سیاست میں میانہ روی کا فقدان !

(Qadir Khan, Lahore)

 29اپریل پولیٹکل سنڈیتھا۔ گوکہ آج کا دن عالمی یوم رقص کے طور دنیا بھر میں منایاجاتا ہے۔ لیکن سیاسی جلسوں کا عالمی یوم رقص سے کوئی تعلق نہیں تھا تاہم سیاسی کارکنان پارٹی ترانوں پر محو رقص ضرور نظر آئے۔ تحریک انصاف نے مینار پاکستان لاہور میں ملک بھر سے اپنے کارکنان جمعکئے تو پاکستان پیپلز پارٹی نے لیاقت آباد ٹنکی گراؤنڈ کراچی میں کئی برسوں بعد جلسہ کیا ۔ دونوں سیاسی جماعتوں نے اپنے روایتی انداز میں سیاسی میدان سجایا ۔ متحدہ مجلس عمل کا پہلا انتخابی جلسہ مردان ، عوامی نیشنل پارٹی کا دیر بالا جبکہ قومی وطن پارٹی نے صوابی میں عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا جو اس بات کی غمازی کررہا تھا کہ عام انتخابات کے سیاسی دنگل کا ماہ رمضان سے قبل پہلے فیز کا با قاعدہ آغاز ہوگیا ہے ۔ لیکن سب سے اہم بات جو دیکھنے میں آرہی ہے وہ سیاسی جماعتوں میں عدم برداشت کا مظاہرہ ہے۔ دلیل و برہان کے بجائے الزام تراشی ، سخت لب و لہجہ نے سیاست میں میانہ روی کے فقدان کا احساس دو چند کیا ۔ اس کی ایک انتہائی افسوس ناک مثال اُس وقت سامنے آئی جب قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرنے دوران تحریک انصاف کی جانب سے پارلیمنٹ کو مچھلی بازار بنا دیا گیا ۔ گو کہ اپوزیشن جماعتوں نے جمہوری روایات کے مطابق بجٹ تقریر کا بائیکاٹ کرچکے تھے ۔ بائیکاٹ میں ایم کیو ایم اور آزاد اراکین نے حصہ نہیں لیا تھا اسی طرح بائیکاٹ کے دوران تحریک انصاف کی واپسی کے بعد دھکم پیل اور غیر جمہوری رویہ میں پی ٹی آئی کا دیگر اپوزیشن جماعتوں نے ساتھ نہیں دیا ۔اپوزیشن کے اراکین قومی اسمبلی وزیر خزانہ کے ڈائس کے سامنے بجٹ کی کاپیاں پھاڑ کو پھینک رہے تھے اور یہاں تک شیریں مزاری نے بار بار وزیر خزانہ کو تقریر کرنے سے روکنے کے لئے غیر مہذب طریقہ کار اختیار کیا ، جس پر خود وزیر خزانہ بھی دوران تقریر ہنس پڑے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے اراکین نے وزیر خزانہ کو تحفظ دینے کے لئے ان کے گرد دائرہ بنالیا اور یہی وہ موقع بنا جب تحریک انصاف کے مراد سعید کا اخلاقی حدود سے تجاوز ہونے کا نظارہ پوری دنیا میں دیکھا گیا ۔ اشتعال انگیز عمل کا جواز دیا کہ عابد شیر علی نے غیر اخلاقی لب کشائی کی جس پر مراد سعید نے تمام باگیں توڑ کر عابد شیر علی پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی ، تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اپنے رکن اسمبلی کو روکنے کی کوشش کی لیکن کیمرے کی آنکھ دیکھا رہی تھی کہ مراد سعید نے اپنے ہوش و حواس گم کرتے ہوئے کرسیاں پھلانگ کر نواز لیگ کے کیمپ میں پہنچنے کی کوشش کی لیکن ان کو اپنی جماعت کے اراکین نے بڑے جتن کے بعد روکا ۔سیاسی عدم برداشت کے اس مظاہرے میں پاکستان مسلم لیگ ن نے تحریک انصاف کو قصور وار قرار دیا تو مراد سعید کی جانب سے عابد شیر علی کو مورد الزام قرار دیا گیا ۔ تاہم یہ ایک ایسا غیر پارلیمانی رویہ تھا جس پر افسوس کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے کہ ایوانوں میں عوامی نمائندگی کے دعوے داروں کو اپنے اخلاقی رویئے درست کرنے کی ضرورت ہے۔سیاسی رہنماؤں کو یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ اس قسم کے رویوں سے ان کے سپورٹرز اور ووٹرز کو کوئی اچھا پیغام نہیں جائے گا اور عدم برداشت کی ایسی سیاست سے شائستگی کا ختم ہوجانا اچھی اقدار کو افزئش نہیں دے گا ۔ پارلیمنٹ میں پر تشدد رجحات سے مستقبل میں سیاسی رہنماؤں کے رویوں و روایتی حریفوں کے درمیان عدم برداشت کے اثرات نچلی سطح پر بھی منتقل ہورہے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان تو باقاعدہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کہ ’’ کپتان کی وجہ سے سیاست میں شائستگی ختم ہوچکی وہ صرف گالی دینا جانتے ہیں‘‘۔سیاست میں عدم برداشت کا یہ کلچر کارکنان کے لئے زہر قاتل ہے ۔ ہمارا معاشرہ اس وقت اشتعال انگیزی ، عجلت پسندی اور عدم برداشت کے دور سے گذر رہا ہے۔
جماعتوں کے سربراہوں اور رہنماؤں کے لب و لہجے تلخ اور الزامات کی گردان نے پاکستانی عوام کومضطرب بھی کردیا ہے کہ کس کی بات پر یقین کریں اور کس کی بات کو رد کریں ۔ عوام ان دشنام انگیز رویوں سے دلبرداشتہ اور مایوس ہو رہی ہے جو ایک اچھا شگون نہیں ہے۔بد قسمتی سے برقی ذرائع ابلاغ اپنا کردار موثر ادا نہیں کررہا ۔ الیکڑونک میڈیا میں اخلاقیات سے عاری اور جھوٹے سچے الزامات سے لتھڑی تقاریر کو من وعن دکھانے کی روش عوامی خلفشار میں اضافے کا سبب بن رہی ہے ۔ سوشل میڈیا میں حدود و قیود سے بے نیازی نے مخالفین کی ذاتی زندگیوں کو بھی کچھ اس طرح تار تار کرنا شروع کیا ہے کہ شرمندگی محسوس ہوتی ہے کہ ہم کس تہذیب کی نمائندگی کر رہے ہیں۔عالمی میڈیا ،شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے درمیان 65برس بعد امن کے نئے عہد کے تاریخی لمحات کو دیکھا رہا تھا تو ہمارا نجی میڈیا الزامات و گالم گلوچ کی کوریج کررہا تھا ۔ دنیامیں فلسطین ،افغانستان، شام،برما، یمن اور عراق میں تہذیب فنا ہو رہی ہیں اور ہم فروعی سیاست کے گم گشتوں کو لیکر عوام میں عدم برداشت کو فروغ دے رہے ہیں ۔ سیاسی رہنماؤں کے نزدیک سب سے بڑا مسئلہ نواز لیگ کو سیاست و ملک سے بیدخل کرنا ہے اور نواز لیگ کی تمام تر توجہ اپنا دفاع کرنا ہے۔ پہلے سیاسی جماعتوں سے وفاداریاں بدلنے والوں کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا تھا اب اخلاقی پس ماندگی کا یہ حال ہے کہ وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کو بڑی وکٹ قرار دے کر جمہوریت کی ’’فتح و بڑی کامیابی‘‘ سمجھی جاتی ہے۔ عام عوام غربت اور پس ماندگی کا شکار ہو کر تعلیم و صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہوتے ہوئے غربت کی سطح سے نیچے گرتا جارہا ہے ۔ تو دوسری جانب کروڑوں روپے صرف ایک جلسے کو کامیاب بنانے کے لئے خرچ کئے جا تے ہیں ۔ غریب عوام دو وقت کی روٹی کو باعزت طریقے سے حاصل کرنے میں ناکامی پر خودکشی کرنے پر مجبور ہو رہا ہے ، غذائی قلت سے بچے ہلاک ہو رہے ہیں ، نوجوان بے روزگاری سے تنگ آکر اسٹریٹ کریمنل اور چور ڈکیٹ بن رہے ہیں تو دوسری جانب غیر ضروری نمود نمائش پر اربوں روپے پانی کی طرح بہائے جا رہے ہیں۔ قحط الرجال کے دور میں فروعی مفادات عروج پر ہیں اور 98فیصد طبقے کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کسی بھی سیاسی و مذہبی جماعت کے پاس کوئی مربوط لائحہ عمل نہیں ہے۔

آج یکم مئی بھی ہے اور دنیا بھر میں مزدوروں کا عالمی دن بھی منایا جارہا ہے ۔ لیکن کیا ہر سال یہ رسمی دن منانے سے مزدوروں کو ان کے حقوق مل جاتے ہیں۔ غریب ، غریب سے غریب تر اور امیر ، امیر سے امیر ہورہا ہے۔ ہم عوام سب جانتے ہیں کہ ان کی تباہی ، مہنگائی اور زبوں حالی کا ذمے دار کون ہے لیکن اس کے باوجود ناتمام امیدوں کا مسکن ان ہی کو منا لیتے ہیں جو دراصل ان کی اس حالت کے ذمے دار ہیں ۔سیاسی منظر نامے میں ہمیں واضح نظر آرہا ہے کہ جہاں اقتدار یا سیاسی ایوانوں میں کسی عام کارکن کی رسائی نہیں ہے تو وہ کس بات کی امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ان کے حالات بدل جائیں گے ۔ کرپشن کا ناسور ہو یا چور دروازے سے جیبوں کو بھرنے کا عمل ، ہم بھی ان حالات کے زیادہ ذمے دار ہیں ۔سیاسی دنگل میں کالے دھن کو پانی کی طرح بہاکر عوام سے ان کی محنت کا خون نچوڑا جاتا ہے ۔ اشرافیہ کی اس سیاسی جنگ کا ایندھن مڈل کلاس طبقہ ہی بنتا ہے ۔ کوئی نسل پرستی کے نام پر ان کے جذبات کو دوبارہ استعمال کرتا ہے تو کوئی لسانیت کے نام پر ، کوئی ایک قدم آگے بڑھ کر مسلک کا واسطہ دے کر اقتدار کے مسند پر براجمان ہونا چاہتے ہیں۔

سیاسی جماعتوں کا مائنڈ سیٹ تبدیل نہیں ہورہا تو عوام کی برین واشنگ کے لئے ہر حربے کو آزمایا جا رہا ہے ۔ کیا ہم عوام نے کبھی یہ سوچا کہ بڑے بڑے نام والوں نے اپنے جلسے جلوس اور ریلیوں کے لئے تو اربوں روپے خرچ کئے لیکن انہیں کیا دیا ۔ کیا ان کے بچوں کو یکساں تعلیمی نظام ، صحت کی بنیادی سہولتیں ، سستے و فوری انصاف کی فراہمی اور باعزت روزگار کے مواقع فراہم کئے ۔ کیا انہوں نے اپنے صرف ایک مہینے کے اربوں روپے خرچ کئے جانے والے جلسوں کی رقم اپنے انتخابی حلقوں میں فلاح و بہبود کے نام پر خرچ کی جہاں سے یہ ووٹ لیکر ایوانوں میں وزیر و پارلیمان کے رکن بن جاتے ہیں ۔ اقربا پروری ، سفارش اور میرٹ کی پامالی ہماری سماجی و سیاسی روایات میں شامل ہوچکی ہیں ۔ ہمیں اُس نظام سے مدد لینی چاہیے جو ہمیں رب کائنات نے دیا ہے جس میں کوئی انسان تحریف نہیں کرسکتا جس میں کوئی اپنے فروعی مفادات کے لئے تبدیلی نہیں کرسکتا ۔ جو تاقیامت محفوظ اور سچائی کا نظام ہے ۔ ہمیں فرقوں کو چھوڑ کر اﷲ تعالی دی گئی رسی قرآن کریم کو تھامنا ہوگا کیونکہ یہی تمام مسائل کا حل اور بنی نوع انسان کی بقا کا راز بھی اسی میں مظہر ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qadir Khan

Read More Articles by Qadir Khan: 727 Articles with 296726 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 May, 2018 Views: 509

Comments

آپ کی رائے