زندگی اور موت سے کھیلو پٹھانوں کی طرح

(Raja Javed Ali Bhatti, )

فیس بک پر ایک ویڈیو دیکھنے کا موقع ملا جس میں پشتون تحفظ تحریک کے منظور پشین نعرہ زن تھے ’’یہ جو دہشت گردی ہےاس کے پیچھے وردی ہے‘‘ مجھے انتہائی حیرت ہوئی اور منظور پشین کی ہرزہ سرائی پر افسوس بھی ہوا کیونکہ فاٹا اور قبائلی علاقہ جات میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن و خوشحالی کی بحالی کے لئے پاک فوج کی قربانیاں لازوال اور بے مثال ہیں۔ پٹھانوں کا دفاع پاکستان کے لئے کردار قابل ذکر ہے اسی لئے میں نے اپنے ایک قطع کو پٹھانوں کے نام کیا ہے جو کچھ یوں ہے۔
زندگی اور موت سے کھیلو پٹھانوں کی طرح
لمحہ لمحہ جاوداں کر دو زمانوں کی طرح
اے وطن میں تیری مٹی کا بہت مقروض ہوں
میں مجاہد ہوں تیرا فوجی جوانوں کی طرح

منظور پشین کے ایک ویڈیو میں سٹیج پر پاک فوج کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے منظر کو عیاری اور غداری کے تناظر میں جب جانچا تو پتہ چلا کہ انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق کہ منظور پشین کے سپورٹرز کی آئی ڈیز کو جب چیک کیا گیا ہے تو پتہ چلا کہ یہ سب انڈین انٹیلی جنس ’’را‘‘ اور افغانستان کے لوگ ہیں۔ جو پاکستانی پشتون بن کر سوشل میڈیا پر مہم چلا رہے ہیں۔ منظور پشین کو فوراً ہی افغانستان سے امداد کا ملنا اور افغان صدر اشرف غنی کا اس کی حمایت میں بول اُٹھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اُسے افغانستان اور اس کے وقتی آقا بھارت سے امداد مل رہی ہے۔ کابل میں اس کے حق میں مظاہرہ ہونا بھی اس کو دنیا کے سامنے لاکر پاکستان میں نئے مسائل کو اٹھانے کی ایک کوشش تھی۔ منظور پشین ایک عام پاکستانی شہری ہے اس ملک میں ہر سہولت کا فائدہ اٹھا رہا ہے وہی وزیرستان جو صدیوں میں وہ ترقی نہیں کرسکا جو اب وہ کررہا ہے۔ یہاں گزشتہ روز کرکٹ کا ایک بہت بڑا میچ ہوا جس میں وزیرستانی نوجوانوں کو کرکٹ کے جوہر دکھانے کا موقع ملا۔ امن و امان کی شاندار صورتحال کے پیش نظر علاقے کے بزرگوں نے بھی بڑی تعداد میں یہ منظر دیکھا۔ وزیرستان میں کرکٹ کا جو جنون ہے اس کے پیچھے پاک فوج کا خون ہے۔ جس کی قربانیوں سے یہ علاقہ دہشت گردی کی اماجگاہ کی بجائے امن کا گہوارہ بن چکا ہے۔ جہاں پاک فوج نے ریکارڈ ترقیاتی کام کروائے ہیں۔ مگر منظور پشین خبث باطن کامظاہرہ کرتے ہوئے اسی پاک فوج کے خلاف پاکستان دشمنوں کا لیا ہوا پیسہ حلال کرنے کے لئے پراپیگنڈہ مہم چلا رہا ہے ۔

اپنے حق کے لئے بات کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ایسا ہونا چاہئے اور بالکل ہونا چاہئے لیکن جائز طور پر۔ منظور پشین یہ تو کہتا ہے کہ اس کے علاقے میں چیک پوسٹیں ہیں جو لوگوں سے پوچھ گچھ کرتی ہیں اور انتہائی مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہوئے اس نے ظلم و ستم کی فرضی داستانیں گھڑی انہیں داستانوں کو کابل میں ان افغانیوں نے اس کے حق میں دہرایا جو پاکستان کے ٹکڑوں پر پلے بڑھے تھے لیکن ان سب کچھ کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں ایک سوال کیا کہ اگر پرائیویٹ اداروں کی چیک پوسٹیں آپ کو روکتی ہیں اور آپ کی تلاشی لیتی ہیں اور جب آپ احتجاج کریں تو آپ سے معذرت کی جاتی ہے کہ ایسا حالات کی وجہ سے کیا جا رہا ہے تو یہ چیک پوسٹیں بھی عوام کے تحفظ کے لئے ہیں۔ منظور پشین کو تمام اعتراضات پاکستان پر ہی ہیں نہ تو پاکستان میں موجود افغانوں کی شرپسندی پر ہے نہ افغانستان میں پاکستان کی طرح پر قطار در قطار بھارتی قونصل خانوں پر جو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں اور پاکستان میں دہشت گردی کے لئے ہیں۔ یہیں پر دہشت گرد اور خودکش بمبار تیارہوتے ہیں جنہیں پھر پاکستان بھیج دیا جاتا ہے لیکن ان پر منظور پشین کو کوئی اعتراض نہیں۔ اُس کو اس بات پر بھی کوئی اعتراض نہیں کہ بھارت کراچی خیبر پختونخوا میں بلوچوں اور پختونوں کا خون بہاتا رہا اور کلبھوشن جیسے دہشت گرد بھیجتا رہا جس کی وجہ سے چیک پوسٹیں لگانا پڑیں۔ آج انہی چیک پوسٹوں کی وجہ سے فاٹا اور بلوچستان میں بھارتی دہشت گردی براستہ افغانستان نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ رہی سہی کسر پاک افغان بارڈر پر باڑ لگا کر پوری کی جا رہی ہے۔ مگر اس پر بھی افغانوں کو اعتراض ہے اور منظور پشین کو بھی تکلیف ہے۔ منظور پشین کھلم کھلا غداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاک فوج کے اقدامات کو بدمعاشی اور وردی کے پیچھے دہشت گردی کی باتیں کرکے محب وطن پختونوں کو ورغلانے کی کوشش کررہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ غیروں کے دلال اور افغان انٹیلی جنس این ڈی ایس کے ایجنٹ منظور پشین کو قبائلی اور پختون عوام بے نقاب بھی کریں اور مسترد بھی۔ جو کہ افغان اور بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنا ہوا ہے۔

8اپریل کو پشاور میں منظور پشین نے ایک جلسے کا اہتمام کیا تو فاٹا کے تقریباً 3کروڑ اور کے پی کے کے آبادی کی تناسب سے پی ٹی ایم کا پشاور میں پاور شو جس میں 2 ہزار کرسیاں اور ہزار کے لگ بھگ کھڑے افراد کی حاضری اس بات کی علامت ہیں کہ پختون دوبارہ کسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگنے والے نہیں؟ ہونا تو چاہتے تھا کہ آج پشاور بند ہوتا ایک لاکھ پختون نکلتے لیکن یہاں یاد رہے پشاور، اٹک، احسن ابدال اور ترنول میں افغان مہاجروں کی اکثریتی علاقے ہیں جس میں 20فیصد چکلے خانوں کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ پختون تحفظ موومنٹ کے جلسے میں ان طوائف کی حاضری رحمت شاہ سروری کی مرہون منت ہے جو افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کا نمائندہ ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Raja Javed Ali Bhatti

Read More Articles by Raja Javed Ali Bhatti: 141 Articles with 62976 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Apr, 2018 Views: 522

Comments

آپ کی رائے