جہاد یا کچھ اور؟؟؟

(Babar Iftikhar, Rawalpindi)
مسلمان اور مذہب، کہ کس طرح دین کو استعمال کیا گیا۔

جارج برنارڈ شاہ نے کہا تھا "دنیا میں بہترین مذہب اسلام اور بدترین قوم مسلمان ہیں"۔ ایک مسلمان ہونے کے ناطے سے یہ جملہ بڑا تلخ اور برا معلوم ہوتا ہے لیکن اگر ہم اپنی تاریخ دیکھیں تو یہی جملہ سو نہیں اک سو دس فیصد صحیح معلوم ہوتا ہے اور اس تلخ حقیقت کو ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ مسلمانوں نے اسلام کے ساتھ ظلم و ذیادتی کی ہے اس کو فالو کرنے کی بجائے استعمال کیا ہے مثلا اگر کوئی دورحاضر کی جہادی تنظیموں کے بارے میں تحقیق کرے تو یہ حقیقت کھل کے سامنے آ جاتی ہے۔

یہاں سویت یونین کی افغان وار کو ہی دیکھا جائے جس میں روس کو شکست فاش ہوئی اور مجاہدین کو فتح نصیب ہوئی۔ اس جنگ میں اسلام دنیا کے مجاہدین نے حصہ لیا گو کہ مجاہدین کا جذبہ سچا تھا لیکن افسوس کہ ان کو پتا نہیں تھا کہ یہ کیا گیم ہے، جس کو انہوں نے حق و باطل کا معرکہ سمجھ کے لڑا اور اس کو ایک طرح سے صلیبی جنگ سمجھ کے لڑا لیکن تاریخ میں وہ کیا ہے ایک عالمی گیم اور اس گیم میں اصل ونر کون ہوا؟؟ امریکہ و اسرائیل۔

امریکہ نے اس جنگ میں اسلامی دنیا کے مرکز 'سعودیہ' کو ساتھ ملایا اور اس جنگ میں پارٹنر بنا لیا۔ اس پارٹنرشپ کی وجہ سے امریکہ کو واحد سپر پاور بننے اور وطن عزیز پاکستان جیسے جذباتی نام نہاد اسلامی قلعے کو سر کرنے میں کسی قسم کی دقت یا مذاہمت کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ ایک آمر کے وجود کو تسلیم کر کے امریکہ وہ کچھ کر گزرا جو شاید عام حالات میں ممکن نہ ہوتا، وطن عزیز میں مدارس کھلنے لگے (جن میں عالم کا کورس سات سال کے کم کر کے تین سال کر دیا گیا) تا کہ ذیادہ سے ذیادہ علماء کرام پیدا کیے جا سکیں اور مجاہدین مل سکیں۔ چھوٹی سطح پر مدارس چلانے والوں کے فرشتوں کو بھی علم نہ تھا کہ وہ بیچارے استعمال ہو رہے ہیں۔ یہ مدارس امریکہ کے حکم پر سعودی عرب کے ذریعے کھلتے، سعودیہ فنڈنگ کرتا اور علمائے کرام بننے لگے۔ ان مدارس کے نام بھی واشنگٹن سے منظورشدہ ہوتے۔ سادہ لوح عوام کو جنت، حوروں اور پتا نہیں کیا کیا (جو کہ حقیقت اور ہمارے ایمان کا حصہ ہیں) سبز باغ دیکھا کر اپنے مقاصد میں لایا گیا۔ عرب ممالک اور باقی اسلامی دنیا سے مجاہدین آئے اور اپنی جانیں قربان کیں اور یوں روس کو شکست ہوئی اور امریکہ کو فتح نصیب ہوئی۔

لیکن وہ کیا کہتے ہیں نا کہ "سبھی کردار کھلتے ہیں' کہانی ختم ہونے پر"۔

جنگ (جہاد) کے بعد کردار کھلنے شروع ہوئے تو پتہ چلا کہ ہم تو استعمال ہوئے ہیں وہ بھی ٹشو پیپر کیطرح۔
جنگ کے بعد مطلب جہاد کے بعد یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے ڈرامے کے بعد کردار کھلے اور انکشافات ہونے شروع ہوئے جن کا سلسلہ الحمداللہ آج تک جاری و ساری ہے، غیرمسلموں نے تو کیے ہی کیے کچھ مسلمانوں نے بھی کیے جیسا کہ سعودی شہزادہ بندر بن سلمان بن عبدالعزیز کی کتاب "دی پرنس" جس نے افغان جہاد کی اصلیت کھول کر رکھ دی۔ تو بندہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ مجاہدین جو شہید ہوئے تھے کیا وہ واقعی "شہید" ہیں۔کیا وہ واقعی ذندہ ہیں اور اپنے رب سے وہ انعام پا رہے ہیں جن کا پروردگار نے قرآن مجید میں وعدہ کر رکھا ہے؟؟۔

کچھ دن پہلے سعودی ولی عہد نے امریکہ میں ایک انٹرویو کے دوران انکشاف کیا کہ "مغرب کے کہنے پر سعودی عرب نے اسلامی ممالک میں وہابیت کو فروغ دیا"۔

اس وہابیت نے پاکستان میں کیا کہا گل کھلائے اس سے ہر ذی شعور پاکستانی واقف ہے۔ پاکستان جو کہ اسلام کے نام پر بنا تھا' وہ پاکستان جس میں کبھی سب مسلمان ہوا کرتےتھے آج وہ مسلمان نہیں ہیں آج وہ وہابی، سنی، شیعہ، بریلوی، دیوبندی اور ناجانے کیا کیا ہیں۔ آج آپ کو وطن عزیز میں مساجد جو کہ اللہ تعالی کے گھر ہیں' بھی اس عالمی گیم کا شکار ہیں اور آج آپ کو کوئی ایسی مسجد نہیں ملے گی جس پر 'شیعہ سنی' کا لیبل نا لگا ہو۔ آج حالت یہ ہے کہ خود کش حملے میں شیعہ مرے تو سنی اور سنی مرے تو وہابی خوش ہوتا ہے۔
ان ساری چیزوں کا جائزہ لینے کے بعد ایک انسانی دماغ سوال کرتا ہے کہ کیا جو حکمران غیر مسلموں کے کہنے پر دین کو استعمال کر سکتے ہیں تو کیا وہ اپنے لیے یا اپنے اقتدار کیلئیے دین کے ساتھ کچھ کرنے سے بعض رہیں گے؟؟

اور کیا جو آج کل جہاد چل رہے ہیں' جن میں فلسطین و کشمیر شامل ہیں، کیا یہ واقعی جہاد ہیں؟ کہیں اب بھی کوئی گیم تو نہیں ہو رہی؟ اور سادہ لوح مسلمان اس کے مہرے تو نہیں بن رہے؟ اگر کشمیری جہاد واقعی جہاد ہے تو اس میں باقی اسلامی ممالک کیوں حصہ نہیں لے رہے؟ اور وہ جہادی تنظیمیں جو کشمیر جہاد کے لیئے کام کرتی ہیں وہ کام کر رہی ہیں لیکن افغان جہاد کے دوران مجاہدین بنانے والی فیکٹریاں آج کالعدم کیوں ہو گئی ہیں؟

کیا یہ سچ میں جہاد تھا یا جہاد ہے؟؟ اور اگر جہاد ہے تو براہ کرم مجھے بتائیے میں یہ دینی فریضہ سر انجام دینا چاہتا ہوں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Iftikhar
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Apr, 2018 Views: 320

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ