ماہ رمضان کی رحمتیں اور مہنگائی

(M Shakeel Baig, )

رحمتوں اور سعادتوں کا مہینہ جس کا انتظار ہر مومن کو رہتا ہے ماہ رمضان کی برکتوں کو سمیٹنے کے لئے مسلمان کا دل عبا دات کی طرف راغب رہتا ہے اور جسم کی زکوۃ بھی خوب دی جاتی ہے اور مساجد میں مولانا صاحبان تراویح سے قرآن سنا کر ہم کو ترو تازہ فرماتے ہیں ہر طرف سحر و افطار کے خوبصورت مناظر ملتے ہیں جبکہ بچوں میں روزہ رکھنے کی خوب ریت چلتی ہے یعنی ہر طرف اﷲ تعا لیٰ کی نعمتوں کا خوب شکر ادا کیا جاتا ہے غریب ہو یا امیر دونوں صرف اور صرف اﷲ تعا لیٰ کی خوشنو دی حاصل کرنے میں لگے ہوتے ہیں اس تمام عبادات کے ساتھ ساتھ روز مرہ کی خریداری بڑھ جاتی ہے جہاں عبادت کے ساتھ رزق حلال کمانے کی جستجو رہتی ہے وہاں اخراجات بھی دوگنے ہوجا تے ہیں ہر گھر میں سحری و افطاری میں خوب لوازمات کا اہتمام کیا جاتا ہے غریب اپنے حساب سے اور امیر اپنے اخراجات کو بغیر سوچے سمجھے خرچ کرتا ہے کیونکہ بہت سے امیر یعنی امراہ اﷲ کی مخلوق پر بھی خرچ کرتے ہیں بلکہ بہت سے غربا ء کے روزے کا بھی بہت اعلیٰ انتظام کرتے ہیں -

اﷲ تعا لیٰ اپنے بندوں کو خوب نوازتا ہے لیکن ان تمام باتوں کے باوجود بہت سے مسلمان غریب و میڈل کلاس مہنگائی کی زد میں ہو تے ہیں میر ا چونکہ ان دونوں کلاس سے بہت قریب سے واسطہ پڑتا ہے اور مجھے فخر ہے یہ سفید پوش کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے بلکہ اپنے روز مرہ کا اہتمام اپنی حیثیت کے مطابق کرتے ہیں چونکہ مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آ جاتاہے کوئی چیز سستی نہیں رہتی کمشنر کراچی اینڈ کنٹرولر جنرل پرائسز اورہم سے کئے گئے وعدے بھی وفاء نہیں ہوتے اور پھر ہر ٹھیلے ،ریڑے والا اور دکاندار کے اپنے ریٹ ہوتے ہیں بلکہ ہر علاقے کی مارکیٹ اپنے حساب سے اشیاء فروخت کرتی ہے جب ان سے پوچھا جائے تو صارف کو ایک ہی جواب ملتا ہے پیچھے سے مہنگا ہے یہ جواب سن سن کر ہم نے پیچھے والوں کو اپنے ساتھ رکھ لیا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں بھی لینا شروع کر دیں اس پریکٹس کے بعد پتہ چلا کہ پیچھے کا نعرہ لگانے والے اپنی مرضی سے فروٹ اور دیگر اشیاء مہنگی کرتے ہیں تاکہ ماہ صیام کا بھر پور فائدہ اٹھا کر شاید امیر ہوجائیں جبکہ وہ بھول جاتے ہیں کہ روزہ دار کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور جب آ ٓپ کسی کو ناجائز مہنگا کر کے اشیاء بیچیں گے تو وہ دل سے دعا نہیں بلکہ ؟ دیتا ہوگا ہمارے یہاں صارف پورے سال اگر یہ پریکٹس کرے کہ ہر ٹھیلے ،ریڑے اور دکاندار سے کنٹرلر جنرل پرائسز کی جانب سے جاری کردہ لسٹ کے مطابق چیزیں خریدے تو رمضان المبارک میں زیادہ پریشانی نہیں ہوگی کیونکہ پورے سال ہر ٹھیلے والا اور دکاندار لسٹ حاصل کرتا ہے لیکن اس لسٹ کو نہ صارف دیکھتا ہے اور نہ دکاندار اور ٹھیلے والے اس لسٹ کو آویزاں کر تے ہیں اگر صارف دکاندار سے کمشنر کراچی اینڈ کنٹرولر جنرل پرائسز کی جانب سے جاری کردہ لسٹ طلب کر یں تو آخر وہ مجبور ہوکر لسٹ ضرور آویزاں کریں گے لیکن لسٹ دیکھنے کے بعد بھی صارف کی جیب محفوظ نہیں کیونکہ اس کے ساتھ وزن اور کوالٹی میں بھی دھوکا کیا جاتا ہے یعنی درجہ دوم کا مال درجہ اول اور ترازو اور اس کے باٹ وزن میں بھی ڈنڈی ماردی جاتی ہے اور صارف کوپھر بھی اس کی قیمت کے حساب سے اشیاء نہیں ملتیں رمضان المبارک کے مہینے میں جہاں شیطان کو قید کردیا جاتا ہے وہاں کچھ ایسے عناصر (شیطان) بھی ہیں جو قابل احترام پیشے یعنی تجارت سے منسلک ہیں جس کی وجہ سے وہ کم تولنا ،درجہ بندی کرنا ،قیمتیں زیادہ وصول کرنا اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں حالانکہ بہت سے تاجر خوب روز ید اروں سے دعائیں لیتے ہیں صارف کو ہوشیار ہونا پڑے گا اور صارف کو اپنا اختیار بھی منوانا ہو گا کیونکہ پوری دنیا خاص کر پاکستان میں انڈسٹری اور تجارت صرف اور صرف صارف کی مرہون منت ہوتی ہے اگر صارف چیزیں نہ خرید یں تو بیکار ہوجاتی ہیں صارفین کو جب بھی فروٹ ،سبزیاں ،مرغی گوشت ،بیکری سے سامان یا میٹھائیاں خریدنی ہوں تو وہ وہاں کمشنر کراچی کی جانب سے جاری کردہ لسٹ ضرور دیکھیں خاص کر رمضان المبار ک میں سموسے،رول،پکوڑے خرید نے سے پہلے لسٹ پر لکھی ہوئی قیمتیں ضرور دیکھ لیں اور اس قیمت پر ہی یہ اشیاء خریدیں اگر ان قیمتوں میں مذکورہ چیزیں نہ ملیں اور لسٹ بھی آویزاں ہو تو پھر فوری اپنی شکایات کمشنر کراچی یا ڈپٹی کمشنر کے کنٹرول روم میں مندرجہ ذیل نمبروں پر کراسکتے ہیں کمشنر کنٹرول روم99205634,99203443ڈپٹی کمشنر ڈی سی ایسٹ 99230918 ساؤتھ99205628 سینٹرل99260049 ویسٹ99333175 ملیر 35001305کورنگی 99333926 ٹول فری ہیلپ لائن نمبر1299 واٹس اپ 0321846603 چیئر مین کنزیومر رائٹس پروٹیکشن کونسل آف پاکستانCRC گورنر ہاؤس 02135683344

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M Shakeel Baig
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 May, 2018 Views: 547

Comments

آپ کی رائے