حقوق العباد اور حقوق اللہ کی ادائیگی

(Imtiaz Ahmad, Lahore)
انسان کی فلاح اللہ کے بتائے ہوئے طریقے سے زندگیوں کو گذارنے میں ہے۔ہر مسلمان پر لازم ہے کہ ہو دوسرے انسانوں کے حقوق کا خیال رکھے۔اسلام نے ہر طرح سے حقوق العباد کو حقوق اللہ پر ترجیح دی ہے اور ان حقوق کی ادائیگی پر زور بھی دیا گیا ہے۔والدین کے حقوق،رشتہ داروں کے حقوق، ہمسائیں کے حقوق،مسافروں ،محتاجوں،مسکینوں اور ناداروں کے حقوق وغیرہ وغیرہ
المختصر حقوق العباد کو اللہ کے احکامات کی روشنی میں اور ہمارے نبی رحمتہ العالمین کے اسوہ حسنہ کے مطابق ادا کرنے میں ہی کامیابی اور فلاح ہے۔اگر ہم ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں اور
ایک دوسرے کی کامیابی کے خواہشمند رہتے ہیں تو اسی میں اللہ رب العزت کی خوشنودی ہے۔نماز روزے اور اللہ کے دیگر فرائض ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں انسانوں کی بے بسی اور محتاجی کو بھی مدنظر رکھنا چاہیئے۔اللہ قادر مطلق ہے اور اپنے بندوں کی محتاجی کور تکالیف کو بندوں کے زریعے دور کروا کر امن اور محبت سے یکجہتی اور یگانگت کو پروان چڑھتا دیکھ کر راضی ہوتا ہے۔

انسان کی فلاح اللہ کے بتائے ہوئے طریقے سے زندگیوں کو گذارنے میں ہے۔ہر مسلمان پر لازم ہے کہ ہو دوسرے انسانوں کے حقوق کا خیال رکھے۔اسلام نے ہر طرح سے حقوق العباد کو حقوق اللہ پر ترجیح دی ہے اور ان حقوق کی ادائیگی پر زور بھی دیا گیا ہے۔والدین کے حقوق،رشتہ داروں کے حقوق، ہمسائیں کے حقوق،مسافروں ،محتاجوں،مسکینوں اور ناداروں کے حقوق وغیرہ وغیرہ

المختصر حقوق العباد کو اللہ کے احکامات کی روشنی میں اور ہمارے نبی رحمتہ العالمین کے اسوہ حسنہ کے مطابق ادا کرنے میں ہی کامیابی اور فلاح ہے۔اگر ہم ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کی کامیابی کے خواہشمند رہتے ہیں تو اسی میں اللہ رب العزت کی خوشنودی ہے۔نماز روزے اور اللہ کے دیگر فرائض ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں انسانوں کی بے بسی اور محتاجی کو بھی مدنظر رکھنا چاہیئے۔اللہ قادر مطلق ہے اور اپنے بندوں کی محتاجی کور تکالیف کو بندوں کے زریعے دور کروا کر امن اور محبت سے یکجہتی اور یگانگت کو پروان چڑھتا دیکھ کر راضی ہوتا ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Imtiaz Ahmad
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Apr, 2018 Views: 312

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ