سعودی عرب میں لا دینیت کا فروغ اور غار حرا کی زیارت پر پابندی

(ڈاکٹر سید وسیم اختر, bahawalpur)
دوستوں کے تذکر اور کاشوں کے بعد سعودی متعلقہ وزارت نے اس پابندی کے حوالے سے موقف دیا کہ در حقیقت بدعتوں کو روکنے کے لئے غار حرا کی زیارت پر پابندی لگائی گئی ہے۔
بدعتوں کو روکنے کا موقف اتنا کمزور ہے کہ اس حوالے سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔حقیقت حال یہ ہے کہ بدعت کا صرف بہانہ کیا جا رہا ہے اور اصل ہدف اسلامی آثار کو مٹا کر اسلام کو کمزور کرنا ہے۔
ایک طرف سعودی معاشرے میں لادینیت کو فروغ دینے کے لئے سرکاری مشینری کو استعمال کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف غار حرا کی زیارت کو بدعت کہا جا رہا ہے۔
وہ غار جس میں رسول ص رحمت پر وحی نازل ہوتی رہی اور جس میں اللہ کے آخری رسول ص نے عبادت فرمائی اس کی زیارت بدعت کیسے ہو سکتی ہے؟

غار حرا کی زیارت پر پابندی کا آفیشل آرڈیننس

بدعت اسلامی فقہ کی ایک اصطلاح ہے جس کا لغوی معنی نیا کام ، نئی ایجاد ، نئی بات ہے۔

جبکہ اصطلاح میں بدعت ہر اس کام کو کہا جاتا ہےجو سرکار اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حیاتِ مبارکہ میں نہ ہوبلکہ بعد میں ایجاد ہوا ہو ۔

جب بھی کبھی سادہ لوح لوگوں یا نام نہاد علما نے کوئی نئی بدعت ایجاد کی تو علمائے حق نے ان کے خلاف آواز اٹھائی اور حق گوئی کا فریضہ انجام دیا میں ایسے علما کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے بدعتوں کا راستہ روکنے کے لئے اپنی جانوں تک کا نذرانہ پیش کیا ۔

لیکن اس کے بر عکس مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ بدعت کی اصطلاح کو اپنے ذاتی مفادات کے لئے استعمال کیا گیا ہر وہ بات جو کسی نام نہاد عالم دین کو نہ پسند نہ آئی اس کو بدعت قرار دے دیا گیا ۔۔

اسی طرح آج کل سعودی بادشاہ جس طرح اپنے ریاستی مفادات کےلئے بدعت کا غلط استعمال کر رہے ہیں وہ ناصرف قابل افسوس ہے بلکہ اس پر پاکستان سمیت پوری دنیا میں مسلمانوں کو احتجاج کرنا چاہیئے ۔

صورت احوال یہ ہے کہ گزشتہ دنوں اخبارات اور سوشل میڈیا پر ایک خبر گردش کرتی رہی کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ایک خصوصی فرمان کے ذریعے غار حرا کی زیارت پر پابندی عائد کر دی ہے اس فرمان کے مطابق مقامی ٹرانسپورٹ کمپنیاں کسی بھی صورت دوسرے ممالک سے آنے والے لوگوں کو غار حرا لے کر جائیں گی تو ان کو جرمانے کی مد میں ایک خطیر رقم ادا کرناپڑے گی اسی طرح غار حرا کی طر ف جانے والے زائرین کو بھی بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑے گا ۔

میں نے ابتدائی طور پر اس خبر کو زیادہ اہمیت نہیں دی کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ آج کل جعلی خبروں کا بازار گرما رہتا ہے لیکن جب اس خبر کی بازگشت ملکی اور غیر ملکی میڈیا میں سنی تو سعودی عرب میں مقیم بعض مہربانوں سے رابطہ کر کے اس خبر کی تصدیق چاہی تو انہوں نے محمد بن سلمان کے اسلام مخالف دوسرے بہت سے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آ ج کل سعودی عرب کے حالات جس سمت جا رہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے اسلام کو شدید خطرات لاحق ہیں انہوں نے اس خبر کو معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں جاری اصلاحات کے تناظر میں غار حرا کی زیارت پر پابندی معمولی بات ہے سعودی عرب میں حالات اس سے کہیں مختلف ہیں انہوں نے ، بہت سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے جماعت اسلامی کا ذمہ دار ہونے کے ناطے مجھ سے مطالبہ کیا کہ محمد بن سلمان کو کسی بھی صورت اسلام مخالف اقدامات سے روکا جائے اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اسلام کو نا قابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

جماعت اسلامی ،اسلام کے فروغ کی علمبردار ہے محمد بن سلمان کے ایسے اقدامات کا اعلی سطح پر جائزہ لیا جا رہا ہے اور اگر ضرورت پیش آئی تو جماعت اسلامی پاکستان میں محمد بن سلمان کی اصلاحا ت کے خلاف احتجاج کرے گی۔

اس سنگین صورت حال کے بعد میں نے سعودی عرب اور پاکستان میں موجود مخلصین کے ذمہ لگایا کہ غار حرا کی زیارت کی پابندی کے حوالے سے سعودی متعلقہ وزارت سے تفصیلی جواب کی درخواست کی جائے تا کہ اصل معاملے تک پہنچا جا سکے ۔

دوستوں کے تذکر اور کاشوں کے بعد سعودی متعلقہ وزارت نے اس پابندی کے حوالے سے موقف دیا کہ در حقیقت بدعتوں کو روکنے کے لئے غار حرا کی زیارت پر پابندی لگائی گئی ہے۔

بدعتوں کو روکنے کا موقف اتنا کمزور ہے کہ اس حوالے سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔حقیقت حال یہ ہے کہ بدعت کا صرف بہانہ کیا جا رہا ہے اور اصل ہدف اسلامی آثار کو مٹا کر اسلام کو کمزور کرنا ہے۔
ایک طرف سعودی معاشرے میں لادینیت کو فروغ دینے کے لئے سرکاری مشینری کو استعمال کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف غار حرا کی زیارت کو بدعت کہا جا رہا ہے۔

وہ غار جس میں رسول ص رحمت پر وحی نازل ہوتی رہی اور جس میں اللہ کے آخری رسول ص نے عبادت فرمائی اس کی زیارت بدعت کیسے ہو سکتی ہے؟

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ڈاکٹر سید وسیم اختر

Read More Articles by ڈاکٹر سید وسیم اختر: 26 Articles with 11581 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 May, 2018 Views: 258

Comments

آپ کی رائے