میری پیاری امی

(Alina Ali, )

مجھے ہمیشہ اپنی امی سے یہ شکایت رہی کہ وہ مجھ سے زیادہ بھائی سے پیار کرتیں ہیں. امی کے ساتھ سونے کی بات آئی تو دونوں کی ضد میں جیت بھائی کی ہوئی. کھانا کھلانے کی باری آتی تو پھر سے وہی ضد،اور جیت پھر بھائی کی. تب میں ناراض ہوتی تو اماں مجھے ہمیشہ یہی کہتیں تھیں, "بیٹیاں ضد نہیں کرتی ہوتی وہ بات مانتی اچھی لگتی ہیں"اس وقت میں سوچتی تھی کبھی اچھی بیٹی نہیں بنوں گی،بات نہیں مانوں گی،بہت ضد اور بد تمیزی کروں گی... اور ایسا ہی ہوا میں وقت کے ساتھ بہت خودسر،ضدی،ڈھیٹ ہو گئی تھی کسی کی نہیں سنتی....اماں میرے لیے بہت پریشان ہوتیں اور کہتیں تھیں "اس لڑکی میں پارہ بھرا ہے نچلا بیٹھنا اسے آتا ہی نہیں پتا نہیں زندگی میں کیسے چلے گی" وہ گھر میں لڑکیوں کو قرآن پاک پڑھایا کرتیں تھیں میں ان سے کہتی اپ کیوں پڑھاتی ہیں؟یہ لوگ اپنی اماں کے پاس کیوں نہیں پڑھتیں؟ تو کہتیں! "میں ان کو پڑھاتی ہوں یہ میرے لیے صدقہ جاریہ بن جائیں گی" میں نے کبھی نہیں سوچا کہ صدقہ جاریہ کیا ہوتا ہے؟مسجد سے کسی کے فوت ہو جانے کا اعلان سنتیں تو فورا کام چھوڑ چھاڑ قرآن پاک لے کر بیٹھ جاتیں میں پوچھتی اپکو کیا پتہ کون فوت ہوا ہے؟اور فوت ہونے والے کو کیا پتہ آپ کون ہیں؟ تو کہتیں " الله کو تو پتہ ہے نہ پھر جب میں کسی کو ایصال ثواب کروں گی تو ہی تو کوئی مجھے بھی کرے گا" مجھے انکی باتوں کی کبھی سمجھ نہیں آئی انہوں نے کبھی اپنے حق میں کچھ نہیں بولا میں ان سے کہتی تھی جواب کیوں نہیں دیتیں آپ لوگوں کو؟؟ اور وہ بہت تحمل سے کہتیں "جاہلوں کی باتوں کا بہترین جواب خاموشی ہے" تب میں بس یہ سوچتی رہتی کہ "خموشی میں جواب کہاں ہوتا ہے" یہ انکا معمول رہا ہر مہینہ کے شروع میں چاول بنا کر محلے کے بچوں کو کھلاتیں تھیں اس پر بھی میرا انسے جھگڑا ہوتا تھا کہ اتنے بچوں کو گھر بولا لیتیں ہیں ہنگامہ مچ جاتا ہے انکے گھروں میں بھجوا دیا کریں نہ.... تو بہت پیار سے کہتیں "یہ گناہوں سے پاک ہوتے ہیں الله کے باغ کے پھول،اس لیےنانہیں کھلاتی ہوں" وہ ایسی ہی تھیں کبھی کسی سے شکایت نہیں کی،ہر تکلیف خاموشی اور صبر سے برداشت کر لیتیں تھیں اور پھر وہ بیمار ہو گیں معلوم پڑا انھیں کینسر ہے لاسٹ اسٹیج...........اماں بہت کمزور ہو گئیں تھیں انکو کھلانا،پلانا،پٹی کرنا،کپڑے بدلنا سب کام کر کے جب ایک دن فارغ ہوئی تو انکو دیکھا انکی آنکھوں میں آنسو تھے میں نے پوچھا کیا ہوا؟ تو کہتی ہیں "شکر ادا کر رہی ہوں رب کا،،کہ بیٹی دی نہ ہوتی تو کون سمبھلتا مجھے" مجھے لگا میری ساری بچپن کی شکایتیں ختم ہو گئی ہوں اماں کو محبت تھی مجھ سے... یہ محبت ہی تو تھی کہ رات بھائی کو لے کر سوتیتھیں پر صبح وہ میرے پاس سے اٹھتین...یہ بھی تو محبت ہی تھی نہ کہ بھائی کو پہلے کھانا کھلانے کے بعد وہ پلیٹ اٹھاے میرے پیچھے پیچھے پھرتیں،نخرے اٹھاتیں میرے... جب ابا کہتے "علینا سے کام کروا لیا کرو تھک جاتی ہو اب" تو کہتیں " نہیں میری بیٹی کے ہاتھ خراب ہو جایں گے" یہ بھی تو محبت ہی تھی نہ.....اور پھر وہ چلی گئیں ہمیشہ کے لیے...) انہیں سب سے زیادہ میری فکر تھی کہتیں تھیں."مجھے نچلا بیٹھنا نہیں آتا میں پتہ نہیں کیسے چلوں گی لوگوں کے ساتھ"وہ سہی کہتیں تھیں پر "اب وہ پارہ ختم،اب میں ہر کسی کی سن لیتی ہوں،نچلا بیٹھنا سیکھ لیا ہے میں نے اب میں لوگوں کو جواب نہیں دیتی سمجھ گئی خاموشی بہترین جواب ہے" آپکے جانے کے بعد کوئی تبدیلی نہیں آئی مجھ میں... میں جیسے پہلے ہنستی تھی اب بھی ویسے ہی ہنستی ہوں...
بس اتنا ہوا ہے "پہلے میں ہنستی تھی کیوں کے میں خوش تھی.اب میں ہنستی ہوں کہ لوگ سمجھیں میں کتنی خوش ہوں" ."پہلے میں روتی تھی آپ مجھے اپنی گود میں لے لیتیں تھیں.اب میں روتی ہوں تو میں تکیہ میں منہ چھپاتی ہوں" "پہلے جب اسکول سے گھر آتی تھی آپ مجھے دروازے پے ملتی تھیں،اب دروازہ بند ملتا ہے،،،پہلے آپ پانی کھانا دیتیں تھیں اب میں خود بناتی ہوں،اب آپ کی بیٹی کے ہاتھ بھی خراب نہیں ہوتے،اب سردی میں کپڑے دھو کے نکلنے پر کوئی میرے لیے چاۓ بنا کے نہیں رکھتا،کوئی مجھے زبردستی انڈا بوائل کر کے نہیں کھلاتا کوئی نہیں کہتا "ٹھنڈ ہے سن لے ماں کی بات کھا لے بیمار پڑ جاۓ گی "
"کوئی نہیں دودھ کا گلاس لیے میرے پیچھے
پھرتا،کوئی نہیں کہتا ایسے دودھ نہیں پینا تو جام شیریں ڈال کے لا دیتی ہوں"
بس کچھ بھی تو نہیں بدلہ آپکے بعد کچھ بھی نہیں....سانس ویسے ہی چلتی ہے
کھانا،پینا سب ویسا ہے ہنسنا،بولنا بھی ویسا ہی ہے....
اور آپکی نند کہتی ہیں "اس کڑی نوں کوئی دکھ نہیں ماں دا" آپکو پتہ ہے نہ مجھے کتنا برا لگتا تھا کوئی مجھ پے ترس کھائے.
مجھے اب بھی برا لگتا ہے اس لیے کسی کے سامنے نہیں روتی میں...کسی کی فضول باتوں کا جواب بھی نہیں دیتی...اپ نے کہا تھا نہ"جاہلوں کی باتوں کا بہترین جواب خاموشی ہے"اب میں یہی کرتی ہوں "بس خاموش رہتی ہوں. "

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Alina Ali

Read More Articles by Alina Ali: 3 Articles with 1369 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Mar, 2018 Views: 806

Comments

آپ کی رائے
علینہ رلا دیا آپ نے. میں پچھلے سترہ سال سے کینیڈا میں ہوں.چودہ سال تک معاشی مسائل کے باعث میں پاکستان نہیں آسکی. مگر میری امی ہمیشہ اپنی شدید بیماری کے باوجود میرا حوصلہ بنی رہیں. آپ کی والدہ ایک نیک اور جنتی خاتون تھیں. مجھے آپ کی کہانی سے لگا کہ شاید ساری مائیں ایک سی ہوتی ہیں.خوش رہو بچے.
By: Mona Shehzad, Calgary on Apr, 17 2018
Reply Reply
1 Like
Alina Ali:
ap ki tahreer ne mere ankhain nam kar de......haqiqat hay maa jesa khayal dunia main koi nahi rakh sakta ...maa maa hoti hay.. maa ka koi naemul badal nhi .......bus etena kahonga jen ki bhi walida zinda hain un ki bohat bohat khedmat kijiya ..un ka bohat khayal rakheay ..bap ka bhi bohat bohat khayal rakheay .q kay bap wo chat hay jo ager jae sar per se to pher dhoop garmi har dukh sedha khud per ata ha...bap hota hay to ye sub taklifain olad se phele bap apny uper le leta ha....maa bap jesi koi or naemat nhi is dunia main ..ALLAH pak har maa bap ko lambi umar sehat o tandurusti or khair o afiyat wali lambi zindagi ata farma ameen suma ameen ....
By: shohaib haneef , karachi on Mar, 28 2018
Reply Reply
2 Like