دعائیں ایمان ہوتی ہیں

(Tayyaba Kanwal, Karachi)

چھوٹے سے بچے کو نہیں پتا ہوتا کہ وہ محبتوں کا مرکز کیوں ہے اسے ہر کوئی چھونے پہ مستحق کیوں ہے وہ اپنے آپ میں کیا ہے وہ تو بس اپنی ماں اور باپ کی باہوں کو اپنا سمجھتا ہے خوشی سے اس میں جھولے ڈالتا ہے غیر کی اپنائیت کا اسے کیا پتا کہ میں اس کے لئے کیا ہوں؟کیوں اسکے چھوتے ہاتھ میرے گالوں کو لمس کرنے پر مجبور ہیں میں کیوں محبتوں کا سراپا ہوں؟۔۔۔۔۔۔ ذہن میں ایک سوالیہ نشان ہوتا ہے۔۔۔ خیر۔۔ذہن سوچتا ہے جیسے یہ بچہ خود سے اجنبی ہے اسی طرح ہم بھی اپنے آپ سے اجنبی ہیں ہمیں جو محبت دے اسی ہی ہم اپنا خیر خواہ سمجھتے ہیں جو ہاتھ تھام کر پیارومحبت کی بات کر جائے جیسے اس بچے کی ماں اس بچے کا ہاتھ پکڑ کر بچے کو چلنا سیکھاتی ہے اور بچہ چہچہاتا ہوا قدم بڑھاتا ہے ہمیں بھی یہ ھی لگتا ہے کہ صرف ہاتھ پکڑ کر بڑھانے والے ہی ہمارے اپنے ہیں لڑکھڑاتے قدموں کو سہارا دینے والے ہی ہمارے ہیں گرتے لمحوں میں وہی ہمدم ہیں۔۔۔۔بیٹی کو رخصت کئے تھوڑے ھی دن ہوئے ہوتے ہیں کہ ماں کے لبوں پہ دعائیں مچلتی ہیں۔۔ اللّٰہ خوشیاں دیکھا دے۔ بیٹے کا گھر بسا ھی ہوتا ہے کہ صحن میں چہکتے للچاتے چمن میں گویا گلاب اور کلیوں کی آرزوئیں ماں باپ کے لبوں پر ہوتی ہیں۔ بہن اپنے جمع کئے ہوئے پیسے(خرچی) سے کھلونے لاتے نھیں تھکتی۔۔۔۔ ہاں سب کی دعائیں ھی ہوتی ہیں کہ چمن میں بہار آتی ہے کہیں رحمت (بیٹی) کہیں برکت(بیٹا) اترتی ہے۔ہاتھ پکڑنے والے ,لمحوں میں تھامنے والے وہ جو آنکھوں کے سامنے ہوتے ہیں انہیں دیکھ کر ہم بس انہیں ہی اپنا سمجھ لیتے ہیں اور اپنی تمام محبتوں کا حق دار سمجھ بیٹھتے ہیں۔۔گویا وہ نہ ہوتے تو آج ہم "ہم" نہ ہوتے حقیقت کچھ اور ھی ہوتی ہے ماں کی گود میں آنکھوں کی ٹھنڈک ایسے ہی نھی اجاتی سب کی دعائیں رنگ لاتی ہیں۔۔ہم کھڑا صرف کندھا دینے والوں کی بدولت ہی نھی ہوتے بلکہ کچھ مضمر رشتے جو اپنائیت کا دعوا تو نہیں کرتے مگر ہر لمحے لبوں سے ہمارے لئے دعائیں کرتے ہیں انکی دعائیں ھی تو ہماری اصل طاقت ہوتی ہے کہ دعائیں رنگ لاتی ہیں۔۔بے شک بے رنگ ہوتی ہیں کبھی بھی کہیں بھی کسی بھی موسم میں کسی بھی وقت مانگی جاتی ہیں اور عرش ہلا دیتی ہیں۔۔
دعائیں آواز ہوتی ہیں
دعائیں فریاد ہوتی ہیں
دعائیں ناتمام ہوتی ہیں
دعائیں کامل ہوتی ہیں
دعائیں حقیقت ہوتی ہیں
دعائیں محبت ہوتی ہیں
دعائیں گمان ہوتی ہیں
بس۔۔۔
دعائیں ایمان ہوتی ہیں


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tayyaba Kanwal

Read More Articles by Tayyaba Kanwal: 51 Articles with 24611 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Apr, 2018 Views: 419

Comments

آپ کی رائے