نیا پاکستان

(Muhammad Abdullah Khan, Muzaffargarh)

پاکستان 14 اگست 1947 کو آزاد ہوا تو پھر
نیا پاکستان کیا ہے؟
پرانے پاکستان کو کیا ہوا، کیوں ہوا اور کیسے ہوا؟
اس کے پیچھے کیا عناصر تھے اور نیا پاکستان بنانے کی وجہ کیا ہے؟ نیا پاکستان بنانے والے کو کیسا ہونا چاہیے اس کا کردار کیسا ہو؟ یہ وہ سوالات ہیں کہ اگر ہم ان کا صحیح جواب تلاش کر لیں تو نہ صرف ہم ترقی کر سکتے ہیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کو بھی ہر نت نئی برائیوں
سے بچا سکتے ہیں

جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور اس کی اساس دین اسلام ہے تو ہم کیوں بلاوجہ اسلام سے دور بھاگتے ہیں اگر ہمیں کوئی اسلام کی بات کرے تو ہماری سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ اسے کیسے غلط ثابت کیا جائے اور ہر شخص یہی سمجھتا ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی مفتی نہیں اور دین کے تمام مسائل کا علم صرف اسے ہی ہے

پاکستان کی تاریخ کسی سے چھپی نہیں کہ کیسے یہ معرض وجود میں آیا مگر آگے کی تاریخ بھی کسی سے کم نہیں
پرانے پاکستان کو کیا ہوا اور نئے پاکستان بنانے کی وجہ...... ہمارے کرپٹ حکمران ہیں جنہوں نے اپنی جیب بھرنے کے لیے پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا اور جن کی وجہ سے ہر ادارے میں کرپشن عام ہو گئی اور جس نے بھی ان کے خلاف آواز بلند کی اسے ختم کر دیا گیا اس وقت بھی قصور صرف عوام کا تھا جنہوں نے ایسے حکمرانوں کو چنا اور اب بھی قصور عوام کا ہی ہے

اس سب کو دیکھتے ہوئے نئے پاکستان کا خیال کسی کے دل میں آیا مگر سوال اب بھی وہی ہے کہ حکمران کو کیسا ہونا چاہئے

ہم اپنی دعاؤں میں حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ جیسا حکمران چاہتے ہیں مگر دل سے پسند نہیں کرتے.....

پاکستان کے موجودہ سیاست دان

١. پاکستان کے موجودہ سیاست دان ایسے ہیں کہ جنہیں دین کی "د" کا بھی علم نہیں صحیح طریقے سے انہیں نماز بھی پڑھنی نہیں آتی کسی کو سورۃ فاتحہ نہیں آتی اور کسی کو تو اتنا بھی پتا نہیں کہ سورۃ اخلاص کونسی ہے

.٢ کچھ حکمران ایسے بھی ہیں جنہیں شادیاں کرنے کا بہت شوق ہے جن کے دھرنے میں لڑکیاں ناچتی ہیں اور اس ناچ گانے کو ہماری عوام پارٹی (party) اور جشن کا نام دیتے ہیں اور اگر یہی لڑکیاں بازار میں ناچیں تو اسے مجرے کا نام دیا جاتا ہے

ہم نے توبزرگوں سے یہ سنا ہے کہ اپنی لڑکیوں کو سورۃ یوسف کی تفسیر نہ پڑھنے دوبلکہ سورۃ نور کی تعلیم دو کیونکہ سورہ یوسف میں ایک عورت کے مکرکاذکرہے مگر یہاں تورومانی ناول اور ڈرامے عام دکھاکرہماری نسلوں کوبگاڑاجاتاہے....

آج حکمران فقط اپنی شہوت کی تسکین کیلئے بے پردہ عورت کوبناسنوار کرساتھ رکھتے اور فحاشی پھیلاتے ہیں ان کے غلط اندازعام کرنے کی وجہ سے شریف لوگ زندگی سے بیزار ہیں
ان کی وجہ سے پیرنیاں خراب ہو سکتی ہیں تو عام عوام کا کیا بھروسہ........
ایسے حکمران جہاں بھی جاتے ہیں کسی نہ کسی کو ضرور ساتھ لاتے ہیں. اور ان کی وجہ سے لوگوں کے گھروں میں جھگڑے ہو رہے ہیں کہ جب پیرنیاں خراب ہو سکتی ہیں تو عام عورتوں کا کیا بھروسہ........

ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم جسے پسند کرتے ہیں اس کے خلاف کچھ بھی نہیں سن سکتے اگرچہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو
ہمیں اپنا رویہ بدلنا ہو گا چاہے اپنے لیے یا اپنی اولاد کے لیے.....

یاد رہے کہ ذہنی غلامی جسمانی غلامی سے بدرجہا بری ہے

اگر نیا پاکستان ہمیں ذہنی آزمائش، ذہنی غلامی اور ذہنی مریض بنا دے تو اس سے پرانا پاکستان بہت اچھا ہے

اب اس کا فیصلہ صرف ہمیں کرنا ہے کہ یا تو اپنی آنے والی نسلوں کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کرنا بلکہ تباہ کرنا ہے یا پھر ان کا مستقبل روشن کرنا ہے اور روشن مستقبل اسلام کے علاوہ اور کوئی نہیں دے سکتا.....

بس یہ ذہن بنالیں اسلام کے اصولوں پرکوئی عمل کرے یانہیں مجھے ضرور کرناہے جبھی تبدیلی ممکن ہے ورنہ دنیاکاآسان کام صرف باتیں کرنا ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Abdullah Khan

Read More Articles by Muhammad Abdullah Khan: 2 Articles with 913 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Apr, 2018 Views: 480

Comments

آپ کی رائے