فیس بک کے نقصانات

(Darvesh Khurasani, peshawar)
جاوید چودھری صاحب ایک معروف اور مشہور کالم نگار ہے۔ ایک مشہور روزنامہ میں اکثر کالم لکھتے ہیں۔ انہوں نے فیس بک کی حمایت میں ایک کالم لکھا۔ جس میں انہوں نے فیس بک کے استعمال کی ترغیب ایک مسیحا سمجھ کر دی۔ اور اپنا پیج فیس بک میں بنا ڈالا۔ چنانچہ میں نے مناسب جانا کہ اسکے کالم کا جواب دیا جائے اور اسکو اپنے اس سوچ اور فکر پر نظر ثانی کی دعوت دی جائے تو کچھ برا نہ ہوگا، بلکہ شائد بہت مناسب ہو۔ پھر میں نے خیال کیا کہ اگر یہ باتیں اور دوستوں کو بھی معلوم ہوجائیں تو فائدہ سے خالی نہیں ہوگا۔ لہٰذا اس خیال کے تحت میں نے آپکو بھی یہ مضمون بھیجا۔ آپکے ردعمل کا منتظر رہوںگا۔
شکریہ۔

محترم جناب جاوید چودھری صاحب کو ایک مشورہ
جناب چودھری صاحب میں اکثر آپکے کالم پڑھتا ہوں۔ اور آپکے کالم پڑھ کر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ شائد آپ اس ملک کیلئے سنجیدہ ہیں۔ آپ کے فیس بک والے کالم کو میں نے پڑھا ۔ آپکی بات اچھی ہے کہ بجائے صرف بایئکاٹ کرنے، ہم کو انکا بھرپور مقابلہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ کفار کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح مسلمان ہمارے مقابلے کے نہ رہیں۔ آپ نے اپنے کالم میں کہا کہ یا تو ہم کو فیس بک کے اندر ہی رہ کر مقابلہ کرنا چاہیے اور یا ہم کو کوئی دوسرا سوشل نیٹ ورک بنانا چاہیے۔

آپ کی خدمت میں عرض ہے کہ جسطرح آپ نے فیس بک میں اپنا پیج کھولا ہے۔ اسی طرح کئی دینی اداروں یا تحریکوں نے بھی اپنے اپنے پیج کھولے تھے۔ ہر ایک ادارہ اپنے طور پر اچھا کام کرتا تھا ۔ لیکن جب بھی ان دینی اداروں یا تحریکوں کا کردار فیس بک والوں کو نہیں بھایا تو ان پیجوں کو بلاک کردیا گیا۔ اور یا چند منچلوں اور شریر غیر مسلموں نے اس پیج کو رپورٹ کیا تو وہ پیج مکمل بلاک کردی گئی۔ اور اس طرح ان تحریکوں کا سارا کام اور ساری محنت پانی میں بہہ جاتی۔

وجہ یہ ہے کہ آپکے اپنے پیج پر کلی اختیار آپکا نہیں ہے۔ بلکہ بلا کسی وجہ بھی فیس بک آپکا پیج بلاک کر سکتی ہے۔ اور آپکو اپنے تمام ممبروں اور ڈیٹا سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ البتہ آپکی دوسری بات اچھی ہے کہ اگر ہم لوگ خود اپنا ایک سوشل نیٹ ورک قائم کریں تو وہ مکمل ہمارے اختیار میں ہوگا ، کہ اس سے قابل اعتراض مواد ہم ختم کر سکتے ہیں۔ نیز ہمارے نیٹ ورک میں پالیسی ہمارے اپنے قوانین اور قواعد کے مطابق ہوگی۔ نیز اسکا یہ فائدہ ہوگا کہ ہم کسی بھی گستاخی کے مرتکب کو بلاک کر سکیں گے، الغرض وہ مکمل ہماری کنٹرول میں ہوگی۔

دوسری بات کیلئے میں ایک مثال پیش کرتا ہوں کہ اگر بالفرض کوئی آپکو ماں کی گالی پہلی بار دے تو آپکے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے اور آپکی غیرت اور حمیت اسکو مارنے اور اسکو گالی دینے سے روکنے کیلئے پھڑکتی ہے۔ لیکن اگر وہ بندہ ہر روز آپکو گالی دے تو ایک دن ضرور ایسا آئے گا کہ آپ اسکے گالی دینے کو معمول کہہ کر ٹال دیں گے اور گالی کے خلاف کوئی ردعمل آپ ظاہر نہیں کریں گے۔

اسی طرح فیس بک کی مثال ہے کہ ہر لمحہ اور ہر روز کوئی نہ کوئی گستاخانہ پیج فیس بک میں بنایا جاتا ہے اور پھر فیس بک کے مسلمان اسکو ڈیلیٹ کرنے کیلئے فیس بک والوں کو کہتے ہیں تو پھر انکی مرضی ہوتی ہے کہ اس پیج کو ڈیلیٹ کریں یا اس کو رہنے دیں۔ روز روز اس طرح کے پیج دیکھ کر آخر کار انسان ان واقعات کو روز کا معمول سمجھ لیتا ہے اور پھر ان گستاخانہ حرکات کو مسلمان عام معمول قرار دے کر بےحس ہوجاتا ہے اور آنکیھں بند کر کے بیٹھ جاتا ہے اور کوئی ردعمل نہیں کرتا۔ اور عام اسلامی قانون کے مطابق جو آدمی عاقل ہو کر قرآن یا اللہ تعالیٰ یا نبی کریم صل اللہ تعالیٰ علیہ وعلیٰ آلہ و اصحابہ و بارک و سلم کی شان میں گستاخی کرے تو اسکی سزا شریعت کے مطابق موت ہے۔

خود اپنے زمانہ میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلیٰ آلہ و اصحابہ و بارک و سلم کی شان میں جو شخص گستاخی کرتا تو فتح مکہ کے موقع پر خانہ کعبہ کے غلاف کے اندر سے بھی اسکو کھینچ کر قتل کیا گیا، حالانکہ اس روز عام کافروں کیلئے معافی کا اعلان ہوا تھا۔

اور یہ بات ایک مسلمان کیلئے انتہائی خطرناک ہے کہ وہ اتنا بے حس ہوجائے کہ کوئی کتاب اللہ یا مسلمانوں کے دیگر مذہبی بنیادی اور اہم ارکان کی گستاخی کرئے اور یہ مسلمان اتنا بے حس ہوں کہ واجب القتل بننے والے ملزم کے خلاف کوئی رد عمل تک نہ کریں۔ ظاہر ہے روز روز کی گستاخی دیکھ دیکھ کر بےحس اور بے غیرت جو بنا ہوتا ہے۔ لہٰذا اس لئے بھی فیس بک کو ترک کرنا چاہیے۔ تاکہ آدمی اتنا دیوث نہ بنے کہ وہ اسلام کے بنیادی ارکان کی گستاخی دیکھ کر اپنا بھرپور رد عمل ظاہر نہ کرسکے۔

تیسری بات جو کہ اگرچہ میری ذات تک محدود ہے لیکن میں پھر بھی اسکو آپکے ساتھ شئیر کرنا چاہتا ہوں ، وہ یہ ہے کہ میں بھی پہلے فیس بک کو استعمال کرتا تھا ۔ لیکن کچھ عرصہ پہلے میں نے اسکا بائیکاٹ کردیا۔ چند دن بعد میں نے پھر فیس بک کو استعمال کرنا چاہا لیکن اس بار میں نے سنت پر عمل کرتے ہوئے پہلے استخارہ کیا، تو رات کو ایک خواب دیکھا کہ میرے سامنے ایک سیاہ پہاڑ ہے اور اس پہاڑ کے اندر ایک سیاہ غار ہے ۔ میں جب اس غار میں داخل ہوا تو اس غار کے درمیان چند لوگ نظر آئے جنہوں نے سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے ۔ اب اس دوران میں نے دیکھا کہ لاؤڈ سپیکر سے بار بار اعلان ہو رہا ہے کہ سفید کپڑوں والے لوگ اس غار سے نکل جائیں ، اور یہ اعلان میں بار بار سن رہا ہوں ۔

اسکے بعد میں جاگ گیا تو میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ سفید کپڑوں والے یا سفید پوش لوگ صرف مسلمان ہی ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس ایمانی نور ہے ۔ اور اسی ایمان کے بابت مسلمانوں کے پاس قیامت کے دن بھی نور ہوگا ۔ جبکہ کفار وغیرہ اس نور سے محروم ہونگے۔اور ان سفید لباس والے مسلمانوں کو بار بار لاؤڈ سپیکر سے خبردار کیا جاتا رہا کہ وہ اس کالے اور تاریک غار سے باہر نکل جائیں ، تو ظاہر ہے وہ کالا اور تاریخ غار اس استخارہ میں فیس بک ہی دکھایا گیا ہے۔

لہٰذا اس خواب کے بعد میں نے فیس بک کے دوبارہ استعمال کا ارادہ ترک کردیا۔ اگرچہ اس خواب کا تعلق ہو سکتا ہے صرف مجھ سے ہو لیکن میں نے پھر بھی آپکے ساتھ اپنا تجربہ شئیر کرنا چاہا کہ میں نے کیوں فیس بک کا استعمال چھوڑا۔

لہٰذا میرا مشورہ تو یہ ہے کہ اگر ہم خود اپنا ایک سوشل نیٹ ورک بنائیں تو اسکا بہت فائدہ ہوگا، فیس بک کئی سالوں میں مقبول ہوئی ہے ، تو انشاء اللہ یہ نیٹ ورک بھی مقبول ہو گا ایک دن۔ یا کسی ایسے نیٹ ورک میں اپنا پیج بنائیں کہ وہ کم از کم ملکی یا مسلمانوں کی ملکیت ہو۔

غیروں پر انحصار کرنے کے بجائے ہمیں ہر معاملے میں خود کفیل ہونا چاہیے۔ اور ہمارے خود کفالت فیس بک کے استعمال میں نہیں بلکہ اپنے نیٹ ورک بنانے میں ہے۔ آپکا قیمتی وقت ضائع کرنے پر معذرت کرتے ہوئے اجازت چاہتا ہوں۔
والسلام
آپکا خیر خواہ
درویش
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Darvesh Khurasani
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Dec, 2010 Views: 10605

Comments

آپ کی رائے
اسلام و علیکم! جناب خراسانی ساحب آپ کے کالم کو پڑھ کر بہت اچھا لگا اور بہت خوشی بھی ہوئی لیکن جو کمنٹس کچھ نام نہاد مسلمان بھائیوں کی جانب سے فیس بک کی حمایت یا انٹرنیٹ یہودیوں کی ایجاد ہے، یہودیوں سے ڈر جانے کے متعلق ہے پڑھ کر بہت افسوس ہوا، میں بھی فیس بک صارف تھا لیکن میں بھی اس بات کو محسوس کر تے ہوئے فیس بک کو خیر باد کہہ دیا لیکن میں یہ بات نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ اپنے دیگر دوستوں کو اور عزیزوں کو کیسے کہوں آپ نے آسان کر دیا لیکن میں آپ کے اس کالم میں ذرا سا اضافہ چاہونگا کہ آپ نے صرف ایک رخ بتایا ہے تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کے ہماری نئی نسل(خاص نوجوان طبقہ) بھی بہت تیزی سے اس فیس بک سے تباہ ہو رہی ہے اور ہمارے لوگوں کو اس فیس بک کے کھلم کھلا استعمال سے سیکیورٹی کے بھی خدشات سے دوچار ہیں، لوگ اپنے پیچ پر اپنی اور اپنے عزیزوں کی تصاویر اپلوڈ کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہمیں کوئی نہیں جانتا جب کہ فیس بک مکمل طور پر کمرشل مقصد کے حصول کے لئے بنائی گئی ہے اور لوگوں کی مستند طور پر جاسوسی ہوتی ہے اس کے ذریعے سے کیوں کے اس کے سسٹم میں خاصیت ہے کہ وہ اپ کے تمام رابطوں کو واضح کرے کے آپ کے کتنے عزیز ہیں اور کہاں کہا ں ہیں ۔اور یہ بھی کے لوگ بڑے فخر سے اپنی بلکل ٹھیک ٹھیک معلومات اس میں فیڈ کرتے ہیں اور خود ہی اپنے آپ کو غیر محفوظ بنا لیتے ہیں ۔ امید ہے ایک بڑی تعداد فیسبک سے جان چھڑانے میں کامیاب ہوجائے گی ۔ شکریہ۔
By: safeer khan, Karachi on Apr, 30 2013
Reply Reply
1 Like
G bilkul. Pakistan ka sab se bara social network site ban chuki hai. ap log isy join kren. facebook ki trha ki hi hai.ap log isy join zaroor kren.Pakistani hai. aur kafi log join kr rahay hain.link ye hai.

http://cronyface.com

ek bar try zaroor kren. thanks
By: Shafiq, Khushab on Jun, 21 2012
Reply Reply
0 Like
jazakAllah
By: Muhammad Asif, Quetta on Jun, 18 2012
Reply Reply
0 Like
plz join all www.apnafacebook.com its pakistani social networking website....
By: Muhammad, Abbottabad on Feb, 14 2012
Reply Reply
0 Like
baatein sab kerty hn amal koi ni krta, ager zameer manta hy to fcbuk use kro agr ni manta to na kero,
musalman sirf name k muslman reh gey hein, hamary pas fc buk se nafrat ka bs ek hi jawaz hy k unho ne hamary peyary aaqa ki shan mein gustakhi ki hu bs....... jo unki tarf se justification dety hein wo khud munafiq hein..... bahany dhondty hn fcbuk use kerny k........ laanat hy esy musalmano pe jo apni 2,4 ghanty ki enjoyment k liye kuffar k diya hua gift fcbuk use kerty hn. laanat hy un muslamano pe... laanat hy face book pe
By: bia, taxila on Dec, 10 2011
Reply Reply
0 Like
Allah pak ap ku jazay khar de
By: muaviyah, sadiq abad on Dec, 05 2011
Reply Reply
0 Like
Gustakhana pages ki tash'heer b tou ap jaesey loag he krtey heN. aj tak mujhey koi gustakhana page uzkhud nazar nhi aaya. facebook ki example kitab tv ki se hey. ye ap per depend krta hey k kaesey istamal krtey heN. ham musalman sirf bateN banana jantey heN. istakhara ap ki zaati cheez hey.
By: Anees, Haripur on Nov, 30 2011
Reply Reply
0 Like
bhai hum na likha b buhat aur parha b buhat where is action?we should take action to create our own network .Mr i am with u
By: sami, karachi on Nov, 25 2011
Reply Reply
0 Like
Bhai Darvesh, Allah ap ko jaza e kher de....Ameen.
Meri apne tamam musalman bhayyon se dilli iltimas he ke Allah ke lie kuch na kuch waqt ye sochne ke lie zarooe waqf kar den ke Allah Pak ne hame musalman peda kia he or ye Allah Pak ka hum par haq he ke us ke deen ke lie kuch karen. Aaj agar hum sochna shoro kar den to Allah Pak hume amal karne ki tofiq bi inayat farmaye ga or hum kufr ke khilaf amlan jihad karne ke qabil ho jayen ge. Yaqeen karen ke aaj se agar hum log is soch ko shoro kar denge to bohot jald hum amal ke musalman ban sakte hen.
Allah hum sab ko is par amal karne ki tofiq ata farmaye....Ameen
By: Syed, Peshawar on Nov, 25 2011
Reply Reply
0 Like
to read my other articles, here is my blog address

www.darveshkhurasani.wordpress.com
By: Darvesh Khurasani, Peshawar on Nov, 18 2011
Reply Reply
0 Like
wo sahab khood bhe apna pora khaw samgh nahi sakay, aunke poray khawb ka sal matlab ye hai ye, ke safad kapray walay iman walay... jo gare dakha wo facebook... safaid kapray walay gare se nikal gain.... theek??? tu wo kala pahar internet howa... iman walay na sirf gare se nikal jian balkeh internet se bhe nikal jian.... ye hai asal aur pora matlab aunkeh khawab ka.... ye internet wagra sab aunka he hai jinke facebook hai.... aur hain ye facebook user he hotay hain jo facebook pe pressure dall kar pages band karwatay hain, ye jo apny aapko parwanay boltay hain wo sirf kafroun ke Uganda pe amal kartay hain aur apny he mulk ki amlak ko muqsan pohancha kar toor phoor kar ke apni he economy tabah kartay hain... apna network tu bana lo gai auske liya APNA internet kahan se lao gay .... yahodi ki coca cola ka by cote tu kartay ho aunki ijad ki hoi medicines ka kyoun nahi kartay... aik injuction jis ke bagar aajkal koi ilag mumkin nahi wo bhe aik yahodi nay banaya tha.... nikal aiao ais munafqat se aur muqabla karo kafroun ka aunke he tarekay se.... facebook pe tableigh nahi kar saktay kyounke ye garoun k i site hai.... tu phir aunki banai ho bandook se lartay kyoun ho???? aunke F-16 pe fakhar kartay nahi thaktay... aunki darfiyat ki hoi nuclear teleology ko apny defa ka zamin kyoun boltay ho..... ainkhan kholo musalmano aur tarakki karo aur kuch aisa bhe karo jo apna ho aur gair ausko istemal karnay ke liya hum se purchase karian.... aur rah gai baat Nabi Pak Sallah Ho Alyhaywassalam ki hurmat ki tu wo itni bari hai keh koi kafir tu kiya koi achy se acha musalman bhe wahan tak pohanch nahi sakta... hum kiya kar saktay hain ais zamanay mai??? hum aunki gardan tu kaat nahi saktay kyounke hum bohat kamzore ho chukay hain... hamian itna strong phir se banan hai ke aunki jurrat na koi kuch bhe bakwas karnay ki.... hamari govt itni mazboot ho ke wo aus country se koi banda mangay aur aunki jurrat na ho inkar karnay ki.... itna strong banay ke liya hum sab ko aik plateform pe akhata hona hai... aur ho keh rahain gai aik na aik din... InshahAllah
By: Furqan Khan, Auckland on Nov, 13 2011
Reply Reply
0 Like
I absolutely agree with you. Why should we depend on every thing of them and look always as to what new comes from west to utilize. Its a great sham and our craziness. The real thing is that we brushed aside that book which guarantees the success here and here-in-after as a result we are being punished or rather warned. it is high time to change our attitude and follow our holy. If we did so it would be a matter of years to show the world who and what we are.
By: srshah, on Nov, 10 2011
Reply Reply
0 Like
main aap say agree hoon.aur INSHALLAH ab dobara kabhi facebook use nahin karon ga.lakin upar usman bhai nay molvi k khilaf kafi kuch likha.lakin woh bhool gaye k sab unglian brabar nahin hoti bure loog kis department main nahin hain.aap to QURAN ka tarjama bhi parhain gay to kisi molvi ka he ho ga.buron ko bura zaror kahin lakin ache loogon ko bhi parhain ta k aap ka molvi k baremain nazarya badal sake.
By: imran khan, multan on Nov, 10 2011
Reply Reply
0 Like
m apki sari baton sy agry hon btt.hum apna net bna b len tb b woh hamra nh hoga.kun kah markzi sistam unhi k pas h na k humary pas?
By: munir akhter, multan on Nov, 10 2011
Reply Reply
0 Like
Acha Mushwara bulkay Naseehat hy Javaid Chaudhary Sahib or tamam Muslimeen ko lekin is per amal usi waqt ho sukta hy jub tmam Musalman bashmol hum (jo cmments de rhay hain) JAAG jaen . . . . .
Jazakumullahu Khaira
By: Muhammad Usman bin Sabirul Hussain, Shakargarh on Nov, 10 2011
Reply Reply
0 Like