موبائل

(Hania iqbal, Lahore)

یہ موبائل یوں ہی ہٹا کٹا نہیں ہے

اس نے بہت کچھ کھایا ہے
مثال کے طور پر
اس نے ہاتھ کی گھڑی کھائی
ٹارچ لائٹ کھا گیا
یہ خط و کتابت کھا گیا
یہ کتاب کھا گیا
یہ ریڈیو کھا گیا
ٹیپ ریکارڈ کھا گیا
یہ کیمرے کو کھا گیا
یہ کیلکولیٹر کو کھا گیا
یہ پڑوس کی دوستی کھا گیا
یہ میل محبت کھا گیا
یہ ہمارا وقت کھا گیا
یہ ہمارا سکون کھا گیا
یہ پیسے کھا گیا
یہ تعلقات کھا گیا
یاد داشت کھا گیا
صحت تندرستی کھا گیا
کمبخت اتنا سب کچھ کھا کر "اسمارٹ فون" بنا ہے

بدلتی دنیا کا ایسا اثر ہونے لگا
انسان پاگل اور فون اسمارٹ ہونے لگا

جب تک فون تار سے جڑا تھا
انسان آزاد تھا
جب فون آزاد ہو گیا
انسان فون سے بندھ گیا
انگلیاں ہی نبھا رہی ہیں رشتے آج کل
زبان سے نبھانے کا وقت کہاں ہے؟

سب ٹچ میں بزی ہیں
پر ٹچ میں کوئی نہیں ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hania iqbal

Read More Articles by Hania iqbal: 5 Articles with 3158 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 May, 2018 Views: 686

Comments

آپ کی رائے