جدید ذرائع ابلاغ اورخواتین کی تذلیل کا کلچر

(HUMAIRA ASLAM, karachi)

ارشاد باری تعالیٰ ہے :
إِنَّ ٱلَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ ٱلۡفَٰحِشَةُ فِي ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ فِي ٱلدُّنۡيَا وَ ٱلۡأٓخِرَةِۚ وَ ٱللَّهُ يَعۡلَمُ وَ أَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ ١٩ ( النور : 19 ) ترجمہ :” جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہوں میں فحاشی پھیلے ، وہ دنیا اور آخرت میں درد ناک سزا کے مستحق ہیں ، اور اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔”
سورۂ نور کی اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں سیّد ابو الاعلیٰ مودودی ان الفاظ میں وضاحت کر تے ہیں:” موقع محل کے لحاظ سے تو اس آیت کا براہِ راست مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ اس طرح کے الزامات گھڑ کر اور انہیں اشاعت دے کر مسلم معاشرے میں بد اخلاقی پھیلانے اور امت مسلمہ کے اخلاق پر دھبہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ سزا کے مستحق ہیں ، لیکن آیت کے الفاظ فحش پھیلانے کی تمام صورتوں پر حاوی ہیں۔ ان کا اطلاق عملاً بدکاری کے اڈے قائم کرنے پر بھی ہوتا ہے اور بد اخلاقی کی ترغیب دینے والے اور اس کے لیے جذبات کو اکسانے والے قصوں ، اشعار ، گانوں ، تصویروں اور کھیل تماشوں پر بھی۔ نیز وہ کلب اور ہوٹل اور دوسرے ادارے بھی ان کی زد میں آ جاتے ہیں جن میں مخلوط رقص اور مخلوط تفریحات کا انتظام کیا جاتا ہے۔ قرآن صاف کہہ رہا ہے کہ یہ سب لوگ مجرم ہیں۔ صرف آخرت ہی میں نہیں دنیا میں بھی ان کو سزا ملنی چاہیے۔ لہٰذا ایک اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ اشاعتِ فحش کے ان تما م ذرائع و وسائل کا سدّباب کرے۔ ان کا ارتکاب کرنے والے سزا کے مستحق ہیں۔” ( تفہیم القرآن ج 3 )

جدید ذرائع ابلاغ نے عورت کی تذلیل کو کلچر بنادیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جدید خواتین کی اکثریت کو اپنی تذلیل کا احساس نہیں۔ کوئی چیز جب کلچر بن جاتی ہے تو عام لوگ اس کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ کلچر کیسے غلط ہوسکتا ہے؟ اس کی ایک مثال غلامی کی تاریخ ہے۔ اس تاریخ میں غلامی صدیوں کا سفر طے کرکے کلچر بن گئی تھی، چنانچہ غلاموں کو محسوس ہوتا تھا کہ غلامی ایک ’’فطری حالت‘‘ ہے، ایک ازلی و ابدی فطری حالت، جس سے نجات حاصل کرنے کا خیال بھی اکثر غلاموں کے ذہن میں نہیں آتا تھا۔ چونکہ غلامی کے ادارے کی پشت پر جدید ذرائع ابلاغ یا نام نہاد Mass Media کے پروپیگنڈے کا جادو نہیں تھا، اس لیے غلام بہرحال اپنی غلامی کا جشن نہیں مناتے تھے،مگر جدید ذرائع ابلاغ نے عورت کی تذلیل کے کلچر میں اتنے بیل بوٹے اور شہرت و ترقی کے اتنے قمقمے لگا دیے ہیں کہ جدید عورتیں اپنی تذلیل کے کلچرپر خوش ہوتی نظر آتی ہیں۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ جدید ذرائع ابلاغ ان کی تذلیل نہیں کررہے بلکہ انہیں ’’آزاد‘‘ کررہے ہیں، ان کی عزت افزائی کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں جدید ذرائع ابلاغ کا کمال یہ ہے کہ وہ عورت کی تذلیل کا کلچر بھی پیدا کرتے ہیں، اس کے خلاف معاشرے میں مجرمانہ ذہنیت کو بھی پروان چڑھاتے ہیں، اور پھر زینب جیسی مظلوم بچیاں Rape اور قتل ہوتی ہیں، خواتین پر مجرمانہ حملے ہوتے ہیں اور انہیں جنسی سراسیمگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو جدید ذرائع ابلاغ اس پر ماتم کرکے اسے بھی فروخت کرتے ہیں۔

قصور کی مظلوم زینب کے قاتل نے بھی یہی کیا۔ جدید ذرائع ابلاغ بھی یہی کرتے ہیں۔ زینب پر ظلم کرنے والا بالآخر پکڑا جاتا ہے، مگر جدید ذرائع ابلاغ نہیں پکڑے جاتے۔ زینب پر ظلم کے پہاڑ توڑنے والے کو سزا مل جاتی ہے، مگر جدید ذرائع ابلاغ سزا سے محفوظ ہیں۔ لیکن ان باتوں کا مفہوم کیا ہے؟

ہندو ازم دنیاکا قدیم ترین مذہب ہے۔ ہندو ازم میں عورت دُرگا ہے، لکشمی ہے، سرسوتی ہے، کالی ہے… یہ سب ہندو ازم کی دیویاں ہیں۔ ہندو ان تمام دیویوں کی پوجا کرتے ہیں۔ اس سے نیچے ہندو ازم میں سیتا ہے جو شوہر پرستی، صبر اور تقویٰ کی علامت ہے۔ ساوتری ہے جس نے ہندوئوں کے عقیدے کے مطابق موت کے فرشتے سے اپنے شوہر کی روح واپس لے لی کیونکہ وہ اپنے شوہر کے بغیر زندہ رہنے کا تصور نہیں کرسکتی تھی۔ ہندو ازم میں عورت رادھا ہے، میرا ہے۔ دونوں شری کرشنا سے عشق کی علامتیں ہیں۔ عیسائیت کی تاریخ میں حضرت مریمؑ ہیں۔ اسلام میں عورت اللہ تعالیٰ کی رحمت کی علامت ہے۔ اسلام کی تاریخ میں حضرت عائشہؓ ہیں۔ حضرت عائشہؓ کا علم ایسا ہے کہ اکابر صحابہؓ ان سے مشورہ کرتے تھے۔ ہمارے فقہ کا ایک چوتھائی حضرت عائشہؓ سے فراہم ہوا ہے، اور دنیا کی تاریخ میں حضرت عائشہؓ کے جیسے علم کی مثال خواتین میں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی۔ اسلام کی تاریخ میں حضرت فاطمہؓ ہیں۔ وہ ایک جانب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چہیتی بیٹی ہیں، دوسری جانب حضرت علیؓ کی شریکِ حیات ہیں، تیسری جانب حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ کی والدہ ہیں۔ اسلام کی تاریخ میں امہات المومنین ہیں، رابعہ بصریؒ ہیں۔ مذاہب کی تاریخ میں عورت ماں ہے جس کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ عورت بیوی ہے جس کے بغیر خاندان کے ادارے کا، اور خاندان کے ادارے کے بغیر انسانی تہذیب کا تصور محال ہے۔ عورت بہن ہے، بیٹی ہے۔ عورت کے ان تمام کرداری نمونوں میں ایک تقدس ہے، ایک عظمت ہے، ایک وقار ہے، ایک تکریم ہے، ایک بے پناہ حسن ہے۔ دنیا میں شاعری سے بڑے آرٹ کا تصور محال ہے۔ دنیا میں ہزاروں سال سے ہزاروں زبانوں میں عشقیہ شاعری ہورہی ہے۔ اس شاعری کا مرکز عورت ہے۔ اس عورت کی معنویت اور جمالیات ایسی ہے کہ اب تک کروڑوں شاعر اسے بیان نہیں کرپائے ہیں۔ عورت کے ان کرداری نمونوں پر ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور مزید ہزاروں کتابیں لکھی جاسکتی ہیں، مگر بدقسمتی سے جدید مغرب اور اُس کے پیدا کردہ تصورِ عورت اور اس کے وضع کردہ جدید ذرائع ابلاغ نے عورت کے تمام کرداری نمونوں، اس کے تمام تر تقدس، اس کی تمام تر عظمت اور اس کے تمام تر وقار کو فراموش کردیا ہے، یہاں تک کہ وہ اسے ایک تخلیقی انسان، ایک شاعر، ایک ادیب، ایک سائنس دان، ایک ڈاکٹر، ایک انجینئر، ایک استاد اور ایک پیشہ ور یعنی ایک پروفیشنل کی حیثیت سے بھی پیش نہیں کررہے۔ ایک دانش ور، ایک اسکالر، ایک صحافی کی حیثیت سے بھی اس کو فلم، ڈرامے، دستاویزی فلم اور ٹاک شوزمیں پیش نہیں کررہے۔ اب عورت صرف اداکار ہے، گلوکار ہے، ماڈل ہے، کیٹ واک کرنے والی ہے، ٹی وی کی پریزینٹر ہے۔ بدقسمتی سے عورت ان کرداروں میں بھی پیشہ ور بعد میں ہے، پہلے وہ ایک جنسی اشیاء ہے، ایک شے یا ایک Product ہے۔ ایسی Product جس کے ذریعے سرمایہ دار اپنی مصنوعات فروخت کررہے ہیں، اشتہارات بنانے والے عورت کا جسم بیچ رہے ہیں، اس کے جسمانی اعضا فروخت کررہے ہیں، اس کی مسکراہٹ سے مال کما کر دے رہے ہیں، اس کی ادائوں کو ’’بازاری‘‘ بنا رہے ہیں۔ یہی کچھ کیٹ واکس میں ہورہا ہے۔ ہمارے ٹیلی ویژن چینلز کیٹ واکس کی خبر نشر کرتے ہیں تو فرماتے ہیں کہ کیٹ واکس میں ماڈلز نے اپنے حسن کے جلوے بکھیرے۔ یعنی ہمارے چینلز کیٹ واکس کرنے والی خواتین کو جنس کی علامت سے آگے نہیں پہچانتے۔ لتا منگیشکر بھارت کی پوری فلم انڈسٹری پر پچاس سال تک چھائی رہیں۔ انہوں نے اس دوران پانچ ہزار سے زیادہ گیت گائے، مگر ان کا تشخص ہمیشہ ان کی اہلیت، صلاحیت یا Talent رہا۔ چونکہ انہوں نے کبھی خود کو جنسی ابھار کے طور پر پیش نہیں کیا اس لیے انہیں کبھی کسی نے گندی نظروں سے نہیں دیکھا۔مگر جدید فلموں اور جدید ٹیلی ویژن نے گلوکاروں تک کو گلوکاروں سے کہیں زیادہ جنس کی علامت بنادیا ہے۔ وحیدہ رحمن بھارت کی تین بڑی فلمی اداکارائوں میں سے ایک ہیں۔ وہ فلموں میں آئیں تو انہوں نے بغیر آستین اور آدھی آستین کا بلائوز پہننے سے انکار کردیا۔ ڈائریکٹر نے کہا کہ بی بی یہ فلم ہے کوئی مذہبی ادارہ نہیں۔ مگر وحیدہ رحمن نے کہا کہ جو آپ کہہ رہے ہیں وہ ممکن نہیں۔ وحیدہ رحمن کا یہ مؤقف مذہبی یا اخلاقی مؤقف نہیں تھا۔ وہ کہہ رہی تھیں کہ جسم کی نمائش ہمارا ’’کلچر‘‘ نہیں۔ مگر اب 99 فیصد فلموں کی اداکارائوں کے لیے لفظ کلچر کا بھی کوئی مفہوم نہیں، چنانچہ وہ اپنی فلموں میں کروڑوں نفسیاتی Vultures کی بھوک مٹانے کا کام انجام دیتی ہیں۔ بلاشبہ فلم پہلے دن سے تفریح کا ذریعہ اور پیسے کا کھیل ہے، مگر آج سے چالیس، پچاس سال قبل تفریح اور سرمایہ کے اس کھیل کی بھی کچھ اقدار تھیں۔ اس سلسلے میں دو مثالوں سے بات واضح ہوجائے گی۔بھارت نے گزشتہ سو سال میں جو 20 بڑی فلمیں تخلیق کی ہیں ’’مدر انڈیا‘‘ اُن میں سے ایک ہے۔ اس فلم میں نرگس نے ’’بھارت کی روح‘‘ کا اظہار کرنے والا کردار نبھایا ہے۔ بھارت کی روح کیا تھی؟ مدر انڈیا کے مطابق بھارت کی روح یہ تھی کہ عورت جدوجہد، صبر، مزاحمت اور حیا کی علامت ہے اور شوہر پرستی میں اس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ نرگس شوہر کی عدم موجودگی میں اپنے دو بیٹوں کو خون پسینہ ایک کرکے تنہا پالتی ہے۔ سماج اور اُس کے درندوں سے لڑتی ہے۔ لیکن جب اس کا ایک بیٹا ایک درندے سے انتقام لینے کے لیے اُس کی بیٹی کو اغوا کرتا ہے تو نرگس ایک لمحے میں اپنے جگر گوشے کو گولی مار دیتی ہے۔ وہ کہتی ہے ’’میں سب کچھ برداشت کرسکتی ہوں مگر عورت کی بے تکریمی نہیں۔‘‘ مدر انڈیا کے ایک گیت کے بول ہیں:اس گیت کے بول بتا رہے ہیں کہ مدر انڈیا ’’شرم‘‘ کو عورت کا ’’مذہب‘‘ قرار دے رہی تھی۔مگر آج انڈیا کی بھی روح ’’حیا‘‘ نہیں ’’بے حیائی‘‘ ہے، اور بھارت کی فلم انڈسٹری اس کا سب سے بڑا مظہر اور مرکز ہے۔ مغرب کے اثرات نے صرف 60 سال میں بھارت کے کلچر کو Vulture بنا کر کھڑا کر دیا ہے۔ بھارت کی ایک فلم ’’پہچان‘‘ تھی۔ یہ فلم 1970ء میں ریلیز ہوئی تھی۔

جدید ذرائع ابلاغ میں عورت کے پانچ توہین آمیز امیج موجود ہیں۔ پہلے امیج میں عورتوں کی پیشکش ایسی ہے جیسے وہ کہہ رہی ہوں Watch us if you can۔ عورت کے دوسرے امیج میں خواتین کی پیشکش ایسی ہے جیسے وہ دیکھنے والوں سے کہہ رہی ہوں Desire us if you can۔ تیسرے امیج میں خواتین کی پیشکش ایسی ہے جیسے وہ ناظرین کو پکار رہی ہوں اور کہہ رہی ہوں Touch us if you can۔ عورتوں کا چوتھا اور پانچواں امیج ایسا ہے جس کا بیان ممکن نہیں، لیکن تین پہلوئوں کو سمجھنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ باقی دو مرحلے کیا ہوں گے؟ ظاہر ہے کہ مذہب، اخلاق اور تہذیب سے عاری انسانوں کو فلم کے پردے اور ٹی وی کی اسکرین پر موجود خواتین تک رسائی میسر نہیں آسکتی، چنانچہ وہ اپنے ماحول میں موجود بچوں اور خواتین کو نشانہ بناتے ہیں۔ جس طرح ایک جگہ کا غصہ دوسری جگہ نکلتا ہے اسی طرح ایک جگہ کی بھڑکی ہوئی آگ کسی اور مقام پر بربادی پھیلا دیتی ہے۔مذہبی طبقات کو پسند ہو یا نہ ہو، اداکاری، گلوکاری، ماڈلنگ، یہاں تک کہ کیٹ واک بھی اب ایک پیشہ کہلاتی ہے۔ لیکن پاکستان میں خواتین کی توہین اور تذلیل صرف انہی شعبوں تک محدود نہیں۔ مغرب زدگان عورت کو تذلیل کی اس سے بھی نچلی سطح پر لے گئے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال قندیل بلوچ ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ قندیل بلوچ نہ اداکارہ تھی، نہ گلوکارہ تھی، نہ ماڈل تھی، نہ Ramp پر Walk کرنے والی تھی۔ اس کی ساری شہرت یا بدنامی جسم کی نمائش کی بھونڈی کوششوں تک محدود تھی۔ لیکن روزنامہ ڈان کراچی کے ممتاز کالم نگار عرفان حسین نے 23 جولائی 2016ء کی اشاعت میںTaboos and Icons کے عنوان کے تحت شائع ہونے والے کالم میں قندیل بلوچ کو Icon قرار دیا۔ انہوں نے لکھا:
“But in death Qandeel has achieved an Iconic status, while her many critics will soon be for gotten.”
Icon انگریزی کا اتنا بڑا لفظ ہے کہ اسے قوموں کی تعریف متعین کرنے والی یا قوموں کو واضح کرنے والی شخصیات کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ لیکن شو بزنس میں اگر اس لفظ کو استعمال کیا جائے تو دلیپ کمار اور امیتابھ بچن، یا کم سے کم محمد علی اور وحید مراد کے لیے ہی اس کا استعمال ہوسکتا ہے۔ گلوکاروں میں محمد رفیع، لتا منگیشکر اور نورجہاں سے کم کی سطح پر اس لفظ کا استعمال نہیں ہوسکتا۔ اداکارائوں میں مینا کماری، وحیدہ رحمن، روحی بانو یا عظمیٰ گیلانی ہی Icons کہلانے کی مستحق قرار پا سکتی ہیں۔ مگر ڈان کے عرفان حسین نے، جو ممتازترقی پسند ادیب اور نقاد اختر حسین رائے پوری کے فرزند ہیں، قندیل بلوچ جیسی عورت کو آئیڈیل بنا ڈالا ہے۔ یہ مذہب، اخلاق اور تہذیب ہی کی نہیں، لفظ آئیڈیل بلکہ اداکاری، گلوکاری اور ماڈلنگ تک کی توہین ہے، اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے مغرب زدہ طبقات اور جدید ذرائع ابلاغ ہمارے معاشرے، اس کی اقدار، اس کے کلچر اور خود جدید فنون تک کے خلاف کیسی سازشیں کررہے ہیں اور وہ ہماری عورتوں کو کس حد تک ذلیل کردینا چاہتے ہیں۔ میر شکیل الرحمن کے انگریزی اخبار ’’دی نیوز‘‘ نے 9 جولائی 2017ء کی اشاعت میں قندیل بلوچ پر پورا صفحہ شائع کیا۔ اس صفحے پر عافیہ شیر بانو ضیاء نے A year after Qandeel Baloch کے عنوان سے مضمون تحریر کیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس پورے مضمون کی اشاعت ہی ایک سوال ہے، لیکن اس مضمون کے دو اقتباسات خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ عافیہ شیر بانو نے لکھا:
“How do you shame a woman who is proud of her body and offer to bublicise her sextuality as a national duty.”
ترجمہ: ’’آپ ایسی عورت کو کیسے شرمندہ کرسکتے ہیں جو اپنے جسم پر فخر کرتی ہے اور جو اپنی جنسیت یا Sexuality کو ایک قومی فریضے کے طور پر مشتہر کرنے کی پیشکش کرتی ہو۔‘‘

یہ عورت کی تذلیل اور توہین کا ایک بالکل نیا تجربہ اور نیا منظر ہے، اس لیے کہ عافیہ شیر بانو ضیاء کے نزدیک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عورت کے جسم کی نمائش ایک قومی فرض کی حیثیت رکھتی ہے، یعنی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام کا نفاذ قومی فرض ہو نہ ہو، عورتوں کے جسم کی نمائش ایک قومی فرض ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ برّی فوج کے سربراہ جنرل باجوہ نے 6 ستمبر 2017ء کے دن جی ایچ کیو میں ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ’’ہمیں معلوم ہے کہ ہم لا الٰہ الااللہ کے وارث ہیں‘‘۔ مگر پاکستان کا ایک انگریزی اخبار جسم کی نمائش کرنے والی قندیل بلوچ کو آئیڈیل قرار دے رہا ہے اور دوسرا انگریزی اخبار جسم کی نمائش کو قومی فرض باور کرا رہا ہے۔ دی نیوز کی عافیہ شہربانو ضیاء صرف عورت کے جسم کی نمائش کو قومی فریضہ باور کراکے نہیں رہ گئیں، انہوں نے ایک اور اہم بات تحریر کی ہے، انہوں نے لکھا ہے:
“More women like her (Qandeel Baloch) must survive and be supported to change the narrative around sexual independence and gender equality. ” ترجمہ: ’’اس کی (یعنی قندیل بلوچ) طرح کی مزید خواتین کو زندہ رہنا چاہیے اور جنسی آزادی اور صنفی مساوات سے متعلق بیانیے کی تبدیلی کے لیے ان کی مدد کی جانی چاہیے۔‘‘ مطلب یہ کہ عافیہ شہربانو قندیل بلوچ کی موت سے مایوس نہیں، بلکہ وہ چاہتی ہیں کہ قندیل بلوچ جیسی مزید خواتین میدان میں آئیں اور معاشرہ زندہ رہنے میں اُن کی مدد کرے تاکہ جنسی آزادی اور صنفی مساوات کی منزلیں سر کی جاسکیں۔ تجزیہ کیا جائے تو یہ معاشرے کی تمام لڑکیوں اور خواتین کو قندیل بلوچ بنانے کی خواہش، منصوبہ اور عزم ہے۔ آپ نے دیکھا ہمارے جدید ذرائع ابلاغ عورت کی تذلیل اور اس کی توہین کو کس طرح ایک کلچر میں تبدیل کرنے کے لیے دن رات ایک کررہے ہیں۔ آپ اگر مذہبی، اخلاقی یا تہذیبی انسان ہیں تو یہ باتیں پڑھ کر پریشان نہ ہوں۔ شتر مرغ کی طرح ریت میں گردن گھسا دیں اور سمجھ لیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مذہب، اخلاق، کردار اور اقدار کو سیکولر اور لبرل عناصر اور جدید ذرائع ابلاغ سے کوئی خطرہ نہیں ۔سوال یہ بھی ہے کہ جو کچھ ہورہا ہے کیوں ہورہا ہے؟ اور کون کررہا ہے؟ اس سلسلے میں ہم مغرب کے ممتاز ادیب، نقاد اور عبقری یعنیGenius کہلانے والے ڈی ایچ لارنس سے رجوع کرتے ہیں۔ لارنس نے اپنے بے مثال مضمون Give her a pattern میں لکھا ہے کہ خواتین ہمیشہ وہ بن جاتی ہیں جو مرد انہیں بنانا چاہتے ہیں۔ مرد انہیں قربانیاں دینے والی مائیں بنانا چاہتے ہیں تو عورتیں قربانیاں دینے والی مائیں بن جاتی ہیں۔ وہ انہیں پرہیزگار عورتوں میں ڈھالنا چاہتے ہیں تو وہ ایسی ہی بن جاتی ہیں۔ مرد انہیں مثالی سیکرٹری کے روپ میں پسند کرتے ہیں تو وہ مثالی سیکرٹری بن کر کھڑی ہوجاتی ہیں۔ یہاں تک کہ مرد عورت کو طوائف بنانا چاہتے ہیں تو وہ خود کو پست بنا لیتی ہے تاکہ مردکو خوش کرسکے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو جدید ذرائع ابلاغ، جدید ریاست اور جدید سیاست کی دنیا بدمعاش اور عیاش مردوں کی دنیا ہے۔ اس دنیا کی پشت پر ہزاروں ڈالرز کا سرمایہ ہے۔ بدمعاش مردوں اور سرمائے کی طاقت کی یکجائی عورتوں کو وہ بنا رہی ہے جو کہ کروڑوں عورتیں بن رہی ہیں۔ یہ عورتیں جس چیز کو جنسی آزادی کہہ رہی ہیں وہ جنسی آزادی نہیں، جنسی غلامی ہے۔ جو عورتیں سمجھ رہی ہیں کہ وہ ’’صنفی مساوات‘‘ کی حامل ہوا چاہتی ہیں انہیں معلوم نہیں کہ بدمعاش مردوں اور سرمائے کا ہولناک ملاپ انہیں انسانیت کے مرتبے سے گراکر صرف ایک ’’شے‘‘ میں ڈھال رہا ہے، ایسی شے جو بدمعاش مردوں یعنی گِدھوں کی ذہنی، نفسیاتی اور جذباتی بھوک مٹانے کے کام آرہی ہے، اور جو کروڑوں لوگوں کو کسی نہ کسی شے کا ’’صارف‘‘ بنانے کے لیے بروئے کار آرہی ہیں۔ اس صورتِ حال میں نہ کوئی انسانیت ہے، نہ تہذیب، نہ کلچر، نہ آزادی، نہ مساوات۔ اس منظیقی ہے۔ اقبال نے کہا ہے:
بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اک جوئے کم آب
اور آزادی میں بحرِ بیکراں ہے زندگی

اقبال کا شعر بتا رہا ہے کہ آزادی میں زندگی بحرِ بیکراں بن جاتی ہے۔ آزادی وہاں ہے جہاں عورت تاریخ کا بڑا کردار بن سکتی ہے، جہاں عورت تہذیب کا محور قرار پا سکتی ہے، جہاں عورت کو ماں، بیوی، بیٹی اور بہن کی حیثیت سے سراہا جاتا ہے، جہاں عورت شاعری کی عظیم روایت کا مرکز ہے، جہاں اس کی روح، ذہن اور اہلیت کے فروغ کے امکانات ہیں۔ وہ زندگی جس میں عورت صرف مردوں کے لیے Sex Symbol بن سکتی ہے، وہ زندگی عورت کی جیل ہے، اس کے پورے وجود کی تذلیل ہے، تحقیر ہے.

پاکستان میں میڈیا کو بڑی حد تک آزاد اور عروج پذیر صنعت بنانے میں اخباری کارکنوں کی چھ دہائیوں کی ان تھک جدوجہد شامل ہے۔ ’عکس‘ کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں نوے سے زیادہ چینلز (نیوز اور انٹرٹینمنٹ) 180 ریڈیو اسٹیشنز اور 400 پرنٹ پبلیکیشنز (روزنامے، ماہنامے،ہفت روزے، مختلف زبانوں) کام کر رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گزشتہ دہائی میں الیکٹرونک چینلز کی تعداد میں بے پناہ اضافے کے ساتھ کیا صحتمند اور متوازن رپورٹنگ کو بھی فروغ حاصل ہوا ہے؟تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ میڈیا اخلاقی اصولوں،صنفی توازن اور محتاط صحافت کے لحاظ سے مکمل طور پر ناکام نظر آتا ہے۔ مقامی زبانوں میں شائع ہونے والے اخبارات قدامت پسند جب کہ انگریزی کے اخبارو جرائد آزاد خیال ہیں۔ کرائم رپورٹس میں جرم کی بجائے عورت پر توجہ مرکوز کرنے کا رحجان مقبول ہے۔ ریپ کا شکار ہونے والی خواتین کی تصاویر شائع کرنا، ان کے بارے میں خود سے فیصلے صادر کرنا عام ہے، تحقیق و تجزیہ کی زحمت کوئی نہیں کرتا۔

کرائم رپورٹس میں عورت کے حوالے سے جو زبان استعمال ہوتی ہے، اس کے بارے میں مجھے ذاتی طور پر اور سول سوسائٹی کو خاص طور پر عورتوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کو ہمیشہ سے اعتراض رہا ہے۔ ایک زمانے میں، چار بچوں کی ماں آشنا کے ساتھ فرار۔۔۔ جیسی سرخیاں اس تواتر سے پڑھنے کو ملتی تھیں کہ قارئین پریشان ہو جاتے تھے۔ عکس نے بھی اس طرح کی سرخیاں جمع کی ہیں: فحاشی کے اڈے پر چھاپہ، 4 تتلیاں ، 5 بھنورے گرفتار ۔ مستری اینٹیں لگاتا رہا،اوباش جوان اس کی بیوی پلستر کر گیا ِ۔ اندازہ لگائیے کہ سب ایڈیٹر جس کے دل میں عورت کے لئے کوئی عزت نہیں ہے، نے کس طرح اپنے تخلیقی احساسات کو منفی انداز میں استعمال کیا ہے۔ کیا کوئی عورت اس طرح کا جملہ سوچ سکتی ہے؟

پاکستان کی آبادی اور خواندگی کی شرح کو مد نظر رکھتے ہوئے الیکٹرونک میڈیا سماج کو ترقی اور صنفی حساسیت کی طرف مائل کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے لیکن ٹی وی چینلز کے پروگرام میں عام طور پر خواتین کے حقوق سے متعلق معاملات کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ ٹی آر پی (ٹارگٹ ریٹنگ پوائنٹ) کے بعد سے پروگرامز کا معیار بتدریج گرتا جا رہا ہے۔ ریٹنگ میں اضافے کی غرض سے عورتوں پر ہونے والے مظالم کو سنسنی خیز انداز میں پیش کیا جاتا ہے اور ان کی تصاویر اور ذاتی معلومات پیش کر کے اخلاقی اصولوں کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ ریڈیو کے بارے میں عکس کی رپورٹ میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے: اگر ملا فضل اللہ سوات کے تقریباً تمام لوگوں اور خاص طور پر خواتین کی سوچ پر اثر انداز ہونے کے لئے غیر قانونی ایف ایم چینل استعمال کر سکتا ہے تو پھر قانونی اور لائسنس یافتہ ایف ایم چینلز خواتین کے مسائل پراس سنجیدگی اور ذمہ داری سے توجہ کیوں نہیں دے سکتے جس کی وہ حقدار ہیں؟

ایک اور قابل توجہ پہلو اشتہارات میں عورت کا بے جا استعمال ہے،عورتیں جو اشیا استعمال بھی نہیں کرتیں، ان کے اشتہارات میں بھی عورتوں کو دکھایا جاتا ہے۔ یہی حال تفریحی میڈیا کا ہے۔ ہمیں عکس کے اس تجزئیے سے مکمل اتفاق ہے کہ ٹی وی ڈراموں کا وہ دور گزر گیا جب کسی ڈرامے کی نئی قسط دیکھنے کے لئے شام کو لوگ گھروں کو لوٹ جاتے تھے اور سڑکیں سنسان ہو جایا کرتی تھیں۔ اس حقیقت کے باوجود کہ پی ٹی وی ایک سرکاری چینل تھا، اس کے ڈراموں کا معیار شروع سے بہت اچھا تھا۔ اس کا رحجان ترقی پسند ہونے کی وجہ سے عوام کو یہ دیکھنے کا موقع ملتا تھا کہ اگر عورتوں کو زندگی کے ہر شعبے میں بھر پور نمائندگی دی جائے اور انہیں باعزت طریقے سے سراہا جائے تو معاشرہ زیادہ متوازن ہو سکتا ہے۔ اس کا زوال فوجی آمر ضیا ءالحق کی تنگ نظر دقیا نوسی پالیسیوں کی وجہ سے شروع ہوا اور اس کے شواہد آج کل نشر کئے جانے والے بہت سے ڈراموں میں دیکھے جا سکتے ہیں جو دیکھے جانے کے بھی قابل نہیں ہیں۔ بد ترین بات یہ ہے کہ اس میں عورتوں کو دقیانوسی طریقے سے یا تو کمزور اور لاچار دکھایا جاتا ہے یا پھر میکیا ولیائی شخصیت کی حامل جو خاندان میں اپنی طاقت اور اثر بڑھانے کے لئے جھوٹ بولتی ہیں،جوڑ توڑ کرتی ہیں اور دھوکے بازی کرتی ہیں۔ ایسے ڈرامے بہت کم دکھائے جاتے ہیں جن میں عورت کو درست انداز میں، ایک ذمہ دار، سمجھ دار،قابل اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے انسان کے طور پر پیش کیا جاتا ہو۔

ایک تو یہ سوال ہے کہ میڈیا میں عورتوں کی تصویر کشی کیسے ہوتی ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ میڈیا میں کام کرنے والی عورتوں کا مقام کیا ہے؟ میڈیا میں 2000 ء کے بعد ٹی وی چینلز اور ایف ایم ریڈیوز کی تعداد میں اضافہ کی بدولت عورتوں کے لئے کام کے مواقع میں اضافہ ہوا ہے مگر صنفی مساوات کا خواب پورا ہونے میں وقت لگے گا۔

پرنٹ اور خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا جو اس وقت عالمی استعماری قوتوں کا آلۂ کار بن کر پوری دنیا میں سامنے آیا ہے۔ جس میں ہمارا ” اسلامی جمہوریہ پاکستان ” بھی اس عالمی میڈیا کی یلغار کا شکار بن چکا ہے۔ وہ نہ صرف استعماری ، خصوصاً اسلام دشمن ملٹی نیشنل کمپنیوں کو معاشی مدد فراہم کر رہا ہے ، ان کی اخلاق باختہ ثقافت کو فروغ دے رہا ہے ، بلکہ حوا کی بیٹیوں کو اپنے فریبِ حسن اور کشش (Glamour) سے سحر زدہ کرکے نہ صرف تشہیر کا ذریعہ بنا کر پیش کر رہا ہے بلکہ اسے ایک تجارتی جنس (Commodity) یعنی بیچنے والی چیز کی حیثیت دے رکھی ہے اور جس انداز سے میڈیا کے ذریعے عورت کی تذلیل کی جارہی ہے وہ اسلامی معاشرے کے لیے خاص طور پر لمحہ فکریہ ہے۔

پرائیوٹ چینلز کی بہتات سےقبل ہمارا پرنٹ اور الیکٹرک میڈیا کافی حد تک ریاست کے کنٹرول میں تھا اور اس پر کچھ نہ کچھ احتساب اور جواب دہی کا خوف تھا۔ لیکن اب نجی چینلز کی بھرمار اور ان کے اسکرین پر نشر ہونے والے طوفان بد تمیزی سے آلودہ اور حیا سوز پروگراموں نے معاشرے کے ہر گھر کو متاثر کیا ہوا ہے ، جبکہ دوسری جانب کیبل اور نیٹ ورک نے ہماری اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے اور اس میں ریاستی میڈیا کا بھی حصہ بقدر جثہّ شامل ہے۔ ٹی وی ڈراموں ، فلموں ، ناچ گانوں کے واہیات پروگرامز اور ان پرگراموں کے درمیان چلنے والے اشتہارات میں عورت کو نیم برہنہ حالت میں دکھایا جاتا ہے۔ ایسی ایسی چیزوں کی تشہیر کی جاتی ہے کہ جسے خاندان کے لوگ ایک ساتھ بیٹھ کر دیکھ ہی نہیں سکتے۔ حد تو یہ ہے کہ کوئی مردانہ استعمال کی چیز ایسی نہیں جس میں عورت کو شامل نہ کیا گیا ہو۔ بلیڈ اور شیونگ کریم جیسی پروڈکس میں بھی عورت اپنی پوری حشر سامانیوں کے ساتھ نظر آ رہی ہوتی ہے۔ اس سارے اخلاقی گراوٹ میں لتھڑے کھیل میں ملٹی نیشنل کمپنیاں شامل ہیں۔ عورتوں کو بطور جنس پیش کرنے کا نتیجہ نوجوانوں میں جنسی ہیجان ابھارنے کا ذریعہ بن رہا ہے اور عورتوں اور خاص طور پر کمسن بچیوں پر جنسی زیادتی کے واقعات میں روز افزوں اضافہ اسی ترغیب و تشویق کا منطقی نتیجہ ہے جو مادر پدر آزاد میڈیا کی جانب سے دی جا رہی ہے اور کچے ذہنوں میں زہر انڈیلا جا رہا ہے۔

ایک طرف میڈیا تہذیب و اخلاق سے عاری پروگرامز اور عریانیت و فحاشی دکھا کر جنسی بے راہ روی کی آگ کو بھڑ کا رہا ہے تو دوسری طرف عالم انسانیت میں انتشار و افتراق پھیلانے کا بہت بڑا محرک ثابت ہو رہا ہے۔ واقعات و حالات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا ، حقائق سے چشم پوشی کرتے ہوئے سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ رنگ دینا ، نجی اور بین الاقوامی تعلقات میں غلط فہمیوں کی فضا پیدا کرنا ، سچے اور مخلص رہنماؤں کی طرف سے قوم کے ذہنوں میں شکوک و شبہات کے بیج بونا ، فرقہ واریت کو فروغ دینا ، رائی کا پہاڑ بنا دینا ، نا اہل ، نا قابل اعتبار اور معاشرے میں سازشی ذہن رکھنے والے اور مفاد پرست افراد کی تعریفوں کے پل باندھ دینا ، عوام کے اصل مسائل سے صرف نظر کرکے غیر ضروری ، لا یعنی اور جزیاتی امور پر اپنی توجہ کو مرکوز رکھنا ، بحث مباحثوں اور ٹاک شوز کی محفلیں سجا کر گھنٹوں بیٹھے رہنا اسی میڈیا کے بیشتر عناصر کا معمول بن گیا ہے۔ کسی کی آنکھ کے شہتیر پر پردہ ڈالنا اور کسی کی آنکھ کے تنکے کو نمایاں کر کے سکرین پر لانا ہمارے اور بین الاقوامی میڈیا کا طے شدہ ایجنڈا ہے۔ جس سے انہیں کثیر سرمایہ حاصل ہوتا ہے کیونکہ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ میڈیا کی سرپرستی اور فنڈنگ بیرون ممالک سے ہی ہوتی ہے۔میڈیا کا ذکر ہو رہا ہے تواس کی ریگولیٹری اتھارٹی پیمرا کا ذکر بھی ضروری ہے کہ اس میں سول سوسائٹی کو زیادہ نمائندگی دی جائے۔ اور مانیٹرنگ نظام کو بہتر بنایا جائے۔کچھ مخصوس حلقوں کے دباﺅ پر کسی پروگرام یا اینکر پر پابندی نہ لگائی جائے، فیصلہ سازی کے عمل کو شفاف اور منصفانہ بنایا جائے۔
عورت ہو تم تو تم پہ مناسب ہے چپ رہو
یہ بول خاندان کی عزت پہ حرف ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: HUMAIRA ASLAM

Read More Articles by HUMAIRA ASLAM: 10 Articles with 6052 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Apr, 2018 Views: 523

Comments

آپ کی رائے