سانحہ قندوز ،ننھے پھولوں کا جرم کیا تھا؟

(Rashid Sudais, )

ویسے تو اقوام عالم میں زمین کے ہرگوشے پر مسلمانوں کو دہشت کہہ کر قتل کیا جارہا ہے گزشتہ تین چار روز میں اسرائیل نے فلسطین میں 17بھارت نے کشمیرمیں20اورامریکہ نے افغانستان کے شہر قندوز میں جامعہ پر بمباری کرکے 200کے قریب بچوں اوراساتذہ کو موت کی نیند سلادیا اے ارباب اہل دانش کیا قندوز مدرسہ پر حملہ دنیا کے امن اور تعلیم پر حملہ نہیں ہے معصوم کلیاں جن کے لیے زندگی کے دروازے ہمیشہ کے لیے بندکردیے گئے کوئی بتاسکتا ہے ان کا قصور کیا تھا نہیں بتا سکتا ہے میں بتاسکتا ہوں وہ پیغمبر امن محمد عربی صلی اﷲ علیہ وسلم کے جامعہ کے طالب علم تھے یہ ہدایت کی کتاب قرآن مجید کے محافظ تھے یہ بچے اسلام کی تعلیمات اوراحادیث نبویہ کے حافظ تھے آہ افسوس صد افسوس کتنے خوبصورت پھولوں کو مسل دیا گیا تصویریں میرے سامنے پڑیں ہیں دستار پہنے یہ شہزادے کتنے آرامان سجائے بیٹھے ہوں گے گھروں میں کیسا سماں ہوگا ماؤں کی خوشی ددیال اورننھیال والے خوشی اورتشکر کی کیفیت کے لمحات کو یاد گار بنانے کے لیے پھولوں کے ہار بنوار ہے ہوں گے کہ بیٹا عبداﷲ گھر آئے گا استقبال کریں گے اسقبال کیوں نہ کریں اس سے بڑی سعادت اور کیا ہوسکتی ہے کہ اک باپ کا بیٹا قرآن کریم کا حافظ ہوجائے مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں نے قرآن کریم حفظ کیا تھا وہ لمحات میرے لیے کتنے پرکیف تھے والدین اورعزیز اقارب کی خوشیوں کے کیا کہنے ؟ خوشی سے آنسو تھمائے نہیں تھمتے تھے ایسے ہی لمحات قندوز اورگردنواح کے ننھے بچوں کے ہوں گے جنہوں نے قرآن کریم حفظ کیا اور متعدد نے 8سال تک احادیث کا علم حاصل کیا ذرا لمحہ بھر کے لیے ان آنکھوں اورچہروں پر تونظرڈالیے دولہے کی طرح کس طرح سج سنور کے بیٹھے ہیں چشم فلک بھی ان پر نازکررہا ہوگاحضرت عبداﷲبن عمرؓ نے سرور کونین صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کیا ہے کہ قیامت کے دن صاحب قرآن سے کہا جائے گا کہ قرآن شریف پڑھتا جا اور جنت کے درجوں پر چڑھتا جا، اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جیسا کہ تو دنیا میں پڑھا کرتا تھا بس تیرا آخری درجہ و مرتبہ وہی ہے جہاں آخری آیت پر تو پہنچے ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے فرمان کا خلاصہ ہے کہ حافظ قرآن اگر رات کو تلاوت کرے تو اس کی مثال اس توشہ دان کی ہے جس میں مشک بھرا ہوا ہو اور اس کی خوشبو تمام مکانوں میں مہکے اور جو رات کو سورہے اور قرآن اس کے سینے میں ہو تو اس کی مثال اس توشہ دان کی مانند ہے جس میں مشک ہے اور اس کا منہ باندھ دیاجائے ۔

اﷲ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے تحفیظ القرآن کی فضیلت واہمیت بیان کی ہے اور قرآن اور اہل اسلام کا اعجاز ہے کہ وہ کتاب مجید کو حفظ کرلیتے ہیں مگر دیگر مذاہب والے اپنی کتابوں کو حفظ نہیں کرسکتے نہ ہی کوئی دیکھا سکتاہے یہ فضل صرف اہل اسلام کے لیے ہے جو انہیں قرآن کی وجہ سے عطا ہوا ہے۔

امریکی فوجیوں کا عام شہریوں پر حملہ کرنا معمول بن چکا ہے 2016میں 33عام شہریوں سے جینے کا حق چھینا گیا 2015میں امریکی 130طیارے نے ایک ہسپتال کو نشانہ بنایا جس میں 30سے زائد افغانی ہلاک ہوئے مگر ان درندوں کے سر میں جوں تک نہیں رینگتی پوری دنیا میں امن کا نعرہ لگا کرلاکھوں مسلمانوں کو قاتل کرنے والاامریکہ اپنے سفاکیت سے باز نہیں آتا حفاظ کرام پر حملہ اسلامی آساس پر حملہ کرنے کے مترادف ہے یہی نہیں اس وحشت ناک عمل نے امریکہ کی سفاکیت اوراسلام دشمنی پالیسی کو واضح کردیا ہے جو اہل دانش پر پہلے بھی بالکل واضح تھی یہ حملہ تمام عالم اسلام کے مشاعر اوراحساسات پر حملہ ہے سطور بالا میں عرض کرچکا ہوں یہ پہلا واقعہ نہیں ایسے سینکڑوں واقعات ہیں اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 2017میں فضائی حملوں میں 667شہریوں کو ہلاک کیا گیا گزشتہ سال کی نسبت ایسے حملوں میں سات فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے دنیا کے متعدد تھنک ٹینک امریکہ کی افغانستا ن میں موجودگی پر سوالا ت اٹھا چکے ہیں خود سابق افغانی صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کی موجودگی دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لئے نہیں ہے بلکہ افغانستان میں واشنگٹن کی موجودگی اس کے علاقائی حریفوں کی وجہ سے ہے انھوں نے مزید کہا تھاکہ واشنگٹن نے افغانستان کو علاقے میں اپنے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لئے ہتھکنڈہ بنا رکھا ہے ۔ افغانستان میں مسلح مخالفین کے خلاف جنگ کے لئے اتنے زیادہ فوجی اڈوں کی ضرورت نہیں ہے افغانستان کے سابق صدرنے تاکید کے ساتھ کہا کہ امریکہ نے افغان عوام کو فریب دیا ہے مزید کہا کہ امریکہ نے افغانستان میں قیام امن کے لئے اس ملک پرلشکرکشی نہیں کی ہے بلکہ وہ بحران کو اپنے کنٹرول میں رکھتے ہوئے اپنے مذموم اہداف کو آگے بڑھانے کی کوشش کررہا ہے کہ جو افغانستان کو امریکہ کے فوجی اڈے میں تبدیل کرنے، وسطی ایشیا سے لے کرچین کی سرحدوں تک دہشتگردی اور انتہاپسندی پھیلانے اوراس ملک کے قدرتی ذخائر اور معدنیات کو لوٹنے سے عبارت ہے افغانستان کی ممتاز جغرافیائی پوزیشن کے پیش نظر امریکہ اس ملک کو علاقے میں من جملہ روس، چین کی جاسوسی کے لئے اپنااڈہ بنانے کی کوشش کررہا ہے اوراسی بنا پر نہ صرف یہ کہ امریکہ کے لئے افغان عوام کی جان پیاری نہیں ہے بلکہ وہ کوشش کررہا ہے کہ افغانستان کے بحران سے پاکستان پر دباؤ بڑھائے پے درپے نہتے شہریوں پر حملے حامد کرزئی کی فکر کی وضاحت دے رہے ہیں سوچنے کی بات ہے جو جنگ امریکہ افغانستان میں لڑرہا ہے وہی جنگ پاکستان اپنے وطن میں موجود دہشت گردوں کے خلاف لڑ کر جیت چکا ہے جبکہ پاکستان تنہا محدود وسائل کے ساتھ کامیاب ہوا ہے جبکہ وہی جنگ امریکہ اورنیٹو افغانستان میں نہیں جیت سکے وجہ سادہ سی ہے امریکہ کا مقصد خوشحال اورپرامن افغانستان قطعانہیں ہے امریکہ کا مقصد ہمسایا ممالک کوعدم استحکام سے دوچار کرنا ہے بین الاقوامی دنیا بالخصوص اسلامی ممالک کو اپناتشخص بحال کرنے کے لیے متعدد کام کرنے چاہییں جیسے عالمی اسلامی بینک کا قیام عمل میں لانا چاہیے مشترکہ مسلم نیٹو فورس کا قیام اوائی سی کو فعال اور منظم کرنا چاہیے اور ایسی اعلیٰ تربیت یافتہ تھنک ٹینک کا فورم تشکیل دینا چاہیے جو بین الاقوامی استعماری قوتوں کے ایجنڈوں سے درست اگاہی فراہم کرے اس سے بھی بڑھ کر مسلم ممالک کو ڈالر کے مقابلے میں مشترکہ کرنسی کا بھی اجرا کرنا چاہیے جس کے ذریعے مسلم ممالک باہمی تجارت کرسکیں ۔باہمی اعتماد اورتعاون اس قدر مثالی ہوکہ اگر کوئی امریکہ جیسا وحشی کسی ملک پر غیراعلانیہ جنگ مسلط کرتا ہے تواس کے خلاف متحدہوا جاسکے امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جاسکے مسلم حکمرانوں کو مل جل کر اہل اسلام کے تحفظ کے لیے انتھک محنت اوراتحادکی ضرورت ہے ورنہ امریکہ دہشت گردی کا بہانہ بنا کر یوں ہی نہتے مسلمانوں پر جنگ مسلط کرتارہے گااور بین الاقوامی دنیا کو بھی چاہیے کہ امریکہ پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرے تاکہ دنیا کودو بلاک میں تقسیم ہونے بچایا جاسکے تاریخ گواہ ہے کہ ظالم اورظلم کو کبھی دوام حاصل نہیں ہوا دونوں ہی اپنا انتہاکو پہنچنے سے پہلے پارہ پارہ ہوجاتے ہیں ۔وہ دن دور نہیں جب یہ سورج بھی ہمیشہ کے لیے ڈوب جائے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rashid Sudais

Read More Articles by Rashid Sudais: 56 Articles with 36649 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Apr, 2018 Views: 699

Comments

آپ کی رائے