڈ پر ایک لڑکا الٹا لیٹا تھا۔ اس کے ہاتھ پیر بیڈ کے کونوں سے بندھے تھے۔ اس کا منہ کپڑا ڈال کر بند کیا گیا تھا۔ بیڈ کے ساتھ عنبر ہاتھ میں چمڑے کا کوڑا لیے اس لڑکے کو مار رہی تھی۔ اس کے مارنے میں اتنی شدت تھی کہ اس لڑکے کی کمر پر نشان بن جاتے۔ وہ لڑکا چیخنے چلانے اور چھڑوانے کی کوشش کرتا۔
اس کیبے بسی دیکھ کر عنبر ہنس دیتی جیسے اس منظر کو خوب انجوائے کر رہی ہو۔
مجھے تو سمجھ ہی نہ آئی کہ یہ سب کیا، اور کیوں ہو رہا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد عنبر نے اس لڑکے کو کھول دیا اور وہ روتا ہوا اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اور پتا نہیں کس جرم کی معافی مانگنے لگا۔ عنبر نے بھی سخاوت دکھاتے ہوئے اسے معاف کر دیا۔
کافی دنوں تک میں اس واقعہ کے بارے میں سوچتا رہا۔ نہ جانے کیوں مجھے عنبر کا یہ روپ بھی اچھا لگنے لگا۔
ایک دن خواب میں دیکھا، وہ مجھے بھی باندھ کر مار رہی ہے۔ لیکن مجھے تکلیف کے بجائے سکون مل رہا ہے۔ ساتھ ساتھ وہ میری بے عزتی بھی کر رہی ہے۔ وہ جتنا میری بے عزتی کرتی اور مارتی مجھے مزید سکون ملتا۔
مجھے اس بات کی سمجھ نہ آئی۔ میں خواب سے بیدار ہونے پر حیران پریشان بیٹھا رہا۔ کہیں یہ میرے ذہن کا ڈرامہ تو نہیں۔
مجھ اس بات میں کوئی شبہ نہ رہا کہ مجھے عنبر سے شدید محبت ہو گئی ہے۔ پہلی محبت ویسے بھی شدید ہوتی ہے۔ میں کسی نہ کسی طرح اسے دیکھنا اور اس کے پاس رہنا چاہتا تھا۔ مجھے ہر لڑکی میں اسی کا چہرہ نظر آتا۔ میں اپنی محبت کے اظہار کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا: یوں لوگوں پر تشدد کرنا عنبر کی ہابی ہے۔ وہ لوگوں سے شرطین لگاتی اور ہارنے کی صورت میں انھیں باندھ کر مارتی ہے۔ اپنی اس تشدد پسند فطرت میں وہ اپنے ماں کے بجائے اپنے سوتیلے باپ پر گئی تھی۔ چچا کو بھی قیدیوں کو یوں سسکتا دیکھنا اچھا لگتا۔ دونوں کو ہی شدید نفسیاتی مسائل تھے۔
قسمت کی ستم ظریفی کہ عنبر کی بلی جیسی فطرت کو بوریت میں کچھ خیال آیا اور وہ بغیر بتائے میرے کمرے میں گھس آئی۔ وہاں وہ پتا نہیں کیا کیا دیکھتی رہی۔ اسی دوران اسے سرہانے کے نیچے سے میری ڈائری بھی مل گئی جس میں میں کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا۔ یہ ڈائری ایک خود کلامی تھی۔
عنبر کے ہاتھ تو جیسے خزانہ لگ گیا۔ اس نے ساری ڈائری پڑھ ڈالی۔ میں شام کو اپنے کمرے میں آیا، تو اسے وہاں بیٹھا دیکھ کر ٹھٹک گیا۔ اتنے سالوں میں وہ کبھی میرے کمرے میں نہیں آئی۔
وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
یوں اچانک اس کا آنا اور میرے ہی بیڈ پر بیٹھ کر میری ڈائری پڑھنا مجھے خواب سا لگا۔
اس کے چہرے ہر ایک شیطانی مسکراہٹ ابھری۔ جیسے کوئی بلی چوہے کو اپنے جال میں پھنستا دیکھتی ہے۔ میں نے اسے کہنا چاہا کہ وہ میرے کمرے میں کیا کر رہی ہے۔ اس نے بغیر اجازت میری ڈائری کیوں پڑھ رہی ہے؟لیکن الفاظ میرے میرے گلے میں پھنس گئے۔
میں اس سیچوئیشن میں بھی چاہتا تھا، وہ کچھ دیر مزید میرے کمرے میں رہے۔ وہ وہ بڑی ادا سے چلتی ہوئی میرے قریب آئی اور میرا طواف کرنے لگی۔ اس کی آنکھوں میں مستقبل میں ہونے والے واقعات کا خاکہ تھا۔
تو پینڈو! تم دل ہی دل میں مجھ سے محبت کرتے ہو۔ مجھے چھپ چھپ کر دیکھنے میں تمھیں مزہ آتا ہے۔ اس کی آواز میں ہلکا یلکا سرور محسوس ہوا۔
مجھے شدید شرمندگی ہونا شروع ہوئی۔ جیسے مجھے کوئی جرم کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ہو۔
میں تمھیں ایک ایرانی بلی کی طرح لگتی ہوں، دیٹس انٹرسٹنگ۔
میں جتنا ظلم کرتی ہوں اتنا ہی تمھارے دل میں میری طلب بڑھتی ہے۔ واؤ
تم خواب میں مجھے تشدد کرتا دیکھ کر سکون محسوس کرتے ہو۔ آہ ہا
وہ راز کھولتی گئی اور میں زمین میں دھنستا چلا گیا۔
تم پینڈو لوگ بھی کیسی کیسی تمنائیں پالتے ہو۔
آؤ میں پاپا کو بتاتی ہوں کہ آپ نے تو گھر میں سانپ پالا ہوا ہے جو آپ کو ہی ڈسنے کا سوچتا ہے۔ اس نے تھوڑے ڈرامائی انداز میں کہا۔
وہ صورتحال ہی ایسی تھی، میں ڈر گیا۔ ڈر اس بات کا نہیں تھا کہ چچا مجھے ماریں گے۔ ڈر صرف اس بات کا تھا کہ وہ گھر سے نکال دیں گے۔۔
میں فوراً اس کے پیر پڑ گیا کہ وہ ایسا نہ کرے۔ چچا مجھے جان سے ہی مار ڈالیں گے۔ میں نے ڈائری میں یہ سب باتیں صرف لکھی ہیں انھیں کبھی کیا تو نہیں ہے۔
تم جو کہوں گی میں کروں گا۔
اس نے چہرے ہر ایک شیطانی مسکراہٹ آئی جیسے اس کا منصوبہ کامیاب ہو گیا۔
ویسے دل تو نہیں کرتا، تم جیسے پینڈو کو گھر سے نکالنے کا اتنا سنہری موقع ہاتھ سے کھودوں۔
پر اب تم اتنی منت کر رہے ہو تو کچھ رحم کرنا ہی پڑے گا۔
آج سے تم چپ چاپ وہ کرو گے جو میں تم سے کہوں گی۔ اگر تم نے کوئی چالاکی دکھانے کی کوشش کی تو وہ اس گھر میں تمھارا آخری دن ہو گا۔ یہ کہہ کر وہ ڈائری ہاتھ میں لے کر کمرے سے جانے لگی۔
مجھے لگا میں کسی شکنجے میں پھنس گیا ہوں۔ میں اس دن کو کوسنے لگا جس دن میں نے ڈائری لکھنا شروع کی۔ کم از کم ڈائری تو چھپا کر رکھنی چاہیے تھی۔ مگر میرے تو فرشتوں کو بھی خبر نہیں تھی، کہ عنبر یوں میرے کمرے میں آدھمکے گی۔
میں مستقبل کے بارے میں سوچ سوچ کر پریشان ہونے لگا۔ دل میں یہ بھی خیال آتا، چلو اسی بہانے اس کے قریب رہنے، اسے دیکھنے، اس کی خوشبو محسوس کرنے، اور اس کی آواز سننے کا تو موقع ملے گا۔
اس کی محبت نہ سہی اس کا ستم تو ہو گا۔ محبت کی لاجک بھی عجیب ہے، یہاں ستم بھی کرم کی طرح محسوس ہوتا ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔
چمڑے کا کوڑا جیسے ہی میری کمر پر پڑتادرد کی ایک شدید لہر اٹھتی۔ اس کی شدت کافی دیر تک رہتی، پہلے ایک دو کوڑوں تک تو میں نے تکلیف برداشت کرنے کی کوشش کی۔ پھر میری برداشت جواب دے گئی۔ میں نے چیخنا چاہا لیکن منہ میں کپڑا ٹھنسا ہوا ہونے کی وجہ سے میری آواز منہ میں ہی گھٹ کر رہ گئی۔ درد تھا کہ کم ہی نہ ہوتا۔ میری آنکھوں کے سامنے بچوں اور قیدیوں پر تشدد کے سارے واقعات گھومنے لگے۔
وہ کیا محسوس کرتے ہوں گے مجھے بھی محسوس ہونے لگا۔ بے بسی کی وہ شدت پہلے کبھی محسوس نہ ہوئی۔ حد یہ کہ اس ظلم کی کہیں التجا بھی نہ کر سکتا۔
عنبر کو اپنی من پسند ہابی کے لیے ایک غلام مل گیا جسے مارنے کے لیے اسے کسی اجازت کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ عمل اس کا کیتھارسس بن گیا۔ اس کی ٹینشنز کا علاج۔ وہ مجھے مارتے ہوئے عجیب سی لذت محسوس کرتی۔ ساتھ ساتھ میری تذلیل بھی کرتی۔ وہ چاہتی کہ میں اس سے معافی مانگوں، اپنا سر اس کے قدموں میں رکھ دوں۔
میری انا کے لیے یہ امتحان بہت کٹھن تھا۔ مجھے معلام ہوا: فینٹسی اور حقیقت میں کتنا فرق ہے۔ میں اس کے سامنے سر نہیں جھکانا چاہتا تھا۔ پر تکلیف انسان سے وہ بھی کروا لیتی ہے جس کا وہ سوچتا بھی نہیں ہے۔ ہر تشدد کے بعد ایک ہفتہ جلد ہر جلن ہوتی رہتی۔ وہ بھی اتنی ایکسپرٹ تھی کہ صرف اتنا ہی مارتی کہ تکلیف ہو مگر زخم نہ ہو۔
اس ساری تکلیف کے باوجود اس کا قرب قیامت سا لگتا۔ اس کی آنکھوں کا غصہ دیکھنے، اس کے حقارت بھرے جملے سننے کا بہت لطف آتا۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس کے خوبصورت ہاتھوں سے دی گئی تکلیف بھی مجھے اچھی لگتی تو غلط نہ ہو گا۔ ہر چوٹ پر اس کی محبت کی شدت بڑھتی جاتی۔ سنا تھا کہ اردو شاعری کا محبوب بہت ظالم ہستی ہوتا ہے جو بیچارے عاشق کو اپنی نظروں کے تیروں سے گھائل کرتا ہے، اسے اپنی زلفوں کے پھندوں میں پھنسا کر رکھتا ہے اس کا دل اپنے قبضے میں کر کے بھول جاتا ہے۔ محبوب کے ستم سے جان جاتی ہے لیکن یہی ستم ہی زندگی بن جاتا ہے۔
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
وہ جانتی تھی، میں اس پہ دل و جان سے فدا ہوں۔ اسی لیے وہ مجھے تڑپانے میں بھی مزہ لیتی۔ اپنے کسی بوائے فرینڈ کو بلاتی اور مجھ دکھا دکھا کر اس سے محبت کی باتیں کرتی۔ میرے دل پہ چھریاں چلتیں۔ میں چاہ کر بھی کچھ نہ کر پاتا۔ کبھی کبھی وہ مجھے اپنا چہرہ نہ دکھاتی۔ نہ ہی اپنی آواز سننے دیتی۔ میں التجائیں کرتا کہ پلیز اپنا چہرہ تو نہ چھپاؤ۔
مجھے ایسی پیاس محسوس ہوتی جیسے میں کسی صحرا میں ہوں۔ یہ سوچ میری بے بسی میں اضافہ کرتی کہ میں اسے کبھی حاصل نہیں کرپاؤں گا۔
پھر عنبر کی زندگی میں بھی بھونچال آ گیا۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: گوہر شہوار

Read More Articles by گوہر شہوار: 23 Articles with 14961 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Mar, 2018 Views: 580

Comments

آپ کی رائے