حقوق انسانی کا مصنوعی واویلا

(Prof Masood Akhtar Hazarvi, )

زمین کا چپہ چپہ خون مسلم سے رنگین ہے کوئی دن نہیں گزرتا جب مسلمانوں کی کسی آبادی میں ظلم و ستم کی کوئی نئی داستان نہ رقم ہو رہی ہو ۔ نہ جانے عصر حاضر کے فراعین کے سینے اور کتنے بے گناہوں کے خون سے ٹھنڈے ہوں گے۔ البتہ حالیہ کچھ دنوں کے واقعات بہت ہی پریشان کن اور افسوسناک ہیں۔ اسرائیل فلسطینی مسلمانوں پر عرصہ دراز سے ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔ ہر سال، دو سال بعد ہزاروں فلسطینی بچوں، عورتوں، مردوں اور جوانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔ پچھلے دنوں حماس کے رہنما اور سابق وزیر اعظم اسمائیل ہانیہ کی قیادت میں فلسطینی عوام متنازع سرحد تک پر امن مارچ کر رہے تھے جس میں لاکھوں لوگ شریک تھے اس سرحد پر فلسطینیوں نے پانچ احتجاجی کیمپ بھی لگائے۔اس مارچ میں زیادہ تعدادنوجوانوں کی تھی البتہ خواتین اور بچے بھی شریک تھے ۔اسرائیل نے ان نہتے فلسطینیوں پر اندھا دھند گولیاں برسائیں اور ڈرون طیاروں کے ذریعے آنسو گیس کے گولے پھینکےجس سےسترہ فلسطینی شہید اور پندرہ سو سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ اس ظلم و بر بربریت کے مناظر ساری دنیا کے حقوق انسانی کے ٹھیکیدار دیکھتے رہے لیکن ان کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ وجہ صاف ظاہر ہے کیونکہ مرنے والے مسلمان ہیں۔ ابھی ہم اس درد و غم کے جذبات سے باہر نہ نکلے تھے کہ بھارتی درندوں نے اگلے ہی دن مقبوضہ کشمیر کو خون سے نہلا کر 15 لوگوں کو شہید کردیا۔ بھارت عرصہ دراز سے کشمیر میں انسانیت سوز مظالم کا مرتکب ہو رہا ہے لیکن اب تو انتہا ہی ہوگئی۔ حالیہ دنوں میں سینکڑوں کشمیری بچوں، عورتوں اور جوانوں کو سینوں اور چہروں پر گولیاں برسا کر شہید اورزخمی کیا جا چکا ہے۔ اس درد کا احساس اور کسک ابھی باقی تھی کہ افغانستان کے صوبہ قندوز کے ضلع دشت ارچی میں مسجد و مدرسہ دارالعلوم الہاشمیہ پر امریکہ نے فضائی حملہ کرکے ایک سو ایک حفاظ کرام بچوں سمیت سینکڑوں افراد کو خاک و خوں میں تڑپا دیا۔ ان بچوں کے والدین نہ جانے آنکھوں میں کتنے سپنے سجائے بیٹھے تھے۔ کتنی محنت اور شوق فراواں سے ان بچوں نے نو عمری میں قرآن مجید حفظ کیا ہوگا۔ ان نونہالوں کے پھول جیسے چہرے، سروں پہ دستار فضیلت، ہاتھوں میں سند فراغت، سینوں میں قرآن پاک اور پاس پڑے اعزا اقارب کے محبت بھرے تحفے دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ارے ظالموں! اس سارے خون کا حساب ایک دن تمہیں دینا ہوگا۔ ان بچوں کا قصور کیا تھا؟ صرف یہ کہ مسلمان اور حافظ قرآن بچے تھے اور وہاں موجود اہل علم کے چہروں پر سنت رسولﷺ سجی تھی۔ اگر خدا نخواستہ یہی کام کوئی مذہبی حلیے کا شخض کردیتا اور مرنے والے لبرلز یا غیر مسلم ہوتےتوکیا پھر بھی حقوق انسانی کا واویلا کرنے والی "آنٹیاں" اور "انکل" اسی طرح خاموش رہتے جس طرح اب ان کی زبانیں گنگ اور حقوق انسانی کے پرچار والے بینرز اور موم بتیاں غائب ہیں؟ راقم ان دنوں فیملی کے ساتھ عمرہ کی ادائیگی کیلئے حرمین شریفین میں ہے اور مکہ مکرمہ سے یہ سطور لکھ رہا ہے۔ لوگوں کا جم غفیر والہانہ انداز میں عبادات میں مصروف ہے۔ رو رو کر اپنے فلسطینی، کشمیری، برمی، شامی، افغانی بھائیوں اور دنیا بھر کے مظلوموں کیلئے اللہ سے مدد طلب کر رہے ہیں۔ اہل ایمان خصوصا نوجوانوں کے یہ جذبے امید کی کرن ہیں۔ مشکل وقت میں ظالموں کے ظلم سے نجات کی دعائیں کرنا سنت انبیاء ہے۔ اللہ نے ان پاکیزہ ہستیوں کی دعاؤں کو سنا اور ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچایا ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسوہ انبیاء علیھم السلام کو سامنے رکھتے ہوئے دعاؤں کے ساتھ ساتھ اپنے کردار و عمل سے حالات تبدیل کرنے کی کوشش اور جدوجہد بھی کریں۔ بد قسمتی سے مایوس کن کردار دورحاضر اور ماضی قریب کے مسلم حکمرانوں کا ہے جن کی بے حسی، بے دینی اور غیر دانش مندانہ پالیسیوں نے پوری امت کو رسوا کر کے رکھ دیا ہے۔ تاریخ انسانی گواہ ہے کہ دنیا میں بڑے بڑے ظالم اور جابر حکمران آئے۔ ایک نہ ایک دن ان کا ظلم اور وہ خود بھی مٹ گئےان کی مادی طاقتوں کے غرور مٹی میں مل گئے۔ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ذلت و رسوائی ایسی مقدر بنی کہ ان کے نام بھی گالی کی علامت بن گئے۔ وقت کے "فرعونوں" کی پرانی روش ہے کہ مسلمان گھر میں پیدا ہونے والے ہر بچے میں انہیں کوئی نہ کوئی "موسیٰ" دکھائی دیتا ہے۔ بے دردی سے ان بچوں کو قتل کروا دیتے ہیں لیکن انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ظلم کی ایک حد ہے باآخر اسے مٹنا ہی ہوتا ہے۔ ظالموں کے مقدر میں آخر کار رسوائی ہے۔ وہ احکم الحاکمین چاہے تو سولہ سو سالہ فراعین مصر کے ظلم کا خاتمہ کرنے کیلئے موسیٰ علیہ السلام کی فرعون کے گھر میں پرورش کروا کر بنی اسرائیل پر صدیوں سے جاری ظلم کا خاتمہ کر دے۔ بقول اقبال۔
مصر و بابل مٹ گئے باقی نشاں تک بھی نہیں
دفتر ہستی میں ان کی داستاں تک بھی نہیں
آ دبایا مہر ایراں کو اجل کی شام نے
عظمت یونان و روما لوٹ لی ایام نے

دور حاضر کے جن فرعونوں اور نمرودوں سے ہمیں واسطہ ہے ان کی عجیب بات یہ کہ وہ ظالم ہونے کے ساتھ ساتھ شاطر اور دھوکے باز بھی ہیں۔ انسانوں کو صبح و شام بے دردی سے قتل کرتے ہیں اور ساتھ واویلا حقوق انسانی کا کرتے ہیں۔1948 سے ہر سال اقوام متحدہ کے زیر نگرانی 10 دسمبر کو Human rights day مناتے ہیں۔ ہر سال 20 نومبر کو 1954 سے United Nations Universal Children’s Day بھی منایا جاتا ہے۔ 14 نومبر کو ہر سال ہندوستان میں بھی Childrenʼs day کی سرکاری سطح پر تقریبات ہوتی ہیں۔ شور و غوغا عام انسانوں اور بچوں کے حقوق کی پاسداری اور تحفظ کا لیکن عملا عراق، افغانستان، برما، فلسطین و کشمیر میں ظلم و ستم کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔ پھول جیسے مسلمان بچوں کو درد ناک طریقوں سے قتل کر کیا جا رہا ہے۔ کیا کوئی زندہ ضمیر انسان ان کرتوتوں کے بعد "انسانی حقوق" اور "بچوں کے تحفظ" کا دن منانے کا نام بھی لے سکتا ہے۔ہر گز نہیں۔ یقینا نہیں۔ لیکن آج کے "حقوق انسانی کے مردہ ضمیر چیمپئن" یہ ظلم کر رہے ہیں۔ کھلی آنکھوں دیکھ رہے ہیں یا مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ہر سال جوش و خروش کے ساتھ یہ دن بھی منا رہے ہیں۔ انہیں حقوق انسانی صرف اس وقت یاد آتے ہیں جب اپنے دفاع کیلئے کارروائی کرنے والا مسلمان ہو اور مرنے والا غیر مسلم۔ دنیا کے نقشے پر نظر دوڑائیں تو واضح نظر آتا ہے کہ آج مسلم دنیا کی ایک بہت بڑی آبادی مختلف خطوں میں محکومی کی زندگی بسر کر رہی ہے، بات مقبوضہ کشمیر کی ہو، فلسطین کی ہو، برما کی ہو، افغانستان، عراق، لیبیا، مصر یا پھر شام کی ہر طرف انسانی حقوق بُری طرح پامال ہو رہے ہیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں محض سروے اور رپورٹس تیار کرتی رہتی ہیں کہ فلاں ملک میں اتنے لوگ قتل ہوئے اور فلاں ملک میں اتنے لوگ غربت کا شکار ہیں۔ کبھی بھی ہم لوگوں نے یہ خبر نہیں سُنی کہ امریکہ نے آج تک دنیا میں کتنے لوگوں کو جنگ کے یا امن کے بہانے قتل کیا، چاہے دوسری جنگ عظیم میں جاپان کے دو شہروں کو صفحہء ہستی سے مٹانے کی بات ہو یا پھر عراق اور افغانستان میں براہ راست جنگ کے ذریعے بے گناہ لوگوں کا قتل عام ہو، کوئی بھی ایسی رپورٹ آج تک منظر عام پر نہ آ سکی کہ جس سے امریکہ یا پھر کسی اور طاقتور ملک کا قصور ثابت ہو سکے۔ بھول چوک سے کوئی رپورٹ سامنے آ بھی جائے تو اسے غائب کر دیا جاتا ہے ۔ اقوام متحدہ کے قیام کا واحد مقصد انسانیت کی خدمت تھا لیکن بد قسمتی سے وہ بھی طاقتور ممالک کی فرمانبردار لونڈی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں کروڑوں انسانی جانیں ضائع ہونے کے بعد اسے بنایا گیا تھا تاکہ مستقبل میں جنگوں کے ذریعے انسانی جانوں کا ضیاع روکا جائے۔ لیکن اس کے معرض وجود میں آنے کے بعد بھی بیسیوں جنگیں ہو چکی ہیں اور لاکھوں لوگ موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں جن میں خاصی تعداد صرف مسلمانوں کی ہے۔ اس وقت بھی دنیا کے کونے کونے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں۔ پچھلی دو دہائیوں کی اگر بات کی جائے تو پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو کہ سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار ہوا۔ امریکہ نے اپنے مفاد میں افغانستان پر چڑھائی کی تو اس کا سب سے زیادہ اثر پاکستان پر ہی پڑا جہاں لاکھوں بے گناہ لوگ مارے گئے مگر جنگ کی اصل وجوہات آج تک سامنے نہ آ سکیں۔ حالات کی ستم ظریفی یہ ہے کہ امریکہ آئے روز پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ دہراتا چلا جا رہا ہے۔ کیا امریکہ اپنے ملک کو محفوظ بنانے اور اپنے لوگوں کے تحفظ کی خاطر دنیا بھر کے انسانوں کو انسان بھی نہیں سمجھتا؟ کیا یہاں بسنے والے انسانوں کے حقوق نہیں کہ جن کا تحفظ کیا جائے؟ اگر واقعی انسانی حقوق کے علمبردار اور چیمپئین اپنے سوا دوسروں کو بھی انسان سمجھتے ہیں تو پھر ان کے "انسانی حقوق" کا بھی تحفظ کریں۔ ظلم و ستم کو روکیں اور حقداروں کو ان کا حق دلائیں بصورت دیگر روز روز کا حقوق انسانی کا واویلا مچانا اور ڈھونگ رچانا چھوڑ دیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Masood Akhtar Hazarvi

Read More Articles by Prof Masood Akhtar Hazarvi: 197 Articles with 126616 views »
Director of Al-Hira Educational and Cultural Centre Luton U.K., with many years’ experience as an Imam of Luton Central Mosque. Professor Hazarvi were.. View More
09 Apr, 2018 Views: 631

Comments

آپ کی رائے