ایک درویش کی الوداعی تقریب کی روداد

(Ghulam Ghaus, )

ریٹائرڈ ہونے والے چیف سیکرٹری پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ نوید اکرم چیمہ نے اپنے اعزاز میں منعقد ہونے والی الوداعی تقریب سے خطاب کے دوران ایک خوبصورت جملے میں ریٹائرمنٹ پر بڑا دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے آج یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے آج سے 42 سال قبل میں نے لوہے کا صندوق کندھوں پر اُٹھایا ہوا تھا اور کاکول ملٹری اکیڈیمی میں گیٹ سے گزر کر اندر داخل ہوا تھا اور آج ریٹائرمنٹ کے روز وہی صندوق اُٹھائے گیٹ سے باہر نکل کر گھر جا رہا ہوں اور یہ چار عشروں سے زائد وقت ایسے گزرا ہوا دکھائی دے رہا ہے جیسے ایک آن میں گزر گیا ہو۔ یہ الفاظ مجھے دوبارہ اس لیے یاد آئے کہ پنجاب سول سیکرٹریٹ ایمپلائز ایسوسی ایشن جو کہ گریڈ ایک سے گریڈ سترہ تک کے 7000 ہزار سے زائد سیکرٹریٹ ملازمین کی منتخب نمائندہ تنظیم ہے اُن کے صدر رانا محمد نثار احمد 30 سال بے داغ سروس کرنے کے بعد باوقار طریقے سے ریٹائرڈ ہوئے تو اُن کے رفقائے کار اور آفیسرانِ بالا نے اُن کے اعزاز میں الوداعی تقریب کا اہتمام کیا۔ رانا نثار احمد جولائی 2013 میں فرینڈز گروپ کے پینل سے بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے تھے جبکہ اُن کے حصے میں یہ اعزاز بھی آیا کہ وہ اپنی شاندار مثالی کارکردگی کی بنا پر دوبارہ دو سال کے لیے بلامقابلہ منتخب ہوئے اور اپنی ریٹائرمنٹ تک ایسوسی ایشن کے منتخب صدر رہے۔ فرینڈز گروپ کا انتخابی نشان گلاب کا پھول تھا رانا صاحب پانچ سال تک سیکرٹریٹ ملازمین میں پھولوں کی خوشبو بانٹتے رہے اُن کا اندازِ گفتگو اور عمومی لہجہ شہد کی طرح میٹھا ہونے کے ساتھ ساتھ نرم و نازک پھول کی طرح خوشبو بکھیرتا نظر آتا اُنہوں نے الوداعی تقریب میں تقریر کرتے ہوئے اپنی یادیں تازہ کیں اُنہوں نے کہا کہ وقت اتنی تیزی سے گزرتا ہے کہ انسان کے وہم و گمان کی وسعتوں سے بالا تر ہوتا ہے میں نے ہمیشہ خلوصِ نیت کے ہتھیار سے لیس ہو کر وقت کو زیادہ سے زیادہ قیمتی بنانے کے لیے اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی بھرپور سعی کی اس سارے عمل کے دوران مجھے اﷲ کی مدد و نصرت نے نوازا اور آقا کی نعلینِ پاک کا سایہ میرے وجود پر سائبان کی طرح موجود رہا۔ میرے پینل کو اﷲ نے بے شمار کامیابیوں سے ہمکنار کیا مگر ملازمین کے لیے جو کامیابیاں سب سے زیادہ سود مند ثابت ہوئیں اُن میں کلیریکل کیڈر کی تاریخی اپ گریڈیشن درجہ چہارم ملازمین کی اپ گریڈیشن سمیت ٹائم سکیل پرموشن جس کی منظوری میں نے سال 2014 میں حج کے دوران غلافِ کعبہ کو پکڑ کر گریہ زاری کر کے اور روضہء رسول پر آنسو بہا بہا کر لمبی لمبی دُعائیں کر کے حاصل کی اور حجازِ مقدس کی سرزمین سے پُراُمید ہو کر واپس پہنچا تو اپنے رفقائے کار اور ملازم بھائیوں سے عاجزانہ کہا کہ میں اپ گریڈیشن کی منظوری لے آیا ہوں اور اﷲ نے اپنے خاص فضل و کرم سے ہمیں اپ گریڈیشن سے نوازا۔ ملازمین کی پرموشن کو تیز ترین کروایا سپرنٹنڈنٹس کی 80 سے زائد نئی سیٹیں منظورکروائیں 100 کے قریب اسسٹنٹ کی نئی آسامیاں پیدا کروائی گئیں۔ یوٹیلٹی الاؤنس کا اجراء بھی ایک عظیم نعمت سے کم نہیں پچاس فیصد سیکرٹریٹ الاؤنس کی منظوری نے بھی سیکرٹریٹ ملازمین کی مالی مشکلات کو کم کیا۔

میں نے اور میری ٹیم نے عشروں سے بنے ہوئے دو کالے قانون بھی چیلنج کیے جن میں بناویلنٹ فنڈ کا قانون جس میں سرکاری ملازم دونوں میاں بیوی فنڈز کی کٹوتی تو کرواتے تھے مگر بچوں کا تعلیمی وظیفہ ایک کو ملتا ہم نے مؤقف اختیار کیا کہ یا تو کٹوتی ایک کی ہو یا پھر وظیفہ دونوں کو ملنا چاہیئے یہ قانون انصاف کے منافی ہے کہ کٹوتی دونوں میاں بیوی کروائیں اور تعلیمی وظیفہ ایک کو دیا جائے اور دوسرا دستبردار ہو جائے ہماری اس دلیل کو حکومتِ پنجاب نے تسلیم کیا اور سال 2016 ء سے دونوں میاں بیوی سرکاری ملازمین کو بچوں کے لیے تعلیمی وظیفہ کا اجراء کر دیا گیا۔ دوسرا کالا قانون یہ تھا کہ گروپ انشورنس کی مد میں ہر ملازم پوری سروس میں کٹوتی کرواتا ہے مگر اُس کو ریٹائرمنٹ کے بعد پانچ سال کے اندر اندر فوت ہو جانے کی صورت میں انشورنس کی رقم ملتی، ایک دن زائد ہونے کی وجہ سے اُسے اس حق سے محروم کر دیا جاتا ہم نے اس قانون کو بھی چلینج کیا اور مطالبہ کیا کہ ریٹائرمنٹ پر ہر ملازم کو یکمشت انشورنس کی رقم کی ادائیگی کی جائے حکومتِ پنجاب نے ہمارے اس جائز مطالبے کو بھی منظور کیا اور اس پر 80 فیصد سے زائد ہوم ورک کر لیا گیا ہے اور پنجاب اسمبلی سے منظوری کے بعد انشورنس ایکٹ میں تبدیلی کردی جائے گی۔

جہاں تک راقم کی رانا صاحب سے شناسائی ہے تو میں اُنہیں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ، حلیم طبع ، درویش منش، جہاندیدہ ثناء خوانِ رسولﷺ کی حیثیت سے جانتا ہوں۔رانا صاحب حسِ مزاح سے لبریز ادبی گفتگو سے مخاطب کو ہنسا ہنسا کر گھائل کر دینے کے فن سے بھی آشنا تھے جبکہ ان کی شخصیت کا دوسرا پہلو دیکھیں تو دانشمندی اور فہم و فراست سے انتہا ئی سنجیدہ اور بامقصد گفتگو اُن کا محور و مرکز رہتی۔ ایکزیکٹو سے گفتگو کے دوران ہمیشہ اس اصول کو مدِ نظر رکھتے کہ زبان نرم اور دلیل گرم ہو اور اکثر بامراد لوٹتے۔

اﷲ تعالیٰ نے رانا صاحب کو جرآتِ رندانہ سے بھی نواز رکھا تھا بعض موقعوں پر اس کا اظہار ریکھنے میں آیا ایک مرتبہ پنجاب کے ایک وزیرکے ساتھ کلیریکل کیڈر کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس میں مذاکرات جاری تھے تو اس دوران اُن کے لہجے میں تلخی عود آئی اور اُنہوں نے دھمکی آمیز لہجے میں مخاطب کرتے ہوئے کہا! بزرگو میں نے PMS والوں سے بھی دو ہاتھ کر لیے تھے تو رانا نثار نے برجستہ کہا جناب (پی ایم ایس) والے ایئرکنڈیشن کمروں میں بیٹھتے ہیں ہم لوگ پنکھوں میں بیٹھنے والے ہیں ہمیں جیلوں کی کوئی پرواہ نہیں جبکہ دوسرے موقع پر جب 52 نائب قاصد جو کہ زائد بھرتی ہو گئے تھے اور اُنہوں نے 4 سال کے قریب سرکاری ملازمت بھی کر لی تھی حکومتِ پنجاب اُن کو ریگولر کرنے کی بجائے نوکری سے نکالنے پر بضد تھی حتیٰ کہ اُن کی تنخواہیں تک بند کر دی تھیں اُس وقت رانا صاحب نے انتہائی جرآت وبہادری سے اُن کا کیس لڑا ، اُن کو نوکری سے نکالے جانے کے خلاف ڈھال بن کر اُن کا دفاع کیا اور ڈٹ کر یہ دو ٹوک مؤقف اختیار کیا کہ میرے جیتے جی ان کو سیکرٹریٹ سے کسی صورت نہیں نکالا جا سکتا مجھے 52 خاندانوں کا معاشی قتل نامنظور ہے جس پر حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور اﷲ تعالیٰ نے رانا صاحب کے مؤفف کو حکامِ بالا سے من و عن منوا لیا فتح و نصرت ان کا مقدر ٹھہری اور 52 خاندان آج آبرومندانہ طریقے سے اپنی زندگی کے اگلے سفر پر گامزن ہیں۔ رانا صاحب نے 5 سالہ دور میں درجہ چہارم کے ادنیٰ ملازمین کے مسائل حل کرنے میں خصوصی دلچسپی لی ۔ان کی پری میچور انکریمنٹ سمیت چار درجاتی ٹائم سکیل پرموشن کا فارمولا متعارف کروانے میں ان کا بے مثال کردار بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

ایک دلدوز واقعہ کا ذکر نہ کر سکوں تو تشنگی رہے گی درجہ چہارم کا ایک ادنیٰ سرکاری ملازم جس پر چوری کا الزام تھا اور اُسے نوکری سے برخاست کرنے کا مرحلہ آن پہنچا تھا اُس کے بیوی بچے رانا صاحب کے پاس پہنچے اُنہیں اپنی داستانِ غم سنائی تو اُن کا دل اتنا نرم ہوا کہ فوراً ایڈیشنل سیکرٹری ویلفیئر کے پاس پہنچے اور سلام دُعا کے بعد کہا کہ سر میں آج آپ سے بغیر دلیل کے بات کرنا چاہتا ہوں اور کہا کہ اس کیس میں اگر سرکاری ملازم کا گناہ بھی ہے تو اس کے پیچھے جو اس کا خاندان ،بیوی بچے ہیں اُن کا یہ واحد کفیل ہے اس میں اُن کا تو کوئی گناہ نہیں جبکہ مالِ مسروقہ بھی واپس لے لیا گیا ہے۔ آپ کے پاؤں پکڑنے کو تیار ہوں اور میری سفید داڑھی کا حیاء کریں اس کو معاف کر دیں اور رانا صاحب نے اُسے معافی دلوا دی اپنی ساری سروس میں ادنیٰ درجے کے ملازمین کے مسائل حل کرنے میں کوشاں رہے ان کی سروس بُک کی تکمیل، تنخواہوں کا اجراء ، جزا و سزا، اکاؤنٹ کے معاملات سمیت ترقی کے معاملات ہمیشہ ان کے پیشِ نظر رہے۔

رانا صاحب کا جواں سال بیٹا حافظ محمد عمران نثار جو کہ جی سی یونیورسٹی لاہور میں MSc میتھ کا سٹوڈنٹ تھا اور ایک ہونہار طالب علم تھا ایک انتہائی موذی مرض کا شکار ہوا اس دوران ان کو کافی تکالیف آئیں مگر ان کا یقین اتنا پُختہ تھا کہ میں اﷲ کے بندوں کی خدمت کرتا ہوں اﷲ مجھے اپنے ان بندوں کے طفیل اس مشکل سے نکال دیں گے اور ایسا ہی ہوا اﷲ نے ان کے بیٹے کو شفا یابی دی اُس نے دوبارہ پڑھائی کا سلسلہ شروع کیا اور ٹاپ کیا کہتے اس واقعے نے میرے یقین اور ایمان کو مزید پُختہ کر دیا۔

رانا صاحب کے ساتھ جب سالانہ بجٹ کے موقع پر اسلام آباد اجلاس میں شرکت کے لیے جانے کا موقع ملتا تو وہاں جا کر یہ احساس ہوتا کہ رانا صاحب کو نہ صرف پنجاب میں عزت افزائی ملتی ہے بلکہ دیگر صوبوں اور پاک سیکرٹریٹ اسلام آباد کی تنظیمات کے تمام عہدیداران بھی ہمیشہ ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور سب ان کی دور اندیشی اور معاملہ فہمی کے قائل ہیں۔ اسلام آباد اجلاس میں خطاب کے دوران انہیں کامیابیوں کا راز بتاتے ہوئے نصیحت فرماتے کہ ہمارے ذمے ظاہری اسباب کو بروئے کار لا کر ذہنی لیاقت کے استعمال سے کیس تیار کر کے اپنی ڈیمانڈز اور مطالبات حکمرانوں اور صاحبِ اختیار لوگوں تک پہنچانا ہے جبکہ دلوں اور دماغوں پر کنٹرول اور حکمرانی اﷲ وحدہ لا شریک کی ہے۔ رات کے پچھلے پہر مصلیٰ بچھا کر اپنی جبینِ نیاز جھکا کر مدد و نصرت اﷲ سے طلب کرو اُسے بے بسی کے ساتھ آبدیدہ آنکھیں بڑی پسند ہیں اور وہ واحد بادشاہ ہے جو مانگنے والوں کو پسند کرتا ہے اور مانگنے پر خوش بھی ہوتا ہے۔ انسانی بے بسی اور شرمندگی اور مانگنے کا یہ اسلوب اُس کی قربت کا باعث بنتا ہے رانا صاحب کی ایمانی اور وجدانی گفتگو سامعین پر روحانی سحر طاری کر دیتی۔

رانا صاحب فرینڈز گروپ کے بارے میں کہتے کہ پتی پتی جوڑ کر میں نے پھول بنایا ہے اس پھول کو بکھرنے نہیں دوں گا میں ان کا تنا ہوں عہدیداران کی ہر کڑوی کسیلی اور تلخ گفتگو کو ہمیشہ خندہ پیشانی سے سنتے اور صمیمِ قلب سے برداشت کرتے ہوئے مخاطب ہو کر کہتے کہ انسان کی داڑھی میں اگر ایک سفید بال اُتر آئے تو اﷲ بھی اُس کا حیا کرتا ہے میری تو ساری داڑھی سفید ہے میں آپ کا بڑا ہوں بڑوں کے دل بھی بڑے ہوتے ہیں اور چھوٹوں کی فطرت ہمیشہ شفقتِ پدری کا تقاضہ رکھتی ہے اور آپ سب تو میرے بازو ہیں۔ اُن کے اس طرزِ تکلم پر مخاطب کا دل نرم پڑ جاتا ہر معاملہ افہام و تفہیم سے منظقی انجام تک پہنچ جاتا۔

رانا محمد نثار احمد کی اپنی طبع کے عین مطابق دلی خواہش تھی کہ مجھے ریٹائرمنٹ کی اعزازی شیلڈ کسی درویش طبع، دیانتدار، باوقار اور اعلیٰ خاندانی روایات کے حامل سول آفیسر کے ہاتھوں ملے جن کی ایمانداری اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا معترف پورا سیکرٹریٹ ہو اُن کی خواہش کے عین مطابق ایسوسی ایشن نے ایسے ہی مردِ قلندر سول آفیسر سیکرٹری ریگولیشن پنجاب ڈاکٹر محمد صالح طاہر کا انتخاب کیا جو اپنے نام کے حرفوں کی مانند ہیں اور جن کے دفتر کے دروازے نہ صرف ملازمین کے لیے کھُلے ہیں بلکہ اُن کا دل بھی کشادہ اور ظرف بھی اعلیٰ ہے اُنہوں نے الوداعی تقریب میں آ کر نہ صرف اپنے ہاتھوں سے اعزازی شیلڈ رانا صاحب کو دی بلکہ بڑے شاندار اور جاندار الفاظ میں اُن کی خدمات اور جذبے کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا تمام ملازمین، آفیسران، ایسوسی ایشن عہدیداران نے ڈھیروں دُعاؤں اور نیک تمناؤں کے ساتھ رانا محمد نثار احمد کو گُل پاشی کرتے ہوئے پُرنم انکھوں کے ساتھ الوداع کیا۔
نگاہ بُلند ، سُخن دلنواز ، جاں پُرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Ghaus

Read More Articles by Ghulam Ghaus: 4 Articles with 1379 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 May, 2018 Views: 399

Comments

آپ کی رائے