جنت موت کے منہ میں

(حامد نذیر ڈولہ, دیپالپور)

بھارتی فوجی کشمیریوں پر اتیاچار کرتے ہوئے

دیتے ہیں کب سے تمہیں قبلہ و کشمیر
اب توڑ بھی ڈالو ستم و جور کی زنجیر
باتوں سے کوئی بات بنی ہے نہ بنے گی
اٹھتے ہیں مجاہد تو بدل جاتی ہے تقدیر
خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم سب نے مسلمان کے گھر میں جنم لیا۔ آج یہی وجہ ہے کہ دنیائے اسلام میں کسی جگہ بھی مسلمانوں کو نشانہ بنایا جائے ہم تڑپ اٹھتے ہیں اور جان دینے کیلئے آمادہ ہو جاتے ہیں۔

آج کشمیر کی وادی جل رہی ہے۔ کشمیریوں کے سینے بھارتی توپوں اور سنگینوں سے چھلنی کیے جا رہے ہیں ۔ کشمیر کا بچہ بچہ آزادی کی اس جنگ میں کود پڑا ہے۔ مردوزن، بوڑھے بچے سب آزادی کشمیر کا پرچم تھامے وادی کشمیر کے کونے کونے میں پھیل گئے ہیں ۔ اور کشمیر کی وادی کشمیری مجاہدین کے خون سے لہو رنگ ہو رہی ہے ۔ دریائے جہلم کا پانی کشمیریوں کے خون سے سرخ ہو رہا ہے ۔ ولر اور ڈل جھیلیں خون کے آنسو رو رہی ہیں ۔ کشمیر جنت نظیر ماتم کدہ بنا ہوا ہے ۔

میں صرف جذباتی باتیں نہیں کر رہا ۔ اسلام میں اس کی روایت موجود ہے کہ جب اسلامی ریاست کے کسی ایک حصہ پر حملہ ہوا تو تمام عالم اسلام متحد ہو کر اس کی مدد کو جا پہنچتا تھا۔

اس وقت ضروری ہے کہ ملت اسلامیہ میں شامل تمام ممالک کے حکمران ایک ہو جائیں ۔ مسلمان جب بھی باطل کے خلاف ہوئے ہیں باطل کو ہی میدان سے نکال کر بھاگنے پر مجبور کر دیا ۔ اگر ہم سب ایک نہیں ہوئے تو کشمیر کشمیریوں کو اور فلسطین فلسطینوں کو کیسے مل پائے گا۔؟

اس وقت پورا کشمیر موت کی وادی کی تصویر پیش کررہا ہے ۔ ہندو فوجیں نہتے کشمیریوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ کرفیو لگا کر گھروں کو جلایا جا رہا ہے ۔ معصوم بچوں کو بے دردی سے مارا جا رہا ہے ۔ اور عالم اسلام خاموشی سے یہ سب دیکھے جا رہی ہے ۔
تو نے جلتی ہوئی جنت کو کبھی دیکھا ہے
آ آگ میں جلتس ہوا کشمیر ذرا دیکھ

پاکستان کی حکومت ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کے مصداق خاموشی سے حالات کا جائزہ لے رہی ہے ۔ کبھی کبھی اس پر ایک گرم سا بیان دے کر لوگوں کے خون میں جوش پیدا کرنے کے سوا پاکستان کی حکومت کر ہی کیا سکتی ہے ؟

پاکستانی حکومت کو اس کے لیے عالمی ضمیر سے اپیل کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ غیر جانبدار ممالک کی تحریک اور ساری کا فورم موجود ہے ۔ اس کے ذریعے بھارت کو مجبور اور پابند کیا جائے کہ ایک کروڑ سے زائد مسلمان کشمیریوں کا حق ارادیت تسلیم کیا جائے ۔ اگر کشمیریوں کو محاذ کھولنا پڑا تو انشاءاللہ وہ ہمیں کنٹرول لائن کے قریب اپنے نشانہ بشانہ پائیں گے ۔ اگر ہماری مدد سے افغان مجاہدین روسی سامراجیت کو ناک چنے چبوا سکتے ہیں تو کشمیری مجاہدین کیوں نہیں ۔ بھارت کو لنگوٹی چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کر سکتے۔
کشمیر بنے گا پاکستان پاکستان زندہ باد

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: حامد نذیر ڈولہ

Read More Articles by حامد نذیر ڈولہ: 2 Articles with 752 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Apr, 2018 Views: 471

Comments

آپ کی رائے