"موہے عشق نچایا کر تھیا تھیا " ساتویں قسط

(Mona Shehzad, Calgary)

عمران نے گاڑی کا رخ کوٹھے کی طرف موڑ دیا. صبا کا دل دھک سے رھ گیا. اس کو پتا تھا کہ اس کی نانی اور اس کے پالے ہوئے غنڈے عمران کا کیا حال کرینگے. جب گاڑی کوٹھے کے آگے رکی تو اس نے دیکھا کہ کافی ساری گاڑیاں پہلے سے وہاں کھڑی تھیں. ان میں کچھ پولیس کے اہلکار اور وکلاء بھی شامل تھے. عمران کی معیت میں سب لوگ کوٹھے کے اندر داخل ہوئے. عمران کے اشارے پر وکیلوں میں سے ایک نے بڑھ کر نانی کے آگے نوٹوں سے بھرا ایک اٹیچی کیس رکھ دیا. عمران نے نانی کو مخاطب کرکے کہا :
میں نے مذہبی اور قانونی طریقے سے آپ کی نواسی سے نکاح کیا ہے. اگرچہ میں آپ سے اجازت لینے کا روادار نہیں ہوں. مگر آپ کی ذہنیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ پانچ کروڑ کیش آپ کو دے رہا ہوں. امید ہے آپ کے اندازے سے زیادہ ہی آپ کو مل رہا ہے. آئندہ صبا یا میری طرف نظر اٹھا کر دیکھنے کی غلطی مت کرئے گا. ورنہ مجھے کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنا پڑے گا. "

اتنا پیسہ یک مشت دیکھ کر صبا کی ماں اور نانی تو خوشی سے پھولے نہ سما رہیں تھیں. انھوں نے صبا کی طرف دیکھنے کی بھی زحمت نہ کی. عمران کو مخاطب کرکے نانی بولی :
راجہ جی! ہم تو سوداگر ہیں جو ہمارے سودے کا اچھا دام دے گا .ہم اسی کے غلام ہیں. آپ کو آپ کی صبا مبارک ہو."

احساس ذلت سے صبا کا منہ سرخ ہوگیا. اس نے بےاختیار نانی کی طرف منہ کر کے تھوک دیا اور بولی :
"تم ماں بیٹیاں تو چڑیلوں سے بھی بدتر ہو.چڑیل بھی ساتھ کے سات گھر چھوڑ دیتی ہے.تم لوگ تو وھ گدھیں ہو جو مردار کے گوشت پر پلتی ہیں."

صبا کی ماں چلائی :
"جا شرافت کی زندگی کے چار دن جی لے. ہماری جیسی عورتوں پر مرد نوٹوں کی بارش کرسکتے ہیں مگر بیوی نہیں بنا سکتے. امراو جان ادا سے لے کر پگلی نسرین تک ہم سب کا اختتام یہیں پر ہوتا ہے. سن لے تو!

یہیں گھسٹتی ہوئی تو واپس آئے گئی. یہ امیرزادھ چند دن برت کر تجھے چھوڑ دے گا. "

عمران نے صبا کا ہاتھ پکڑا اور باہر لے آیا. صبا کے سر میں سنساہٹ سی ہورہی تھی. اس کا جسم کپکپا رہا تھا. اس نے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا تو اس کو محسوس ہوا کہ اس کے ہاتھ بری طرح کانپ رہے تھے. اس کو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ اللہ نے اس کی سن لی ہے. وہ اس زندان سے باہر آگئی ہے جس سے نکلنے کی تمنا میں اس کی معصوم بہن بے موت ماری گئی تھی. آج اسے فائقہ شدت سے یاد آئی. بے اختیار ہی اس کے منہ سے دبی دبی چیخیں نکلیں. عمران نے اس کے کندھوں پر اپنا بازو رکھا تو وہ بری طرح تپک گئی. عمران نے شرمندہ ہو کر اپنا ہاتھ پیچھے کرلیا. گاڑی اب پھر رواں دواں تھی. آدھے گھنٹے کے بعد عمران نے گاڑی ایک پوش علاقے کے اپارٹمنٹ کمپارٹمنٹ میں داخل کی. یہ اپارٹمنٹ سمندر کے کنارے بنے ہوئے تھے. باہر مسلح گارڈز موجود تھے. صبا اور عمران لفٹ کے زریعے ساتویں منزل پر پہنچے. صبا کا دل اچانک زور زور سے دھڑکنے لگا. اس کو پہلی بار احساس ہوا کہ عمران اب اللہ اور اس کے رسول کے قانون کے مطابق اب اس کا مجازی خدا ہے. اس کو بے اختیار ہی رونا آگیا وھ کیسی دلہن تھی جس کو پانچ کروڑ کے عوض خریدا گیا تھا. اس کو دعائیں دینے والا اس کے سر پر قرآن کا سایہ کرنے والا کوئی نہیں تھا.
(باقی آئندہ ☆☆*)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 178477 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
27 Apr, 2018 Views: 438

Comments

آپ کی رائے