بے قراری سی بے قراری ہے (قسط نمبر ٢٤)

(گوہر شہوار, Karachi)
بے قراری سی بے قراری ایک سماجی رومانوی و روحانی ناول ہے جس کی کہانی بنیادی طور پر دو کرداروں کے ارد گرد گھومتی ہے۔ عبیر جو ایک فیشن ڈیزائنر ہے اور اسلامی فیشن میں کچھ نیا کرنا چاہتی ہے۔ تیمور درانی جو ایک ملحد ہے جس کے خیال میں محبت اور زندگی بے معنی ہے۔

مجھے کافی عرصہ بعد اپنے کلینک میں دیکھ کر سائکیٹرسٹ اشفاق کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔
تیمور اس دن کے بعد جب تم نہیں آئے تو مجھے یقین ہو گیا، بابا جی سے ملاقات نے تمھارا ڈیپریشن کم کر دیا ہے۔
آج سناؤ کیسے آنا ہوا؟ کیا اندر کا خالی پن لوٹ آیا۔۔
آہ ! اشفاق صاحب آُپ کے بابا جی کی ایک بات پر مجبوری سے عمل شروع کیا تو تھوڑا بہت سکون ملا۔ یعنی مخلوق کی بے لوث خدمت۔
میں نے سوچا اپنی بے مقصد مصروفیات میں ایک یہ مصروفیت بھی سہی۔ میں نے غریب اور بے سہارا بچوں اور عورتوں کا ایک ادارہ بنایا جہاں جا کر تھوڑی سی خوشی ملتی ہے۔
باقی مسائل ویسے کے ویسے ہی ہیں۔ بابا جی کی بات ٹھیک نہیں ہوئی۔ میرا کفر لوٹنے والی لڑکی شاید ابھی پیدا نہی ہوئی۔
ناخدا ہی ملا نہ وصال صنم، نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے
رہے دل میں ہمارے یہ رنج و الم، نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے
میرے شعر پر اشفاق نے قہقہہ لگایا۔
ضرور ملے گی تیمور، تھوڑا صبر تو کرو۔ یہ اللہ والوں کی باتیں ایسی سیدھی نہیں ہوتیں۔ یہ کالے بادل کی طرح اوپر چلتی رہتی ہیں اور تب برستی ہیں جب ہمیں یقین ہی نہیں ہوتا۔
اشفاق صاحب یہ مذہب کا کاروبار انتظار پر ہی تو چل رہا ہے۔ اچھے زمانے کا انتظار، قیامت کا انتظار، حساب کتاب کا انتظار، جنت کا انتظار، اسم اعظم ملنے کا انتظار، مشاہدہ حق کا انتظار۔
یہ مذہبی پیشوا اور بابے پیسے لیتے ہوئے کبھی نہیں کہتے کہ اس کام میں بھی انتظار کیا جا سکتا ہے۔ یہ ہماری پوری زندگی انتظار ہی تو ہے۔ لیکن معلوم نہیں کس چیز ہے۔
میں نے اس بے مقصد انتظار کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
میری بات سن کر اشفاق کی آںکھوں میں سنجیدگی آ گئی۔ تیمور کیا تم مجھے اپنے خود کشی کے فیصلے سے آگاہ کر رہے ہو۔
اشفاق صاحب اب یہ باتیں بے معنی ہیں۔ میں آپ کے پاس اپنے سلسلے میں نہیں آیا۔
تیمور ! مجھے افسوس ہے میں تمھارے مسئلے کا حل نہیں کر سکا۔ میرا علم ابھی ناقص ہے۔ میری دوائیں تمھیں وقتی سکون تو دے سکتی ہیں مگر تمھارے مرض کے بارے میں میرا علم محدود ہے۔ سائکیٹری کا تعلق ہی مادے سے ہے اور مادے سے آگے کی باتوں کو یہ بغیر سنے ہی رد کر دیتی ہے۔
بہر حال میری گزارش ہے کہ کچھ بھی کرنے سے پہلے آخری بار بابا جی سے ضرور مل لینا، شاید ان کی دعا ان ہونی کو ہونی میں بدل دے۔
اس کے علاوہ بتاؤ میں تمھاری کیا خدمت کر سکتا ہوں؟
میں نے آپ کو آشیانہ کے بارے میں بتایا تھا۔ وہاں ایک بے گھر لڑکی آئی، جو ویسے تو نارمل ہے اور ایک پروفیشنل شیف بھی ہے۔ اس کے ماضی کے بارے میں اسے خود بھی نہیں معلوم۔ اس کو داخل کروا نے والے نے صرف اتنا بتایا کہ یہ لڑکی کچھ عرصہ مینٹل انسٹی ٹیوٹس میں رہی جہاں ٹریٹمنٹ کی وجہ سے اس کی یہ حالت ہو گئی۔ وہ بولتی بھی نہیں ہے، شاید صدمے کا اثر ہے یا کچھ اور۔ اسے کبھی کبھار دورے بھی پڑتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں آپ اس کا علاج کریں۔
انفیکٹ وہ ابھی باہر ہی بیٹھی ہے، آپ کہتے ہیں تو اسے اندر بھجوا دیتا ہوں۔
مہک کو اندر بھیج کر میں خود باہر بیٹھ گیا۔
پچھلے کچھ دنوں سے مہک کے دورے بڑھ گئے۔ وہ راتوں کو روتے ہوئے اٹھ بیٹھتی۔ پہلے تو مجھے خیال آیا اسے واپس ادارے میں بھجوا دوں کہ لبنی شمسی اس کیس کو خو ددیکھیں۔ پر مجھے اس لڑکی سے شدید ہمدردی ہو گئی۔ پتہ نہیں شاید میں آج کل ویسے ہی وہ نہیں رہا جو پہلے تھا۔ اب لوگوں کا دکھ دیکھ کر مجھے رحم آنے لگا ہے۔
کبھی اکیلے بیٹھے میرے آنکھوں سے آنسو بھی نکل پڑتے ہیں۔ بے چینی اور غم کی یہ کیفیت کئی کئی گھنٹے مجھ پر طاری رہتی ہے۔
اس لڑکی کا خوبصورت چہرہ اور ایسی حالت میرا دل چیر گئی۔ اس کے ساتھ ایسا کیا ہوا جو یہ اس حال تک پہنچ گئی۔ کیا اس کا کوئی بھی عزیز اقارب اس دنیا میں نہیں ہے۔
ہمارے ارد گرد پاگل بھی ایک مظلوم مخلوق ہیں۔ انھیں اچھوت سمجھ کر پاگل خانوں میں بند کر دیا جاتا ہے۔ جیسے ان کے پاگل پن سے معاشرے کو خطرہ ہے۔ زیادہ تر پاگل کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے۔
المیہ یہ ہے کہ انھیں پاگل نہیں کہا جاتا جو کوئی نہ کوئی مذہب یا نظریہ لوگوں پر زبردستی تھوپتے ہیں اور پھر اس کی خاطر لاکھوں کی جانیں لے لیتے ہیں۔ ان کو کوئی پاگل نہیں کہتا، ان کو ہیرو اور لیڈر کا مرتبہ دیا جاتا ہے۔ ان کی تصویریں ہر جگہ فخر سے لگائی جاتی ہیں۔ بے گناہوں کے خون کا حساب کوئی نہیں لیتا
کب نظر آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھنے دھلیں کے کتنی برساتوں کے بعد
فیض صاحب کی تو خواہش تھی کہ خون کے دھبے کسی برسات میں دھل جائیں مگر شاید۔ ظلم و ستم کا حساب اس دنیا میں ممکن نہیں ہے۔
فیض صاحب آپ نے تو چاہا تھا لیکن
خون کے دھبے نہیں دھلتے کسی برسات میں
اس لڑکی کو بھی اس کے گھر والے پاگل سمجھ کر چھوڑ گئے ہوں گے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میرا خود کشی کا پلان لیٹ ہی ہوتا گیا۔ اس کی وجہ مہک کا علاج تھا۔ اشفاق صاحب نے ابتدائی طور پر تشخیص کی کہ مہک کی یہ حالت مستقل نہیں ہے۔ اسے کوئی شدید صدمہ پہنچا تھا جس کی وجہ سے اس کے ذہن پر گہرا اثر پڑا۔ زیادہ مسئلہ الیکٹرک شاک ٹریٹمنٹ سے ہوا۔ ہمارے ہاں کے ڈاکٹر بھی اپنی جان چھڑوانے کے لیے ہر مریض کو بنا تشخیص کے الیکٹرک شاک ٹریٹمنٹ کروا دیتے ہیں۔ اس سے ذہن کے نیورونز جل جاتے ہیں اور کئی کیسسز میں تو ریکوری ممکن نہیں رہتی۔ مہک کے نیورونز پرماننٹ ڈیمج نہیں ہوئے۔ یہ ریگولر میڈیسن اور کونسلنگ سے ٹھیک ہو سکتی ہے۔ اس کے کے علاوہ اسے ایسا ماحول فراہم کیا جائے جہاں اسے محبت اور شفقت سے اس کا ماضی یاد دلایا جائے۔
اشفاق صاحب کی باتیں سن کر میں اس دن پر پچھتانے لگا جب میں نے لبنی شمسی سے شیف کی بات کی تھی۔ اب میں اس لڑکی کا کیا کروں۔ آشیانہ میں طرح طرح کی عورتوں میں اس کو ٹینشن فری ماحول مل بھی پائے گا یا نہیں۔ اب میں اسے گھر جیسا ماحول کیسے فراہم کروں۔ نوکروں پر بھی کام نہیں چھوڑا جا سکتا۔
مجھے شش و پنج میں دیکھ کر اشفاق صاحب مسکرائے۔ تیمور میں سمجھتا ہوں تم پریشان ہو اور اس لڑکی کو مصیبت سمجھ رہے ہو، جو تمھاری زندگی میں بلا وجہ گھس آئی ہے۔ تم چاہو تو اسے مینٹل ہاسپٹل میں داخل کروا دو۔
نہیں ایسی بات نہیں ہے۔ میں بس یہ سوچ رہا تھا کہ اگر اسے ایسی کئیر مل بھی جائے تو یہ کتنی دیر میں ٹھیک ہو جائے گی۔ میرا مطلب ہے اس کی یاداشت واپس آ جائے تو شاید یہ اپنے گھر والوں کے بارے میں بتا سکے۔
تیمور شفا تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس کی تمام رپورٹس دیکھ کر مجھے یقین ہے یہ بہت جلد ٹھیک ہو جائے گی۔ میں جانتا ہوں تم خدا کو نہیں مانتے۔ پر شاید اس معصوم کی خدمت کرنے سے ہی اللہ تم پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔
آہ ! پھر وہی خدا کا مسئلہ۔
تین ہزار سال ہو گئے یہ مسئلہ انسان کے سر پر سوار ہے۔ مشہور فلسفی نٹشے نے سوا صدی پہلے یہ اعلان کیا تھا
"خدا مرگیا ہے "
اب اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ واقعی خدا مرگیا ہے۔ اس کا مطلب تھا کہ وہ انسان مرگیا ہے جس میں خدا کو ماننے کی صلاحیت تھی۔ پرانے انسان کی راکھ سے ایک جدید انسان نکلا جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ خود خدا ہے۔
لیکن ستم زریفی یہ ہے کہ قدیم انسان کے مزار پر بھی یہی خدا کا سوال مجاور بنا بیٹھا ہے۔
مجبوراً مجھے ہی اس لڑکی کو ٹھیک کروا نا پڑے گا تاکہ میں سکون سے مر سکوں۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میرے ذاتی شوق پہلے ہی ختم ہو چکے، کچھ عرصہ سے میں نے اپنے بزنس معاملات کو بھی محدود کر لیا۔ اب میں کسی نئے بزنس کے بارے میں نہیں سوچ رہا۔ اپنی بیشترا تھارٹی میں نے بورڈ آف ڈائریکڑرز اور مینیجرز کو ٹرانسفر کر دی۔ اب میں سارا دن گھر پر ہی ہوتا۔
میڈیسن کے زیر اثر مہک پر کافی غنودگی طاری ہوتی۔ میں نے تمام ملازمین سے کہا کہ اسے سوتے میں کوئی نہ جگایا کرے۔ اور اسے کام کے لیے بھی مجبور نہ کیا جائے۔ جب وہ چاہے تو خود ہی کھانا بنائے۔
صبح کا ناشتہ ایک گھنٹے لیٹ بنا۔ مہک نے انتہائی شرمندگی سے میرے سامنے ناشتہ رکھا۔ اس کی آنکھوں سے غنودگی اب بھی واضح تھی۔
وہ۔۔ میں۔ آنکھ۔۔ ہی نہیں کھلی۔۔
اس کی آواز اتنی جانی پہچانی کیوں لگتی ہے۔۔ میں نے فوراً ہی اپنے خیالات کو جھٹکا۔ مجھے اپنے ذہن پر کوئی بھروسا نہیں رہا۔ ہر چہرے میں عبیر کا چہرہ ڈھونڈتا ہوں۔ ہر آواز پر اس کی آواز کا گمان ہوتا ہے۔
اٹس او کے۔ تمھاری طبیعت کیسے ہے؟
جی ٹھیک ہے۔۔ اس نے انتہائی آہستگی سے کہا۔ اس کی چادر اب بھی اس کا چہرہ ڈھانپ ہوئے تھی۔
آج سے تم میرے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاؤ گی۔
جی۔ یی ی۔ ۔ ۔ پر میں کیسے۔
اس نے حیرت سے کہا۔
ہاں آج سے تم نہ صرف میرے ساتھ کھانا کھاؤ گی بلکے میرے ساتھ واک پر بھی جایا کرو گی۔ تازہ ہوا ویسے بھی تمھاری صحت کے لیے بہتر ہے۔
پر وہ گھر کے کام۔
کام ہوتے رہیں گے۔ ویسے بھی یہاں کونسا اتنے کام ہوتے ہیں۔ باقی لوگ ہیں نہ یہ سب کرنے کے لیے۔
ڈاکٹر نے تمھیں کسی بھی قسم کی ٹینشن لینے سے منع کیا ہے۔
پر۔۔ میں۔ وہ۔ کیسے۔ میرا۔۔ مطلب۔ میڈم لبنی۔ ۔ کہا۔۔ آپ کی زندگی۔ ۔ اپنے کام سے کام۔ ۔
میں تو۔ کوکنگ۔ آپ پر بھوج۔ ۔ ۔ مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔ آپ مجھے واپس بھیج دیں۔
اس کی باتیں بے ربط سی تھیں۔ جیسے خیالات مجتمع نہ ہوں۔
نہیں تم ٹھیک ہونے تک کہیں نہیں جاؤ گی۔ یہ بھی ایک آرڈر ہے۔ ۔
وہ خاموشی سے پاس بیٹھ پتا نہیں نیچے کیا دیکھتی رہی۔ میرے اصرار کرنے پر اس نے بہت تھوڑا سا کھایا۔ جیسے بھوک نہ ہو۔ میں نے اسے زبردستی جوس پلوایا۔ اس کے انداز میں عجیب سی شرمندگی تھی۔
میں نے زندگی میں کبھی کسی کی دیکھ بھال نہیں کی۔ خود میری بھی دیکھ بھال کسی نے نہیں کی۔ مجھے نہیں معلوم یہ سب کیسے کرتے ہیں۔ مجھے معلوم ہی نہیں محبت اور شفقت کیا چیز ہوتی ہے۔ مجھے تو بچپن میں ہی ماں چھوڑ گئی۔ باپ نشہ کر کے پڑا رہتا، دادا اپنی محبت کے غم میں روتے رہتے۔ میرے لیے جو ملاذمہ تھی وہ مجھے بوجھ سمجھتی، چچا کے گھر میں نفرت، تذلیل، حقارت اور تشدد کا تحفہ ملا۔ رہی سہی کسر زمانے نے پوری کر دی۔ میں نے دنیا کو وہی لوٹایا جو اس نے مجھے دیا تھا۔
اس معصوم لڑکی کو میں اپنی زندگی کی آخری دنوں میں کیسے کئیر دے سکتا ہوں۔ میرے تو اپنے زخم نہیں بھرے میں اس کے زخموں پر مرہم کیسے رکھوں۔ پتا نہیں اسے کیسے دکھ ملے ہوں گے جس کی وجہ سے اس کے ساتھ ایسا ہوا۔
جب کبھی اس کی آنکھیں نظر آتیں اور ان میں کرب ہوتا۔ جیسے اندر ہی اندر کوئی زخم ہے۔ اسے یہ تو یاد نہیں کہ یہ زخم کس نے اور کیوں دیا ہے پر اس کی تکلیف اسے پر دم محسوس ہوتی ہے۔
میں نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی آنکھوں اور چہرے میں گم ہونے لگا۔ اس کا غم مجھے اپنا سا لگا۔
یہ عبیر جیسی کیوں دکھتی ہے؟
نہیں یہ سب میرے ذہن کی کارستانی ہے۔
شام کو پارک میں واک پر جانے سے پہلے وہ بہت ہچکچائی۔ میں نے زبردستی اسے اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھایا اور پارک میں پہنچ گئے۔ واک کرتے ہوئے بھی وہ شرمندہ شرمندہ سی تھی۔ اچانک مجھے اس کی شرمندگی کی وجہ سمجھ آئی۔ اس کے کپڑے انتہائی معمولی سے تھے۔ مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ لڑکیاں چاہے جیسی بھی ہوں اپنے لباس اور حلیے کے بارے میں بہت حساس ہوتی ہیں۔
میں واپسی پر اسے شاپنگ کروا نے لے گیا۔ جب اسے احساس ہوا کہ میں اس کی کیفیت کو جان گیا ہوں تو شرمندگی سے اس کا برا حال ہو گیا۔
اس نے مجھے منع کرنے کی ناکام سی کوشش کی۔ اب یہ لڑکیوں کی شاپنگ کا مجھے بالکل بھی آئیڈیا نہیں ہے۔ میں اسے چار پانچ بڑے ڈیزائنرز کی شاپس پر لے گیا۔ اس کی آنکھوں میں شرمندگی اور شکوہ تھا۔ پر میں نے اگنور کیا۔
جب وہ مالٹائی شرٹ اور وائٹ ٹراؤزر پہن کر باہر آئی۔ تو کھ دیر کے لیے میں مبہوت ہو گیا۔ چھوٹے دوپٹے کی وجہ سے وہ تھوڑا ان کمفرٹیبل محسوس کرنے لگی۔ میں نے پہلی بار اس کے وجود کو مکمل طور پر دیکھا۔
میری آنکھوں میں نمی آ گئی۔ یہ پھول زندگی کی گرمی سختی برداشت کرنے کے لیے نہیں بنا۔
میرا یوں آنکھیں جھپکائے بنا اپنی جانب دیکھتے پا کر وہ شرم سے لال ہو گئی۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مہک کچھ عرصہ میں میرے ساتھ کمفرٹیبل ہو گئی، اب میرے سامنے کھانا کھاتے اسے چہرہ نہ ڈھانپنا پڑتا۔ وہ لائبریری اور گھر میں پینٹنگز کو بہت غور سے دیکھتی۔ میں بھی وقت گزاری کے لیے اسے پینٹگز اور کتابوں کے بارے میں بتاتا۔ وہ کسی چھوٹے بچے کی طرح بڑے انہماک سے یہ باتیں سنتی اور اس کے سوال بڑے مزے کے ہوتے۔
مجھے یہ تو نہیں پتا کہ وہ میری اس زبردستی کی کئیر سے ٹھیک ہوئی یا نہیں پر میرے اپنے اندر کافی کچھ تبدیل ہونے لگا۔ جب میں اس کے ساتھ ہوتا تو مجھے کوئی بے چینی نہ ہوتی، وقت بہت تیزی سے گزرنے لگتا۔ اس کا خوبصورت چہرہ اور آنکھیں مجھے رہ رہ کر عبیر کی یاد دلاتیں۔ میں تصور میں اسے عبیر سمجھ کر ہی باتیں کرتا۔
میری باتوں کے درمیاں جیسے ہی نماز کا وقت ہوتا وہ فوراً نماز پڑھنے چلی جاتی۔ وہ لمبے لمبے سجدوں میں نہ جانے کیا کیا دعائیں مانگتی رہتی۔ شروع شروع میں وہ اپنے کمرے میں چھپ کر نماز پڑھتی پھر میں نے کہا کہ وہ لائبریری میں ہی نماز پڑھ لیا کرے۔ اس پر وہ کہتی کہ یہاں انسانی تصویریں ہیں، رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔
اب میں اسے کیا سمجھاؤں کہ اس کمرے میں ہی نہیں اس گھر میں بھی فرشتے نہیں آتے۔ یہاں ایک خدا کو نہ ماننے والا رہتا ہے۔ ایک ایسا شخص جو سالوں خدا کو ڈھونڈنے کے بعد خدا سے محروم ہو گیا۔
میں کیسے اس لڑکی کو سمجھاؤں میرے سینے میں کبھی خدا رہتا تھا۔ اب میں ایک خالی خول کی طرح پھرتا ہوں۔ جب آپ خدا کے خیال سے محروم ہو جاتے ہیں آپ کا خدا پر غصہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔ آپ خدا اور مذہب پر تنقید بھی چھوڑ دیتے ہو۔
جب وہ نماز پڑھ کر آتی تو اس کے چہرے پر سکون ہوتا۔
مہک تم اتنے لمبے لمبے سجدوں میں کیا دعا مانگتی ہو۔
اس کے چہرے پر کچھ رنگ آ کر گزر گئے۔۔
بس اللہ میاں کا شکر ادا کرتی ہوں، اپنی جلد صحت یابی کی دعا کرتی ہوں۔
اور تمھیں لگتا ہے اللہ میاں تمھاری بات سنتے ہیں۔ میں نے کوشش کی کے میرے لہجے میں طنز نہ چھلکے۔
ہاں اللہ میاں تو سب سنتے جانتے ہیں۔
تم اللہ میاں سے شکایت نہیں کرتیں کہ انھوں نے تمھیں اتنی تکلیفیں کیوں ہونے دیں۔ تم سے تمھارا سب کچھ چھین لیا، حتی کہ یاداشت بھی، میں نے دکھ اور تلخی دباتے ہوئے کہا۔
ہائے ! میں اللہ میاں سے یہ کیسے کہہ سکتی ہوں۔ ان کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے۔ میں تو بس اپنے دل میں ان سے ایک گہرا تعلق محسوس کرتی ہوں۔ میں جتنی بھی تکلیف میں ہوں مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ اللہ میاں مجھے دیکھ رہے ہیں۔ وہ میرے دکھ کو سمجھتے ہیں۔
مجھے زیادہ بڑی باتیں نہیں آتیں پر، میرے لیے یہی بہت ہے۔
اب دیکھیں نا انھوں نے مجھے آپ جیسے اچھے انسان تک پہنچایا جو میری صحت یابی کے لیے اتنی کوششیں کر رہا ہے۔
میں تو اس کا جتنا شکر کروں کم ہے۔ اس کے لہجے میں ایک احساس تشکر اور خدا پر مان کا ایسا ناقابل شکست احساس تھا۔
ایک یہ لڑکی ہے جس سے اس کا ماضی تک چھن گیا اور یہ اب بھی خدا کا شکر ادا کر رہی ہے۔ اسے اب بھی کوئی بے چینی اور خالی پن محسوس نہیں ہوتا۔ اسے کوئی وجودی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔
ایک میں ہوں کہ سب کچھ ہونے کے باوجود اندر کے خالی اور بے چین ہوں۔ قدرت کے یہ اتفاق بھی عجیب ہیں۔
تیمور صاحب آپ نماز کیوں نہیں پڑھتے؟
اس نے اتنے معصومانہ انداز سے ایسا سوال کیا کہ میں پھٹی آنکھوں سے اس کا منہ تکتا رہ گیا۔
اچھا آپ بہت مصروف ہوتے ہیں نا، لیکن پھر بھی نماز تو فرض ہے نا ہمارے مذہب میں؟
آہ میں اس بیچاری کو کیا بتاؤں۔ میں اسے اپنے بارے میں کچھ بتا کر شاک نہیں دینا چاہتا۔ کوئی سادہ سا جواب دینا چاہیے۔
بس کیا کروں مہک مجھے بچپن میں کسی نے نماز پڑھنا سکھائی ہی نہیں۔ میں نے ویسے ہی مذاقاً کہہ دیا۔
ہائے اللہ! کسی نے نہیں سکھائی۔ اس کی آنکھوں میں ایک بچے جیسی حیرانی تھی۔
یہ تو بڑے افسوس کی بات ہے۔۔ ہاں بڑے گھروں میں ایسا ہو جاتا ہے۔۔ اس نے بھی خود کلامی کے انداز سے کہا۔
آپ فکر نہ کریں، بہت آسان ہے۔ میں آپ کو بتاتی ہوں۔۔
وہ بڑی دیر تک مجھے پورے خلوص کے ساتھ نماز پڑھنا سکھاتی رہی۔ اس نے اپنے ساماں سے مجھے نماز کی چھوٹی سی کتاب بھی لاکر دی۔ یہ سب کرتے اس کی آنکھوں میں ایسی خوشی تھی جیسے کوئی بہت ہی نیکی کو کام کر رہی ہو۔
جب وہ کھانا بنانے گئی تو تو میری آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔
یہ کیا مذاق ہے، یہ لڑکی کیوں سب کچھ کھو کر بھی خوش پھر رہی ہے، اس کس نے حق دیا ہے کہ میری عقل، میری دولت اور میری بڑائی کا یوں بے دردی سے مذاق اڑائے۔ میری کوئی دلیل اس سے یہ سکون اور اطمینان نہیں چھین سکتی۔ کیا مجھے مرنے سے پہلے یہی دیکھنا باقی رہ گیا ہے۔
یہ خدا کا خیال میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑ دیتا؟
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مہک میرے ساتھ یوں گل مل گئی جیسے سالوں سے مجھے جانتی ہو۔ مجھے رہ رہ کر اس کی آواز میں عبیر کی کھنک محسوس ہوتی۔ سائیکالوجی بھی یہی کہتی ہے کہ ہمارا حافظہ کوئی فوٹو گرافک چیز نہیں ہے۔ اسی لیے عدالتی کاروائیوں میں صرف گواہوں کی شہادت کو قبول نہیں کیا جاتا۔
جیسے امریکہ جیسے میں ملک میں دس لاکھ لوگوں نے اس بات کو ریکارڈ کروا یا، کہ انھوں نے خلائی مخلوق اور اڑن طشتریوں کو دیکھا ہے۔ اب اس بات کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے۔ تو کیا اتنے سارے لوگوں کی نظروں اور حافظے نے دھوکہ کھایا۔
اسی وجہ سے کئی سالوں سے میں ہر چیز کے بارے میں متشکک ہوں۔ میرا ذہن ماننے سے زیادہ سوال کرنے والا ہے۔ میں ہمیشہ اپنی یاداشت اور سوچ کے مقابلے میں ثبوت کو ترجیح دیتا ہوں۔ ثبوت یہ ہے کہ عبیر کی موت ایک ٹریفک حادثے میں ہو چکی ہے۔ اس کی گمنام قبر پر ایک کتبہ میں خود لگا کر آیا ہوں۔ کبھی کبھی جب دل بے چین ہو جاتا ہے تو اس کی قبر پر آنسو بہانے چلا جاتا ہوں۔
بس جلدی سے یہ لڑکی ٹھیک ہو تو میں سکون سے مرسکوں۔
اشفاق صاحب اس کی پراگریس سے مطمئن ہیں۔ ان کے بقول اس کا روانی سے باتیں کرنے لگنا اور زندگی کی طرف لوٹ آنا بہت بڑی امپرومنٹ ہے۔ البتہ اس کے ماضی کا کوئی نشان نہیں مل رہا۔ وہ حیران ہیں کہ وہ نئی یادیں تو بنا رہی ہے پر اسے آشیانہ میں آنے سے پہلے کچھ بھی یاد نہیں۔ جیسے اس کا کوئی ماضی نہ ہو۔
ویسے یہ کیس بھی سائییٹری کے سٹوڈنٹس کے لیے ایک اچھی سٹڈی ہو سکتی ہے۔
مہک اپنے کھانوں اور باتوں سے میری زندگی پر دھیرے دھیرے قبضہ کرتی چلی گئی۔ لبنی شمسی ایک دو بار گھر آئیں تو مجھے اور مہک کو اتنا بے تکلف دیکھ کر شرارتی انداز سے مسکرائیں۔ اس وقت تو انھوں نے کچھ نہ کہا۔
جاتے ہوئے مجھے کہنے لگیں۔
تیمور! بھئی میں تو اب مان ہی گئی ہوں کہ دل کا راستہ پیٹ سے ہی ہو کر جاتا ہے۔
میں بھی مسکرا کر رہ گیا۔
بھابی ایسی بات نہیں ہے، میں تو بس اتنا چاہ رہا ہوں یہ جلدی سے ٹھیک ہو جائے تو میں اپنے بزنس کی طرف توجہ دوں۔۔
ہاں بھئی ہم بھی یہ چاہ رہے ہیں کہ یہ جلدی سے ٹھیک ہو تو ہم بھی اس کے گھر والوں سے رشتے کی بات چلائیں۔۔
ان کے لہجے کی شرارت پر میں کھل کھلا کر ہنس پڑا۔
آپ بھی باز نہیں آتیں۔
اور نہیں تو کیا۔ اب تمھارے ماں باپ تو ہیں نہیں جو تمھارے ان معاملات کو سنبھالیں، اب مجھے تمھارا یوں خود کو برباد کرنا دل سے دکھتا ہے۔
تم اندر ہی اندر کسی شدید غم میں مبتلا ہو اور بتاتے نہیں ہو۔
لبنی شمسی کی باتوں کو میں نے مذاق سے زیادہ اہمیت نہ دی۔ یہ عورتیں بھی بس ایسے ہی لگی رہتی ہیں۔
لائبریری میں ہلکی ہلکی موسیقی کے ساتھ کتاب پڑھنا اور گپیں لگانا ایک کمال مشغلہ ہے۔ اپنی ذات سے بات ہٹانے کے لیے میں مجبوراً شعرو شاعری اور کہانیوں کی باتیں کرتا۔ وہ بڑے انہماک سے کہانیاں سنتی اور کبھی کبھی تو صوفے پر ہی سوجاتی۔ کہانی سناتے میں کہانی کے کرداروں کے دکھ میں اپنا دکھ دیکھتا، ان کی اندرونی کشمکش کو محسوس کرتا، ان کے غموں اور بے وفائیوں پر دکھی ہوتا۔ یہ کہانی سنانا بھی کیا خود کلامی ہے۔
کہانی سنانا ایک طرح کا کہانی سننا ہی ہے۔ میں کہانی سناتے ہوئے کہانی کی تشکیل بھی کر رہا ہوتا اور اس کو سن کر لطف اندوز بھی ہوتا۔ یہ تخلیقی عمل بھی خالق کے اختیار میں نہیں ہوتا۔ اس کی اپنی ہی قوت ہوتی ہے۔
کہانی کے سحر سے واپس لوٹتا تو مہک کو صوفے پر سر رکھ کر لیٹا دیکھتا، سوتے میں اس کے چہرے پر معصومیت بہت ہی بڑھ جاتی۔ کبھی کبھی ہونٹوں پر ایک شرارتی مسکراہٹ بھی آ جاتی جیسے خواب میں بھی کوئی شرارت کر رہی ہو۔
صوفے پر یوں لیٹنے سے اس کے پٹھے اکڑ جائیں گے۔ میں نے اسے جگانے کی کوشش کی مگر دواؤں کے اثر سے اس کی نیند گہری ہوتی۔
میں نے اسے گود میں اٹھایا اور اس کے کمرے کی طرف چل دیا۔ وہ کتنی ہلکی سی تھی، جیسے کوئی پھول ہو۔ اس کے وجود کی ہلکی ہلکی مہک میرے اندر تک اتر گئی۔ بہت عرصے بعد میرے جذبات میں وہ ہلچل مچی۔
جیسے زمین کی تہہ میں کوئی بیج پھٹ گیا ہو۔
وہ ارشد کے سرونٹ کوارٹر میں رہ رہی تھی، اتنی گرمی میں وہاں اے سی بھی نہیں تھا۔ میں نے عبیر کو وہاں چھوڑنا گوارا نہ کیا اور اسے اٹھائے اٹھائے ہی اپنے کمرے میں آ گیا۔
میں نے بڑی احتیاط سے اس پھول کو بستر پر لٹایا تو اس کا چہرہ میرے چہرے کے قریب آ گیا۔ اس کی سانسوں کی ہلکی سی مہک اور گرمی، ایک لمحے کے لیے دل چایا کہ ان نازک پنکھڑیوں کو چوم لوں۔ لیکن یہ کام بھی کسی چوری یا ڈاکے کی طرح لگا۔
پر میں تو کسی اخلاقی قانون کو نہیں مانتا پھر میں کیوں یہ بات سوچ رہا ہوں، کوئی حد نہ مانتے ہوئے بھی میں اپنی ایک اخلاقی حد کھینچ رہا ہوں۔ مجھے اندر سے کونسی چیز روک رہی ہے؟ کیا میں اس لڑکی کی ناراضگی سے ڈرتا ہوں، یا میں کسی پاکیزگی کو ناپاک نہیں کرنا چاہتا۔
کیا میں بھی خود کو ناپاک سمجھتا ہوں۔
میں نے خود کو اس سے ایسے علیحدہ کیا جیسے لوہے کو مقناطیس سے علیحدہ کرتے ہیں۔
یہ لڑکی میرے حواس پر چھارہی ہے۔ اس کی وجہ سے آج میرے اندر ایک ایسی طلب ٹھاٹھیں مارنے لگی ہے، جسے میں نے کئ سالوں سے محسوس نہیں کیا۔ انھی خیالوں میں گم میں رات کے کسی پہر لائبریری میں ہی سو گیا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میں نے مہک کو بڑے کمرے میں شفٹ کروا دیا۔ اس نے بہت احتجاج کیا مگر باقی باتوں کی طرح اس کی یہ بات بھی نہ مانی گئی۔ اس دن صبح خود کو میرے بستر پر لیٹے دیکھ کر اس کا شرم اور وسوسوں سے برا حال ہو گیا۔ میں نے اسے اتنا کہا کہ وہ نیند کی حالت میں میرے سہارا لے کر قریب میرے ہی کمرے میں جا کر سو گئی تھی۔ میں نے اسے یہ نہیں بتایا کہ میں اسے اٹھا کر لے گیا تھا، جانے بیچاری کیا سوچتی۔
اس کی صحت جیسے بہتر ہوتی گئی، اس کے رویے بھی خوشی اور الہٹر پن بڑھتا چلا گیا، اب وہ میرے ساتھ بیٹھی خاموش سامع نہ ہوتی، بات بات کر سوال کرتی، اعتراضات اٹھاتی۔ جب فارغ ہوتی کہانیاں پڑھتی۔ کوئی گھر میں آتا تو یہ جان ہی نہ پاتا کہ یہ گھر کی مالکن ہے یا ملازمہ۔ کبھی بڑے انہماک سے کتاب پڑھتے ہوئے اچانک آنکھ اٹھا کر مجھے اپنی طرف دیکھتا پاتی تو فوراً شرما کر آنکھیں نیچھی کر لیتی۔
کبھی کبھی مجھے گمان ہوتا کہ وہ بھی مجھے کن اکھیوں سے دیکھ رہی ہے۔ میری بے چینیوں میں ایک اور کشمکش کا اضافہ ہو گیا۔ اس پر بھی میرا کوئی اختیار نہیں تھا۔ ہماری گفتگو اور خاموشی کے پیچھے کچھ اور معنی بھی آنے لگے۔ ایسا لگتا ہم کہہ کچھ رہے ہیں اور معنی کچھ ہے۔ ہماری اجنبیت ختم بھی ہو گئی ہے اور بڑھ بھی رہی ہے۔
پر اس کی ہنسی کی کھنک کچھ جانی پہچانی اور کچھ اجنبی لگتی، اب وہ میرے ساتھ چلتے ہوئے دور دور نہ ہوتی۔ وہ پرانی شرمندگی پر کانفیڈنس اور تحفظ کا رنگ غالب آ گیا۔ باتیں اب بھی اس کی روز مرہ کی ہی ہوتیں۔ کچھ مہینے پہلے کو ئی مجھ سے ایسی باتیں کرتا تو میں دو منٹ بعد ہی بور ہو جاتا، پر وہ پورا گھنٹا بھی سبزیوں کے فائدوں، نہاری کی طریقے، بریانی کی تاریخ، دیسی پزہ اور ولائتی پزا میں فرق پر بات کرتی رہتی تو مجھے بوریت نہ ہوتی۔ ہر کھانے پر اس کی آنکھوں میں یہی تاثر ہوتا کہ میں اس کے کھانے کی تعریف کروں۔ کھانا ویسے وہ بہت اچھا بناتی پر نئے نئے تجرے ناکام بھی ہوتے، جن پر مجھے دل ہر ہاتھ رکھ کر تعریف کرنا پڑتی۔ اپنی تعریف سن کر کھل جاتی۔ اس کے جذبات ہر وقت اس کے چہرے پر سجے ہوتے۔
میں اپنے آوارہ خیالات اور جذبات کو ہر بار جھٹک دیتا۔ مجھے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں کوئی نیا ایڈونچر نہیں کرنا۔ مجھے اس معصوم لڑکی کو کوئی امید نہیں دلانی۔ مجھے اس کے اندر انجان جذبات کے تار نہیں چھیڑنے۔ مجھے اس کے غموں میں مزید اضافہ نہیں کرنا۔
میں نے اپنی آخری وصیت بھی بنوانا شروع کر دی۔ میں اپنے بزنس کسی ایسی ٹیم کے حوالے کر کے جانا چاہتا ہوں جو اس کی آمدنی کو فلاحی کاموں میں لگائے۔ زیادہ تر حصہ آشیانہ کے لیے رکھا گیا۔ مہک اگر صحت یاب ہو کر اپنے گھر والوں کے پاس پینچ جاتی ہے تو ٹھیک، نہیں تو اس کے سرپرستی کی ذمہ داری آشیانہ کے ذمہ ہو گی۔
شام کو واک کے بعد ہم اکثر کسی نہ کسی کیفے میں چلے جاتے۔ ابھی ہم بیٹھے ہی تھے کہ مجھے وکیل کی کال آ گئی جو میری وصیت کو حتمی شکل دے رہا تھا۔ میں نے مہک کے سامنے بات کرنا مناسب نہ سمجھا اور اٹھ کر باہر آ گیا۔ کال ختم کرتے ہی جیسے میں اندر داخل ہوا تو کسی نے میرا نام پکارا۔
میں مڑا تو فائقہ کو اپنے سامنے کھڑے دیکھا، میں تو اتنے عرصے سے اسے بھول ہی گیا تھا۔ اس نے بڑی گرم جوشی سے مجھے گلے لگایا، اس نے تیز پرفیوم لگا رکھا تھا اور ڈریسنگ ہمیشہ کی طرح شاندار۔ اس کی اس گرم جوشی پر قریب کے لوگوں نے کچھ عجیب نظروں سے دیکھا۔
تیمور یو آر لکنگ ڈفرنٹ، چہرے پر وہ اداسی نہیں ہے۔
اٹس نتھنگ بس آج کل بزنس کچھ اچھا جا رہا ہے اسی لیے۔
وہ تو ہے، میرے کئی بزنس مین دوست تمھارا ذکر جیلسی سے کرتے ہیں۔
میں بھی ابھی ایک فرینڈ سے ملنے آئی تھی، پر اسے اچانک کسی ایمرجنسی میٹنگ میں جانا پڑا۔ تو میں بالکل فری ہوں۔ اچھا ہوا تم مل گئے گپ شپ ہی ہو جائے گی۔
میں شش و پنج کا شکار ہو گیا۔
فائقہ در اصل میں کسی کے ساتھ ہوں۔
اوہ ہو، اب میں سمجھی، کچھ تو بدلا ہے تمھاری زندگی میں۔
مجھے نہیں ملواؤ گے اس سے؟ میں بھی تو دیکھوں اس میں ایسا کیا ہے جو مجھ میں نہیں۔ اس نے بھی شرارتا کہا۔
ایسی بات نہیں ہے، اٹس آ بزنس میٹنگ، میں نے بھی بہانہ کر دیا۔
فائقہ کی نظروں میں تھوڑی سی اداسی آئی پر پھر نارمل ہو گئی۔ اوکے میں چلتی ہوں، پھر کبھی ملاقات ہو گی۔ یہ کہہ کر وہ رخصت ہو گئی۔
میں جیسے ہی مہک کے پاس پہنچا اس کی آنکھوں میں کچھ عجیب سے تاثرات تھے، جیلسی اور غصے والے۔ اس نے ایسے بے ہیو کیا جیسے اس نے کچھ نہیں دیکھا اور کچھ نہیں سنا۔
مہک! وہ میری فرینڈ تھی فائقہ۔
اچھا!۔ ۔
بڑی قریبی دوستی لگتی ہے آپ دونوں کی۔
مہک نہ چاہتے ہوئے بھی اپنا طنز نہ روک سکی، اس کے لہجے میں کوئی بات تھی جس سے لگتا کہ اسے اپنی حق چھیننے کا احساس ہو رہا ہے۔
اچھا تو تمھیں برا لگا ہے، میں نے بھی شرارتی انداز سے کہا۔۔
میں کون ہوتی ہوں برا محسوس کرنے والی، آپ کی زندگی ہے آپ جسے چاہیں دوست بنائیں۔۔ اس نے روٹھے لہجے میں کہا۔
یہ لڑکی بھی کسی بات کو نہیں چھپا سکتی۔
ویسے آپ کی ساری دوستیں ایسے ہی سرعام گلے ملتی ہیں۔۔ اس کے لہجے میں غصہ تھا۔
اچھا تو تمھیں اس کا مجھے اس طرح گلے لگانے پر غصہ ہے۔
نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔ پر اسے شرم نہیں آتی یوں سب کے سامنے۔ چلو جتنی اچھی دوستی بھی ہے۔۔ ہمارے مذہب میں بھی تو منع ہے۔
وہ جس کلاس سے ہے اس میں یہ عام سی بات ہے مہک۔
آپ کو کو بھی برا نہیں لگتا۔۔ اس نے شکوے کے انداز سے کہا۔
اب کوئی لڑکی اتنی محبت دکھا رہی ہے تو میں کیسے اس کا دل توڑ دوں۔۔ میں نے اسے اکساتے ہوئے کہا۔۔
یعنی کوئی بھی لڑکی آپ سے اس طرح محبت دکھائے تو آپ انکار نہیں کریں گے۔
یہ جملے کہتے ہی جیسے اسے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا، جیسے کوئی تیر کمان سے نکل گیا ہو۔
میں نے اسے معنی خیز نظروں سے دیکھا تو کا رنگ لال ہو گیا اور اس نے شرما کر اپنے مینو کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔
ویٹر کی اچانک اینٹری نے میرا دھیان آرڈر کی طرف کر دیا۔ اس شام مہک کچھ شرمائی شرمائی رہی جیسے اس کی کوئی چوری پکڑی گئی ہو۔
اب ہماری گفتگو میں محبت کا ذکر بہانے بہانے سے آنے لگا۔ محبت کے نام سے لائبریری کی فضا میں ٹینشن بڑھ جاتی۔
محبت اور عشق پر کبھی ذاتی بات نہ ہوتی پر ہر بات کا مطلب ذاتی ہی لیا جاتا۔
تیمور صاحب ! یہ محبت میں کیسا محسوس ہوتا ہے؟
آہ اس کے ان معصومانہ پر خطرناک سوالوں کے میں کیا جواب دوں، کیا کہوں اسے کے ان انگاروں سے نہ کھیلے، کیا بتاؤں کے محبت کیسے اندر سے خالی اور بے چین کر دیتی ہے، کیسے بتاؤں کے محبت کے بے تحاشا رنگوں میں سے مجھے صرف دو کا تجربہ ہے، کیسے بتاؤں کے ایک محبت کا انجام خدا سے محرومی پر ہوا اور دوسری کا انجام خود کشی پرہونے جا رہا ہے۔ کیسے بتاؤں کے یہ اندر کی بے چینی کیا ہوتی۔ کیسے اسے سمجھاؤں کے اس پرخار وادی میں جانے سے خود کو روک لے۔
میں ایک منحوس شخص ہوں، مجھے خود بھی کبھی محبت نہیں ملی اور میرے قریبی ہمیشہ بدقسمتی کا شکار ہوتے ہیں۔
میرا ہر چارہ گر نڈھال ہوا
یعنی میں کیا ہوا وبال ہوا
مہک! تم کیا جاننا چاہتی ہو؟
میرے سوال پر وہ گڑبڑا گئی۔
وہ میں۔ ۔ ویسے ہی۔ ۔
میرا مطلب ہے آپ کو کبھی محبت نہیں ہوئی؟
آہ مہک! کچھ زخموں کو مت کریدو
جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہو گا
کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے
محبت میں کسی پل چین نہیں آتا، ہر دم سینے میں آگ دہکتی ہے۔ آپ کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ کیا کروں، خود پر کنٹرول ختم ہو جاتا ہے، صرف محبوب کو دیکھتے رہنا، اس کی باتیں سننا، اس کی خوسبو محسوس کرنا، ہی اس کا علاج ہوتا ہے۔ محبوب کے ستم بھی کرم محسوس ہوتے ہیں۔
محبوب کے بنا جینا ہی بے معنی لگتا ہے۔ اسی لیے عشق میں ناکامی کے بعد کئی لوگ خود کشی کرتے ہیں۔
میں یہ کہتے کہتے جذباتی ہو گیا۔ دل میں کوئی زخم ہرا ہو گیا۔
اور کبھی کبھی بد نصیبی سے محبوب کی زندگی میں آپ کو پتا ہی نہیں چلتا کہ آپ اس سے محبت کرتے ہیں۔ آپ جو دل میں محسوس کرتے ہیں اسے کوئی نام نہیں دیتے۔ جانے انجانے میں محبوب کو اذیت دیتے رہتے ہیں۔ اس کے چلے جانے کے بعد اپکو احساس ہوتا ہے کہ دل تو ہو اپنے ساتھ لے گیا ہے۔ آپ کا وجود تو صرف ایک خول ہے۔
پھر تیرے کوچے کو جاتا ہے خیال
دل گم گشتہ مگر یاد آیٰا
ہر گزرتا دن محبوب کی یاد میں اضافہ کرتا ہے۔ آپ بغیر پانی کی مچھلی کی طرح تڑپتے ہیں۔ اس پشیمانی اور پچھتاوے کا کوئی علاج نہیں ہوتا۔
یہ کہتے میری آنکھوں سے نہ چاہتے ہوئے بھی آنسو نکل پڑے۔ میں نے بہت کوشش کی پر اس دن بند ٹوٹ گیا۔ میں نے پہلی بار کسی کے سامنے اپنی محبت، کمزوری، شکست، پچھتاوے، اور پشیمانی کا اعتراف کیا۔ مجھے اتنی شدت سے روتے دیکھ کر مہک کی آنکھوں سے بھی آنسو نکل پڑے۔
اس نے تسلی کے لیے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا تو میں بے اختیار اس سے لپٹ کر رونے لگا۔
مجھے اس کائنات میں ایک وجود چاہیے جو میرے سینے کا بوجھ کم کر دے۔ جو میرے دکھ کو سمجھ سکے۔
اس کو ساتھ لپٹائے میں پتا نہیں کتنی دیر روتا رہا، اس کی شرٹ میرے آنسؤں سے گیلی ہو گئی۔ اس کی وجود کی گرمی نے میرے اندر ٹھنڈ ڈال دی۔ کافی دیر بعد جب ہم علیحدہ ہوئے تو اس کی لال آنکھوں میں شرم کی جھلک بھی تھی۔
آہ یہ میں نے کیا کر دیا؟
اب مہک کی آنکھیں ہر دم کسی اظہار کی منتظر ہوتی ہیں۔ چلتے چلتے ہمارے ہاتھ اور جسم ٹکرا جاتے ہیں۔ میری کچھ دیر کی غیر موجودگی میں وہ پریشان ہو کر کالیں کرنے لگتی۔ اپنی آنکھوں میں صاف دکھنے والی بات کو وہ چھپاتی
دکھ رہی ہے جو مجھے صاف تیری آںکھوں میں
تو نے یہ بات کہیں مجھ سے چھپانی تو نہیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
تین مہینے ہو گئے پر مہک کی یاداشت واپس نہ آئی۔ اس کے علاوہ وہ مکمل طور پر نارمل ہے۔ اسے اپنی یاداشت واپس آنے کی کوئی خواہش بھی نہیں۔ وہ تو ہنسی خوشی نئی زندگی گزارنا چاہتی ہے۔ اگر میں نے اظہار میں تاخیر کی تو شاید وہ خود ہی اظہار کر دے۔ میں اپنے دل میں پھر سے محبت اور زندہ رہنے کے جذبات کو زبردستی ٹال رہا ہوں۔ اس محبت نے کئی لوگوں کو برباد کیا ہے۔ اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
میرے مرنے کے بعد اس کا علاج جاری رہے گا، ہو سکتا ہے کہ وہ ٹھیک ہو کر اپنی فیملی سے جاملے اور اپنی زندگی کے اس بات کو بھول جائے۔
سب کام مکمل ہو گئے ہیں۔ بندوق میں گولیاں پوری ہیں۔ کنپٹی پر گولی اس طرح مارنی ہے کہ فوراً ہی شعور کا رشتہ ٹوٹ جائے۔ خود کشی سے پہلے وکیل کو کال کرنی ہے کہ میری لاش کہاں سے اٹھا کر اسے دفنانے کے بجائے جلا دیا جائے۔ اور راکھ سمندر میں بہا دی جائے۔ یہ کام خاموشی سے کیا جائے۔
سائیکیٹرسٹ اشفاق کے پاس مہک کو چھوڑ کر میں آخری منزل کی طرف جانے ہی لگا۔
اشفاق کے چہرے پر کچھ ایسے تاثرات آئے جیسے وہ جان گیا ہو میں کیوں اور کہاں جا رہا ہوں۔
شاید میرا چہرہ ایک مرے ہوئے شخص کا چہرہ ہے۔ شاید وہ اپنے تجربے کی بنیاد پر جان سکتا ہے کہ خود کشی کرنے سے پہلے انسان کا چہرہ کیسا دکھتا ہے۔ اس نے کچھ دیر خاموشی سے میری طرف دیکھا۔
تیمور کچھ دن پہلے بابا جی نے اصرار کیا تھا کہ کسی طرح تمھیں ان کے پاس لے جاؤں وہ آخری بار تمھیں چائے پلانا چاہتے ہیں۔ مہک کی خاطر ایک بار ان سے مل لو۔
بابا جی کا ذکر سنتے ہی مہک بھی ان سے ملنے کو بے چین ہو گئی۔ پر میں کچھ کہے سنے بغیر کلینک سے نکل پڑا۔
ارادہ یہی تھا کہ عبیر کی قبر کے پاس ہی خود کشی کروں گا۔ میں نے گاڑی میں بیٹھتے ہی وکیل کو کال ملائی، اس کے اسسٹنٹ نے کال اٹھائی اور کہا کہ وکیل صاحب کورٹ میں ہیں، ایک گھنٹے تک وہ خود کال بیک کریں گے۔
میں شش و پنج میں پڑ گیا۔ اب اس سے بات کرنا بھی ضروری تھا۔
اسی انتظار اور سوچوں میں گم میں بابا جی کی دکان پر پہنچ گیا۔ دکان کتابوں سے خالی تھی، بابا جی دکان کے باہر کھڑے تھے۔ مجھے دیکھ کر مسکرائے۔
باباجی اتنی جلدی ساری بک بھی گئیں۔ میں نے ہلکے سے طنز کے ساتھ کہا۔
بابا جی نے قہقہہ لگایا۔
نہیں یار ! پاکستان میں ابھی کتابوں اور علم سے محبت اتنی نہیں ہوئی۔ اللہ کرے کبھی وہ دن آئے کہ ہم علم دوست بن جائیں۔
میں نے اپنی ساری کتابیں گوہر شہوار کو گفٹ کر دی ہیں۔
گفٹ ! مگر کیوں؟ اور یہ گوہر شہوار کون ہے؟
آؤ یہ باتیں میرے گھر میں بیٹھ کر کرتے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ مجھے پیدل ہی اپنے ساتھ لے کر چل پڑے۔
بابا جی کا گھر کرائے کا تھا اور کسی گھر کی ایکسٹینشن تھی۔ کمرے میں بھی بس کتابیں اور چارپائی تھی۔ بابا جی نے میرے سامنے ہی چائے بنائی اور ساتھ میں کچھ بسکٹ رکھے۔
بابا جی کی آنکھوں میں وہی تازگی اور لہجے میں ویسی ہی شفقت تھی۔ اگر میں بابا جی سے اپنی نوجوانی میں ملا ہوتا تو زندگی کیسی ہوتی۔
تو تیمور بیٹا ! گوہر شہوار وہ ہے جس نے تمھاری کہانی لکھنی ہے۔
میری کہانی! مگر میں اپنی داستاں سنانے سے پہلے ہی جانے والا ہوں۔
بابا جی میں جانتا ہوں آپ مجھے خود کشی سے روکنا چاہیں گے۔ مگر اب یہ ممکن نہیں ہے۔ میری بے مقصدیت، بے چینی، پچھتاوے اور پشیمانی کا کوئی علاج نہیں۔ میں چاہ کر بھی خود کو معاف نہیں کر سکتا۔ میری سزا یہی ہے کہ میں بھی ہمیشہ کے لیے فنا ہو جاؤں۔
بابا جی اس طرح میری طرف دیکھتے رہے جیسے میری بات کو سمجھ رہے ہوں۔
تیمور میں نے تمھیں اس لیے اپنے پاس بلایا ہے کہ اب میرا بھی وقت آ گیا ہے۔ تم سے پہلے میں نے اس دنیا سے چلے جانا ہے۔ ویسے تو میرے پاس سوائے خدا کی یاد کے کچھ نہیں ہے۔ بس کچھ کتابیں ہیں جو میں نے گوہر شہوار کو دے دی ہیں۔
میں نے حیرت سے بابا جی کو دیکھا، یہ تو اپنے جانے کی باتیں کر رہے ہیں۔
پر بابا جی آپ کو کیسے پتا آپ فوت ہونے والے ہیں۔ یہ بات تو علم الغیب نہیں ہے۔
میں نے بھی مذاقاً کہا۔
بابا جی نے برا نہیں منایا۔
تیمور اس کے لیے غیب کا علم نہیں چاہیے، میں 75 سال کا ہو گیا ہوں، اور میری باڈی مجھے یہی بتاتی ہے کہ اب زیادہ وقت نہیں رہا۔
او اچھا! آپ اس لحاظ سے کہہ رہے تھے، میں یہی سمجھا کہ باقی بابوں کی طرح آپ بھی غیب کا کشف رکھتے ہیں۔
بابا جی نے ایک زور دار قہقہہ لگایا۔ بابوں کے بارے میں تمھارا کڑوا پن بڑے مزے کا ہے۔
یار بات یہ ہے کہ یہ کشف و کرامات محض کھلونے ہیں۔ جو اللہ کے قریب ہوتا ہے اسے اس سے بھی زیادہ مل جاتا ہے۔ پر یہ دین کا مقصود نہیں ہے۔ دین کی حقیقت صرف اللہ کی یاد اور اس کی مخلوق سے محبت ہے۔ باقی سب اسی کی تشریح ہے۔
اگر یہ نہیں تو باقی چاہے ہوا میں اڑو یا پانی پر چلو۔
جو بھی ہے بابا جی مجھے تو آج تک نہ ہی خدا ملا اور نہ ہی وصال صنم۔ اسی لیے ادھر ادھر کے بجائے میں کہیں اور جا رہا ہوں۔
تیمور میں تمھارے جذبات سمجھ سکتا ہوں۔ تم جذبات کے زیر اثر ہر واقعے کو بے معنویت کی عینک سے دیکھ رہے ہو۔
جب ہر چیز ہے ہی بے معنی تو اسے کسی اور طرح کیسے دیکھیں؟ میں نے بھی تنک کر پوچھا۔
تیمور معنی یا بے معنویت کسی چیز میں نہیں انسانی ذہن میں ہوتی ہے۔ اسی لیے یہ مسئلہ صرف انسانوں کا ہے۔ کسی دوسری مخلوق کو کبھی یہ مسئلہ درپیش نہیں آتا۔ ان کے پاس مان لینے یا نہ ماننے کی آزادی نہیں ہے۔ انسان کو یہ آزادی دی گئی کہ وہ چاہے تو مان لے چاہے تو نامانے۔
اس بات کو سمجھنے کے لیے تمھیں علم اور ذہن کی ماہیت کو سمجھتا پڑے گا۔ میں تمھیں ایک کہانی سناتا ہوں۔
کیا علم والوں کو بھی علم سکھایا جا سکتا ہے؟
ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک بہت ہی ذہین انسان تھا۔ اس کی علم کی پیاس اتنی شدید تھی کہ اس نے نوجوانی میں ہی اپنے دور کے سارے علوم جذب کر لیے۔ جب جاننے کو کچھ نہ رہا تو یہ گمان پیدا ہوا کہ میں تو سب جان گیا ہوں۔ اس کے تمام علوم اسے خدا سے شناسا کرنے سے محروم رہے۔ آخر اس نے علم کی معراج پر کھلم کھلا خدا سے انکار کر دیا۔ اب اس کی دلیلوں کا جواب کسی کے پاس نہ ہوتا۔ اس دور کے تمام عالم اس سے چھپتے پھرتے۔ بادشاہ وقت نے بھی مذہبی علماء کو دبانے کے لیے اسے اپنے قریب کر لیا۔ عوام الناس کا بھی ایمان اس کی باتیں سن کر کمزور پڑنے لگا۔
ایک شام علم کی معراج پر بیٹھا شخص دریا کے کنارے سیر کر رہا تھا کہ ایک خانقاہ پر نظر پڑی۔ اس کے ماتھے پر لکھا تھا یہاں علم والوں کو علم سکھایا جاتا ہے۔ یہ جملہ اسے بہت ہی دلچسپ لگا۔
کیا علم والوں کو بھی علم سکھایا جا سکتا ہے؟
وہ ازراہ مذاق اس خانقاہ میں چلا گیا۔ خانقاہ میں صرف ایک انتہائی ضعیف بابا جی بیٹھے تھے۔ اس شخص نے طنزیہ انداز میں بابا جی سے پوچھا، تو آپ ہیں جو علم والوں کو علم سکھاتے ہیں۔
بابا جی نے تحمل سے کہا، جی میں ہی ہوں۔
تو ہمیں بھی کچھ سکھائیے ہم تو علوم کے دریا پی کر بھی تشنا ہیں۔ وہی طنزیہ انداز۔
بابا جی بولے
وہ سامنے درخت دیکھ رہے ہو۔
ہاں دیکھ رہا ہوں۔
تم اس کے بارے میں کیسے جانتے ہو کہ یہ درخت ہے؟
میں نے کتابوں میں پڑھا، لوگوں نے بتایا کہ اسے درخت کہتے ہیں۔
اچھا ٹھیک ہے۔
لیکن اس درخت کو درخت کا نام تم نے دیا ہے نہ ہی تم نے درخت کے اندر گھس کر جانا ہے کہ یہ درخت ہے۔ تمھارے ذہن میں درخت کا ایک تصور موجود تھا جس کی وجہ سے تم نے جانا کہ یہ درخت ہے۔ یعنی تمھارا درخت کے بارے میں علم تمھارے اندر کے تصور درخت کی ایکسٹینشن ہے۔
دنیاوی علم در اصل ہمارے ذہن کا اشیاء پر جارحانہ قبضے کا نام ہے۔ ہم کبھی بھی اشیاء کی حقیقت نہیں جان سکتے۔ کسی شہ کا علم چاہے وہ کتنا ہی نتیجہ خیز کیوں نہ ہو اگر اس شہ کے خالق تک نہیں پہنچاتا تو وہ علم ناقص ہے۔ یہی علم والوں کو علم سکھانا ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
علم کے اسی نقص کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ ہم خدا کو نہیں جان سکتے۔ ہمارا ذہن وجود خدا پر قبضہ نہیں کر سکتا۔ اسی لیے یہ دلیل کا مسئلہ نہیں ہے۔
ساری مایوسی اسی بات سے شروع ہوتی ہے کہ ہمیں اپنی زندگی اور کائنات کے تمام واقعات کی کوئی سادہ اور آسان توجیح نہیں ملتی۔ کیوں کے کوئی آسان توجیح ہے نہیں۔ چیزیں اتنی گنجل ہیں کہ کوئی سادہ جواب نہ ممکن ہے۔ سائنس کیونکہ حقائق پر چلتی ہے۔ وہ مشاہدہ کرتی ہے پھر تھیوری بناتی ہے۔ اب کائناتی سظح پر معنی کی کوئی تھیوری بنانے کے لیے کائناتی سطح کے تمام حقائق کا مشاہدہ ضروری ہے۔
پھر بھی جو تھیوری بنے گی وہ اسی کائنات کے اندر تک کے ہی اپلائی ہو گی۔ وہ کائنات کے آغاز اور کائنات سے ماورا کا کوئی سائنسی جواب نہیں سے سکتی۔ ہمارا کائناتی علم بھی اسی کائنات کی حدوں تک ہے۔ ہم اس کائنات سے باہر یا اس سے پہلے کچھ نہیں جان سکتے۔ اس میں مسئلہ ہمارے جان سکنے کی حدود کا ہے۔ مشہور فلسفی کانٹ نے بھی یہی بات کی۔
مایوسی در اصل اس وقت شروع ہوتا ہے جب ہم یہ مان لیتے ہیں کہ یہ کائنات حتمی ہے۔ اگر یہ کائنات حتمی ہے تو جو ہے بس یہی ہے۔ اور یہ بے مقصد ہے۔ جب کہ ایسا نہیں ہے۔ یہ بات ہمیں ایک نیم پاگل حساب دان نے بتائی۔
ایک نیم پاگل حساب دان جو کائنات کو نامکمل ثابت کرگیا
یہ آج سے چالیس سال پہلے کی بات ہے، امریکہ میں پولیس نے ایک شخص کی لاش فلیٹ سے نکالی۔ اس شخص کا وزن صرف 27 کلو رہ گیا تھا۔ اس کی موت خود مسلط کردہ فاقہ کشی سے ہوئی۔ اس کی یہ فاقہ کشی کی وجہ اس کی بیوی کا بیمار ہونا تھا۔ وہ صرف اپنی بیوی کے ہاتھ کا کھانا کھاتا تھا کیوں کہ اسے شک تھا کہ کوئی اس کے کھانے میں زہر ملا کر اسے مارنا چاہتا ہے۔ اس کی بیوی بیمار ہو کر ہسپتال میں داخل ہوئی تو اس نے کھانا چھوڑ دیا اور بھوک سے مرگیا۔ مگر اس کی شہرت کی وجہ صرف یہ نیم پاگلانہ حرکتیں نہیں تھیں۔ اس نے حساب کے میدان میں جو کام کیا اس نے صرف حساب کو ہی نہیں ہلایا پوری کائنات کو نامکمل کر دیا۔ اس شخص کا نام کرٹ گوڈیل تھا۔ اسے بیسویں صدی کا سب سے بڑا حساب دان اور آئن سٹائن کے بعد سب سے بڑا دماغ کہا جاتا ہے۔
باقی حساب دانوں کے برعکس گوڈیل خدا پرست تھا۔ وہ ذاتی خدا پر یقین رکھتا تھا۔ مرنے سے پہلے کرٹ گوڈیل خدا کے وجود کو حتمی طور پر ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس نے خدا کے وجود کے لیے آنٹولاجیکل ثبوت پر کچھ نئے زاویے پیش کیے ہیں۔ پچھلی کئی صدیوں سے آنسلم، کانٹ، ڈیکارٹ، اور لیبنیز جیسے بڑے فلسفیوں نے اس مسئلے پر کام کیا۔ گوڈیل کے اس کام کو فلسفی جانچ رہے ہیں اور اس پر بحث کر رہے ہیں۔ خدا کے وجود کے فلسفیانہ مسائل تو گزشتہ تین ہزار سال سے چل رہے ہیں اور شاید قیامت تک چلنے ہیں۔ ابھی تک کوئی حتمی رائے نہیں آ سکی، اسی لیے فلسفیوں کو کوئی جلدی نہیں ہے۔
گوڈیل کو اصل کام کائنات کی ناتکمیلیت کا ہے۔ اس نے جوانی میں دو پیپر لکھے جو اپنی علمیت اور خوبصورتی کا ایک شاہکار ہیں۔ وہ بالکل ایسے تھے جیسے کوئی پینٹنگ ہو جو آرٹ کی فلاسفی کو بھی بیان کر رہی ہو۔ یا ایک ناول ہو جو ادب کی تنقید کے اصول بھی بیان کر رہا ہو۔ گوڈیل نے بیک وقت حساب اور مابعدالحساب کے مسئلے کو حل کیا۔ اس نے یہ ثابت کیا کہ حساب ایک نامکمل سسٹم ہے۔
تفصیلات تو طویل اور پیچیدہ ہیں مگر اس کے کام سے یہ نتیجہ بھی نکلا کہیہ کائنات ابھی نامکمل ہے۔ یہ کائنات اپنے وجود کو اپنے اندر سے ثابت نہیں کر سکتی۔ اس کو اپنے وجود کو ثابت کرنے کے لیے کسی غیر فطری بیرونی وجود کی ضرورت ہے۔ اور وہ بیرونی وجود خدا کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا۔
شاید اقبال کو اس حقیقت کا ادراک تھا
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کُن فیکون
تو بات یہ ہے کہ کائنات کے ہر واقعہ اور زندگی کو اس کے اندر سے دیکھو گے تو بے معنی ہی نظر آئے گی۔ اس کا معنی اس سے باہر ہے۔ جو چیز اس کائنات سے باہر ہے وہ اس کا غیب ہے۔ اسی غیب کی خبر ہمیں وحی کے ذریعے دیی گئی جس پر ایمان ضروری ہے۔
اب حقیقت حال صرف خدا کو معلوم ہے۔ ہم انسانوں سے تھوڑے سے ضروری غیب پر ایمان کا تقاضا کیا گیا۔ یہی غیب ہماری زندگی اور اس کائنات کو معنی دیتا ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں آزادی دی گئی کہ ہم اپنی زندگی کو جیسے چاہے گزاریں۔
ذرا سوچو تمھیں تمھاری زندگی کی ہر بات کی توجیح پہلے سے بتا دی جاتی تو تمھارے لیے اس سے بڑا جبر کیا ہوتا۔ تمھیں باقی تمام معاملات میں سوچنے اور عمل کرنے کے لیے آزاد چھوڑا۔ صرف خدا کے وجود کو ماننے کا تقاضا کیا گیا۔
یہ جو تم ہر وقت کہتے ہو کہ زندگی بے معنی ہے، یہ بھی تو ایک ایسی پوزیشن ہے جیسے تم کائنات کی ساری حقیقت جان چکے ہو۔
بات پھر وہی ہے تیمور یہ مسئلہ دلیل کا نہیں ہے۔ میں جو بھی دلیل دوں گا اس کے مقابلے کی دلیل مل جائے گی۔ آئیڈیاز اور زبان کی دنیا میں کوئی چیز حتمی نہیں ہوتی۔ مسائل چلتے رہتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں زندگی مختصر ہے۔ وجودی مسئلے کا حل خدا کو مان لینے میں ہی ہے۔
میں تم سے مخلصانہ طور پر یہی کہوں گا کہ اپنے ذہن اور جذبات کے فریب سے باہر آ جاؤ اور علم کا سفر جاری رکھو۔ سب کچھ پڑھو اور پر چیز پر تنقید کرو، کم علمی میں کوئی حتمی رائے قائم نہ کرو۔
خدا ہی حتمی حقیقت ہے۔ اسے ماننا ہی ایک مضبوط علمی و جذباتی مؤقف ہے
خدا کو نہ ماننا عزر ہے، یہ کوئی مؤقف نہیں، نہ مان سکنے کی بے چارگی ہے۔
ان کے آخری الفاظ کے ساتھ ہی زمانہ رک گیا۔ ایسی کیفیت مجھے آج سے پہلے کبھی محسوس نہیں ہوئی۔ جیسے کائنات پھیلنا بند ہو گئی۔ ذہن کی دنیا تلپٹ ہو گئی۔ نہ ہی کوئی آواز ہے نہ احساس۔
میں شروع میں تو ایک نہ ماننے والے رویے کے ساتھ بیٹھا تھا۔ لیکن ان کی باتیں میرے دل میں اترتی چلی گئیں۔ ایسی بات نہیں ہے کہ میں نے یہ باتیں کبھی کتابوں میں نہیں پڑھیں یا سنی نہیں۔ لیکن آج یہ باتیں کسی اور ہی زاویے سے سمجھ آنے لگیں۔
گھٹن اور بے چینی ختم ہو گئی۔ جیسے زندگی کے لامحدود امکانات کھل گئے ہوں۔
میں پتا نہیں کتنی اس حالت میں بیٹھا رہا۔ میرے اندر جیسے کوئی کشتی طوفان سے بچ کر محفوظ کنارے پر آلگی ہو۔ میں ساحل کی ٹھنڈی ریت پر سکون سے لیٹا آسمان پر روشنی کو دیکھنے لگا۔
جیسے میں اب بھی دریا کی سطح پر پانی کا ایک بلبلہ ہوں مگر بے مقصد نہیں۔ کوئی ہے جس نے مجھے اور اس دریا کو ایک خاص منصوبے کے تحت بنایا ہے۔ میں نے ایک گہری سانس لے کر آنکھیں کھولیں تو بابا جی مسکراتے ہوئے مجھے دیکھنے لگے۔
بابا جی ہاتھ آگے بڑھائیں میں فوراً آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنا چاپتا ہوں۔
نہیں تیمور! میں یہ بیعت وغیرہ کو نہیں صرف استاد شاگرد کے رشتے کو مانتا ہوں، وہ بھی اس طرح کے شاگرد استاد سے زیادہ حق بات اور علم کو اہمیت دے۔ یہ پیری مریدی، اور خانقاہوں کے ڈراموں نے بہت بگاڑ ڈالا ہے۔
علم جہاں سے بھی ملے لے لو، اور جو بھی علم سکھائے اسے استاد مان لو۔ پر بابا جی میں آپ کے علم سے زیادہ آپ کی شفقت اور محبت کی وجہ سے شاگردی اختیار کرنا چاہتا ہوں۔ علم بانٹنے والے تو بہت مگر خلوص، محبت اور شفقت بانٹنے والے نہیں ملتے۔ مجھے تو تمام بابوں اور اہل علم تکبر، نفرت اور بے زاری بانٹتے ملے ہیں،
بابا جی آزردہ لہجے میں بولے۔
بیٹا بس کوشش یہی ہے کہ کسی طرح نبی پاکﷺ کی رحمت و شفقت کے اسوہ کی مقدور بھر پیروی کر سکوں۔ اب اللہ میرے نقائص سے درگزر فرمائے۔ اگر تم شاگرد بننے پر اتنے ہی مصر ہو تو پھر میری ایک شرط ہے۔
وہ کیا، بابا جی؟ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اس لڑکی سے شادی کر لو۔
میں نے چونک کر بابا جی کو دیکھا۔
آپ کس لڑکی کی بات کر رہے ہیں۔ میں نے بھی انجان بنتے ہوئے کہا۔
وہی جس کی فکر میں پچھلے کئی مہینوں سے بے چین ہو۔ اشفاق نے کئی بار اس کا ذکر کیا ہے۔
میں جانتا ہوں تم اس لڑکی کے لیے اپنے جذبات کو کچل رہے ہو۔ محبت تم پر دروازے کھولنا چاہتی ہے اور تم اسے بند کر رہے ہو۔
آہ بابا جی اب میں مزید کسی جھمیلے میں نہیں پڑنا چاہتا،
ایک محبت کافی ہے
باقی عمر اضافی ہے
کہتا ہے یہ چپکے سے کون
جینا وعدہ خلافی ہے
یار باقیوں نے تمھیں چھوڑا، اس معصوم لڑکی کو تم چھوڑنا چاہتے ہو۔
پر بابا جی اس کی یاداشت واپس آتے ہی وہ خوشی خوشی اپنے گھر چلی جائے گی۔ اسے میری ضرورت محسوس نہیں ہو گی۔ شاید اس کی زندگی کی کوئ اپنی محبت بھی ہو۔
نہیں تیمور تمھاری جدائی کا زخم وہ کبھی نہیں بھول پائے گی۔
اس کی ذات کی تکمیل تمھارے ساتھ اور تمھاری ذات کی تکمیل اس کے ساتھ ہے۔ تمھاری چھوٹی سے کائنات اس کے بنا نامکمل ہے۔ وہ تمھاری کائنات کا غیر ہے۔ وہ ہی تمھاری اس بے مقصد زندگی کو معنی دے گی۔
یاداشت واپس آتے ہی اس کے پرانے زخم بھی لوٹ آئیں گے۔ ان زخموں پر تم ہی نے مرہم رکھنا ہے۔
میں کچھ دیر سوچ میں پڑ گیا۔
اشفاق کچھ دیر میں اسے لے کر آ رہا ہے، مجھے فوراً تم دونوں کا نکاح پڑھوانا ہے۔ مجھے یقین ہے تم انکار نہیں کرو گے۔ میرے پاس وقت بہت کم ہے۔
میرے مرنے پر زیادہ افسوس کرنے کی ضرورت نہیں۔ ایک بے نام سی قبر میں دفنا دینا۔ اس دنیا میں ہمارا نہیں صرف اللہ کا نام باقی رہنا چاہیے۔
یہ بابا جی تو میری اندر باہر کی دنیا ایک ہی وقت میں تہ وبالا کرنے کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔
پر بابا جی اس لڑکی سے تو پوچھ لیں، اسے منظور ہے یا نہیں؟ ویسے بھی مجھے نہیں پتا یہ لڑکی کون ہے؟ اور اس کی کیا کہانی ہے؟
بابا جی کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔
٭٭٭
ختم شد
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: گوہر شہوار

Read More Articles by گوہر شہوار: 23 Articles with 14468 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Apr, 2018 Views: 1223

Comments

آپ کی رائے
great. Novel...keep it up
please upload the next episode. Waiting desperately for it..

Thanks,
By: Tehzeeb, Jubail-Saudi Arabia on Apr, 18 2018
Reply Reply
0 Like
BUHAT AALA
By: uzma ahmad, Lahore on Apr, 10 2018
Reply Reply
0 Like
zbrdast buht gehra utalea hai philsophy and life k mutaliq really impressive novel too much interesting buht achha laga aik mukamal aur khubsurat novel
JAZAK ALLAH HO KHAIR
GOOD LUCK FOREVER
BE HAPPY AND STAY BLESSED ALWAYS
By: uzma ahmad, Lahore on Apr, 10 2018
Reply Reply
0 Like
So Nice of you to like and appreciate Uzma,,
By: گوہر شہوار, karachi on Apr, 11 2018
0 Like