مریم صاحبہ! ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے

(Tariq Bin Zia, )

نواز شریف اور مریم نواز آج کل ہر جگہ گلے پھاڑ پھاڑ کر کہہ رہے ہیں کہ ہمارے خلاف ظلم ہو رہا ہے ۔ ان کے خلاف ظلم نہیں ہو رہا ہے بلکہ یہ خود اپنے اوپر ظلم کر تے ہیں۔ نواز شریف تیسری مرتبہ وزارت عظمی سے نکالے گئے ہیں مگر انہوں نے اپنے ماضی سے کچھ سبق نہیں سیکھا۔ اپنی غلطیوں ،کرتوتوں اور حرکتوں کی وجہ سے پہلی دفعہ فارغ ہوئے۔ وہی کچھ دوسری دفعہ کیا اور تیسری مرتبہ بھی وہی سب کچھ دہرایا۔وہی عدلیہ سے لڑائی ،وہی فوج سے پھڈا، وہی اقربا پروری، وہی اداروں کا بیڑہ غرق کرنا، وہی ملک دشمنوں سے محبت کی پینگیں۔ بلکہ کسی بھی ملک دشمن کا نام لینے کی جرات تک نہ کرنا۔ وہی اداروں کو بدنام کرنااور اپنی فوج پر دن رات تنقید کرکے ثابت کرنا کہ آپ بہت بڑے تیس مار خان ہیں۔ کچھ بھی کر سکتے ہیں اور کسی کے ساتھ بھی کر سکتے ہیں۔ مگر جب کوئی جواب میں آپ کے ساتھ کچھ کرے تو پھر آپ رونا شروع کر دیتے ہیں۔برداشت کرنا بھی سیکھیں ۔ فوج اور عدلیہ جب انکو اوقات یاد دلاتے ہیں تو پھر چیخنا شروع ہو جاتے ہیں انہی کی پالیسیوں کی وجہ سے انڈیا نے کلبھوشن یادیو سمیت کئی اپنے ایجنٹ پاکستان میں دہشت گرد کاروائیوں کے لئے داخل کئے۔ مگر جب وہ پکڑا گیا تو ان میں اُس دہشت گرد کا نام لینے کی بھی ہمت نہ ہوئی اور انہی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے وہ چاہ بہار بندر گاہ جس کے زریعے کلبھوشن پاکستان آیا۔ وہ ایران نے انڈیا کے حوالے کردی۔ شرم آنی چاہئے ایسی حکومت کوجن کے کارناموں کی بدولت ملک کے تمام اداروں کا بیڑہ غرق ہو چکا ہے۔جرمنی کے مصنف نے ایک بک میں لکھا ہے کہ ۔ Mumbai Attackکے بعد اگر پاکستانی سیاستدان اپنے اداروں پر حملے نہ کرتے تو صورت حال بالکل مختلف ہوتی کیونکہMumbai Attack میں اسرائیل وغیرہ ملوث تھے۔ اور منافقت کی انتہاء ہے کہ یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ادارے اپنا اپنا کام کریں۔ خدا کا خوف کریں اگر آپ اداروں کو اپنا کام کرنے دینگے تو وہ کریں گے۔ پہلے اہل وزیر اعظم اور اب نااہل وزیر اعظم بن کر میاں نواز شریف نے ہر ادارے میں اپنے حواری، پجاری اور لکھاری فٹ کئے۔ جن میں اہلیت اور قابلیت نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ کہیں ذاتی ٹھیکیدار کو CDAکا چئیرمین ، صدیق الفاروق اور عطاء الحق قاسمی جیسے درباریوں کو محکمہ اوقاف اور پاکستان ٹیلی ویژن تھما دیا گیا ۔ جب سپریم کورٹ نے انکو نااہلیت کی بناء پر نکالا تو سب نے رونا چلانا شروع کر دیا ۔شرم آنی چاہے اس غریب ملک کے یہ لوگ اربوں روپے ہڑپ گئے۔ اُن تمام لوگون کو وزارتوں سے نوازا گیا۔ جو ان کے آگے پیچھے چھلانگیں مارتے رہے۔ حالانکہ ان کو وزارت کی الف ب بھی نہیں آتی۔ تمام محکموں اور اداروں کا یہی حال ہے۔ فوج اگر ان لوگوں کو اپنی اوقات میں نہ رکھے تو یہ فوج کا حال بھی کچھ ایسا ہی کردیں۔ دوسر ادارہ عدلیہ اس وقت ان کے شر سے بچا ہوا ہے۔ میاں نواز شریف تو دور کی بات انکی بیٹی مریم نواز جن کے پاس کوئی عہدہ وغیرہ بھی نہیں۔ مگر غیر قانونی اور غیر اخلاقی طور پر اس نے پوری گورنمنٹ کو آگے لگایا ہوا ہے۔ کیونکہ شریف فیملی کے بچوں کا خیال ہے کہ وہ منہ میں سونے کا چمچ نہیں بلکہ گردن میں اتفاق فونڈری کا سریا لیکر پیدا ہوئے ہیں۔اور مریم نواز یہی سمجھتی ہیں کہ یہ انکا پیدائشی حق ہے۔ کہ وہ کچھ بھی کر سکتی ہیں اور کسی کے ساتھ بھی کر سکتی ہیں میڈیا سیل بنا کر ہر کسی کو بلیک میل کر سکتی ہیں۔ جس کو دل کرے بدنام کر سکتی ہیں۔ جو منہ میں آئے بول سکتی ہیں۔ ملک کا پیسہ اور دوسرے Resoursesباپ کا مال سمجھ کر جس طرح چاہے استعمال کر سکتی ہیں۔ وزراء کو انگلیوں پر نچا سکتی ہیں، کوئی پوچھنے والانہیں مگر جب عدلیہ نے انکے کارناموں پر ان کو پکڑا۔ تو مریم نواز کی بھی چیخیں نکل گئیں۔ مجھے کسی نے کہا کہ مریم باپ سے زیاد ہ عقلمند ہے۔ تو میں نے جواب دیاکہ اگر عقلمند ہوتی تو کیپٹن صفدر سے شادی کرتی۔ وہ صفدر جس میں نہ کوئی عقل ہے نہ سمجھ۔ نہ کوئی اسکا IQ Level اورنا کوئیMental Caliberاور نہ اس کو پتہ ہوتا ہے کہ وہ کیا بول رہا ہے۔ فوج سے اس کی Selectionپر شائد غلطی ہوگئی تھی۔ مگر جلد ہی فوج کو اپنی اُس غلطی کا احساس ہو گیا۔ تو فوج نے صفدر کو فوج سے نکال کر اپنی غلطی کا ازالہ کر لیا۔ اگر مریم نواز میں عقل ہوتی تو دوسروں کے کیریکٹر پر حملے کرتی اگر عقل ہوتی تو عدالتوں پر حملے کرتی اگر عقل ہوتی تواپنی اوقات سے باہر نہ نکلتی۔ میں یہ بات دعوے سے کہ سکتا ہوں کہ اگر مریم کسی موقعہ پر پارٹی صدر بن گئی تو پارٹی کا بیڑہ غرق ہو جائیگا۔ اگر خدانخواستہ اس کو گورنمنٹ مل گئی تو گورنمنٹ کا بیڑہ غرق ہو جائیگا۔

یہ لوگ عدالتوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم عدالتوں کو نہیں مانتے یاد رکھیں جو عدالتوں کو نہیں مانتا وہ تو ملک کے آئین کو نہیں مانتا۔ کہتے ہیں ہم عوام کے پاس جائیں گے خدا کا خوف کریں کہ آپ خود ہی اپنے ملک کی سب سے بڑی عدالت کو نہیں مانتے اور ان عوام سے انصاف مانگ رہے ہیں جن کو پچھلے تیس پینتیس سال سے کیڑے مکوڑے سمجھ کرروندتے رہے ہیں۔ کس منہ سے عوام کے پاس جارہے ہیں۔ ناہل ہو کر سب کو عوام یاد آجاتے ہیں۔ ابھی تو عدلیہ نے کام شروع کیا ہے اور چیخیں نکل گئیں آگے کیا ہوگا۔ ابھی تو بہت کچھ باقی ہے۔ دن بدن ریفرنسز اور آتے جائیں گے۔ آپ کی کرپشن کھلتی جائے گی آہستہ آہستہ آپکی زبان آپ کے دماغ کا ساتھ چھوڑتی جائیگی آپ کو سمجھ نہیں آئیگا کہ آپ نے کہنا کیا ہے۔ آپ کے حواری آپکا ساتھ چھوڑتے جائیں گے، پارٹی کا بیڑہ غرق ہوتا جائیگا۔ جب دوچار کو سزا ملی تو آپ کے تمام درباری تیر کی طرح سیدھے ہو جائیں گے۔ چیزیں آپ کے ہاتھ سے نکلتی جائیں گی۔ ساری تدبیریں الٹی ہوتی جائیں گی۔ وہ فرعونیت جو آپ کے دماغ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے وہ آپکو ذلیل و خوار کرکے رکھ دے گی۔ آپ کے اپنے منسٹرز، ایم این ایز اور ایم پی ایزکہتے ہیں کہ آپ انکو ملنے کیلئے ٹائم نہیں دیتے غریب عوام تو دور کی بات ہے۔ آپکی ساری کرتوتیں سامنے آتی جائینگی۔ جسطرح پیپلز پارٹی نے ملک کا ستیا ناس کر دیا اور پھر بھی کہتے ہیں کہ ہر گھر سے بھٹو نکلے گا۔ اسی طرح آپ فکر نہ کریں ہر ادارے سے۔ ہر جگہ سے نااہل نکلے گا اور آپ کے ساتھ وہ ہوگا جو ابن بطوطہ کی بکری کے ساتھ ہوا تھا۔ مریم صاحبہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے بس آگے آگے دیکھئے ہوتا کیا ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tariq Bin Zia

Read More Articles by Tariq Bin Zia: 2 Articles with 790 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 May, 2018 Views: 352

Comments

آپ کی رائے