کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشتگردی……عالمی برادری خاموش تماشائی!

(عابد محمود عزام, Lahore)

 بزدل بھارتی فورسز سفاکیت و درندگی کی تاریخ رقم کر کے جرات مند کشمیریوں کے حوصلے پست کرنا چاہتی ہیں، لیکن کشمیر کے غیور عوام بھارتی فورسزکی پابندیوں کو کسی خاطر میں نہیں لاتے۔ غیورکشمیری قوم بھارتی فورسز کی تمام تر سفاکیت کے باوجود آج بھی نہ صرف پوری ہمت و استقامت کے ساتھ سینہ تانے کھڑی ہوئی ہے، بلکہ اسلحے سے لیس بھارتی فورسز کو ناکوں چنے چبوا رہی ہے۔ بھارتی فورسز کا ظلم جیسے جیسے بڑھتا جاتا ہے، ویسے ویسے کشمیری قوم کی ہمت و استقامت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ بھارتی فورسز نے کشمیریوں پر ہر ستم ڈھایا، مگر حریت پسندوں کی استقامت میں رتی بھر کمی واقع نہیں ہوئی۔ یوں تو بھارتی فورسز برسوں سے نہتے کشمیریوں کے خون کی ہولی کھیل رہی ہے، مگر 2016میں حریت پسند کمانڈر برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد سے بھارتی فورسز نے ظلم و ستم کا حربہ آزمایا، لیکن ناکامی کے سوا کچھ نہیں ملا اور اب کچھ عرصے سے کشمیر میں بھارتی مظالم کا نیا سلسلہ جاری ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران ضلع کولگام میں مزید 7 نوجوان شہید کر دیے ہیں۔ بھارتی فوجیوں نے ضلع کے علاقے کھڈونی میں وانی محلہ کے مقام پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران پرامن مظاہرین پر فائرنگ کر کے کم از کم 100 نوجوان زخمی کر دیے، جن میں سے 4 نوجوان بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ قابض فوجیوں نے آپریشن کے دوران 4 رہائشی مکانات بھی بارودی مواد کے ذریعے مسمار کر دیے جن کے ملبے سے 3 نوجوانوں کی نعشیں برآمد ہوئیں۔ قابض بھارتی فوج نے کھڈونی وانی محلہ میں آپریشن کے دوران گن شپ ہیلی کاپٹروں کا بھی استعمال کیا۔ قابض انتظامیہ نے طلباء کو احتجاجی مظاہروں سے روکنے کے لیے ضلع کولگام میں تمام تعلیمی ادارے بندکر دیے۔ مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کی شہادت اور بھارتی مظالم کے خلاف حریت قیادت کی کال پر وادی بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ نوجوانوں کی شہادت پر کشمیر یونیورسٹی سری نگر اور اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اونتی پورہ میں زبردست مظاہرے کیے گئے۔ سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اورمحمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے نوجوانوں کے قتل کے خلاف پورے مقبوضہ علاقے میں مکمل ہڑتال اور پر امن مظاہروں کی کال دی۔ یاسین ملک کو سری نگر کے پرتاپ پارک کے نزدیک 11 ساتھوں کے ہمراہ اس وقت گرفتار کر لیا، جب وہ کولگام میں نوجوانوں کے قتل کی خلاف احتجاجی مارچ کر رہے تھے۔ میر واعظ عمر فاروق کو بھی گھر میں نظر بند کر دیا، جبکہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی پہلے سے سرینگر میں گھر میں نظربند ہیں۔

کشمیرمیں حریت پسندوں کے خلاف بھارت نے اس بار اسرائیلی فوجی طرز پر جو آپریشن اور محاصرے والی حکمت عملی شروع کی ہے، اس میں محصور علاقوں میں فوجی کارروائی کے دوران ہیلی کاپٹروں سے بھی مقامی آبادیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ محاصرے کے دوران سول آبادی کو نشانہ بنانا اور مظاہرین کے خلاف ممنوعہ خطرناک ہتھیاروں کے استعمال پر دنیا بھر میں پابندی ہے، مگر بھارت عالمی برادری کے ردعمل کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں ممنوعہ خطرناک اسلحہ ہی استعمال کررہا ہے۔ گزشتہ دنوں بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 20 کشمیری نوجوان شہید اور 200 سے زاید مظاہرین زخمی کردیے تھے۔ حالیہ برسوں میں علاقے میں ایک ہی دن کے اندر ہونے والا یہ سب سے زیادہ جانی نقصان تھا۔ نوجوانوں کی شہادت کے بعد بھارتی فوج کے ہاتھیوں کشمیری نوجوانوں کی شہادت کے خلاف پوری مقبوضہ وادی میں حریت قیادت کی کال پر مکمل ہڑتال کی گئی تھی۔ اس دوران مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔ پاکستان نے بھارتی مظالم کی شدید مذمت کی اور اقوام متحدہ بنے بھی نوٹس لیا تھا۔ سینیٹ اجلاس میں بھی نہتے کشمیریوں پر بھارتی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کی گئی، جس میں کہا گیا کہ بھارت کی جانب سے کشمیریوں پر مظالم بڑھتے جارہے ہیں، بھارت کی ایل او سی پر خلاف ورزیاں معمول بنتی جارہی ہیں، ایوان بھارتی جارحیت کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے، کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق حل کیا جائے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم روز بروز بڑھتے چلے جا رہے ہیں تو دوسری جانب کشمیری بھی آزادی کی تحریک کو زندہ رکھنے کے لیے شہادتوں کی تاریخ رقم کرتے چلے جا رہے ہیں۔ بھارتی فوج نے کشمیریوں پر ہر قسم کا ظلم وستم آزما کر دیکھ لیا، یہاں تک کہ پیلٹ گن کا بھی بے دریغ استعمال کر کے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبانے کا حربہ آزمایا، مگر ہر کشمیری کا لہو ایندھن بن کر آزادی کی اس شمع کو مزید فروزاں کرتا چلا جا رہا ہے۔ آزادی کی حرمت کے لیے کٹ مرنے کو ہزاروں لاکھوں کشمیری ہمہ وقت تیار ہیں۔ بھارت کو یہ بات جتنی جلد سمجھ آ جائے اس کے لیے اتنا ہی بہتر ہے کہ بھارت کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک کو نہیں روک سکتا ہے۔ بھارت کو جلد یا بدیر معلوم ہو جائے گا کہ فوجی طاقت سے آزادی کی خواہش ختم نہیں کی جاسکتی۔ بھارت ابھی تک اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ وہ کشمیریوں پر ظلم کر کے شاید ان کے حوصلے پست کر دے گا اور اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو جائے گا۔ بھارت نے قیام پاکستان کے بعد سے ہی کشمیریوں کے جذبہ کو کچلنے کی کوشش کی۔ ایک لاکھ کشمیریوں کو شہید کیا ۔ بچوں و بوڑھوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، لیکن کشمیریوں کے دلوں سے آزادی کے جذبے کو نہیں نکال سکا۔ ہزاروں کشمیری ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دری کی گئی۔ حالیہ دنوں بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نیایک آٹھ سالہ بچی کی عصمت دری کی اور بعد میں قتل کردیا۔ مقبوضہ کشمیر کی 8 سالہ بچی کے اغوا، اس کے ساتھ کئی رو زتک ہونے والی زیادتی اور قتل نے پوری انسانیت کو شرماکررکھ دیا، اس واقعہ پر بھارتی کی درندہ صفت فورسز کو تنقید کا نشانہ تو بنایا ہی جارہا ہے، مگر عالمی اداروں اور تنظیموں کو بھی اس کا نوٹس لینا چاہیے، تاکہ مجرم کیفرکردار تک پہنچ سکیں۔

اس سارے منظر نامے میں عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔ بھارت نے جبر اور قہر اور دہشت گردی کے سارے ریکارڈ مات کر دیے ہیں، اس کے باوجود ساری دنیا بھارت کی اس دہشت گردی پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ مغربی ممالک میں ایک شخص کی جان بھی کسی دہشتگردی کے واقعے میں چلی جائے تو پوری دنیا میں شور مچ جاتا ہے، لیکن کشمیریوں کی جانیں کی شاید کوئی قیمت نہیں ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی برادری کی خاموشی افسوسناک ہے۔ کشمیر کے معاملے میں عالمی برادری نے ہمیشہ مجرمانہ کردار ادا کیا ہے۔ عالمی برادری گنگ ہے۔ عالمی برادری نے اگر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا فوری نوٹس نہ لیا اور بھارت کو نہ روکا تو خوفناک المیہ جنم لے سکتا ہے۔ یہ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق حل کرائیں تاکہ کشمیر میں جاری ظلم کی سیاہ رات کا خاتمہ ہوسکے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 418186 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Apr, 2018 Views: 243

Comments

آپ کی رائے