دوسرا جنم

(Dr. Shakira Nandini, Oporto)

جس وقت اُس کی روح اس کی جان سے نکل گئی تو اس کا جسم خشک ہو گیا اُس کے ہاتھ، پاؤں ،آنکھیں،بدن غر ضیکہ جسم کا ہر حصّہ کام کرنا چھوڑدیا۔ اور وہ زمین پر گر پڑا ۔ کچھ لوگ اُس کی طرف بڑے اور اُس کا ہاتھ تھام کر اُس کی نبض کو چیک کرنے لگے ۔ مگر اُس کا نبض بھی کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ لوگ اُس کو مردہ قرار دے کر اُس کی باڈی کو اُ س کے گھر پہنچادیا ۔ گھر والوں کو جب خبر ملی تو وہ بہت پریشان ہو گئے۔ عورتیں رونے پیٹنے لگ گئیں۔ مرد حضرات اُس کو دفنانے کے لئے اقدام کرنے لگے ۔ شہر سے 10 میٹر کا سفید کپڑا خرید لیا ۔ مولوی صاحب کو بلایا گیا ۔ مولوی صاحب اور کچھ دوسرے لوگوں نے اُس کے کپڑے اُتار کراُس کوایک تختہ پر لٹا دیا۔ طریقہ کار کے مطابق اُسے غسل دیا گیا۔ سفید کپڑے کو اُس پر لپیٹ دیا گیا ۔بعد میں ایک چار پائی پر اُسے لٹا دیا گیا۔ کچھ لوگ قبرستان گئے اور اُس کے لئے قبر کھودنے لگے۔

اب وہ چار پائی پر پڑا ہوا تھا ۔ اُس کے عزیز و اقارب اُس کی آخری دیدار کر رہے تھے اس دوران مولوی صاحب مسجد سے اُس کا نام لے کر اعلان کیا ۔ اور کہا کہ نماز جنازہ میں شرکت کر کے ثواب کماؤ۔ لوگ ثواب کمانے کی خاطراُس کے گھر آنا شروع ہوئے تھوڑی دیر بعد مولوی صاحب نے کہا اگر عزیزواقارب نے دیدار ختم کر لیا ہے تو اُسے قبرستان لے چلیں تا کہ اُسے جلد از جلد دفن کر دیا جائے ۔ چار آدمی چارپائی کو اُوپر اُٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھ کر قبرستا ن کی طرف روانہ ہو گئے اور دوسرے لوگ اُن کے پیچھے پیچھے جانے لگے۔ لوگ بہت تیزی سے قبرستان کی طرف قدم اُٹھا رہے تھے ۔ راستے میں دوسرے لوگ چارپائی کو کندھا دے کر مدد کر رہے تھے ۔ تھوڑی دیر بعد نماز جنازہ کی جگہ پر چارپائی رکھ دی گئی۔ لوگ پانچ صف (لائن) بنا کرکھڑے ہو گئے مولوی صاحب آگے کھڑے ہو گئے اور میّت کو چارپائی کے ساتھ سب سے آگے رکھ دیا گیا ۔ نماز جنازہ پڑھنے کے بعد پھر سے چار آدمی چار پائی کو اُوپر اُٹھا کر کندھوں پر رکھ کر قبرستان کی طرف روانہ ہوئے لوگ بہت جلدی میں تھے اور ہر ایک یہی چاہ رہا تھا کہ جلدازجلد اُسے قبرستان میں دفن کیا جائے۔ تھوڑی دیر کے بعد لوگ قبرستان پہنچ گئے عین اسی وقت اس کی قبر بھی تیار تھی۔ میّت کو چارپائی سے اتارکر لحد میں رکھ دی اور اُس کا منہ قبلہ کی طرف کر دیا گیا۔ بعد میں لحد کے منہ کو پتھروں سے بند کر کے قبر کو مٹی سے بھرنا شروع ہو گئے۔ قبر کو مٹی سے بھردینے کے بعد اُس پر کچھ پتھر رکھ دئیے اور دو لمبے پتھر ایک سر کی طرف اور دوسرا پاؤں کی طرف زمین پر گاڑدئیے اور دونوں پتھروں کو ایک سفید کپڑے کے لمبے ٹکڑے سے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر باندھ دیا۔ بعد میں لوگ تھوڑا پیچھے ہٹے۔ پیچھے ہٹنے کے بعد مولوی صاحب نے اُس کے لئے دعاِ مغفرت کی دعا مانگی۔ اور اس کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگ بھی دعا مانگ رہے تھے دُعا ختم ہونے کے بعد اُسے قبر میں چھوڑ کر لوگ اپنے اپنے گھروں کی طرف روانہ ہو گئے۔

وہ یہاں لحد میں پڑا ہوا تھا۔ لحد اتنی تنگ تھی کہ وہ اپنے کوہلا بھی نہیں سکتا تھا۔ قبر میں سوراخ نہ ہونے کی وجہ سے قبر میں بہت اندھیرا تھا۔ اب وہ سمجھ گیا کہ اُس کی آخری منزل یہی تھی۔ اور وہ قیامت کا انتظار کرنے لگا۔ وقت گزرنے لگا۔ کچھ وقت کے بعد قبر کے اندر ایک طرف سے ایک کھڑکی کھل گئی۔ کھڑکی کے باہر دوفرشتے کھڑے تھے۔ اور وہ دونوں ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے۔ ایک نے کہا یہ آدمی دوزخی ہے چلو اسے دوزخ لے چلتے ہیں ۔ جب اُس نے اُن فرشتوں کی باتیں سُنی تواُس پر ایک خوف طاری ہو گیا اور بھاگنے کے چکر میں دوسری طرف مڑنا چاہا مگر لحد کی تنگی اور قبر کی اندھیرے ہونے کی وجہ سے وہ کچھ نہ کر سکا۔ وہ سوچنے لگا کہ اب وہ دوزخ کے عذاب سے نہیں بچے گا۔ اُن فرشتوں میں سے ایک آگے بڑھا اور اُس سے کہا چلو تمھیں دوزخ لے جانا ہے اُس نے کہا میں نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ آپ مجھے دوزخ کیوں لے جانا چاہتے ہو۔ فرشتے نے کہا جب بھی قبر کے اس طرف سے دروازہ کھلتا ہے تو ہم بنا پوچھے لوگوں کو دوزخ لے جاتے ہیں۔ اور زیادہ باتیں مت کرو چلو ہمارے ساتھ وقت بہت کم ہے۔

اسی دوران قبر کی دوسری طرف سے ایک اور دروازہ کھل گیا تو وہاں بھی دو فرشتے کھڑے ہوئے تھے ۔ اُن فرشتوں میں سے ایک نے کہا یہ آدمی جنتی ہے ۔ چلو اسے جنت لے چلتے ہیں۔ اور اُن میں سے ایک آگے بڑھ کر اُس سے کہا چلو تمھیں جنت لے چلنا ہے۔ پہلے والا فرشتے جو ساتھ کھڑے تھے ایک نے کہا کہ یہ آدمی دوزخی ہے۔ اوربعد میں آنے والے نے کہا نہیں یہ جنتی ہے۔ یہاں ان دونوں کے درمیان تکرار ہو گئی۔ تو اُس آدمی نے فرشتوں سے کہا کہ قیامت کب آئے گی۔ ایک فرشتے نے کہا جس دن تمھیں قبر میں لایا گیا تھا ۔ اُس دن سے تمھارے لئے قیامت شروع ہو گئی۔ اور تمھارے بارے میں فیصلہ ہو چکا ہے۔ بعد میں اُن فرشتوں نے فیصلہ کیا اور وہ اس آدمی کو ایک بڑا فرشتہ جو ان کا جج تھا اُس کے پاس لے گئے ۔ ایک فرشتے نے جج سے کہا کہ یہ دوزخی ہے مجھے اسے دوزخ لے جانا ہے، دوسرے نے کہا نہیں یہ جنتی ہے اسے جنت لے جانا ہے۔جج نے کہا ۔ اُس کا اعمال نامہ دکھاؤ تاکہ ہمیں معلوم ہو جائے کہ اس کے اعمال نامہ میں کیا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد اُس کا اعمال نامہ ایک دوسرا فرشتہ لایا۔ جب اُ س کا اعمال نامہ جج کو دکھایا گیا۔ اور جج نے غور سے اعما ل نامہ دیکھا تو اس کا اعمال نامہ عجیب وغریب تھا کہ اُس نے اپنے سارے زندگی میں ایک گناہ بھی نہیں کیا تھا اور نہ ایک ثواب کمایا تھا۔ زندگی میں وہ ایک نیوٹرل آدمی رہا تھا۔ جج نے کہا کہ یہ آدمی نہ جنتی ہے اور نہ دوزخی۔ کیونکہ جنت جانے کے لئے کم از کم ایک ثواب کی ضرورت ہوتی ہے اور دوزخ جانے کے لئے کم از کم ایک گناہ کی۔ اس کا تو اعمال نامہ ہی خالی ہے۔ آخر کار جج نے فیصلہ کیا کہ اس کو واپس زمین پر بیھج دیا جائے۔

ایک فرشتے نے ایک طرف سے اس کا ایک ہاتھ پکڑلیا اور دوسرے نے دوسرے طرف سے۔ اُسے واپس زمین پر پھینک دیا گیا۔ اور اُس سے کہا کہ اگرجنت جانا چاہتے ہو تو کم از کم ایک ثواب کماؤ۔ اگر دوزخ جانا چاہتے ہو تو ایک گناہ کرو۔

زمین پر اُسے دوسرا جنم مل گیا۔ جب وہ اپنی جگہ سے اُٹھا، ادھر اُدھر دیکھا۔ توایسا لگا کہ یہ کوئی دوسرا علاقہ تھا۔ نئے قسم کے لوگ، نئے قسم کی عمارات، نئے قسم کی گاڑیاں اور مختلف قسم کی نئی مشینیں تھیں۔ وہ بہت حیران ہو گیا کہ کیا کر ے کہا ں جائے اپنے گھر کو کیسے ڈھونڈے۔ آخر کار سوچ لیا چلو کسی سے پوچھ لے تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ کونسی جگہ ہے اس علاقے میں درخت بہت زیادہ تھے ہر طرف سر سبز دکھائی دے رہا تھا۔ ایک طرف سے وہ ڈررہا تھا، کیونکہ اُس کے جسم پر کوئی کپڑا نہیں تھا اور دوسری طرف سے وہ کسی آدمی کو ڈھونڈ رہا تھا، تھوڑی دیر کے بعد اُسے ایک عورت نظر آئی، تو اُس نے ایک درخت کے پیچھے کھڑے ہو کر عورت کو آواز لگا دی۔ Hello۔ عورت یہ آواز سن کر پریشان ہو گئی۔اور اِدھر اُدھر دیکھنے لگی۔ تھوڑی دیر کے بعد اُس نے ایک سیٹی بجائی، عورت نے سیٹی کی آواز سن کر پریشان ہو گئی اور غور سے اِدھر اُددھر دیکھنے لگی۔ وہ یہی سمجھا کہ عورت اُسے ڈھونڈ رہی ہے۔ اُس نے درخت کے ایک طرف سے اپنا چہرہ نکالا، جب عورت کی نظریں اُس پر پڑیں۔ تو عورت چلانے لگی، بھوت بھوت۔ اور بے ہوش ہو کر گر پڑی۔ وہ اُدھر سے بھاگ نکلا ۔ کچھ لوگ عورت کے قریب آئے اُس پر تھوڑا پانی ڈالا۔ تھوڑی دیر کے بعد جب عورت ہوش میں آئی تو پھر چلّانے لگی بھوت ، بھوت۔ لوگوں نے پوچھا کیا ہوایسی کیا چیز تم نے دیکھی تھی۔ عورت نے کہا کہ اُس نے ایک بھوت دیکھا ۔ وہ درخت کے پیچھے کھڑا سیٹی بجا رہا تھا۔ لوگ اِدھر اُدھراُسے تلاش کر نے لگے۔ مگر کسی کو کچھ نظر نہیں آیا ۔ کیونکہ وہ یہاں سے بھاگ نکال تھا اب وہ پریشان تھا کہ کیا کرے۔ کیونکہ وہ اپنا چہرہ بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اور جسم کو ڈھانپنے کے لیے کپڑوں کی بھی ضرورت تھی۔

کچھ دنوں کے بعد پھر سے اس نے کوشش کی کہ اس بار کسی مرد آدمی سے پوچھوں۔ کہ یہ کونسا علاقہ ہے۔ نزدیک ہی ایک آدمی جارہا تھا ۔ اُس نے پھر ایک سیٹی بجائی ۔ آدمی نے سوچا کہ یہاں کوئی ہے۔ تو وہ اُس طرف دیکھنے لگا اُس نے اپنا سر درخت کی ایک طرف سے نکالا تاکہ وہ آدمی اُسے دیکھ لے۔ جب آدمی کی نظریں اُس پر پڑی ۔ آدمی نے چلّایا بھوت ،بھوت اور بے ہوش ہو کر گِر پڑا۔ وہ یہا ں سے بھی بھاگ گیا ۔جب آدمی ہو ش میں آیا۔ تب لوگوں نے پوچھا کیا ہوا تو اُس ے کہا کہ اُس نے درخت کے پیچھے ایک بھوت دیکھا تھا۔ جو سیٹی بجارہا تھا، جسے دیکھ کر مجھ پر خوف طاری ہو گیا اور میں بے ہوش ہو گیا ۔ اب وہ پریشان گھوم رہا تھا ۔ جو بھی اُسے دیکھتا چلّاتا۔ بھوت،بھوت کہتا اور بے ہوش ہو کر گِر پڑتا۔ دوسرے جنم میں وہ ایک بھوت بن چکا تھا ۔ نہ وہ کسی کو اپنا آپ دکھا سکتا تھا اور نہ کسی سے باتیں کر سکتا تھا۔ آج تک وہ کسی سے نہ باتیں کر سکتاہے اور نہ کسی کو اپنا چہرہ دکھا سکتا ہے ۔ جو بھی اسے دیکھتا ہے بے ہوش ہو کر گِر پڑتا ہے۔ وہ بیچارہ ایک بھوت بن کر گھوم رہاہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Shakira Nandini

Read More Articles by Dr. Shakira Nandini: 172 Articles with 99391 views »
I am settled in Portugal. My father was belong to Lahore, He was Migrated Muslim, formerly from Bangalore, India and my beloved (late) mother was con.. View More
06 May, 2018 Views: 443

Comments

آپ کی رائے