حفاظ کی شہادت

(Prof Akbar Hashmi, Rawalpindi)

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون۔ خالق و معبود کائینا ت کا فرما ن ہے کہ اس قرآن کو ہم نے نازل فرمایا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔صلیبی اور یہودی قرآن کو غائب کرنے کی سازش کرتے رہتے ہیں۔ مسلمان حکمرانوں کی بے غیرتی اور بے حسی ، دین سے دوری اور امریکہ برطانیہ کی پوجا نے یہ برے دن دکھائے کہ صلیبی خبیث امریکہ اور اسکے اتحادی صلیبی ہمارے مدارس اور ہماری مساجد پر بمباریا ں کررہے ہیں۔جب تک خلافت تھی ان کی جرات نہ تھی۔ پہلی جنگ عظیم میں خلافت ترکیہ کے حصے بخرے کیئے گئے اور بعد میں آزادیا ں دینا بھی سازش کی منصوبہ بندیاں تھیں۔ جو خلافت میں صوبے تھے اور سلطان ترکی کے ماتحت تھے وہ علیحدہ ملک بناکر اتحاد مسلم کو پارہ پارہ کیا گیا۔ فلسطین میں یہودی ریاست صلیبیوں کی سازش ہے۔ اس وقت مسلمان ایٹمی قوت رکھتے ہیں چین و روس جیسے طاقتور ملک دوست بھی ہیں لیکن پھر بھی ہمارے حکمران اور سیاستدان امریکہ کو سجدے کرتے ہیں۔ دنیا میں اس قدر بزدل حکمران صرف مسلمانوں کو ملے ہیں۔ عراق کو تارج کیا گیا، کوئی نہیں بولا، سعودی خاندان صلیبیوں کا ایجنٹ ہے۔ افغانستان میں خلافت طرز کی قائم حکومت کا تارج کیا گیا کہ کہیں خلافت قائم کرکے مسلمان متحد نہ ہوجائیں۔افغانستان میں مسلمانوں پر آگ برسائی گئی اور ابھی قرآن پاک کے حافظوں پر بمباری صرف قرآن دشمنی میں کی گئی۔ تو کیا امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ ان حفاظ کی شہادت کے بعد قرآن دنیامیں باقی نہیں رہے گا۔ او خبیث امریکہ و اتحادی! سن لو قرآن کروڑہا لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہے ، تمہارے کتبخانوں میں ہے، قندوز کے مدرسے میں آئیندہ کئی گنا حفاظ پیدا ہونگے۔ مسلمان حکمرانو! غیر ت کرو، امریکہ خبیث سے سفارتی تعلقات ختم کرو۔ متحدہ فوج بنا کر صلیبیوں و یہودیوں کو مزہ چکھا دو۔ یہ خوبصورت حفاظ بچے اپنے رب کی جنتو ں میں پہنچ چکے۔پھول کھلنے نہ پائے کہ مرجھا گئے۔ان کا کام عمدہ انکی موت عمدہ ، انکے ماں باپ کا صبر عمدہ، ذلیل امریکہ اور اتحادی اور بے غیرت مسلمان حکمران دنیا و آخرت میں عذابِ الٰہی کا شکار ہونگے۔ امریکہ سے احتجاج نہیں بلکہ قصاص لینا ہے۔ مجاہدین اسلام خود موقع اور جگہ کا انتخاب کرکے امریکیوں کو مزہ چکھاتے رہنا۔ اس قصاص کی کوئی حد نہیں۔آپس میں صلح رکھو ، اپنوں کے خلاف کاروائیاں ہر گز نہ ہوں۔ خلافت و دستورِ اسلام پائیندہ باد۔ مسلم امہ زندہ باد۔ دعا گو

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: AKBAR HUSAIN HASHMI

Read More Articles by AKBAR HUSAIN HASHMI: 146 Articles with 82158 views »
BELONG TO HASHMI FAMILY.. View More
09 Apr, 2018 Views: 339

Comments

آپ کی رائے