سانحہ گل پلازہ: آگ پھیلی کیسے؟

سانحہ گل پلازہ: آگ پھیلی کیسے؟
حسیب اعجاز رعاشرؔ
سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کی تعداد 26 تک پہنچ جانا اجتماعی ضمیر کے جلنے کی داستان ہے۔ یہ افراد کسی قدرتی آفت کا شکار نہیں ہوئے، بلکہ ایک ایسے نظام کی نذر ہو گئے جو برسوں سے لاپرواہی، بے حسی اور مجرمانہ خاموشی پر کھڑا ہے۔ ہر لاش اپنے ساتھ ایک سوال لے کر نکلی ہے، مگر ہم حسبِ روایت ان سوالات کے جواب دینے کے بجائے الزام تراشی کے شور میں گم ہیں۔ کوئی حکومت کو کوس رہا ہے، کوئی شارٹ سرکٹ کو موردِ الزام ٹھہرا رہا ہے، کوئی کہتا ہے ایمبولینس دیر سے پہنچی، کوئی فائر بریگیڈ کی تاخیر پر غصہ نکال رہا ہے۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ، مگر اصل سوال ان سب سے بڑا اور زیادہ اہم ہے: پلازے میں آگ لگی تو لگی، مگر وہ پھیلی کیسے؟
گل پلازہ کراچی کے ان تجارتی مراکز میں شمار ہوتا تھا جہاں روزانہ ہزاروں افراد آتے تھے۔ تھوک اور پرچون کا مرکز، زندگی اور روزگار کی علامت۔ مگر چند ہی گھنٹوں میں یہ عمارت راکھ کا ڈھیر بن گئی۔ سامنے آنے والی تفصیلات شرمندگی کا سامان ہیں۔ انکشاف ہوا ہے کہ نقشے کے برخلاف خارجی راستوں اور پارکنگ ایریا میں مجموعی طور پر 179 دکانیں خلافِ ضابطہ تعمیر کی گئیں۔ وہ راستے جو زندگی کی طرف لے جاتے ہیں، وہی راستے دکانوں، شٹرز اور تجاوزات کی نذر ہو گئے۔ افسوس صد افسوس کہ یہ غیر قانونی تعمیرات آگ کے دن انسانوں کے انخلا کی راہ میں فولادی دیوار بن گئیں۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دستاویزات چیخ چیخ کر گواہی دے رہے ہیں کہ اس عمارت کے ساتھ کیا کیا کھلواڑ ہوا۔شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق نقشے میں بیسمنٹ سمیت تین منزلوں کی اجازت تھی، مگر وقت کے ساتھ ساتھ اضافی منزلیں بنائی گئیں، پارکنگ ایریا کو دکانوں میں بدل دیا گیا، چھت کو پارکنگ بنا دیا گیا، اور پھر 2003 میں ان سب بے ضابطگیوں کو ریگولائز بھی کر دیا گیا۔ یعنی جرم پہلے ہوا، پھر قانون نے اس پر مہر ثبت کر دی۔ نقشے میں 1021 دکانوں کی اجازت تھی، مگر عملاً 1200 دکانیں تعمیر ہوئیں۔ یوں 179 دکانیں محض اضافی نہیں تھیں، بلکہ یہ اس نظام کا ثبوت تھیں جو انسانی جان سے زیادہ اینٹ، سیمنٹ اور منافع کو عزیز رکھتا ہے۔
یہ کہنا کہ آگ کی وجوہات تحقیقات کے بعد سامنے آئیں گی، ایک رسمی جملہ ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ آگ کس دکان میں لگی، اصل سوال یہ ہے کہ آگ نے چند منٹوں میں دوسری، تیسری اور چوتھی منزل کو کیسے لپیٹ میں لے لیا۔ اگر فائر سیفٹی کے تقاضے پورے کیے گئے ہوتے، اگر فائر الارم نصب ہوتے، اگر خودکار اسپرنکلر سسٹم ہوتا، اگر ہر دکان میں آگ بجھانے والے سلنڈر موجود ہوتے، اور اگر خارجی راستے واقعی خارجی ہوتے، تو شاید یہ آگ ایک حادثے تک محدود رہتی، سانحہ نہ بنتی۔
دنیا کے مہذب ممالک میں بھی آگ لگتی ہے، مگر وہاں آگ انسانوں کو یوں نہیں نگلتی۔ جاپان میں عمارت لرزتی ہے مگر انسان محفوظ رہتا ہے، جرمنی میں آگ لگتی ہے مگر سسٹم جاگ اٹھتا ہے، برطانیہ میں الارم صرف شور نہیں مچاتا بلکہ اداروں کو خودکار نظام کے تحت حرکت میں لے آتا ہے۔ وہاں فائر بریگیڈ کو راستہ دینا پڑتا ہے، یہاں فائر بریگیڈ خود راستہ ڈھونڈتی ہے۔ وہاں ایمرجنسی ایگزٹ عبادت کی طرح مقدس ہوتے ہیں، یہاں وہ دکانوں کی نذر ہو جاتے ہیں۔
کراچی کی تاریخ آتشزدگی کے سانحات سے بھری پڑی ہے۔ 2015 میں ریجنٹ پلازہ، 2021 میں گورنگی کی فیکٹری، 2023 میں مہران ٹاؤن، آر جے شاپنگ مال، عرشی شاپنگ مال، کوآپریٹو مارکیٹ اور وکٹوریہ سینٹر ہر سانحہ ہمیں یہی سبق دیتا رہا، مگر ہم نے سبق سیکھنے سے انکار کر دیا۔ ہر بار لاشیں گرتی رہیں اور فائلیں بنتی رہیں۔ ہر بار کمیٹیاں بنیں اور سفارشات الماریوں میں دفن ہو گئیں۔
سانحہ گل پلازہ کے بعد سندھ اسمبلی میں شور بھی ہوا، نعرے بھی لگے، واک آؤٹ بھی ہوا، بیانات بھی آئے۔ کوئی کہتا ہے معاملے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے، کوئی کہتا ہے استعفے دیے جائیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ برسوں سے اقتدار میں رہنے والے، اتحادی بن کر فوائد اٹھانے والے، وزارتیں لینے والے آج کیسے ہاتھ جھاڑ سکتے ہیں؟ پیپلز پارٹی ہو یا ایم کیو ایم، یا دیگر اتحادی جماعتیں سب اس نظام کا حصہ رہے ہیں۔ اب سب ایک دوسرے پر الزام رکھ کر تاریخ سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔
ایک کروڑ روپے کا معاوضہ انسانی جان کی قیمت نہیں ہو سکتا۔ یہ رقم ضمیر کو مطمئن کرنے کا ذریعہ تو بن سکتی ہے، مگر انصاف کا بدل نہیں۔ اصل انصاف تب ہوگا جب یہ طے ہوگا کہ 179 غیر قانونی دکانیں کس نے بنوائیں، کس نے اجازت دی، کس نے آنکھ بند کی، اور کس نے فائل پر دستخط کیے۔ اصل انصاف تب ہوگا جب بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز، فائر ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ وزراء سے سوال ہوگا، نہ کہ صرف بیانات سے معاملہ رفع دفع کیا جائے۔
گل پلازہ میں لگنے والی آگ درحقیقت اپنے نظام کی ناکامی ہے جہاں انسپیکشن کاغذوں میں مکمل ہو جاتی ہے، جہاں قوانین طاقتور کے لیے نرم اور کمزور کے لیے سخت ہوتے ہیں، اور جہاں سانحات کے بعد بھی ذمہ دار محفوظ رہتے ہیں۔ جب تک ہم یہ سوال زندہ نہیں رکھیں گے کہ آگ پھیلی کیسے، اس وقت تک ہر آنے والا سانحہ ہماری اجتماعی ناکامی کا تسلسل رہے گا۔ اگر آج بھی ہم نے احتساب کا مطالبہ نہ کیا تو کل کسی اور پلازے، کسی اور فیکٹری یا کسی اور عمارت میں یہی آگ کسی اور خاندان کو اجاڑ دے گی، اور ہم ایک بار پھر صرف افسوس کے چند جملوں پر اکتفا کریں گے۔ بات افسوس سے آگے بڑھ کراب جواب مانگنے کا ہے، کیونکہ خاموشی اب جرم بن چکی ہے۔آئیں مل کر ایوانِ اقتدار سے سوال کریں کہ آگ پھیلی کیسے؟
Haseeb Ejaz Aasghir | 03344076757
Haseeb Ejaz Aashir
About the Author: Haseeb Ejaz Aashir Read More Articles by Haseeb Ejaz Aashir: 162 Articles with 165412 views https://www.linkedin.com/in/haseebejazaashir.. View More