تُو غنی ہے سو خزانوں سے عطا کر مالک

(Babar Alyas, Chichawatni)
اپنے بچوں کی تعلیم ؤ تربیت ہی ہمارا سرمایہ ھے اگر اس میں کامیاب ھو گۓ تو دنیا کی کوئی طاقت ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتی!!

مجھ سے در در کا تماشا نہیں دیکھا جاتا
بچوں کی تربیت میں والدین کا کردار
بچوں کو ایک اچھا انسان اور خاص طور پر ایک اچھا مسلمان بنانے کے لیے نیک اور صالح تربیت کی انتہائی ضرورت ہے اور ہر دور میں رہے گئ ۔ ہمارے بچے ہی ہماری خوشیوں, شادمانیوں,چاہتوں اور مسرتوں کے گلشن ھوتے ہیں اور رہے گۓ بھی, گلشن کوئی بھی اس گلشن کے پھول,کلیوں کی آبیاری، نگہبانی و باغبانی کی انتہائی ضرورت پیش رہتی ھے. اسلامی تعلیمات کی روشنی میں والدین کا فرض بھی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کریںکیونکہ اولاد ہی والدین کے لیے قدرتِ خدا وندی کا انمول تحفہ ہیں۔ بیشمار منتوں اور دعاؤں کے بعد اولاد کی پیدائش ہوتی ہےاور اللہ کی رحمت ؤ عظمت کے بعد تو یہ دولت نصیب ھوتی ھے اور والدین خوشیاں مناتے ہیں، اپنے اقارب میں مسرتیں بانٹتے ہیں، اعزاو اقربا ء انہیں مبارک باد پیش کرتے ہیں اور اس کے لیے خیر و برکت کی دعائیں کرتے ہیں۔ الاود کی تربیت و پرورش اس انداز میں کی جائے کہ جس میں دین و دنیا کو ملحوظِ خیال رکھا جائے لیکن اس کے برعکس اولاد کی پیدائش کے موقع پر مغرب کی عکاسی کرتے ہوئے والدین کی خوشی و مسرت کے عالم میں اتنے بے خود ہو جاتے ہیں کہ انہیں حدو د شرع کی پامالی کا کوئی خوف نہیں ہوتا۔ اولاد کا استقبال اسلامی طرز پر اذان و دعاؤں سے نہیں بلکہ اس کی جگہ ڈھول، باجے اور رقص و شہنائیوں کی گونج سے کرتے ہیں۔ لمحہ فکریہ ہے کہ اولاد کا ذہن لوح سادہ کی مانند ہوتا ہے، اس پر جس طرح کی تعلیم و تربیت ادب و تہذیب کی تحریریں لکھی جائیں گی اسی کا عکس اس کی شخصیت میں نمایا ں ہوگا۔ اولاد کی پرورش و تربیت میں والدین اسلامی تعلیمات و آداب کو بالائے طاق رکھ کر بسم اللہ، کلمہ طیبہ اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک ناموں کی تعظیم کی بجائے گُڈ مارننگ، ٹاٹا، بائے بائے کہ مشرکانہ طور طریقے سکھلا کر ان کے کانوں میں اذان، قرآنی آیات، دعاو ذکر اور اللہ کا ورد کرنے کی بجائے فلمی گانوں، باجوں، دھنوں اور فحاش کلمات کی گونجیں سناتے ہیں، اس طرح بچپن ہی سے اولاد کو ماڈرن تہذیب کا شیدائی اور دلدادا بنادیتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات اور ان پر عمل پیرا ہو کر اگر والدین اپنی اولادوں کی پرورش کریں اور اپنی اولادوں کو صحیح و صالح اور پاکیزہ پرورش اور تعلیم و تربیت کرکے اپنی اولاد کو جہنم کے شعلوں سے اور خود کو دنیا میں اولاد کے شروفساد اور نافرمانی سے بچا سکتے ہیں اور آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی اپنی سرخ روئی، عزت و توقیر کا سامان فراہم کر سکتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اولاد کو بات بات پر ڈانٹنے، جھڑکنے اور سرزنش کرنے سے سختی کے ساتھ پرہیز کرنے کا حکم ہے۔ ان کی کوتاہیوں اور غلطیوں پر نفرت و بیزاری کا اظہار کنے کی بجائے ان کی تربیت، محنت و مشقت کے ساتھ کیجئے اپنے طرز عمل سے بچوں کے اوپر یہ خوف و ہراس بہر حال غالب رکھے کہ ان کی کوئی خلاف شرع بات آپ پر ہرگز برداشت نہ کریں گے، اولاد کے ساتھ ہمیشہ نرمی، خوشی اخلاقی، پیار و شفقت کا برتاؤ کیجئے۔ ان کی حسب منشاء ضرورتوں اور چاہتوں کو پوری کرکے ان کو خوش رکھیں اور اطاعت و فرمانبرداری اور وفاشعاری کے جذبات ابھارئیے۔ چھوٹے بچوں کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرئیے انہیں گود میں لے کر پیار کیجئے، ان کے ساتھ خوش اسلوبی سے پیش آئیے۔ہر وقت تند مزاج اور سخت گیر حاکم نہ بنے رہیے۔ اس طرز سے اولاد کے اندر والدین کے لیے والہانہ جذبہ محبت بھی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کے اندر خود اعتمادی پیدا نہیں ہوتی اور ان کے طبعی نشو ونما پر خوشگوار اثر نہیں پڑتا۔ ایک مرتبہ اقرع بن حابس نبی کریم صلی اللہ علی وآلہ وسلم کے پاس آئے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت حسن ؓ کو پیار کر رہے تھے۔ اقرع کو دیکھ کر تعجب ہوا اور بولے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ بھی بچوں کو پیار کرتے ہیں، میرے تو دس بچے ہیں لیکن میں نے تو کبھی کسی ایک کو بھی پیار نہیں نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اقرع کی طرف نظر اٹھائی اور فرمایا ”اگر خدا نے تمہارے دل سے رحمت و شفقت نکال دیا ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں “۔ حضرت عمر فاروق ؓ کے دور میں حضرت عامر ؓ کسی اہم عہدے پر تھے۔ ایک بار حضرت عمر ؓ سے ملنے کے لیے ان کے گھر پہنچے کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ لیٹے ہوئے ہیں اور بچے سینے پر چڑھے ہوئے کھیل رہے ہیں۔ حضرت عامر ؓ کو یہ بات ناگوار گزری۔حضرت عمر ؓ نے پیشانی کے اتار چڑھاؤ سے ان کی ناگواری کو بھانپ لیا اور حضرت عامر ؓ سے بولے آپ کا اپنے بچوں کے ساتھ برتاؤ کیسا رہتا ہے۔ حضرت عامر ؓ کو موقع مل گیا بولے”امیر المومنین جب میں گھر میں داخل ہوتاہوں تو گھر والوں پر سکتہ طاری ہو جاتا ہے۔ سب اپنا دم سادھ کر چپ ہو جاتے ہیں۔ حضرت عمر ؓ نے بڑے سوز سے کہا عامر ؓ اولاد کو پاکیزہ و صالح تعلیم و تربیت سے آراستہ و پیراستہ کرنے کے لیے اپنی ساری کاوشوں کو صرف کر دینا چاہیے اور اس راہ میں بڑی سے بڑی قربانی سے بھی گریز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ والدین کی دینی و مذہبی ذمہ داری ہے اور اہم فریضہ بھی اور اولاد کے ساتھ عظیم احسان بھی اور اپنی ذات کے ساتھ سب سے بڑی بھلائی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”مومنو! بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے“۔ جہنم کی آگ سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے یہ علم و دین کے اسرارو موز سے واقف ہو اور زندگی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری میں گزرے۔ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ باپ اپنی اولاد کو جو کچھ دے سکتا ہے اس میں بہتر عطیہ اولاد کی اچھی تعلیم و تربیت ہے (مشکوۃ شریف)اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہو جاتا ہے لیکن تین قسم کے اعمال ایسے ہیں کہ اس کا اجرو ثواب مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے۔
(۱)۔ یہ کہ صدقہ جاریہ کر جائے۔
(۲)۔ دوسرا یہ کہ وہ ایسا علم چھوڑ جائے جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں۔
(۳)۔ صالح اولاد چھوڑ جائے جو والدین کے لیے دُعا کرتی رہے۔ آپ کی تہذیبی و ثقافتی روایات مذہبی تعلیمات اور پیغام توحید کو زندہ تابندہ رکھنے میں اولاد اہم کردار اداکرتی ہے اور نیک مومن نیک اور صالح اولاد کی تمنا اس لیے کرتا ہے کہ اس کے بعد اس کے پیغام کو زندہ رکھ سکے۔ اس تمام تحریر، اقوال اور حدیث کی رو ح سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمیں چاہیے کہ اولاد کی تعلیم و تربیت پر پوری توجہ دینی چاہیے، یہی توجہ ہماری عاقبت کو بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی، بین الاقوامی اور معاشی ترقی میں بھی سنگ میل ثابت ہوگی اور ہم دنیا میں ترقی یافتہ ہو کر ابھر یں گے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 306 Articles with 103216 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
08 May, 2018 Views: 319

Comments

آپ کی رائے