آہا - اسکول میں داخلوں کا موسم آگیا ( دوسرا حصہ )

(Munir Bin Bashir, Karachi)

پچھلی قسط میں لکھا تھا کہ ایک اخبار کے مطابق
نقل کلچر عام کیا جا رہا ہے -- اسکول میں اساتذ ہ کرام آتے ہیں لیکن اپنا وقت اپنی تنخواہ اور سالانہ اضافے پر گفت و شنید کر کے گزار دیتے ہیں -

اب دوسری قسط ملاحظہ کیجئے
یہ سب کچھ پڑھ کر تو ہم بے دم ہی رہ گئے اور کچھ بولنے کے قابل ہی نہ رہے - بھائی ہشت پہلو جو بچپن میں پڑھنے سے دور بھاگتے تھے لیکن آج کل دم کرنے کرانے اور دم پڑھنے پڑھانے میں سب سے آگے ہیں - انہوں نے آنکھیں بند کر کے دم پڑھا اور ایک آدھ ٹھونگا بھی ہمیں مارا کہ کہیں ان کا دم بے دم نہ رہے - ہم کچھ ہوش میں آئے اور کہا کہ یہ حالات کسی سیانے سے بیان کئے جائیں تاکہ وہ کچھ تدارک کی راہ بتلائے - حضرت ہشت پہلو متفق ہوئے اور ارشاد کیا کہ میاں تم تو جانتے ہی ہو یہ لکھنے پڑھنے کے کام ‘ پڑھانے والے ہی بہتر جانتے ہیں چنانچہ پڑھانے والوں سے مشورہ کیا جائے -

ہم نے صلاح دی کہ چلو چلو اسکول کے پرنسپل سے پوچھتے ہیں - وہ پٹی پڑھانے کے اول درجے کے ایکسپرٹ ہیں انہیں علم کی دولت کی برکت پر یقین کامل ہے - بچوں کو علم دے کر اس کی برکتوں سے اپنے گھر میں نوٹوں کی دولت کے ڈھیر لگا رہے ہیں - ان کی رائے معلوم کرنے جب ان کے دولت خانے پر پہنچے تو کسی مذاکرے میں تشریف لے گئے ہیں - مذاکرے کا عنوان تھا علم کی دولت کوئی نہیں چرا سکتا -

میان ہشت پہلو نے ایک اور صاحب کا تذکرہ کیا وہ بھی پڑھانے کا کام کرتے تھے - رشتہ ازدواج میں بندھے ہوئے سارے افراد انہی کے پڑھائے ہوئے بولوں کے پھل کے تلخ و شیریں ذائقے سے فیض یاب ہوتے ہیں -ا ن کی غیر موجودگی کے سبب شادی کی تقریبات ادھوری رہ جاتی ہیں - یہ صاحب ہیں نکاح پڑھانے والے نکاح خواں - چنانچہ ان کی تلاش کرتے ہوئے ان کے آشیانے بندھن پہنچے - لیکن پتہ چلا کہ صاحب تو ہفتہ کے دن بہت مصروف ہوتے ہیں - آج درجن بھر کے قریب نکاح بھگتانے ہیں چنانچہ نہیں مل سکتے - یوں ان کی رائے سے محروم رہے -

لیکن یارو اپنے بھائی ہشت پہلو پر تو آج قوم کی خدمت کرنے کے بادل امڈ امڈ کر آرہے تھے - سو انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور بولے 'اجی بیٹھو مت --چائے بھی بعد میں پی لیں گے - ایک اور صا حب بھی پڑھانے والے موجود ہیں-مسجد کے قریب ہجرے میں ہی قیام ہے ان کا - گوہر مقصود وہاں ضرور حاصل ہو گا اور تمہارا وہاں جانا بے سود نہیں رہے گا - بچوں کی پڑھائی میں وافر معلومات رکھتے ہیں - - ہم نے کہا میاں جی ایسی بھی کیا بات ہے - کچھ معلومات تو ہم بھی اپنی جیب میں لئے پھرتے ہیں مثلاً انگریزی پڑھاؤ تو پہلے لفظ 'اے' پڑھاؤ 'زیڈ' نہیں - وغیرہ وغیرہ - خیر چلو ان کے درشن کرتے ہیں اور ان کی معلومات سے دل روشن کرتے ہیں - ہیں کون وہ صاحب --- ان کی جلدی سے زیارت ہو ایسا نہ ہو کہ یہ چکر بھی غارت ہو اور اپنی محنت اکارت ہو - وہ بولے ' میاں مسجد کے مولوی صاحب ہیں -نماز پڑھاتے ہیں -گناہ گھٹاتے ہیں اور شیطان کو تڑپاتے ہیں - خیر مولوی صاحب سے ملاقات ہو گئی اور بات بھی ہو گئی - اور بلاشبہ تمام مسائل سے نجات بھی ہو گئی - انہوں نے کہا کہ ان مسائل کا حل میں صرف اپنے نماز پڑھانے کے تناطر میں دے رہا ہوں - اس کے اور بھی اسباب ہوں گے وہ بھی معلوم کر لیجئے - انہوں نے کہا اے مہربان جب تک تم نماز پڑھتے رہو گے اور میں نماز پڑھاتا رہوں گا یہ مسئلے جاری رہیں گے - آپ لوگ نماز پڑھنے کی بجائےنماز قائم کریں - جب نماز قائم کرنے کا ارادہ کریں گے تو پہلے اس کے تقاضے پورا کریں گے - فرائض سے غفلت نہیں برتیں گے -جس کام کا معاوضہ حاصل کرتے ہیں اس میں کوتا ہی نہیں کریں گے - لوگوں میں آسانیاں بانٹنے کی کوشش کریں گے نہ کہ صرف اپنی جیبیں بھرنے کی فکر کریں گے - نماز قائم ہو گی تو نظام بھی قائم ہو گا - بد نظامی کا بے لگام گھوڑا صحیح گام ہو جائے گا
تو صاحب بچوں کی تعلیم کے بارے میں سب پڑھانے والوں سے رائے لے لی ہے یا لینے کی کوشش کی ہے اور سب حال احول لکھ دیا ہے -

اب آپ کی مرضی ہے کہ کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں کر لیں -باقی رہا ہمارا معاملہ ہم تو چلے اگلے اسکول ---اپنے پوتے کو داخلہ دلانے

دو کالم ہم نے لکھ دئے -- دو کالم آپ نے پڑھ لئے -- کوئی بتائے تو سہی ہم اپنے بچوں کو اپنے مستقبل کو کس گلی لے جارہے ہیں
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 366 Print Article Print
About the Author: Munir Bin Bashir

Read More Articles by Munir Bin Bashir: 102 Articles with 134721 views »
B.Sc. Mechanical Engineering (UET Lahore).. View More

Reviews & Comments

Language: