"تیرے عشق نچایا کر تھیا تھیا "(دوسری قسط )

(Mona Shehzad, Calgary)

صبا کی آنکھیں برس پڑیں. اچانک اس کو ایسا محسوس ہوا کہ اس کے ماضی کی فلم اس کی آنکھوں کے سامنے چل پڑی ہو.

اس نے جب ہوش سنبھالا تو اس نے اپنے اردگرد تھرکتے پاؤں اور ناچتے جسم ہی دیکھے. اس کو ناچ گانے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی، مگر اس کی نانی ستارہ بیگم کا کہنا تھا کہ ناچ گانا تو اس کے کوٹھے پر موجود ہر بچی ،لڑکی کو سیکھنا لازم ہے. سات سال کی عمر میں جب اس کا ناک چھید کر اس کی ناک میں "نتھلی" ڈالی گئی ہے اور نانی نے بازار کی سب طوائفوں کی دعوت کی وھ تب بھی اس بات سے انجان تھی کہ درحقیقت اس کی آنے والی زندگی کیسی ہوگی. وہ بچپن سے زہین تھی اس کے ماں کے اصرار پر اس کی نانی نے اسے اور اس کی بڑی بہن کو کانوینٹ میں داخل کروادیا. گھر کے ایڈریس کے لئے ٹیوشن والے ماسٹر صاحب کا گھر کا ایڈریس استعمال کیا گیا. ان کو سختی سے ہدایت تھی کہ وہ نہ کسی دوست کو اپنے گھر بلایئنگی اور نہ کسی کے گھر جائینگی. جیسے جیسے اس نے شعور کی منزلیں علم کا ھاتھ تھام کر طے کرنی شروع کیں تو اس کو اندازہ ہوا کہ درحقیقت وہ کیچڑ میں کھلا ہوا ایک کنول ہے.کبھی کبھی اس کا دل کرتا کہ وہ اس گناہ کی دنیا سے کہیں دور بھاگ جائے مگر درحقیقت وہ ہر وقت پہریدار آنکھوں کی نگرانی میں تھی جن سے دور بھاگنا ممکن نہیں تھا. جب بھی کسی نئی لڑکی کا کوٹھے میں اضافہ ہوتا تو اس کی ایک دردناک داستان ہوتی. کبھی کوئی گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی کو اس کا نام نہاد عاشق چند دن کے استعمال کے بعد نانی کو بیچ جاتا، کبھی کسی کا نشئی باپ یا بھائی اس کو ان کے در پر چند نوٹوں کے عوض پھینک جاتا. ان لڑکیوں کو جسم فروشی اور ناچ گانے پر لگانے کے لئے جو حربے استعمال کئے جاتے وھ دیکھ کر دوسری لڑکیوں کی بھی بغاوت کی ہمت نہیں یوتی ان مظلوم روحوں کے جسم اس روانی سے ہر رات کئی کئی بار بکتے کہ دو سالوں کے اندر وھ اپنی عمر سے دگنی محسوس ہونے لگتیں .

صبا کی بڑی بہن فاعقہ ایک بہت ہی خوبصورت اور حساس لڑکی تھی. جیسے جیسے اس کی اٹھارویں سالگرہ قریب آرہی تھی. اس کی "نتھ اتروائی "کی رسم کی تیاریوں میں ماں اور نانی مصروف تھیں. فاعقہ کی تصاویر انٹرنیٹ پر خفیہ ویب سائٹس میں لوڈ کی جاچکی تھیں اور اس کی معصوم بہن کی بولی لگنی شروع ہوگئی تھی. فاعقہ کی خوف سے سفید پڑتی رنگت، پھیلی ہوئی آنکھیں اس کے علاوہ کسی کو نظر نہیں آرہی تھی. جس دن نانی نے یہ خوشخبری سنائی کہ ایک عربی شیخ کی بولی اس نے قبول کرلی ہے اور اگلے ہفتے فاعقہ کی نتھ اترائی کی رسم ہے.اسی رات فاعقہ نے اپنے ہاتھ کی نسیں کاٹ لیں. جب صبا اس کے کمرے میں داخل ہوئی تو وہ زندگی کے آخری سانس لے رہی تھی.
(باقی آئندہ )

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 175324 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
08 Apr, 2018 Views: 865

Comments

آپ کی رائے