یکم مئی اور میرا مزدور

(Babar Alyas, Chichawatni)
کیا خالی اور بے بنیاد آوازیں یکم مئی)(مزدوروں) کے حوالے سے معاشرے کی بنیاد مضبوط کر پاۓ گئ ؟؟

اسلام ایک مکمل دین ہے ۔ اس کا صرف یہ مطلب نہیں کہ اسلام میں عبادات ( نفلی و فرضی ) صدقہ، خیرات، زکواۃ، نماز، روزہ اور حج و عمرہ جیسی اعلیٰ عبادات کا مجموعہ ہی شامل ھے بلکہ بیماروں ، یتیموں ، ہمسائیوں ، مسافروں ، طالب علموں ، بیوہ, یتیم, اندھے, کھانے پینے ، کے علاوہ چرند پرند ، سمیت تمام جانوروں کے حقوق واضع کئے گئے ہیں ، اور ان کی ادائیگی کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ جان بوجھ کر سستی کاہلی یا حکم عدولی کی سزائیں بھی سنائی گئیں ہیں ، ایسے مقدس دین میں ’’ مزدوروں کے حقوق ‘‘ کو کسی بھی طرح نظرِ انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ جو کہ تاریخ اسلامیہ میں سنہری حروف سے درج ہیں.

حضرت ابوبکر صدیق جب خلیفہ بنے تو آپ کی تنخواہ (وظیفہ) کا مسلہ پیدا ھوا، آپ نے فرمایا، مدینہ میں ایک محنت کش کو جو یومیہ اجرت دی جاتی ھے اتنی ہی اجرت میرے لئے بھی مقرر کی جائے پوچھا گیا اتنی اجرت میں اپ کا گزارہ کیسے ھو گا،آپ نے فرمایا کہ میرا گزارہ اسی طرح ھو گا جس طرح مدینہ کے ایک محنت کش کا ھوتا ھے، ہاں اگر گزارہ نہ ھوا تو محنت کش کی یومیہ اجرت بڑھا دوں گا.

حضرت علی جب خلیفہ بنے تو تنخواہ کا مسلہ پھراٹھایا گیا، حضرت علی نے فرمایا کہ اگر میرا بڑا بھائی ( حضرت ابو بکرصدیقؓ ) ایک محنت کش کی تنخواہ پر گزارہ کر سکتا ھے تو میں بھی اس تنخواہ پر گزارہ کر سکتا ھوں.
یوم مئی، مزدورں کا عالمی دن ھے .یکم مئی مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد امریکا کے شہر شکاگو کے محنت کشوں کی جدوجہد کویاد کرنا.یہ لیبر ڈے ہم کیوں مناتے ہیں۔میرے مزدور کی زندگی تو ایک گدھے کے برابر کر دی گئ ھے کہ کام بس کام ۔ ایک جانور کی طرح مزدور سے کام لیا جاتا تھا۔

انسان اپنی روزی کمانے کے لیے (دائرہ شریعت میں رہ کر ) جو اور جیسی بھی محنت کرے خواہ وہ محنت جسمانی ہو یا دماغی، اسلام اس کی اجازت دیتا ہے اور اجازت ہی نہیں دیتا ہے بلکہ محنت کر نے پر ابھارتا ہے اور جو لوگ اپنا پسینہ بہا کر اپنی روٹی حاصل کرتے ہیں ان کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان لوگوں کو پسند کرتا ہے -

دن ہو یا رات وہ 16-16 گھنٹے کام کرتے ہیں ۔ تنخواہ بھی کچھ خاص نہیں اور سہولت تو براۓ نام ھوتی ھے ۔ اوورٹائم کا تصور بھی براۓ نام ۔ ڈیوٹی کے دوران اگر کوئی مزدور زخمی ہو جاتا یا مر جاتا تو اس کے تمام اخراجات خود مزدور کے ذمہ ھوتے ہیں فیکٹری یا مل کی طرف سے ایسا کوئی قانون نہیں ھے کہ مزدور کو زخمی ہونے کی صورت میں اس کا علاج کروایا جاۓ. مزدور کی ملازمت کا فیصلہ مالک کی صوابدیدی پر ہوتا ھے ۔ وہ جس کو چاہتا ملازمت پر رکھتا اور جس کو چاہتا ملازمت سے ہٹا دیتا۔ ہفتے میں سات دن کام کرنا پڑتا، چھٹی کا کوئی تصور ہی نہیں تھا.

ان تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے امریکہ اور یورپ میں مزدوروں نے مختلف تحریکیں چلائیں 1884ء میں فیڈریشن آف آرگنائزڈ ٹریڈرز اینڈ لیبریونینز نے اپنا ایک اجلاس منعقد کیا جس میں انہوں نے ایک قرارداد پیش کی۔ قرارداد میں کچھ مطالبے رکھے گے جن میں سب سے اہم مطالبہ 'مزدوروں کے اوقات کار کو 16 گھنٹوں سے کم کر کے 8 گھنٹے کیا جائے۔ مزدوروں کا کہنا تھا 8 گھنٹے کام کے لیے، 8گھنٹے آرام کے لیے اور 8 گھنٹے ہماری مرضی کے۔ یہ مطالبہ یکم مئی سے لاگو کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ لیکن اس مطالبہ کو تمام قانونی راستوں سے منوانے کی کوشش ناکام ہونے کی صورت میں یکم مئی کو ہی ہڑتال کا اعلان کیا گیا اور جب تک مطالبات نا مانے جائیں یہ تحریک جاری رہے گی۔ 16-16 گھنٹے کام کرنے والے مزدوروں میں 8 گھنٹے کام کا نعرہ بہت مقبول ہوا۔ اسی وجہ سے اپریل 1886 ء تک 2 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ مزدور اس ہڑتال میں شامل ہونے کے لیے تیار ہو گے۔ اس تحریک کا آغاز امریکہ کہ شہر "شگاگو" سے ہوا۔ ہڑتال سے نپٹنے کے لیے جدید اسلحہ سے لیس پولیس کی تعداد شہر میں بڑھا دی گئی۔ یہ اسلحہ اور دیگر سامان پولیس کو مقامی سرمایہ داروں نے مہیا کیا تھا۔تاریخ کا آغاز یکم مئی سے شروع ہوگیا۔ پہلے روز ہڑتال بہت کامیاب رہی دوسرے دن یعنی 2 مئی کو بھی ہڑتال بہت کامیاب اور پُر امن رہی۔ لیکن تیسرے دن ایک فیکٹری کے اندر پولیس نے پر امن اور نہتے مزدوروں پر فائرنگ کر دی جس کی وجہ سے چار مزدور حلاک اور بہت زخمی ہو گے۔​

اس واقعہ کے خلاف تحریک کے منتظمین نے اگلے ہی روز 4 مئی کو ایک بڑے اجتجاجی جلسے کا اعلان کیا۔ اگلے روز جلسہ پُر امن جاری تھا لیکن آخری مقرر کے خطاب کے دوران پولیس نے اچانک فائرنگ شروع کرکے بہت سے مزدور ہلاک اور زخمی کر دے۔ پولیس نے یہ الزام لگایا کہ مظاہرین میں سے ان پر گرینیڈ سے حملہ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ایک پولیس ہلاک اور کئی زخمی ہوگے ہیں۔ اس حملے کو بہانہ بناکر پولیس نے گھر گھر چھاپے مار ے اور بائیں بازو اور مزدور رہنماؤں کو گرفتار کر لیا‘ ایک جعلی مقدمے میں آ ٹھ مز دور رہنماؤں کو سزا ئے موت دے دی گئی۔

البرٹ پار سن‘ آ گسٹ سپائز ‘ایڈولف فشر اور جارج اینجل کو 11 نومبر 1887ء کو پھانسی دے دی گئی۔لوئیس لنگ نے جیل میں خود کشی کر لی اور باقی تینوں کو 1893ئمیں معافی دیکر رہا کر دیا گیا۔ مئی کی اس مزد ور تحریک نے آ نے والے دنوں میں طبقاتی جدوجہد کے متعلق شعور میں انتہائی اضافہ کیا‘ایک نوجوان لڑکی ایما گولڈ نے کہا ’’کہ مئی1886ء کے واقعات کے بعد میں محسوس کرتی ہوں کہ میرے سیاسی شعور کی پیدائش اس واقعے کے بعد ہو ئی ہے‘‘ ۔ البرٹ پا رسن کی بیوہ لوسی پارسن نے کہا’’ دنیا کے غریبوں کو چاہیے کہ اپنی نفرت کو ان طبقوں کی طرف موڑ دیں جو انکی غربت کے ذمہ دار ہیں یعنی سر ما یہ دار طبقہ‘‘۔ جب مزدوروں پر فائر نگ ہو رہی تھی تو ایک مزدور نے اپناسفید جھنڈاایک زخمی مزدور کے خون میں سرخ کرکے ہوا میں لہرا دیا ‘اسکے بعد مزدور تحریک کا جھنڈاہمیشہ سرخ رہا۔

1889 ء میں ریمنڈ لیوین کی تجویز پر یکم مئی 1890ء کو یوم مئی کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا۔ اس دن کی تقریبات بہت کامیاب رہیں۔ اسکے بعد یہ دن ’’ عالمی یوم مزدور‘‘ کے طور پر منایا جانے لگا سوائے امریکہ‘ کینیڈا اورجنوبی افریقہ کے۔ جنوبی افریقہ میں غالبا ًنسل پرست حکومت کے خاتمے کے بعد یوم مئی وہاں بھی منایا جانے لگا ۔ مزدور اور دیگر استحصال زدہ طبقات کی حکومت لینن کی سربراہی میں اکتوبر انقلاب کے بعد سوویت یونین میں قائم ہوئی۔ اسکے بعد مزدور طبقے کی عالمی تحریک بڑی تیزی سے پھیلی اور چالیس پچاس سالوں میں دنیا کی تقریباً نصف آبادی پر مزدور طبقے کا انقلابی سرخ پرچم لہرانے لگا۔

غور کیا جائے تو اسلام انسان کو پائیدار اور مستقل اخلاقی قدریں دیتا ہے اور ان قدروں کی پامالی وہ کسی حالت میں پسند نہیں کرتا چونکہ وہ معاش کو بھی ان قدروں کا پابند بنانا چاہتا ہے اس لیے وہ نہ تو مغرب کی بے قید معیشت اور محنت کی اس بے قید تعریف کو تسلیم کرتا ہے کہ جس کام سے آدمی کو مادی یا غیر مادی معاوضہ حاصل ہو وہ محنت بار آور ہے۔ اور نہ اشتراکیت کی بے اخلاقی جبری محنت کو پسند کرتا ہے بلکہ اسلام صرف اس محنت کو بار آور محنت کہتا ہے جو اجرت و منفعت کے اعتبار سے آزاد ہو مگر اس کی آزادی اخلاقی حدود کے اندر ہو۔

قرآن پاک میں مزدوروں کی حیثیت، ان کی محنت کی حد اور اجرت کا تعین اور ان کے ساتھ مالک کا طرز عمل کیا ہونا چاہئے اس کا ذکر کئی جگہ آیا ہے، خصوصیت سے سورۃ البقرہ اور قصص میں اجرت کی تعین کے بیان میں اس کی تفصیل موجود ہے (اسلامی قانون محنت :مجیب اللہ ندوی، ص ١٣٦)

محنت کی عظمت پر آنحضرتﷺ کے ارشادات ہیں کہ...
محنت کی عزت افزائی کے سلسلہ میں آنحضر تﷺ کے ارشادات یہاں پیش خدمت ہیں۔

اس سے بہتر کوئی کھانا نہیں ہے جو آدمی اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتا ہے۔ ( مشکٰوۃ ص٢٤)

حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھوں سے اپنی روزی کماتے تھے اسی طرح حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی مزدوری کا قرآن پاک میں جو ذکر ہے اس کا ذکر کر کے آنحضرتﷺ نے فرمایا :

انہوں نے آٹھ یادس برس تک اس طرح مزدوری کہ کہ اس پوری مدت میں وہ پاک دامن بھی رہے اور اپنی مزدوری کو بھی پاک رکھا۔ (مشکٰوۃ ص ٢٥٢)

یہ حدیث قرآن مجید کے دو لفظ القوی الامین کی گویا تفسیر ہے ا س سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مزدور میں اخلاقی اوصاف کیا ہونے چاہئیں اس کی تفصیل آگے آئے گی۔ آپ نے ان چند انبیاء کرام ہی کااُسوہ پیش نہیں کیا بلکہ ایک حدیث میں فرمایا :

خدا نے جتنے انبیا ء بھیجے ہیں ان سب نے بکریاں چرائی ہیں۔

صحابہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ آپ نے بھی بکریاں چرائی ہیں۔

فرمایا ہاں میں بھی چند قیرا طوں کے عوض اہل مکہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔ (مشکٰوۃ ص ٢٥٨ باب الاجارہ)

ایک صحابی نے آپﷺ سے پوچھا کہ کون سی کمائی سب سے زیادہ پاکیزہ ہے آپﷺ نے فرمایا اپنی محنت کی کمائی۔ (مشکٰوۃ ص ٢٤٢)

ایک انصاری نے آنحضرتﷺ کے سامنے دست سوال دراز کیا۔ آپﷺ نے ان سے پوچھا تمہارے پاس کوئی سامان ہے ؟جواب دیا ایک کمبل اور ایک پانی پینے کا پیالہ ہے۔ فرمایا اسے لے آؤ وہ لے آئے۔ آپ ﷺ نے صحابہ سے دریافت فرمایا کہ اس کو کون خریدتا ہے۔ ایک صحابی نے اس کی قیمت ایک درہم لگائی۔ آپ نے فرمایااس سے زیادہ میں کوئی قیمت دے سکتا ہے ؟ایک دوسرے صحابی دو درہم قیمت دینے پر تیار ہو گئے۔ آپ نے یہ چیزیں ان کے حوالہ کیں اور دو درہم ان سے لے کر انصاری کو دے دئیے کہ ایک درہم کی کلہاڑی لے کر آؤ اور ایک درہم کا غلہ خرید کر گھر میں رکھ دو۔ انہوں نے اس کی تعمیل کی جب وہ کلہاڑی لے کر آئے اور ایک درہم کا غلہ خرید کر گھر میں رکھ دیا تو حضو رﷺ نے اپنے دست مبارک سے اس کلہاڑی میں دستہ لگایا اور ان کے ہاتھ میں دے کر فرمایا کہ جاؤ ا س سے لکڑی کاٹ کاٹ کر بیچو، پندرہ دن تک تم میرے پاس نہ آنا، پندرہ دن کے بعد جب وہ حاضر خدمت ہوئے تو پوچھا کیا حال ہے؟ عرض کیا ا س سے میں نے دس درہم کمائے ہیں، جن میں سے چند درہم کے کپڑے خرید ے اور چند درہم سے غلہ وغیرہ خریدا ہے۔ آپ نے فرمایا کیا بھیک مانگ کر قیامت کے دن ذلت اُٹھانے سے یہ بہتر نہیں ہے۔ (مشکٰوۃ ص ١٦٣)

سرور کائنات جناب آنحضرتﷺ نے ایک دفعہ خطبہ دیا جس میں فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسے کام سے الگ رہتے ہیں جس کو میں خود کرتا ہوں خدا کی قسم میں تم سے زیادہ خدا کا خوف رکھتا ہوں۔ (اسلام کے معاشی نظریے ج ١ ص٢١٤)

اسلامی تعلیمات میں ان مسلمانوں کے لیے سبق ہے جو اپنے ہاتھ سے کام کرنا عزت کے خلاف سمجھتے ہیں۔ فاروق اعظم کے عہد خلافت میں ایک توانا تندرست نوجوان یہ کہتا ہوا مسجد نبوی میں داخل ہوا کہ جہاد کرنے میں کون میری مد د کرتا ہے۔ حضرت عمر فاروق نے اس کو اپنے پاس بلایا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر مجمع کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اپنی زمین میں کام لینے کے لیے اس شخص کو کون مزدوری پر رکھتا ہے۔ ایک انصاری بولے میں یا امیر المؤمنین۔ آپ نے پوچھا تم اس کو ماہانہ کتنی اجرت دو گے انہوں نے اجرت بتائی، فرمایا اس کو لے جاؤ اور کام لو۔ چند مہینے بعد حضرت عمر نے انصاری سے پوچھا کہ مزدور کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔ آپ نے حکم دیا کہ اسے جمع شدہ اجرت کے ساتھ میرے پاس لاؤ۔ چنانچہ و ہ مزدور درہموں سے بھری ہوئی ایک تھیلی کے ساتھ آپ کے سامنے لایا گیا، آپ نے اس سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ لو یہ تھیلی اب جی چاہے جہاد کرو یا جی چاہے گھر بیٹھو۔ (کنز العمال ج٢ ص ٢١٧)

اسلام نے جو بے مثال ذہنیت پیدا کی تھی اس کی وجہ سے اس زمانہ میں کوئی شخص بھی بے کار رہنا پسند نہیں کرتا تھا چنانچہ صحابہ میں بہت کم ایسے لوگ تھے جو کسی نہ کسی پیشہ سے وابسطہ نہ ہوں۔ آنحضرتﷺ نے صحابہ میں یہ عام جذبہ پیدا کر دیا تھا کہ وہ کسی پر اپنا معاشی بار ڈالنا پسند نہیں کرتے تھے۔ (اسلامی قانون محنت ص١٤٠)

اس کاوش باعث فیکٹری اور مل کے ملازمین کو تو کسی حد تک تخفظات مل گئے لیکن ایک عام مزدور جو صبح چوک پر اپنی مزدوری کا انتظار کرتا ہے۔ جو صبح مزدوری کرتا ہے اور رات کو اس کا چولہا جلتا ہے۔ کسی بھی سرکاری یا پرائیوٹ چھٹی کے ساتھ ہی اس کے گھر میں فاقے کی آمد ہوتی ہے۔ ایسے مزدوروں کی زندگی میں یکم مئی کی کیا اہمیت ہوگی....؟یہ سوال ھے اہل علم ؤ فکر کے لیے!!!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 254 Articles with 90717 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
30 Apr, 2018 Views: 716

Comments

آپ کی رائے