پانی کا عالمی دن

(Prof Masood Akhtar Hazarvi, )

پانی وہ انمول نعمت اور انسانی ضرورت ہے کہ جس کے بغیر زندگی کا تصور بھی محال ہے۔ کرہ ارض پر مشرق و مغرب اور شمال سے جنوب تک رنگ بکھیرتی زندگی، زراعت، صنعت اور معیشت کے تمام شعبہ جات ’’پانی‘‘ کے ہی مرہون منت ہیں۔1993 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی طرف سے ہر سال ’’پانی کا عالمی دن ‘‘ منانے کا فیصلہ کیا گیا اور پوری دنیا میں یہ دن22مارچ کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کیلئے ہر سال ایک نئے موضوع کا تعین بھی کیا جاتا ہے۔ 2018کے’’ عالمی یوم آب‘‘ کے لئے موضوع ''پانی کے مسئلے کا قدرتی حل'' ہے۔The theme for World Water Day 2018 is 'Nature for Water' - exploring nature-based solutions to the water challenges we face in the 21st century اس مہم کاآغاز اس لئے کیا گیا تھا کہ لوگوں میں پانی کی افادیت کے متعلق آگاہی پیدا کرکے اس کے ضیاع سے بچا جا سکے۔ا س کے ساتھ ہی اس دن ان لوگوں کو بھی یاد کیا جائے جن کو پینے کا صاف پانی اور اسکی نکاسی کی مناسب سہولیات میسر نہیں ہیں۔اس دن پانی کی قلت سے پیدا ہونے والے مسائل کے حل کیلئے کیے جانے والے اقدامات کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے۔ ماہرین نے پانی کو نیلے سونے سے موسوم کیاہے اور یہ پیش گوئی کی ہے کہ مستقبل میں جنگوں کی بنیادی وجہ یہی پانی بنے گا۔دیکھا جائے توپانی انسان کے لئے رب کریم کا قیمتی عطیہ ہے۔ زندگی کی بقاء کے لیے آکسیجن کے بعدانسان کی سب سے اہم ضرورت پانی ہی ہے۔انسانی طبیعات کے ماہرین کی تحقیق کے مطابق انسانی جسم میں دو تہائی مقدار پانی ہے۔ زمین کی ہر مخلوق بشمول درختوں، اناج اور پودوں کے لئے بھی پانی کی اشد ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں تعمیرات کا سلسلہ اورصنعتوں کا وجود بھی پانی کے بغیر ممکن نہیں۔ہر انسان جانتا ہے کہ زندگی کی بقاء پانی پر منحصر ہے لیکن اس کے باوجود یہ افسوسناک صورت حال دیکھنے میں آتی ہے کہ دنیا بھرمیں پانی ضائع اور گدلا کیا جارہا ہے جس سے دنیا بھر میں صاف پانی کی قلت کا مسئلہ پیدا ہو رہا ہے۔پانی کی کمی کے مسئلے پر ایسی ہی ایک رپورٹ میں اقوام متحدہ کا سروے کہتا ہے’’ترقی یافتہ ممالک میں روزانہ جتنا پانی واش رومز میں فلش کیا جاتا ہے، اِس سے تیسری دنیا کاہر شخص پینے کے پانی‘ کھانا پکانے اور کپڑے دھونے کی اپنی ضروریات پوری کرسکتا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہم پر پانی کی اہمیت کو سمجھنے اور اس کے مناسب استعمال کی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں کیونکہ قرآن کریم میں فرمایا گیاکہ ’’ہم نے آسمان سے پانی برسایا اور اس سے ہر جان دار کو زندہ کیا‘‘۔ قرآنی تعلیمات کے مطابق روئے زمین پر سلسلہ حیات کا آغاز پانی سے ہی کیاگیا۔ ارشاد ربانی ہے ٍ ’’اور ہم نے ہر جاندار پانی سے ہی پیدا کیا‘‘۔ اسی طرح قرآن مجید میں اسے رحمت سے تعبیر کرتے ہوئے فرمایا’’ اور وہی (خدا ہے) جو اپنی رحمت (بارش) سے پہلے خوشخبری دینے کے لئے ہوائیں بھیجتا ہے (الفرقان)۔ قرآن و حدیث میں پانی کے اسراف کو سختی سے منع کیا گیا ہے۔چونکہ پانی اﷲ کی عظیم نعمت ہے اور نعمتوں کے حوالے سے قدرت کا عمومی ضابطہ یہ ہے کہ ان کی ناقدری اور اسراف نہ کیا جائے۔ قرآن میں صاف فرمایا‘ کھاؤپیو اور اسراف نہ کرو۔ (آل عمران) کچھ اسلامی عبادات کیلئے طہارت شرط ہے جو وضوء یا غسل سے حاصل ہوتی ہے اوراس طہارت کیلئے بھی ضرورت سے زیادہ پانی استعمال کرنے سے منع کیاگیا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا ’’ اگر تم بہتی نہر پر بھی وضو بناؤ تو پانی میں اسراف نہ کرو‘‘۔ ایک صحابیؓ وضو کے دوران پانی زیادہ استعمال کررہے تھے۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسراف کیوں کررہے ہو؟ انہوں نے عرض کی یارسول اﷲ کیا پانی میں بھی اسراف ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا’’ ہاں پانی کو بھی ضرورت سے زیادہ استعمال کی اجازت نہیں‘‘۔ ایک طرف نبی کریم ﷺ کی یہ ہدایات ہیں تو دوسری طرف ہمارا طرز عمل یہ ہے کہ ہم گھروں اور مسجدوں میں بلا ضرورت اور بے دریغ پانی استعمال کرتے ہیں۔ مرد گھروں یامساجد کی ٹوٹیاں پوری طرح کھول کے مزیے لے لے کروضوء کرتے ہیں۔ غسل کیلئے تو بعض اوقات بات سینکڑوں لیٹر پانی تک پہنچ جاتی ہے۔ عورتیں کچن میں پانی کھول کر فون پر گپ شپ یا دیگر کاموں میں مشغول ہو جاتی ہیں۔ جب عبادت ہم اﷲ کے پیارے رسولﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کرتے ہیں تو پانی کا استعمال بھی اسی انداز میں کریں جو آپ ﷺ نے سکھایا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تیاری عبادت کی کر رہے ہوں اور آغاز ’’اسراف‘‘ جیسے گناہ سے ہو رہا ہو۔ وہ لوگ بھی خراج تحسین کے مستحق ہیں جو دنیا بھر میں پانی سے محروم لوگوں کیلئے فراہمی آب کا اہتمام کرتے ہیں۔تاریخ انسانی میں وہ حکمران اور سماجی کارکن ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھے گئے جنہوں نے مخلوق خدا کے لئے پانی کی سہولتیں فراہم کیں۔ زبیدہ خاتون کا نام اسلامی تاریخ میں آج بھی روشن ہے جس نے نہر کھدوائی تھی جسے’’ نہر زبیدہ ‘‘کہاجاتا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں ’’سات ارب‘‘ افراد موجود ہیں اوردوہزار پچاس تک یہ تعدا د’’ نوارب‘‘ ہوجانے کا امکان ہے۔ ایک طرف انسانی آبادی کے لئے پانی ناگزیر ہے تو دوسری جانب اس وقت عالمی سطح پر دنیا قلتِ آب کا شکار ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق اس وقت عالمی آبادی کا گیارہ فیصد یعنی 783 ملین افراد پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق آلودہ پانی کے استعمال کے باعث دنیا میں سالانہ پندرہ لاکھ سے زائد بچے ہلاک ہو جاتے ہیں جبکہ پاکستان میں بچوں کی ساٹھ فیصد اموات کی وجہ بھی آلودہ پانی ہے ۔پا نی کے بدترین بحران کے شکارممالک میں پہلے ٹاپ ٹین میں پاکستان کا ساتواں نمبر ہے،باقی ممالک میں بالترتیب صومالیہ،موریطانیہ،،سوڈان، نائیجریا،عراق، ازبکستان، ترکمانستان اور مصر شامل ہے۔ وطن عزیز کی صورت حال یہ ہے بھارت سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان آنے والے دریاؤں کا پانی روک کر آبی جارحیت کا مرتکب ہے۔ کشمیر میں بھارت نے متعدد نئے بند تعمیر کیے اور مسلسل کر رہا ہے۔ حکومت پاکستان نے اقوام متحدہ کی مدد سے بھارت کی معاہدے کی اس خلاف ورزی پر ضرور توجہ دی ہے لیکن پانی کے ذخیرے اور ڈیم بنانے کی طرف ضرورت کے مطابق توجہ نہیں دی جا رہی۔پاکستان زرعی، معدنی اور دیگر شاندار قدرتی خزانوں کے ساتھ ساتھ بہترین آبی وسائل سے بھی مالا مال ہے۔ اگر انہیں بروئے کار لایا جاتا تو پاکستان دنیا کا خوشحال ترین اور ترقی یافتہ ملک بن سکتا تھا مگر افسوس کہ حکمران طبقے کی لوٹ مار اور خود غرضی کی وجہ سے وطن عزیز آج بھی مختلف گھمبیرمسائل میں گھرا ہوا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Masood Akhtar Hazarvi

Read More Articles by Prof Masood Akhtar Hazarvi: 196 Articles with 122995 views »
Director of Al-Hira Educational and Cultural Centre Luton U.K., with many years’ experience as an Imam of Luton Central Mosque. Professor Hazarvi were.. View More
27 Mar, 2018 Views: 439

Comments

آپ کی رائے