کندھا نہیں ملتا !!

(Noman Baqi Siddiqi, Karachi)

دنیا میں بہت سی چیزیں آپ سے مانوس ہو کر آپ سے بات کرنا چاہتی ہیں مگر آپ کی توجہ نہیں ہوتی اُن کی طرف اور بہت سے قیمتی لمحات کو کھو دیا جاتا ہے

کبھی کبھی ہمیں ایسی اشیاء سے لگاؤ پیدا ہو جاتا ہے جو کافی عرصہ ہمارے زیرِ استعمال رہی ہوں اور لگتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور جُدا نہیں ہونا چاہتے

ایک مرتبہ اپنی گاڑی کسی مجبوری کی وجہ سے بیچنا تھی جو مجھے بہت پسند تھی تو تین مرتبہ سودا منسوخ ہوا
اس پر بروکر بولا
صاحب یہ آپ کو چھوڑنا نہیں چاہ رہی ہے
میں نے جواب دیا
میں کب چھوڑنا چاہ رہا ہوں

کچھ لوگ اپنے استعمال شدہ پرفیوم کی خالی شیشیاں جمع کرتے ہیں کچھ اپنے آرٹ کے شوق میں استعمال کے لیے اس قسم کی چیزیں گتّے کے ڈبّے وغیرہ جمع کر کے رکھتے ہیں
دیکھا جاۓ تو کوئ چیز فالتو نہیں ہوتی بس اُسے کام میں لانے کا فن آنا چاہیے
جن لوگوں کو ہم پسند نہیں کرتے وہ بھی بڑی خوبیوں کے مالک ہوتے ہیں اور جوہری صفت لوگ ان کو تراش کر بے کار سے کارآمد بنا دیتے ہیں
مجھے بھی اپنے کام میں ایسے تجربے ہوۓ کہ جن کو کوئ نہیں پوچھتا تھا جب اُن پر اعتماد کیا گیا اور تھوڑی سی عزت دی گئ تو وہ کام میں سب کو پیچھے چھوڑ گئے جو اُن کی اپنی محنت اور لگن تھی بس زرا سا سہارا اور حوصلہ چاہیے تھا یہاں تک کے اپنا کام بھی ساتھ میں شروع کیا اور کامیاب ہوۓ

جب دنیا کی مادّی اور عملی زندگی میں گردن گردن ڈوب کر چند فرصت کے دنوں میں اپنے باغ میں سہ پہر کے وقت داخل ہوا تو ایک ہُد ہُد بیتابی سے ٹہلتا دیکھا جو شائد کوئ خبر لے کر آیا تھا
اس کو دیکھ کر وہ ھُد ھُد یاد آنے لگا جو کبھی اُن کے بڑے دربار میں بڑی خبر لے کر آیا تھا جو ایک چیونٹی کی بات سُن کر مسکرا دیے تھے جو اپنی ساتھیوں کو اُن کے لشکر کی آمد سے ہوشیار کر رہی تھی

میں جب بھی دوپہر کے وقت باغ میں داخل ہوتا تھا تو ایک خاص قسم کی خاموشی کے ساتھ، ہوا کی آواز کے ساتھ پیڑوں کا جھومنا ، ایک الف لیلوی منظر پیش کرتا ، عمل تنویم hypnosis سے گزار دیتا۔
کوے کے برابر مگر لمبی اُٹھان والی ایک سیاہ رنگ کی چڑیا جو بس ایک ہی تھی اُس علاقے میں ، ایک خاص درخت کی خاص ٹہنی پر ایک خاص وقت تھوڑی دیر کو آکر بیٹھتی تھی اور پتّوں کے درمیان پھل کی مانند چُھپی بھی اور ظاہر بھی اُداس سی بیٹھی کسی سوچ میں گُم ہوتی اور مجھے دیکھ کر اُڑتی بھی نہیں تھی ۔نہ جانے وہ کیا کہنا چاہتی تھی لیکن جیسے ملاقات سے ہی اُس کی تسلی ہو جاتی اور پھر بِنا کچھ کہے اُڑ جاتی اور دوسرے دن پھر بیٹھی ہوتی ۔ کچھ عرصے بعد وہ نظر نہ آئ لیکن مجھے اُس کی عادت سی ہو گئ تھی اور شائد وہ میری سوچ کی سمت دُرست کرنے آئ تھی اور مایوس ہو کر کسی سمت ہمیشہ کے لیے اُڑ چُکی تھی اور زندگی کا کوئ موڑ مُڑ چُکی تھی۔

مجھے یاد ہے بچپن میں مُرغی کے چوزہ اور ایک کبوتر سے میری دوستی ہو گئ تھی اور میں جیسے ہی اُن کے قریب جاتا وہ دونوں میرے کندھے پر چڑھ کر بیٹھ جاتے
در اصل وہ اپنے کُنبے سے کسی وجہ سے الگ ہو گئے تھے اور وہ شائد اپنا غم ہلکا کر لیتے تھے اور انہیں ایک کندھا مل گیا تھا جس سے لگ کر اُنہیں سکون ملتا اور اپنی کہانی خاموشی کی زبان میں سناتے رہتے اور اپنے آپ کو مایوسی اور ڈپریشن سے محفوظ رکھتے اور مجھے مفت کی دوستی اور محبت کا احساس مل جاتا

بــرف کی سل بھی تو حـدت سے پگھل جاتی ہے
کیوں نہ اس شخص کو سینےسے لگایاجائے

اب تـو اس شـہر کے سناٹے سے ڈر لگتا ہے
اپنے انــدر ہی کـــوئی شـــہر بسایا جائے

ماہر نفسیات بھی کہ رہے ہیں کہ انسانوں کو ایک کندھا چاہیے ہے جس پر سر رکھ کر وہ رو سکیں اور ایسے کان جو اُن کی باتیں سُن سکیں اور دنیا میں بہت سی جگہوں پر یہ کمرشل بنیادوں پر ہو رہا ہے کہ گھنٹوں کے حساب سے بات سُنے کے پیسے لیے جاتے ہیں جو کام ہمارے یہاں خدمت خلق کے طور پر ہوتا آیا ہے اور آج بھی ہورہا ہے۔خدا کے خاص بندے لوگوں کو نہ صرف اپنی زندگی میں کندھا دیتے رہے بلکہ موت کے بعد بھی کندھا فراہم کر رہے ہیں اور اپنی موجودگی کسی کتاب کی صورت میں محسوس کراتے رہتے ہیں یا کوئ ادارہ یا بیٹھک یا مزار کی شکل میں
جس کی ایک مثال "ایدھی ٹرسٹ " اور ادیبوں کی وہ کتابیں جو آج تک پڑھی جارہی ہیں ، اقبال اور دیگر شعراء کی شاعری وغیرہ وغیرہ

کسی کو جب کندھے کی ضرورت ہوتی ہے اس وقت نہیں دیا جاتا بلکہ اسے کہیں کندھا مل بھی رہا ہوتا ہے تو اس سے چھین لیا جاتا ہے اور وہ کندھا کسی انسان کی صورت اور کبھی کسی چیز کے شوق کا کندھا جس میں مصروف ہو کر وہ سکون اور سہارا محسوس کرے اور جب انسان کو کسی کندھے کی ضرورت ہی نہیں رہتی تو بڑھ بڑھ کر اپنا کندھا پیش کیا جاتا ہے اور ہر آدمی کندھا دینے میں سبقت لے جاتے ہوۓ باری باری اپنا کندھا دے کر اُسے زمین میں دفنا کر مٹی سے ہاتھ جھاڑتا واپس آجاتا ہے

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Noman Baqi Siddiqi

Read More Articles by Noman Baqi Siddiqi: 231 Articles with 86412 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Apr, 2018 Views: 432

Comments

آپ کی رائے