ادبی جہتیں

(Tasneem Siraj, New Delhi)

مرتبہ
تسنیم سراج الحق

نظم آغاز و ارتقاء

وسیع تر مفہوم میں نظم سے مراد پوری شاعری ہے۔ لیکن شاعری کے باب میں غزل کے ماسوا تمام اصناف شعر کو نظم کے زمرے میں رکھا جاتا ہے۔ ظاہر ہے مثنوی، قصیدہ، مرثیہ بھی نظم کے دائرے میں آتی ہیں ۔چونکہ ان اصناف کی اپنی علاحدہ شناخت قائم ہے اس لیے ہم انہیں اسی اعتبار سے پہچانتے ہیں ۔ ان اصناف کے علاوہ بھی ہمیں ایسی نظمیں دیکھنے کو ملتی ہیں جن میں کسی موضوع پر تسلسل کے ساتھ اظہارِ خیال کیا گیا ہے۔ ان کا ایک مرکزی خیال بھی ہے۔ یہ نظمیں مختلف ہیئتوں میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ یہاں نظم سے مراد اسی طرز کی شاعری سے ہے۔سب سے پہلے نظم کی یہ نمایاں شکل نظیراکبرآبادی کے یہاں پورے آب و تاب کے ساتھ نظر آتی ہے۔ نظیر نے اردو نظم کو واضح شناخت عطا کی۔
اردو نظم کا ابتدائی دور
اردو نظم نگاری کا ابتدا دکن میں ہوئی۔ مذہبی اور صوفیانہ نظموں کی شکل میں اردو نظم کے ابتدائی نقوش نظر آتے ہیں۔ دکن کی بہمنی سلطنت نے اردو ادب کی خاصی پزیرائی کی ۔ عادل شاہی اور قطب شاہی سلطنتوں نے اردو ادب کے فروغ میں بڑا نمایاں کردار ادا کیا۔ قلی قطب شاہ، عبداللہ قطب شاہ، ملا وجہی،غواصی، ابنِ نشاطی وغیرہ دکن کے مشہور شاعروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان شاعروں اور ادیبوں کو اس عہد کے حکمرانوں کی سرپرستی حاصل تھی۔ خود بادشاہ بھی شعر و شاعری کاذوق رکھتے تھے۔ ابتدا میں میں مذہبی اور صوفیانہ نظمیں بیشتر شعرا کی تخلیقات میں مثنوی کی شکل نظر آتی ہیں۔ خواجہ بندہ نواز گیسو دراز ابتدائی دور کے اہم شاعر ہیں۔ انھوں نے تصوف کے کچھ رسالے اور نظمیں تخلیق کیں۔ ’چکی نامہ‘ ان کی مشہور نظموں میں شمار کی جاتی ہے۔
عادل شاہی عہد میں تصوف مذہبی اور اخلاقی مضامین شاعری میں غالب نظر آتے ہیں۔ برہان الدین جانم کی نظموں میں مذہبی تعلیمات اور تصوف کے مسائل بیان کیے گئے ہیں۔ حجت البقا، وصیت الہادی، بشارت الذکر ان کی اہم نظمیں ہیں۔ برہان الدین جانم کے مرید شیخ غلام محمد داول کے یہاں تصوف اور اخلاقی مضامین کی کئی نظمیں دیکھی جاسکتی ہیں۔ چہار شہادت، کشف الانوار اور کشف الوجود میں تصوف کے مسائل بیان کیے ہیں۔
سلطان قلی قطب شاہ اردو کا پہلا صاحبِ دیوان شاعر تسلیم کیا جاتا ہے۔ قلی قطب شاہ نے غزل، قصیدہ، مرثیہ، مثنوی اور نظم میں طبع آزمائی کی۔ ان کے فکر کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ان کے کلام میں مختلف موضوعات پر نظمیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ شب برات، عید، بسنت، برسات، اور حسن و عشق وغیرہ کا بیان بڑے دلکش اندازمیں کیا ہے۔ ان کی یہ نظم دیکھیے:
میری سانولی من کو پیاری دِسے
کہ رنگ روپ میں کونلی ناری دِسے
سہے سب سہیلیاں میں بالی عجب
سر و قد ناری او تاری دِسے
سکیاں میں ڈولے نیہہ بازی سوں جب
او مکھ جوت تھے چندکی خواری دِسے
تو سب میں اتم ناری تج سم نہیں
کوئل تیری بولاں سے ہاری دِسے
تیری چال نیکی سب ہی من کو بھاے
سکیاں میں توں جوںپھل بہاری دِسے
بہوت رنگ سوں آپ رنگیاں کیاں
ولے کاں ترے رنگ کی ناری دِسے
نبی صدقے قطبا پیاری سدا
سہیلیاں میں زیبا تماری دِسے
دکن کے شعرا میں قلی قطب شاہ کی شاعری اپنے موضوعات کے اعتبار سے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ ان کی نظموں کے موضوعات اور عنوانات عوامی زندگی سے بہت قریب نظرآتے ہیں۔
جب ہم نظم نگاری کے ابتدائی دور پر نظر ڈالتے ہیں تو اس دور کی نظموں میں موضوعات کے لحاظ سے بڑا تنوع نظر آتا ہے۔ مذہبی خیالات، تصوف کے مسائل، حسن و عشق کا بیان، قدرتی مناظر، اور سماجی زندگی کے رسومات، میلے‘ تہوار وغیرہ کو شاعری کا موضوع بنایا ہے۔ اس عہد کی دکن کی شاعری میں ہندوستانی تہذیب اور طرزِ معاشرت کی بھرپور عکاسی نظر آتی ہے۔
شمالی ہند میں نظم نگاری
شمالی ہند میں اردو نظم نگاری کا ابتدا سترہویں صدی میں ہوئی۔ محمد افضل افضل اور جعفر زٹلی کے یہاں اردو نظم کے ابتدائی نمونے دیکھے جاسکتے ہیں۔اس عہد کی ایک اہم تصنیف محمد افضل افضل کی ’بکٹ کہانی، ایک سنگ میل کا درجہ رکھتی ہے۔’بکٹ کہانی‘ کوبارہ ماسا کی روایت میں اہم مقام حاصلہے۔ افضل نے ایک عورت کی زبانی اس کے ہجر کی کیفیات کی تصویر کشی موثر انداز میںکی ہے۔ اس نظم میں مکمل تسلسل، اثر آفرینی اور بیان میں روانی موجود ہے۔ نظم کا یہ حصہ دیکھیے:
کریں عشرت پیا سنگ ناریاں سب
میں ہی کانپوں اکیلی ہائے یارب
اجی ملّا مرا ٹک حال دیکھو
پیارے کے ملن کی فال دیکھو
لکھو تصویر چی آوے ہمارا
وگرنہ جائے ہے جیوڑا بچارا
رے سیانو تمھیں ٹونا پڑھواے
پیا کے وصل کی دعوت پڑھواے
ارے گھر آ اگھن میری بجھاوے
اری سکھیو کہاں لگ دکھ کہوں اے
کہ بے جاں ہورہی جاکر خبر سے
کہ نک ہوجا، دوانی کو صبر دے
(بکٹ کہانی)
میرجعفر زٹلی اس عہد کا اہم شاعر ہے۔ جعفر زٹلی اپنے پھکڑپن اور فحش کلامی کی و جہ سے مشہور ہے لیکن انھوں نے اپنے عہد کے حقائق کو ایک مخصوص انداز میں بیان کر نے کی کوشش کی ہے۔ مغلیہ حکومت کے زوال اور دہلی کی تباہی و بدحالی کی تصویر ان کی شاعری میں دیکھی جاسکتی ہے۔ انھوں نے ظالم حاکموں، جا بر حکمرانوں، بے ایمان وزیروں کو ہدفِ ملامت بنایا ہے۔ جعفر زٹلی نے طنزیہ اور ہجویہ شاعری کی ایک روایت قائم کی۔ اس عہد کے زوال اور انحطاط کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے۔ اس عہد میں نوکری کی صورتِ حال کا بیان دیکھیے:
صاحب عجب بیداد ہے، محنت ہمہ برباد ہے
اے دوستاں فریاد ہے، یہ نوکری کا خطر ہے
ہم نام کیوں اسوار ہیں، روزگار سیں بیزاری ہے
یارو ہمیشہ خوار ہیں، یہ نوکری کا خطر ہے
نوکر فدائی خاں کے، محتاج آدھے نان کے
تابع ہیں بے ایمان کے، یہ نوکری کا خطر ہے
(نوکری)
اٹھارویں صدی میں اردو شاعری کا ایک اہم دور شروع ہوتا ہے۔ نواب صدرالدین محمد خاں فائز اور شاہ ظہورالدین حاتم کے دور میں اردو نظم کو بہت فروغ حاصل ہوا۔ ان شعرا کے یہاں غزلو ںکے ساتھ مسلسل نظمیں بھی بہت ہیں۔ فائز کے یہاں مختلف عنوانات کی نظمیں ہیں۔
اس عہد کے شعرا میں شاہ ظہورالدین حاتم کا مرثیہ بہت بلند ہے۔ ان کے یہاں کثیر تعداد میں نظمیںموجود ہیں۔ ان کے موضوعات میں بڑی وسعت اور رنگارنگی ہے۔ ان کی نظموںمیں حمد ونعت، حقہ، قہوہ، نیرنگیِ زمانہ، حال دل وغیرہ بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ سید احتشام حسین فائز اور حاتم کی شاعری کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’ایک حقیقت ہے کہ ولی کے ابتدائی دور میں جو نظمیں لکھی گئیں۔ وہ مثنوی کے اندازمیں بیانیہ قصے نہیں ہیں بلکہ مختلف خارجی اور داخلی موضوعات کے شاعرانہ بیان پر حاوی ہیں۔ اگر فائز کے موضوعات زیادہ تر حسن اور اس کے تاثرات سے تعلق رکھتے ہیں تو حاتم فلسفیانہ اور مفکرانہ موضوعات کاانتخاب بھی کرتے ہیں۔ فائز زیادہ تر داخلی اور رومانوی تاثرات کا ذکر کرتے ہیں تو حاتم خارجی حالات اور زندگی پراثر کرنے والے مسائل بھی پیش کرتے ہیں۔ فائز زیادہ تر مثنوی کی ہیئت سے کام لیتے ہیں تو حاتم ان میں بھی تجربے کرتے ہیں چنانچہ انھوں نے مخمس سے بھی کام لیا ہے۔‘‘ (جدید ادب منظر پس منظر: احتشام حسین)
اس عہد میں بعض دوسرے شاعروں کے یہاں بھی نظم کے نمونے ملتے ہیں جس سے ان کی قادرالکلامی کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس دورکے بعد اردو شاعری کا وہ دور آتا ہے جسے ہم میر و سودا کا دور کہتے ہیں۔ گوکہ میر و سودا کی حیثیت نظم نگارکی نہیں ہے لیکن ان کی مثنویوں، قطعات، ہجو اور شہر آشوب کو ان کے روایتی مفہوم سے الگ کرکے دیکھیں تو اس عہد کے مسائل اور انفرادی و اجتماعی زندگی کی کشمکش کاا ندازہ ہوتا ہے۔ میر کی مختصر مثنویاں، مخمس، مسدس اور شکارنامے میں اس عہد کے سیاسی اور معاشرتی انحطاط اور اخلاقی قدروں کے زوال کی تصویر نمایاں نظر آتی ہے۔ ان تخلیقات کو نظم کے زمرے میں شمار کیے جاسکتے ہیں۔ سودا کے شہر آشوب اور ہجو میں نظم کی صفات موجود ہیں۔ سودا کا شہر آشوب اس عہد کا آئینہ ہے۔ سودا نے سیاسی سماجی معاشی زندگی کی جیتی جاگتی تصویر کشی کی ہے۔ میر و سودا کے یہاں نظم جس صورت میں موجود ہے انھیں نظم کے دائرے میں خارج نہیں کرسکتے۔ یہی دور مرثیہ نگاری کے عروج کا بھی ہے۔ انیس و دبیر کے مرثیے میں بھی نظم نگاری کی خوبیاں موجود ہیں۔ میر ، سودا، انیس و دبیر کے یہاں گرچہ ہماری زندگی اور اس عہد کے مسائل کو بیان کیا گیا ہے لیکن ان شاعروں کے یہاں خالص نظم نگاری کی طرف رجحان نظر نہیں آتا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں ان کے یہاں نظم اپنی الگ شناخت قائم نہیں کرتی۔
اس عہد میں نظم کے حوالے سے نظیر اکبرآبادی کا کوئی مدمقابل نظر نہیں آتا۔ نظیر کی شاعری اس عہد کے مجموعی مزاج سے بالکل الگ ایک نئی روایت قائم کرتی ہے۔ نظیراگرچہ غزل کے بھی شاعر تھے لیکن نظم ان کے اظہار کا بہترین ذریعہ بنی۔تنوع اور رنگارنگی کے لحاظ سے نظیر کا کلام آج بھی بے مثال ہے۔ ان کی نظموں کے مطالعہ سے ہم زندگی کے گوناگوں مشاہدات سے دوچار ہوتے ہیں۔ سماجی زندگی کے مختلف پہلو ہمارے سامنے آتے ہیں۔ رسم و رواج، کھیل کود، تہوا ر، بچپن، جوانی، گرمی، برسات، جاڑا، چرند و پرند، غرضیکہ ہم جس فضاا ور ماحول میں سانس لیتے ہیں اس کی جیتی جاگتی تصویر سامنے آجاتی ہے۔ نظیر کی نظمیں اس عہد کے زندہ مسائل سے گہرا سروکار رکھتی ہیں۔ معاشی مسائل ہوں یا سماجی اور اخلاقی ہر موضوع پر ان کے لیے یکساں اہمیت رکھتا ہے انھوں نے اپنے گرد و پیش زندگی کو جس رنگ میں دیکھا اس پر نظمیں تخلیق کیں چنانچہ ہولی، دیوالی، عید، بسنت، برسات، جاڑا، بچپن، جوانی، بڑھاپا، تل کے للو، بلدیوجی کا میلہ، آٹا، دال پر نظمیں موجود ہیں۔
دراصل نظیر کی شاعری کو کسی دائرے میں قید نہیں کیا جاسکتا۔ ہماری سیاسی سماجی تہذیبی اور سیاسی زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جس پر نظیر کی نظر نہ گئی ہو۔ اردو نظم نگاری میں نظیر اپنی طرزِ فکر کا تنہا شاعر ہے جس کے یہاں موضوعات کی اتنی کثرت ہے۔ نظیر نے عوامی موضوعات کو عوامی زبان میںا س خوبصورتی سے پیش کیا کہ لوگوں کے نظیر کی شاعری ان کی زبان بن گئی۔نظیر کی نظم نگاری کا ایک نمونہ دیکھیے:
کیا چھوٹے کام والے، و کیا پیشہ ور نجیب
روزی کے آج ہاتھ سے عاجز ہیں سب غریب
ہوتی ہے بیٹھے بیٹھے جب آ، شام عن قریب
اٹھتے ہیں سب دکان سے کہ کر کہ یا نصیب
قسمت ہماری ہوگئی ہے اختیار بند
قسمت سے چار پیسے جنھیں ہاتھ آتے ہیں
البتہ روکھی سوکھی وہ روٹی پکاتے ہیں
جو خالی آتے ہیں وہ قرض لینے جاتے ہیں
یوں بھی نہ پایا کچھ تو فقط غم ہی کھاتے ہیں
سوتے ہیں، کر کواڑ کو اک آہ مار، بند
(مفلسی)
ٹک حرص و ہوا کو چھوڑ میاں، مت دیس بدیس پھرے مارا
قزاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجا کر نقارہ
کیا بدھیا، بھینسا، بیل، شتر، کیا گوئیں۔ بَلّا، سربھارا
کیا گیہوں، چاول موٹھ، مٹر، کیا آگ دھواں، کیا انگارا
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا، جب لاد چلے گا بنجارا
(بنجارا نامہ)
نظیر کے بعد عرصے تک نظم کی دنیا سونی ہی رہی۔ اس درمیان بعض شعرا کے یہاں نظم نگاری کی سمت میںکوشش دیکھی جاسکتی ہیں لیکن اس حوالے سے کوئی نمایاں تخلیق منظر عام پر نہیں آئی۔
1857 میں ہندستان پر انگریزوں کا مکمل تسلط قائم ہونے کے بعد حکومت اور عوام کے درمیان رابطے کے لیے کئی شہروں میںا نجمنوں کا قیام عمل میں آیا۔ ان انجمنوں کے اغراض و مقاصد میں علوم و فنون کی ترویج واشاعت بھی تھا۔ 21 جنوری 1865 کو انجمن اشاعتِ مطالبِ مفیدہ پنجاب کا قیام عمل میں آیا۔ یہی انجمن ’انجمن پنجاب‘ کے نام سے مقبول ہوئی۔ محمد حسین آزاد اس انجمن سے وابستہ تھے۔ مئی 1874 میں کرنل ہالرائڈ کی سرپرستی میںموضوعاتی مشاعرہ منعقدہوا جس میں مصرع طرح کے بہ جائے موضوعاتی نظمیں پڑھی گئیں۔ ان شاعروں میں مولانا محمد حسین آزاد اور مولانا الطاف حسین حالی نے بھی اپنی نظمیں پیش کی ہیں۔ گرچہ شاعروں کا یہ سلسلہ زیادہ دنوں تک قائم نہ رہ سکا لیکن نظم نگاری کی انھیں کوششوں سے اردو نظم نگاری کے نئے دور کا آغاز ہوا ۔
نظم نگاری کی تحریک کے روحِ رواں محمد حسین آزاد اورمولانا الطاف حسین حالی تھے۔ ان حضرات نے نہ صرف یہ کہ عملی طور پر نظم نگاری کی توجہ دی بلکہ فکری اعتبار سے نظم نگاری کے لیے ایک سازگار فصا قائم کی۔ انھوں نے انجمن پنجاب کے جلسوں میں جو لکچر دیے وہ نظم نگاری کے لیے ایک منشور کا درجہ رکھتے ہیں۔آزاد نے پہلے مشاعرے میں جونظم سنائی اس کا یہ حصہ ملاحظہ کیجیے:
بوندوں میں جھومتی وہ دختروں کی ڈالیاں
اور سیر کیاریوں میں وہ پھولوں کی لالیاں
وہ ٹہنیوں میں پانی کے قطرے ڈھلک رہے
وہ کیاریاں بھری ہوئی تھالے چمک رہے
آبِ رواں کا نالیوں میں لہر مارنا
اور روئے سبزہ زار کا دھو کر سنوارنا
کوئل کا دور دور دختوں میں بولنا
اور دل میں اہلِ درد کے نشتر گھنگھولنا
گرنا وہ آبشاروں کی چادر کا زور سے
وہ گونجنا وہ باغ کا پانی کے شور سے
(ابرکرم)
نظم نگاری کے حوالے سے آزاد کی کوشش بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ آزاد نے نظم میں انقلابی تبدیلی کے خواہاں تھے۔ ان کے مقالات اور مضامین میں اردو شاعری کے متعلق خیالات دیکھے جاسکتے ہیں۔مولانا آزاد اردو نظم کا دائرہ وسیع تراور اسے ردیف و قافیہ کی قید سے آزاد کرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے ردیف ا ور قافیہ سے آزاد نظمیں بھی کہیں۔
اگرچہ ایک نظم نگار کے طور پر آزاد کا مرتبہ بہت بلند نہیں۔ ان کی نظمیں بہترین نظم کا نمونہ نہ بن سکیں۔ لیکن انھوں نے نظم ہی کے لیے جو راہیں ہموار کیں اس سے نظم کو بہت فروغ حاصل ہوا۔
انجمن پنجاب کے مشاعروں میں اگرچہ مولانا الطاف حسین حالی، مولوی عمرجان دہلوی ، مرزا عبداللہ بیگ، مرزا ایوب بیگ، مرزا محمود بیگ، شاہ نواز حسین ہما، عطاء اللہ خاں عطا، منشی لچھمی داس برہم، مولوی گل محمد عالی، اصغر علی فقیر، ملا گل محمد عالی، منشی شیخ الٰہی بخش رفیق، مولوی فصیح الدین انجم، مفتی امام بخش رئیس، پنڈت کرشن داس طالب وغیرہ شعرا شامل ہوئے لیکن آزاد اور مولانا حالی کے مرتبے کو کوئی نہ پہنچ سکا۔ حالی آزاد کے ہم رکاب تھے۔ انجمن کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے تھے۔ حالی نے ان مشاعروں میں کئی اہم نظمیں سنائیں۔ برکھارت، نشاطِ امی، مناظرہ رحم و انصاف، حب وطن، جیسی نظمیں انھیں مشاعروں میں سنائی گئیں۔حالی کی نظمیں زبان کی سادگی اور صفائی کے اعتبار سے بلند مقام رکھتی ہیں۔ نظم کایہ حصہ دیکھیے:
ہیں شکر گزار تیرے برسات
انسان سے لے کے تاجمادات
دنیا میں بہت تھی چاہ تیری
سب دیکھو رہے تھے راہ تیری
تجھ سے کھلا یہ رازِ فطرت
راحت ملتی ہے بعدِ کلفت
شکریہ فیضِ عام تیرا
پیشانیِ دہر پر ہے لکھا
گلشن کو دیا جمال تونے
کھیتی کو کیا نہال تونے
(برکھارت)
ایک دن رحم نے انصاف سے جاکر پوچھا
کیا سبب ہے کہ ترا نام ہے دنیامیں بڑا
نیک نامی سے تری سخت تحیر ہے ہمیں
ہاں سنیں ہم بھی کہ ہے کون سی خوبی تجھ میں
دوستی سے تجھے کچھ دوستوں کی کام نہیں
آنکھ میں تری مروت کا کہیں نام نہیں
اپنے بیگانے ہیں سب تیری نظر میں یکساں
دوست کو فائدہ تجھ سے نہ دشمن کو میاں
(مناظرۂ رحم و انصاف)
یہاں حالی کی یہ نظمیں مثال کے طور پر پیش کی گئیں ہیں جو انھوں نے انجمن پنجاب کے مشاعرے میں سنائی تھیں۔ مسدس مدو و جزر اسلام، مناجاتِ بیوہ، مرثیۂ غالب، چپ کی داد وغیرہاہم نظموں میں شمار کی جاتی ہیں۔ نظم نگار کے طور پر حالی ہمارے اہم نظم نگار شاعر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ اس نئے طرز کے مشاعرے میں بعض دوسرے شاعروں نے اچھی شاعری کے نمونے پیش کیے۔غلام نبی صاحب کی نظم کا یہ حصہ دیکھیے:
دکھاتی ہے بس چاندنی بھی بہار
ستارے بھی ہوتے ہیں کو ہر نثار
جدھر دیکھو عالم ہے ایک سیر کا
کہاں لطف یہ موسم غیر کا
کبھی ٹھنڈی ٹھنڈی ہے چلتی ہوا
کہیں برف پڑتی ہے بس خوشنما
(زمستاں)
تیسرے مشاعرے کا موضوع ’امید‘ تھا۔ الٰہی بخش رفیق نے اپنی نظم ’آئینہ امید‘ سنائی۔ نظم کا یہ حصہ دیکھیے:
کیا کیا نہیں الفت نے تری رنگ دکھائے
اس عالم نیرنگ میں نیرنگ دکھائے
سادھا ہے محبت میں تری جوگ کسی نے
اور عشق کا ہے مول لیا روگ کسی نے
پھرتا ہے کوئی حیرتِ دیدار کا مارا
جیتا ہے کہ مرتا ہے ترے پیار کا مارا
ہے سب سے نہاں تو یہ چھپاتی نہیں صورت
ہے دل میں و لیکن نظر آتی نہیں صورت
ہر راز جدا ہے ترا ہر ناز الگ ہے
خوبان جہاں سے تیرا انداز الگ ہے
(آئینہ امیر)
ان مشاعروں میں شریک ہونے والے شاعروں میں محمد حسین آزاد اور مولانا حالی کے علاوہ کوئی اپنی ادبی حیثیت مستحکم نہ کرسکا ۔آزاد اپنی شاعری سے زیادہ اپنی فکر کی تندی و تیزی اور نثر کے اعتبار سے بلند مرتبہ رکھتے ہیں۔ گرچہ آزاد نظم میں فکری اور فنی دونوں اعتبار سے تبدیلی کی طرف قدم اٹھایا لیکن نظم نگاری کے حوالے سے آزاد کا مرتبہ بس واجبی ہی ہے۔لیکن نظم نگاری کے حوالے سے ان کی کوشش کبھی فراموش نہیں کی جاسکتی ہیں۔ یہ ان کی کوششوں کا ہی ثمرہ تھا کہ نظم نگاری کے لیے شعرا کی ایک جماعت اس مشاعرے میں شریک ہوئی اور ان سب کی اجتماعی کوششوں سے اردو نظم نگاری کے لیے راہیں ہموار ہوئیں۔ موضوعاتی مشاعرے سے اردو نظم نگاری کی جو تحریک شروع ہوئی اس کے اثرات اردو نظم پر بہت گہرے مرتب ہوئے۔
انیسویں صدی کے اواخر کا زمانہ اردو ادب میں غیرتبد معمولی تبدیلیوںکا زمانہ تھا۔ اردو ادب میں کئی اصناف کا ظہور ہوا۔ ناول نگاری، تنقید نگاری، سوانح نگاری، مضمون نگاری وغیرہ۔ شاعری کے حوالے سے اردو نظم میں فکری اور فنی اعتبارسے تبدیلی کا رجحان پیدا ہوا۔ حالی اور آزاد انگریزی شاعری کی طرز پر اردو نظم میں تبدیلی کے خواہاں تھے۔ ا ٓزاد اور حالی کی تحریروں میں انگریزی شاعری سے استفادے پر بہت زور رہا ہے۔ آزاد کی نظم ’ جغرافیہ طبعی کی پہیلی‘ ہیئت و اسلوب کے تجربے کا اوّلین نمونہ قرار دی جاسکتی ہے۔ انگریزی نظموں کے تراجم اور انگریزی نظموں سے ماخوذ خیالات کو نظم کرنے کا رجحان پیدا ہوا۔ اس ضمن میں نظم طباطبائی کا ترجمہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ انھوں نے گرے کی نظم ایلچی کا ترجمہ بعنوان ’گورِ غریباں‘ کیا جو بے حد مقبول ہوا۔ عبدالحلیم شرر نے اپنے رسالے ’دلگداز‘ اور ’سرعبدالقادر نے ’مخزن‘ سے انگریزی شاعری کے تراجم اور استفادے کی حوصلہ افزائی کی۔ نظموں کے تراجم اور مغربی شاعری سے ماخوذ خیالات پر مبنی نظموں کو ان رسالوں میں خاص جگہ دی گئی اور انھیں تعارفی نوٹ کے ساتھ شائع کیا گیا۔ محمد حسین آزاد، غلام بھنگ نیرنگ، نادر کاکوروی، سرور جہان آبادی، حسرت موہانی، ضامن کنتو ری، سیف الدین شہاب وغیرہ شاعروں کے تراجم شائع ہوئے۔ اردو نظم میں جو تبدیلیاں رونما ہورہی تھیں نظموں کے تراجم نے انھیں اور جلا بخشی۔ نظموں کے تراجم اور اس طرز کی نظمیں تخلیق کرنے کی کوششوں کے نتیجے میں ہیئت میں شکست و ریخت کا عمل شروع ہوا۔ نئے اسالیب کی نظمیں منظر عام پرآئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



انجمن پنجاب اور اُردو ادب
ہندوستان میں انگریزی راج کا دبدبہ انیسویں صدی کی ابتدا ہی سے قائم ہوچکا تھا۔ بہت سی ریاستوں کے اپنے راجا تھے(حالانکہ ابھی آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر دہلی کے تخت پر قابض تھا) لیکن یہ سب انگریزوں کے خریدے ہوئے تھے۔ ہندوستانی سیاست میں اب ان راجائوں کا رول محض برائے نام رہ گیاتھا۔ جو کچھ ہورہا تھا وہ سب انگریزوں کے فائدے اور ہندوستان کو پوری طرح غلامی میں پھنسانے کے لیے ہورہا تھا۔ ہندوستانیوں سے اُن کی وقعت، عزت، حکومت سب کچھ دھیرے دھیرے چھنتا چلا جارہا تھا۔ انگریزوں کے قدم یہاں پوری طرح جم گئے تھے۔ حالات کافی تیزی سے بدل رہے تھے۔ اسی دوران میں 1857ء کی بغاوت شروع ہوئی۔ یہ لڑائی محض کوئی حادثہ نہیں تھی بلکہ اس کا ایک پورا سیاسی، مذہبی اور سماجی پس منظر تھا۔ انگریز آہستہ آہستہ دیسی ریاستوں پر مختلف بہانوں سے اپنا اقتدار مسلط کررہے تھے۔ دوسری طرف اودھ کا الحاق اور مغل سلطنت کا لال قلعے میں سمٹ کر رہ جانے سے عوام میں بے چینی اور غصہ پیدا ہورہا تھا۔ چربی لگے کارتوس نے عوام کے غصے کو اور بھڑکادیا۔18؍اپریل 1857ء کو منگل پانڈے کی پھانسی نے دیسی سپاہیوں کے ضبط کو توڑ دیا اور بالآخر ان شعلوں نے آگ کی شکل اختیار کی جو10؍مئی 1857ء کو میرٹھ میں اچانک بھڑک اٹھی۔
1857ء کی بغاوت سیاسی حوالے سے ناکام ہوئی لیکن ناکام بغاوت نے آنے والے زمانے میں ہندوستانی زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہیں سے جدید ہندوستان کی تاریخ شروع ہوتی ہے۔ مغل سلطنت کا پوری طرح خاتمہ اور برطانوی سامراج کے استحکام کا اثر ہندوستان کے تہذیبی ،تمدنی اور علمی وادبی میدانوں میں دن بہ دن بڑھتا جارہا تھا۔ ہندوستان میں اب نئے دور کا آغاز ہورہا تھا۔ مشرقی اقدار پر مغربی سحر تیزی سے اثر انداز ہورہا تھا۔اسی دوران میں سرسید اور اُن کے رفقاجن میں محسن الملک، نذیر احمد، الطاف حسین حالیؔ ،محمد حسین آزادؔ قابل ذکر ہیں، آسمان ادب پر نمودار ہوئے۔ علمی وادبی میدانوں میں اجتہاد کی داغ بیل پڑرہی تھی اور ایک نیافکری دبستان تشکیل پارہا تھا۔ ادب میں ہر نئے تجربے اور تبدیلی کا کھلے دل اور جوش کے ساتھ خیرمقدم ہورہا تھا۔ فراق گورکھپوری فرماتے ہیں:
’’انگریزی راج یوں تو1857ء کے غدر کے پہلے ہی قائم ہوچکاتھا لیکن 1857ء کے بعد ملک بھر کو اس کا احساس ہوا
کہ گویا ہم سے کوئی چیز چھین لی گئی ہے اور ادب میں یہ احساس حالیؔ اور ان کے ہم عصروں(شبلیؔ،آزاد،نذیر احمد، سرشار)
کے کارناموں میں کارفرما نظر آتاہے۔ اب پہلے پہل ادب برائے ادب کا نظریہ ادب برائے زندگی کے نظریے سے بدلتا
ہوا دکھائی دیتا ہے اور زندگی بھی محض وجدانی یاداخلی زندگی نہیں بلکہ عملی، کاروباری، سماجی اور ملی زندگی۔حالیؔ اور ان کے
رفقانے ادب میں افادی پہلو پیدا کیے اور ان افادی پہلوئوں کو اجاگر کرنا شروع کیا۔
اردو ادب میں جدید رجحانات اور تجربوں کو فروغ دینے کے لیے لاہور میں مولانا محمد حسین آزاد ؔنے انجمن پنجاب کی بنیاد ڈالی۔ اس سلسلے میں میجر فلر اور کرنل ہالرائڈ کی سرپرستی انہیں حاصل تھی۔ ان دونوں نے آزادؔ کی بڑی حوصلہ افزائی کی۔ 1867ء میں آزادؔ انجمن کے سیکریٹری مقرر ہوگئے۔ 8مئی 1874ء کو انجمن کا پہلا اجلاس منعقد ہوا اور 30مئی 1874ء کو باضابطہ ایک موضوعی مشاعرے کے ا نعقاد کی بات ہوئی۔مشاعرے کا موضوع ’’برسات‘‘ قرار پایا اور شعرا سے اسی عنوان کے تحت نظمیں کہنے کی گذارش کی گئی۔چونکہ ان دنوں مشاعروں کا بڑا رواج تھا اور ان مشاعروں میں مصرع طرح دیا جاتاتھا اور شعرا اسی مصرعے کی زمین میں طبع آزمائی کیاکرتے تھے۔ مولانا آزاد نے ایک جدید طرز کے مشاعرے کا آغاز کیا۔ ہر مشاعرے کے لیے ایک موضوع دیاجاتا تھا جس پر شاعروں سے نظمیں لکھ کر لانے کو کہا جاتا تھا اور اس طرح یہیں سے اردو میں جدید نظم نگاری کی باقاعدہ ابتداہوتی ہے۔ انجمن پنجاب کے جلسوں میں علمی وادبی مضامین بھی پڑھے جاتے تھے۔ 67 18 ء میں انجمن کے ایک جلسے میں آزاد نے ایک مضمون’’ نظم اور کلام موزوںکے باب میں خیالات‘‘ پیش کیا جس میں انہوں نے شعر کے متعلق ایک جدید نظریہ پیش کیا۔ انہوںنے شاعری کے سلسلے میں بہت سے مفید مشورے دیے۔آزاد ؔکا ایک مشورہ یہ ہے کہ ہمارے شاعروں کو انگریزی شاعری سے استفادہ کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنی شاعری میں نئے انداز اور نئی تکنیکوں کا استعمال کرنا چاہیے اور نئے نئے موضوعات کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔ ان کا دوسرا مشورہ یہ ہے کہ ہمارے شاعروں کوبھاشا کی طرف متوجہ ہوجانا چاہیے اور بھاشا کے شاعروں کی طرح بے جامبالغہ آرائی سے پرہیز کرکے اپنی شاعری میں جذبات کی سچی تصویر کھینچنی چاہیے۔ دوسرے یہ کہ ہمیں اپنی شاعری میں مقامی الفاظ،تشبیہوں اور استعاروں جیسے شعری وسائل کو بروئے کار لانا چاہیے تاکہ ہمارا پیغام شاعری کے ذریعے عوام تک آسانی سے پہنچ سکے۔انجمن کا پہلا اجلاس اور موضوعی مشاعرہ 8مئی 1874ء کو منعقدہوا ۔اس پہلے اجلاس میںآزاد نے شعرو ادب پر کچھ اس طرح کا اظہار ِ خیال کیا:
’’میں نثرکے میدان میں بھی سوار نہیں،پیادہ ہوں اور نظم میںخاک افتادہ،مگر سادہ لوحی دیکھو
کہ ہر میدان میںدوڑنے کو آمادہ ہوں۔یہ فقط اس خیال سے ہے کہ میرے وطن کے لیے
شائد کوئی کام کی بات نکل آئے۔میں نے آج کل جو چند نظمیںمثنوی کے طور پر مختلف مضامین
میں لکھیں ہیں جنہیںنظم کہتے ہوئے شرمندہ ہوتا ہوں۔ ۔۔۔۔۔
اے میرے اہل وطن! مجھے بڑا افسوس اس بات کا ہے کہ عبارت کا زور ،مضمون کا جوش و خروش
اور لطائف و صنائع کے سامان،تمہارے بزرگ اس قدر دے گئے ہیں کہ تمہاری زبان کسی سے
کم نہیں۔کمی فقط اتنی ہے کہ وہ چند بے موقع احاطوںمیں گھِر کر محبوس ہوگئی ہے۔وہ کیا؟مضامین
عاشقانہ ہیں جس میں کچھ وصل کا لطف بہت سے حسرت وارمان،اس سے زیادہ ہجرکا رونا،شراب،
ساقی،بہار،خزاں،فلک کی شکایت اور اقبال مندوں کی خوش آمد ہے۔یہ مطالب بھی بالکل خیالی
ہوتے ہیں اور بعض دفعہ ایسے دوردور کے استعاروں میں ادا ہوتے ہیں کہ عقل کام نہیںکرتی۔وہ
اسے خیال بندی اور نازک خیالی کہتے ہیں اور فخر کی موچھوںپر تائو دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
اے میرے اہل وطن !ہمدردی کی آنکھیںآنسوں بہاتی ہیں،جب مجھے نظر آتا ہے کہ چند روز میں
اس رائج الوقت نظم کا کہنے والا بھی کوئی نہ رہے گا۔وجہ اس کی یہ ہے کہ بہ سبب بے قدری کے اور کہنے
والے پیدا نہ ہوں۔‘‘
آزاد ؔنے اپنے لیکچر کے بعد اپنی نظم ’’ شب قدر ‘‘ سنائی۔نظم کا عنوان رمضان ا لمباک کی شب ِ قدر پر نہیں ہے بلکہ اس میں رات کی اہمیت اور غرض و غایت بتائی گئی ہے۔یہ نظم 115اشعار پر مشتمل تھی۔اس نظم کو پنڈت دتاتریہ کیفی نے نئی شاعری کی سب سے پہلی نظم قرار دیا۔نظم ’’ شب قدر‘‘ سے چند اشعارملاحظہ ہو:
عالم پہ تو جو آتی ہے رنگ اپنا پھیر تی ہاتھوں سے مشک اُڑاتی ہے عنبر بکھیرتی
دنیا پہ سلطنت کا تری دیکھ کر چشم کھاتا ہے دن بھی تاروں بھری ر ات کی قسم
روئے زمیںپہ جل رہے تیرے چراغ ہیں اور آسماں پہ کھلتے ستاروں کے باغ ہیں
بجلی ہنسے تو رخ ترا دیتا بہار ہے شبنم کو موتیوں کا دیا تو نے ہا ر ہے
سب تجھ کو لیتے آنکھوںپہ ہیںبلکہ جان پر پورا ہے ترا حکم پر آدھے جہان پر
مولانا آزادؔ نے اردو شاعری کی اصلاح میں اہم رول ادا کیااورجدید اردو نظم کے فروغ میں اُن کا کارنامہ ناقابل فراموش ہے۔بقول کوثر مظہری اردو میں جدید نظم کی اصطلاح کو باضابطہ طور ہر آزاد اور حالی نے رائج کیا۔ اس سلسلے میں آزاد نے عملی ثبوت بھی دیے۔ ان کی نظم ’حب وطن‘ سے چند شعر ملاحظہ ہو:
الفت سے گرم سب کے دل سرد ہوںبہم
اور جوکہ ہم وطن ہوں وہ ہمدرد ہوں بہم
لبریز جوشِ حبِ وطن سب کے جام ہوں
سرشارِ ذوق وشوق، دلِ خاص وعام ہو
انجمن پنجاب کے مشاعروں میںآزادؔ نے جو نظمیں پڑھیں ان میںشب قدر،صبح امید،ابر کرم، برسات، امید ،حب وطن ،انصاف،زمستان وغیرہ قابل ذکر ہیں۔انجمن کی نظموں میں نئے اور اچھوتے موضوعات کو برتا گیا جو اس سے پہلے اردو شاعری میں مفقود تھے۔آزاد نے اردو شاعری کو سوقیانہ مزاج اور ردیف و قوافی اور لفاظی سے پاک کیا۔اور یہ اردو شاعری میں یقیناایک نیا تجربہ تھا جس نے آگے چل کر اردو نظم کو ایک نئی راہ دکھائی اور آج اردو نظم جس منزل پر کھڑی ہے اس کو یہاں تک لانے میں انجمن کے رول سے ادب کا کوئی بھی مورخ انکار نہیں کرسکتا۔انجمن کے مشاعروں کے ذریعے اردو نظم کا ایک ذخیرہ جمع ہوگیا اور اس نے اردو میں جدید نظم کی تحریک اور جدید شاعری کے رجحان کو پروان چڑھانے میں اہم رول ادا کیا۔ڈاکٹر سیدہ جعفرآزاد کی نظم نگاری کی بارے میں فرماتی ہیں:
’’ یہ نظمیں لفاظی،مبالغہ آرائی،صنائع بدائع اور پرکاری سے دور سادہ،عام فہم،پر اثر اور فطری تھیں۔آزاد نے اپنی ان
نظموں میں فطرت کے عمل کوتخیل سے ابھارنے اور ان کی صورت گری کرنے کی کوشش کی۔معاشرتی اصلاح ،اخلاق
کی درستگی اور قومی بہبود ہمیشہ ان کے پیش نظر رہی۔آزاد کی بحروں میں تنوع موجود ہے اور انہوں نے بندوں کی نئی
تشکیل کی طرف بھی توجہ کی۔آزاد کی نظم نگاری نے بندوں کی ترتیب و تنظیم اور صورت گری کے نئے انداز کو روشناس کروایا
اور نظم کو نئی ترسیلی قوت کا حامل بنادیا۔‘‘
آ آئے شب سیاہ کہ لیلیٰ شب ہے تو
عالم میں شاہزاری مشکیں نسب ہے تو
آمد کی تیری شاں تو زیب رقم کروں
پر اتنی روشنائی کہاں سے بہم کروں
ہونا وہ بعد شام شفق میں عیاں تیرا
اڑتا وہ آبنوس کا تخت روان ترا
پھیلے گا لشکر اب جو تیرا آسماں پر
فرماں نشان میں بھی ا ڑے گا جہاں پر
انجمن پنجاب کے پہلے جلسے میں سرکاری ملازموں ،بااثر طبقے کے لوگوں اور جاگیرداروں نے شرکت کی۔لیکن جلد ہی انجمن میں عام لوگ بھی شامل ہوگئے۔انجمن کے دائمی سرپرست پرنس آف ویلز(Prince of Wales) تھے جبکہ سرپرست پنجاب کے گورنرتھے۔انجمن کے اراکین کی تعداد 250 تھی۔
انجمن کے بنیادی مقاصد میں قدیم علوم کا احیا ،مقامی زبانوں میں علوم مفیدہ کی اشاعت،علمی ،سیاسی ،معاشرتی موضوعات پر بحث و مباحثے اور حکومت کے ساتھ رابطہ اور ہندوستانی عوام بالخصوص مسلمانوں اورا نگریزوں کے درمیان پھیلی بد گمانیوں کو دور کرنا شامل تھا۔ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے مختلف مقامات پر مدارس ،کتب خانے قائم کیے گئے اور متعدد رسائل جاری کیے گئے اور مختلف سماجی و سیاسی مسائل پر بحث و مباحثے کے لیے جلسوں کا اہتمام کیا گیا۔
انجمن کے قیام کے ابتدائی سال ہی ایک پبلک لائبریری ،مطالعے کا کمرہ،مقامی اور کلاسیکی زبانوں کے تراجم کے ساتھ لاہور میں ایک اورینٹل ا سکول بھی قائم کر لیا گیا۔اسی طرح دوسرے شہروں جیسے امرتسر،گورداسپور ،راولپنڈی میں سوسائیٹیز قائم کی گئیں۔ڈاکٹر لائٹنرنے انجمن کے سرکردہ رُکن ہونے کے ناطے اور اس کے استحکام کے لیے پنجاب میں پنچایتوں کے قیام کی تجویز پیش کی اور اس سلسلے میں لوگوں کی آرا بھی مانگیں۔انجمن کی شہرت و مقبولیت میںدن بہ دن اضافہ ہو اور اس طرح لوگوں کی دلچسپی بھی اس میں بڑھنے لگی اور لوگ اس میں شامل ہونے لگے۔
انجمن کے اہم کاموں میں جلسوں کا انعقاد تھا اور یہ جلسے بہت جلد مشہور ہوئے اور ان جلسوں کی بازگشت سرکاری ایوانوں میں بھی سُنی جانے لگی۔انجمن کے جلسوں میں شرکت پر کسی پر کوئی پابندی نہیں تھی،ہر ایک کو بحث و مباحثے میں حصہ لینے کی اجازت تھی۔انجمن کا جلسۂ خاص انتظامی نوعیت کا ہوتاتھا اور اس میں صرف عہدہ داروں کو شرکت کرنے کی اجازت تھی لیکن جلسۂ عام میں عوام کی شرکت اور دانشوروں کے مقالوں کے سُننے پر کوئی پابندی نہیں تھی۔انجمن کے ابتدائی جلسوں میں مولانا محمد حسین آزاد ،پنڈت من پھول ،ڈاکٹر لائٹنر،بابو نوبین رائے،بابو شاما چرن،مولوی کریم الدین اور علمدار حسین وغیرہ نے مضامین پڑھے جن میں بیشتر مضامین انجمن کے رسالے’’ رسالۂ انجمن پنجاب‘‘ میں طبع ہوئے۔
انجمن پنجاب کے جلسوں میں بہت سے دانشورمضامین پڑھتے تھے لیکن ان میں محمد حسین آزاد ؔکے مضامین زیادہ پسند کیے جاتے تھے اور ان کی شہرت دور دور تک پہنچ گئی۔آزاد ؔکے لیکچر وں کی مقبولیت کو دیکھ کر ڈاکٹر لائٹنر نے باضابطہ طور پر لیکچروں کے انعقاد کے لیے کہا اور اس سلسلے میں انہیں انجمن سے خرچ واگذار کرنے کی تجویز منظور کرائی۔اپنی تقرری کے بعد سے آزاد ؔنے موثر طور پر اپنے فرائض انجام دیے اور انجمن کو ایک تحریک کی شکل دی۔بحیثیت انجمن پنجاب میں لیکچرر کے محمد حسین آزاد ؔکے ذمے فرائض میں تھا کہ جو مضامین انجمن پنجاب کے جلسوں میں پڑھے جائیں ان کو زیادہ سے زیادہ قاری تک پہنچایا جائے ۔ہفتے میں دو تین لیکچر وں کا اہتمام ،تحریری لیکچر کو آسان ،سلیس اردو میں پیش کرنا تھا۔اس کے علاوہ آزاد ؔکے کاموں میں انجمن کے رسالے کی طباعت اورمضامین کی ترتیب وغیرہ شامل تھے۔
آزاد ؔکو بہت جلد انجمن میں ایک کلیدی حیثیت حاصل ہوگئی ۔لیکچروں کی ترتیب وتہذیب ،مجالس کا اہتمام ،مضامین کی ترتیب اور پھر انجمن کے رسالے میں ان کی باضابطہ اور منضبط اشاعت جیسے بنیادی کام آزاد کے ذمے تھے۔اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ انجمن پنجاب کے تمام بنیادی اور اہم امور کی انجام دہی آزاد ؔکی ذمہ داری تھی۔آزادؔ نے اپنے فرائض کو بخوبی نبھایا اور آزادؔ کی مقبولیت میں دن بہ دن تیزی آئی اور وہ جلد ہی پورے ادبی منظرنامے پر چھا گئے۔
انجمن پنجاب کے اردو ادب پر اثرات:
انجمن پنجاب نے اردو ادب پر بڑے دور رس اثرات مرتب کیے۔جیسا کہ ابتدا میں ذکر ہواہے کہ انجمن کے قیام کے بنیادی مقاصد میں قدیم مشرقی علوم کا احیا اور ہندوستانی عوام میں مقامی اور عام فہم زبان میں علوم مفیدہ کی اشاعت ،صنعت و تجارت کا فروغ،سماجی ،سیاسی اور معاشرتی موضاعات پر بحث،صوبے کے بااثر اور پڑھے لکھے افراد کا حکومت کے ساتھ رابطے قائم کرنا شامل تھے۔ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے انجمن کے جلسوں میں مضامین پڑھے جاتے تھے۔ان مضامین میں شعرو ادب پر دانشوروں اور ناقدین کے خیالات ہوتے تھے۔ان مضامین نے اردو ادب کے فروغ میں اہم رول ادا کیا اور اردو ادب کو ایک نئی ڈگر پر لاکھڑا کیااوراس میں نئی اصناف کو متعارف کرایا۔
اردو میں مجلسی تنقید کا آغاز اور بعد میں اس کے فروغ کا سہرا انجمن پنجاب ہی کے سر جاتا ہے۔انجمن میں جو بھی اور جس طرح کے مضامین پڑھے جاتے تھے ان پر بحث و مباحث اور تنقید کی کھلی اجازت تھی۔ہر ایک کو اپنی بات سامنے رکھنے کا پورا موقع دیا جاتا تھا۔اس نے علمی ماحول کو فروغ دیا اور اس طرح شرکا کو بحث میں حصہ لینے ،علمی نقطئہ نظر پیدا کرنے اور صحت مند تنقید کو برداشت کرنے کی تربیت ملی۔انجمن کے جلسوں کا یہ فائدہ ہوا کہ ان سے علمی امور پر اعلیٰ ظرفی،کشادہ نظری اوروسعت نظرکے جذبات کی ترویج میں آسانی ہوئی۔اس طرح ہم کہہ سکتے ہیںکہ انجمن نے جس قسم کی تنقید کی بنیاد ڈالی اور پھر اسے فروغ دیا ،اسی کے زیر اثر حالیؔ کی’’ مقدمہ شعر و شاعری‘‘ وجود میں آگئی جو اردو تنقید کی پہلی باضابطہ تصنیف ہے۔دوسرے یہ کہ حالیؔ کے ادبی مزاج کو بدلنے میں اوراسے ایک نئی سمت عطا کرنے میں انجمن پنجاب کے مشاعروں اور جلسوں نے اہم رول ادا کیا۔بہت جلد حالیؔ نے مشہور نظم ’’ مدوجزر اسلام‘‘ لکھ ڈالی جس کے اردو نظم پر بڑے دور رس اثرات پڑے۔
انجمن کے مشاعروں میں نیچرل شاعری پر زیادہ زور دیا جاتا تھا۔نیچرل شاعری سے مراد ایسی شاعری تھی جس میں کوئی مبالغہ نہ ہو اور بات کو آسان ،سیدھی سادی زبان میں بیان کیا جائے تاکہ لوگ سُن کر لطف اندوز ہوں۔نیچرل شاعری کو فروغ دینے میں محمد حسین آزاد اؔور الطاف حسین حالیؔ نے اہم رول ادا کیا اور اس کی ابتدا کا سہرا بھی انہی کے سر ہے۔حالی ؔ کی نظم ’’برکھارت‘‘ سے چند اشعار ملاحظہ ہو:
گرمی سے تڑپ ر ہے تھے جاندار
اور دھوپ میں تپ رہے تھے کہسار
تھی لو ٹ سی پڑی چمن میں
اور آگ سی لگ رہی بن میں
بچو ں کا ہوا تھا حال بے حال
کملائے ہوئے تھے پھول سے گال
اردو زبان و ادب میں انقلابی تصورات کو فروغ دینے میں انجمن پنجاب کی کاوشیں اہم ہیں۔حب الوطنی ،انسان دوستی،اخلاق اور معاشرت انجمن کے مشاعروں کے موضوعات بنے ۔اب رسمی و خیالی اور فرضی عشقیہ شاعری سے ہٹ کر حقیقی موضوعات پر نظمیں کہی جانے لگیں۔مبالغہ آرائی سے پرہیز کیا جانے لگااور حقیقی جذبات واحساسات کو سادگی کے ساتھ پیش کرنے پر زوردیا جانے لگا۔شاعری میں ان تصورات کو فروغ دینے میں محمد حسین آزاد پیش پیش تھے۔
اگرچہ انجمن پنجاب سے پہلے بھی ہمیں اردو میں مناظراتی شاعری ملتی ہے اور اس کے متعدد نمونے نظیر اکبر آبادی کے یہاں موجود ہیں
لیکن اس حقیقت سے انکار کی گنجائش بہت کم ہے کہ اردو نظموںمیں مناظر قدرت کا بیان اور اس رجحان کو ایک مستقل صورت دینے میں انجمن کا کلیدی رول ہے اور انجمن میں اس طرح کی شاعری کی ابتدا سب سے پہلے الطاف حسین حالیؔ نے کی۔اس سلسلے میں حالیؔ کی نظم ’’برکھارت‘‘ کافی مشہور ہوئی ۔اس نظم میں حالی ؔ نے برسات کے مختلف پہلوئوں کی تصویر کھینچ کر فطرت کی ترجمانی سادہ و سہل زبان میں کی ہے۔آزادؔ نے ’’ابر کرم‘‘ میں مناظر قدرت کی عکاسی کی۔حالیؔ اور آزاد ؔ کے بعد اسماعیل میرٹھی،شوق قدوائی وغیرہ نے مناظر قدرت پر اچھی نظمیں لکھیں۔
اردو کی قدیم شاعری میں حب الوطنی کے جذبات محدود سطح پر ہی ملتے ہیں اور اس کی کوئی واضح اور ٹھوس سمت نہیں۔لیکن انجمن نے انگریزی شاعری کے زیر اثر اپنے مشاعروں کے ذریعے وطنی و قومی شاعری کے فروغ میں اہم رول ادا کیا۔مولانا آزاد اور مولانا حالیؔ نے وطنی موضوعات پر نظمیں لکھیںاور کچھ عرصے میں چکبست ؔ، اقبالؔ،سرور جہاں آبادی وغیرہ نے وطنی شاعری کو بام عروج تک پہنچادیا۔آزاد کی ایک نظم ’’حب وطن‘‘ سے چند اشعار ملاحظہ ہو:
سب اپنے حاکموں کے لیے جاں نثا ر ہوں اور گردن حریف پر خنجر کی دھار ہوں
علم و ہنر سے خلق کو رونق دیا کریں اور انجمن میں بیٹھ کے جلسے کیا کریں
لبریز جوش حب وطن سب کے جام ہوں سرشار ذوق و شوق دل خاص و عام ہوں
آزاد ؔ اور حالیؔ کے زمانے میں ہندوستان کے سیاسی وسماجی حالات مختلف تھے۔ان دونوں کے نزدیک شاعری کا اثر قومی مذاق اور اخلاق پر یقینی تھا اس لیے انہوں نے شاعری کے اخلاقی پہلوئوں کی طرف بھی توجہ دی ۔انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے قوم کو اخلاق ،صبر و استقلال اور محنت کرنے کی تلقین کی۔
انجمنِ پنجاب کا قیام محمد حسین آزاد ؔکا ایک بڑا کارنامہ ہے جس نے اردو ادب کے فروغ میں اہم رول ادا کیا ۔آزادؔ کو مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن وہ اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے۔آزادؔ نے انجمنِ کی بدولت قوم میں صاف اور ستھرے مذاق کو پروان چڑھایا اور قوم کو خواب غفلت سے جگانے کی ایک کامیاب کوشش کی۔ جدید اردو نظم کے فروغ میں انجمن ِپنجاب کی کاوشیں ناقابل فراموش ہیں ۔آزاد ؔ نے پابند نظم اور نظم معریٰ کی شرعات کی۔آزاد نے اپنی نظموں میں زندگی ، فرد ، معاشرت، تہذیب وتمدن، جذبۂ حب الوطنی اور عام انسانی جذبات کی عکاسی کی اور نظم نگاری کی ایک باضابطہ تحریک شروع کی جس نے اردو نظم کونئی بلندیوں سے ہمکنار کیا۔



حلقہ اربابِ ذوق کی شاعری
شاعری کے حوالے سے حلقہ اربابِ ذوق کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ بلاشبہ حلقے نے نئی نظم کو فروغ دینے میں قابل قدر خدمات سر انجام دی۔ حلقہ اربابِ ذوق کی ابتداءافسانہ خوانی سے ہوئی تھی میراجی نے اس کا رخ تنقید کی طرف موڑا۔ حلقے کے رفقاءمیں یوسف ظفر، قیوم نظر، تابش صدیقی اور حلقے کی مرکزی شخصیت میراجی کا شمار نئے شعراءمیں ہوتا ہے۔ اس لیے بہت جلد حلقے کا رخ شاعری کی طرف ہو گیا۔ حلقہ اربابِ ذوق کی شاعری میں بنیادی اہمیت اس حقیقت کو حاصل ہے کہ شاعر خارج اور باطن دو دنیائوں میں آہنگ اور توازن کس طرح پیدا کرتا ہے۔ حلقے نے داخل کے اس نغمے کو جگانے کی کوشش کی اس لیے اس شاعری میں مشاہدے کی جہت خارج سے داخل کی طرف سفر کرتی ہے۔ چنانچہ حلقہ اربابِ ذوق کی شاعری درحقیقت دھندلے اجالے سے حسن، نغمہ اور سحر پیدا کرنے کی شاعری ہے۔
میرا جی
حلقہ اربابِ ذوق کی شعراءمیں میراجی کو خاص اہمیت حاصل ہے انہوں نے غیر ملکی شعراءکے مطالعے اور ترجمے سے جدید شاعری کے اصول وضع کیے اور جب حلقے سے وابستہ ہوئے تو نئے شعراءکی ادبی تربیت میں ان اصولوں کو حسن و خوبی سے استعمال کیا۔ میراجی شخصی حوالوں سے اردو نظم کا بدنام ترین شاعر ہے۔ اس کی نظم کی بنیاد داخلیت پر ہے۔ میراجی کا بنیادی سوال انسان کے بارے میں ہے کہ انسان کیا ہے انسان کا اس پور ے نظام سے کیا تعلق ہے۔ اس نے انسان کی شناخت اور اس کی پہچان کے لیے مختلف سفر اختیار کیے اس نے اپنی نظم کا موضوع جنس کو بنایا اور اس عمل سے وہ انسان کی حقیقت تک پہنچناچاہتا تھا۔ اس کے بعد تصوف کا راستہ اختیار کیا کیونکہ وہ عرفانِ نفس چاہتا تھا۔ میراجی کی نظم کا بنیادی حوال انسانی حقیقت کی تلاش ہے میراجی کی شاعری کا دوسر ا زاویہ گیت ہے۔ اور تیسرا آزادغزل ہے۔ میراجی نے غزل کو ایک کنواری عورت کے مماثل قرار دیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اس عورت سے لطیف کلامی اور ملائمیت سے گفتگو کی ہے۔
وہ درد جو لمحہ بھر کا تھا
مژدہ کہ بحال ہو گیا ہے
چاہت میں ہمارا جینا مرنا
آپ اپنی مثال ہو گیا ہے
میراجی کی لمبی بحر کی غزلوں میں دل گرفتہ کیفیت زیادہ نمایاں ہے اور مزاج بھی گیت کے ٹکڑے نظر آتے ہیں۔
نگری نگری پھر مسافر گھر کا رستہ بھو ل گیا
کیا ہے تیرا کیا ہے میرا اپنا پرایا بھول گیا
لب پر فریاد کہ ساقی وہ کیسا مے خانہ ہے
رنگِ خونِ دل نہیں چمکا گردش میں پیمانہ ہے
ن۔ م راشد
ن م راشد کو حلقہ اربابِ ذوق کی شاعری میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ ن م راشد ایک ایسا شاعر ہے جو ہمارے سامنے ایک جدید انسان کا تصور پیش کرتا ہے وہ انسان جس کا تعلق مغربی تہذیب سے ہے جو مغربی تعلیم کا پروردہ ہے جس کا رابطہ نہ مذہب سے، نہ تہذیب سے اور نہ اخلاقیات سے ہے اس نے اپنے سارے مراکز گم کر دیے ہیں۔ اور بقول ڈاکٹر وزیرآغا ”راشد کے انسان کے قدم زمین میں دھنسے ہوئے ہیں بلکہ زمین سے اُٹھے ہوئے ہیں۔“ راشد کا انسان انتشاری ہے وہ سب سے پہلے روحانیت کی بات کرتا ہے پھر روحانیت کی نفی کرتا ہے پھر وہ روحانی تصورات کو رد کرتے ہوئے آگے بڑھتا ہے اور اپنے انتشار کو کم کرنے کے لیے مختلف سہارے لیتا ہے کبھی خوابوں کی سرزمین میں پناہ لیتا ہے، کبھی عورت کے جسم میں اور کبھی فرار حاصل کر لیتا ہے اور سب سے تنگ آکر خوکشی کا سوچتا ہے۔ ان کے ہاں نہ صرف انفرادی اور اجتماعی دکھ ہے بلکہ پورے ہندوستان اور پوری ایشیا کا دکھ ان کی شاعری میں موجود ہے۔ ”اجنبی عورت“ میں یہی کیفیت ہے۔
ارض مشرق ایک مبہم خوف سے لرزاں ہوں میں
آج ہم کو جن تمنائوں کی حرمت کے سبب
دشمنوں کا سامنا مغرب کے میدانوں میں ہے
ان کا مشرق میں نشاں تک بھی نہیں
پھر اس کا انسان آفاقی بن جاتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ مشرق و مغرب کے لوگ ایک امن کے مرکز پر جمع ہو جائیں یہ تصور ان کے آفاقی انسان کا ہے۔
شہر کی فصیلوں پر دیو کا جو سایہ تھا
پاک ہو گیا آخر رات کا لبادہ بھی
چاک ہو گیا آخر خاک ہو گیا آخر
ازدحام انساں سے فرد کی نواآئی
یوسف ظفر
یوسف ظفر کی شاعری میں داخل کی رو بے حد تیز اور متحرک ہے۔ حب وطن کا جذبہ یوسف ظفر کی شاعری کی قیمتی اساس ہے۔ حلقہ اربابِ ذوق کی شاعری میں یوسف ظفر کی عطا یہ ہے کہ انہوں نے خام مواد تو زندگی سے حاصل کیا اور اسے داخل کی ہلکی آنچ پر پکا کر تخلیق شعر کا فریضہ ادا کیا۔ چنانچہ وہ صرف خارج کو ہی متحرک نہیں کرتے بلکہ داخل کی سلگتی ہوئی آنچ بھی قاری کے دل میں اتار دیتے ہیں۔ فنی طور پر یوسف ظفر الفاظ کے علامتی استعمال سے معنویت اور ان کے ظاہر سے درد انگیز غنائیت پیدا کرتے ہیں۔ اور اس انداز کو انہوں نے نظم اور غزل دونوں میں بڑی خوش اسلوبی سے استعمال کیا ہے۔
قیوم نظر
قیوم نظر کی انفرادیت یہ ہے کہ انہوں نے ہر لمحہ رنگ بدلتی دنیا کو اپنا موضوع بنایا اور ان کیفیتوں کو شعر کا پیکر عطاکیا جو نغمہ بن کر فضاءکو مترنم کر دیتی ہے۔ قیوم نظر نے اردو شاعری کی تین اصناف نظم، غزل اور گیتمیں یکساں طور پر طبع آزمائی کی ہے۔ قیوم نظر کے استعارے اور علامتیں کسی مخصوص نظام کے تابع نہیں چنانچہ ان کے ہاں یکسانی کی گراں باری پیدا نہیں ہوتی۔
روش روش پہ ترانے گلوں کے افسانے
ہزار شعبدے پیدا چمکتے رنگوں سے
بہار کھیل رہی ہے نئی امنگوں سے
ضیا ءجالندھری
ضیا ءجالندھری نے داخل کے غیر مرئی جذبے کو جب مرئی صور ت میں پیش کیا تو انہوں نے فطرت کی موجود صور ت کو نسبتاً زیادہ اہمیت دی اور بیشتر ایسی تصویریں مرتب کیں جنہیں قاری باآسانی دیکھ سکتا ہے۔ ضیا ءجالندھری کی امتیازی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے حسن کی دوامی حیثیت کو اجاگر کیا اور یوں ان کی شاعری میں وقت کی تینوں العاد ایک ایسی لکیر میں منتقل ہو جاتی ہیں جس کی ابتداءاور انتہا دونوں ابھی تک نامعلوم ہیں۔
ایک شوخی بھری دوشیزہ یہ بلور ِ جمال
جس کے ہونٹوں پہ ہے کلیوں کے تبسم کا نکھار
سیمگوں رخ سے اُٹھائے ہوئے شب رنگ نقاب
تیز رفتا ر اڑائے ہوئے کہرے کا غبار
افق شرق سے اٹھلاتی ہوئی آتی ہے
ناصر کاظمی
ناصر کاظمی حلقے کے شعراءسے متاثر تھے۔ ناصر کاظمی کی عطا یہ ہے کہ انہوں نے میر کے دل گرفتہ انداز کی باآفرینی کی اور اپنے داخل کے پراسرار جزیرے کو غزل کے پیکر میں سمو دیا۔ ناصر کی غزل میں دکھ، تنہائی کی سلگتی ہوئی آنچ نظرآتی ہے۔ ہجرت کا حوالہ بھی ناصر کی شاعری میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ناصر نے استعارے لفظیات وغیرہ کے پیمانے عشقیہ رکھے ہیں لیکن اس کے باطن میں کتنے باطن میں کتنے دکھ ہیں اسے ہم اس کی شاعری میں دیکھ سکتے ہیں۔ محض عشق نہیں بلکہ ہجرت جدید دور کے مسائل اور بہت سی دوسری چیزیں ان کی غزلوں میں ملتی ہیں۔ مثلاً
کہاں تک تاب لائے ناتواں دل
کہ صدمے اب مسلسل ہو گئے ہیں
جنہیں ہم دیکھ کر جیتے تھے ناصر
وہ لوگ آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ہیں
ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصر
اداسی بال کھولے سو رہی ہے
شہرت بخاری
شہرت بخاری کی غزل کا خارجی خول بظاہر ایرانی ہے۔ تاہم برصغیر کے عرضی مظاہر اور داخل میں گہری غواصی نے ان کی آواز کو انفرادیت عطا کی ہے۔
کسی کی روح کا بجھتا ہے شعلہ
کسی کی آنکھ میں جلتا ہے کاجل
آرائش ِ جمال سے فرصت نہیں انھیں
پھرتے ہیں پاگلوں کی طرح ہم گلی گلی
مختار صدیقی
حلقہ اربابِ ذوق سے وابستہ ایک نام مختار صدیقی کا بھی ہے اس کی شاعری میں زبان و بیان کے علاوہ دکھ درد کے حوالے زیادہ ہیں۔ سادگی اور بناوٹ بھی ہے۔ اور میر سے متاثر نظر آتے ہیں۔
سب خرابے ہیں تمنائوں کے
کون بستی ہے جو بستی ہے یاں
منیر نیازی
حلقے سے متاثر شعراءمیں ایک نام منیر نیازی کا بھی ہے۔ منیر کی غزل کئی دکھوں سے تعمیر ہوئی ہے اس میں محبت کے دکھ بھی ہیں او رکئی سماجی درد بھی ہیں۔ کہیں کہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ سماج کے بہت سے اندرونی دکھ محبت میں شامل ہو گئے ہیں اور بعض جگہ یہ احساس ہوتا ہے کہ سماجی دکھ اور محبت کے دکھ سے مل کر درد کی کوئی نئی اکائی تشکیل دے رہی ہے۔ مثلاً
اس آخری نظر میں عجب درد تھا منیر
جانے کا اُس کے رنج مجھے عمر بھر رہا
جانتا ہوں ایسے شخص کو میں بھی منیر
غم سے پتھر ہو گیا لیکن کبھی رویا نہیں
صبح کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیر
ریل کی سیٹی بجی تو دل لہو سے بھر گیا
حلقہ اربابِ ذوق نے غزل کو جدید یت کی جس راہ پر گامزن کیا تھا اسے بہت سے شعراءنے خندہ پیشانی سے قبول کیا چنانچہ حلقے کے زیر اثر اختر ہوشیار پوری، وزیر آغا، شکیب جلالی، سجاد باقر رضوی، سلیم شاہد اور اقبال ساجد جیسے شاعر ابھر جنہوں نے اردو غزل کو زندگی کی نئی متنوع تجربات سے ہمکنار کر دیا۔






جدیدیت ۔ 1960ء کے بعد
ڈاکٹر منیر الزماں منیر
جدیدیت ایک اصطلاح ہے جس کا چلن 1960 کے بعد ہوا ۔ عام طور سے جدیدیت کی تعریف تو یہی کی گئی ہے کہ یہ اپنے عہد کے مسائل یا اپنے عہد کی حسیت کو پیش کرنے کا نام ہے ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ جدیدیت کے پس منظر میں وجودیت کی فکری تحریک ہے اور سیاسی بنیادوں پر جدیدیت کی تحریک ، ترقی پسند تحریک کے ردعمل کے طور پر وجود میں آئی ۔ ہر رجحان ابتداء میں انحراف ، بے سمتی اور تجرباتی دور میں ہونے کی وجہ سے خام کارانہ انداز رکھتا ہے ۔
اردو شاعری میں مولانا محمد حسین آزاد اور مولانا الطاف حسین حالی کو مسلمہ طور پر جدید رجحانات کا بانی تسلیم کیا جاتا ہے ۔ بعض ناقدین کا یہ بھی خیال ہے کہ اردو ادب میں جدید دور کا آغاز لاہور میں منعقدہ اردو کی پہلی کانفرنس سے ہوتا ہے اور بعض کے خیال میں سرسید کی ’’علی گڑھ تحریک‘‘ نے جدید اردو ادب کی داغ بیل ڈالی ۔ بعض دانشوروں کے یہاں ’’ترقی پسند تحریک‘‘ کے آغاز یعنی 1936 ء کے بعد سے ہندوستانی شعراء کا مزاج بدلا اور بعض اہل قلم نے ’’حلقۂ اربابِ ذوق‘‘ سے اس کا رشتہ جوڑا۔ راقم الحروف کا یہ تاثر ہے کہ اردو ادب میں خصوصاً اردو شاعری میں جب سے روایت شکنی کا رجحان پیدا ہوا تب ہی سے جدید دور کا آغاز تصور کیا جاتا ہے ۔ ان سارے حالات کی روشنی میں ہم جدید اردو ادب کے اولین معماروں اور علمبرداروں میں مولانا محمد حسین آزاد اور الطاف حسین حالی کو ہی تسلیم کرتے ہیں ۔ سرسید کی علی گڑھ تحریک کے بعد ترقی پسند تحریک اور حلقۂ اربابِ ذوق سے وابستہ شعراء سامنے آتے ہیں
جن کی مساعی نے اردو ادب میں آنے والے نئے ذہنوں کے ساتھ ساتھ اپنے ہم عصر قدآور ہستیوں کے قدامت پسند اور محدود رجحاناتی پردے اٹھا کر انھیں وسیع اور عریض میدانوں کی سیر کرائی اور کھلی اور تازہ فضاؤں میں سانس لینے کی راہیں ہموار کیں ۔ جدید ادب اور اس کے مختلف پہلوؤں پر ممتاز شاعر قاضی سلیم اس طرح روشنی ڈالتے ہیں ’’پَے در پَے سہاروں کی شکست ، فریب اور فریب کا عام سطح کے لوگوں میں اکتاہٹ ، بیزاری ، جھلاہٹ اور ان کے مظاہر ، لاقانونیت ، فساد ، طالب علموں کی توڑ پھوڑ ، سادھوؤں کا ننگا جلوس ، ادب میں بھوکی پیڑی ، پونی ۔ دادی ، کویتا نپوست راج ، ننگا کنچن جنگا اور پھر کلب کریز ڈرگس ، ترپ ، چاچا چاچا ، عظمتوں کے جھروکے سے جھانکتے ہوئے دانشوروں ، کھوکھلے فلسفوں سے چمٹے ہوئے لفظوں کے غلام ایسے میں آج کل کے ادیبوں کی ذمہ داری اپنے پیشتر یا کسی بھی زمانے کے ادیبوں ، شاعروں سے مختلف ہے ۔ یہی ذمہ داری کا مختلف ہونا جدید ادب کا جواز بھی ہے اور بنیاد بھی‘‘ ۔
(’’جدیدیت‘‘ مضمون مشمولہ ، جدیدیت تجزیہ و تفہیم ، مرتبہ ڈاکٹر مظفر حنفی ، ص 103)
روایتی شاعری کے فرسودہ تصور سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ بالکل مفلوج ہو کر رہ گئی ہے جس میں دلوں کو گرمانے اور مسخر کرنے والے عناصر کی گرانی ہے ، ایسا نہیں ہے ۔
روایتی شاعری جس میں رومانیت کو مرکزیت حاصل ہے ، آج بھی دلوں کو گرماتی اور خوابیدہ ذہنوں کو بیدار کرتی ہے ۔ہر جدید شاعر کے یہاں اس رنگ میں دوچار نہیں بلکہ بے شمار اشعار مل جاتے ہیں ۔ لفظیات کی ترتیب اور اسلوب بیان پر اگرچہ کہ قدرت پائی جاتی ہے لیکن مفہوم کے پردے میں وہی بات نظر آتی ہے ، جو قدامت پسند شعراء کے یہاں ملتی ہے ۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ پرانے شعری مجسمے کو نیا لباس پہنا کر اور خوب سجا کر نئے روپ اور نئے رخ سے پیش کیا جارہا ہے جو قاری کو راست بھی اور بالواسطہ بھی متاثر کررہا ہے ۔ موجودہ شعری آہنگ چونکہ غنائیت کو راست پیش کرنا نہیں چاہتا اس لئے جدید استعاروں ، کنایوں اور تشبیہات ولفظیات کے ذریعے اپنا مدعا پیش کررہا ہے جس کو فوری سمجھنے سے عام قاری کا ذہن معذور ہے ۔
روایتی شاعری اور فرسودہ شاعری دونوں میں فرق ہے ۔ جدید شعراء کے یہاں روایتی شاعری سے نہیں بلکہ فرسودہ شاعری سے بغاوت کا میلان نظر آتا ہے ،جو بے جان اور مہمل ہے اور جو جذبے اور احساس کی بیداری سے عاری ہے ۔ روایتی شاعری کے بعض مخصوص لفظیات جیسے عشق ، محبت ، دیدار ، آنسو ، وفا ، محبوب ، زلف ، انگڑائی ، نزاکت ، حسن ،گل و بلبل ، جنون ، قفس ، برق و آشیاں ، حسرت ، شراب ، جام ، مئے خانہ ، ساقی ، رند ، پژمردگی ، شکست ، احساس کمتری ، ناامیدی ، مایوسی ، شکوہ ، گلہ ، آہ ، نالے ،فغاں ، فریاد ، تنہائی ، چلمن ، پردہ ، نقاب ، کوٹھا ، زاہد ، طوائف ، آئینہ ، تصور ، خزاں ،بہار ، خار ، عکس ، دربار ، حرم سرا ، جبر حیات ، اکتاہٹ ، بے بسی ناکامی ، محرومی وغیرہ وغیرہ ،آج کے جدید دور میں کوئی معنی نہیں رکھتے بلکہ مضحکہ خیز معلوم ہو