جہیز،تلک اور ہمارا اسلامی کردار کیا ھو؟؟

(Babar Alyas, Chichawatni)
جہیز معاشرے کے لیے ایک ایسا ناسور بن چکا ھے جسکی بدولت کئ خاندان ذلت ؤ رسوائی کی دلدل میں دفن ھو چکے ہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا اپنی بیٹی کو دیے جانے والا جہیز آنے والی امت کے لیے درس ھے مگر افسوس کہ اس درس سے دوری ہماری وجہ ذلت ھے

اسلام دین فطر ت ہے جو انسان اور انسانیت کی رشدو ہدائیت کا پیغمبر بن کر اس دنیا میں جلوہ گر ہوااس نے افراط وتفریط سے قطع نظر انسانیت کی تعمیر اور ایک صالح معاشرے کی تشکیل کے لیے حیات انسانی کا ایک ایسا فلسفہ پیش کیا جس کو اپنا کر آسانی کے ساتھ ایک منظم طریقے سے معاشرے کو امن و امان کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے۔آج ہمارا معاشرہ طرح طرح کی برائیوں کی آماج گاہ بنتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے امن و سکون،انسانیت،رواہ داری،انسان دوستی،آپسی الفت و محبت اور بھائی چارگی کی لازوال دولت رخصت ہوتی جا رہی ہے۔آج ہمارے معاشرے کو دوسری بہت ساری داخلی برائیوں کے ساتھ جو سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے ان میں سے ایک جہیز ہے۔جہیز عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے اسبا ب یا سامان جہیز ایک خطرناک کیڑے کی طرح ہماری سماجی زندگیوں کو کھوکھلا کرتا جا رہا ہے۔آج کی ترقی یافتہ دور میں یہ وبا ء جس تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے۔اگر جلد اس پر قابو نہ پایا گیا تو مستقبل قریب میں مزید خطرناک نتائج برآمد ہونگے میرے ساتھیوں اسلام کی حقانیت کا اندازہ لگائیں کہ اس نے آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے اس معاشرتی برائی کی نہ صرف نشاندہی کی بلکہ اپنے پیروکاروں کو اس سے بچنے کی تاکید بھی فرمائی جہیز بیٹی کی شادی میں والدین کی طرف سے دیا جانے والا وہ سامان ہے جو بیشک مطالبے پر ہو یا بلامطالبہ وہ جہیز کہلاتا ہے۔مثلاً،اوڑھنا،بچھونا،برتن،کرسی و دیگر سامان وغیرہ۔جہیز دینے کی رسم پرانے زمانے سے چلی آر ہی ہے ہر ملک اور علاقے میں جہیز مختلف صورتوں میں دیا جاتا ہے۔برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں میں یہ رسم ہندو اثرات کی وجہ سے داخل ہوئی اور ایک لعنت کی شکل اختیار کی چکی ہے شادی کے موقع پر بیٹی کو رخصت کرتے وقت تحفے کے طور پر کوئی سازوسامان دینا جہیز کہلاتا ہے تحفے کا لین دین آپس میں محبت و ہمددری کا جذبہ پید ا کرتا ہے لیکن اگر وہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر مجبوری کے تحت دیا جائے تو محبت کی بجائے اختلافات کو جنم دیتا ہے جیسے کہ آج کل جہیز کا دینا ہے۔جو کہ کسی ہمدردی یا محبت کے تحت نہیں بلکہ محض ایک رواج کو پورا کرنے کے لیے دیا جاتا ہے یہ ان والدین کے لیے بہت بڑا بوجھ ہے کہ جو دینے کی حیثیت نہیں رکھتے میرے دوستوں کتنی عورتیں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے گھر میں بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہوجاتی ہیں یا کم جہیز دینے کی وجہ سے ان عورتوں کی زندگی عذاب بنادی جاتی ہے روزکی مارپیٹ کے علاوہ ان کو زندہ جلا دیا جاتا ہے اور تیزاب پھینکنے جیسے واقعات رونماء ہوتے ہیں اسلام سادگی کا دین ہے اسلام میں جہیز کی کوئی گنجائیش نہیں بلکہ اسلام کی نظر میں عورت کا بہترین جہیز اسکی بہترین تعلیم وتربیت ہے رسم جہیز ہمارے معاشرے کے لیے کسی زخم ناسور سے کم نہیں جہیز کے نام پر قوم کی بیٹیوں کو جس طرح ہراساں کیا جاتا ہے وہ انسانیت کا بڑا ہی شرم نا ک پہلو ہے دوسری طرف آجکل کا معاشرہ انسانی رشتوں سے زیادہ دولت کو اہمیت دیتا ہے جس کی وجہ سے یہ ناسور بڑھتا جا رہا ہے۔جہیز سے ملتا جلتا لفظ تلک بھی استعمال کیا جاتا ہے۔تلک مقررہ روپیہ ہوتا ہے جو لڑکی والے شادی کے تعین کے وقت لڑکے والوں کو سازوسامان کے علاوہ ادا کرتے ہیں۔جس کی تفصیل آپ یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ جب شادی کی ابتدائی بات چیت شروع ہوتی ہے تو لڑکے والے لڑکی کے والدین سے سازو سامان (جہیز)کے علاوہ کچھ نقد روپے کی فرمائش کرتے ہیں اس میں لڑکے کی خاندانی حیثیت کا خاص خیال رکھا جا تا ہے۔لڑکا جس معیار کا حامل ہوتا ہے اس کی قیمت کا تعین اسی اعتبار سے کیا جاتا ہے جیسے بھیڑ بکری وغیر ہ کی خریدو فروخت پاس و لحاظ رکھا جاتا ہے،جہیز اور تلک کے مابین کوئی زیادہ فرق نہیں آتا لیکن تاریخ کی کتابوں سے اتنا ضرور واضع ہوتا ہے کہ تلک کا رواج معاشرے میں جہیز سے بہت بعد میں ہوا جس کو معاشرے کے دولت مند افراد کے زریعے فروغ ملا لہذا ہم اسے جہیز کی دوسری قسم کہہ سکتے ہیں خالد سیف اللہ رحمانی اپنی کتاب میں جہیز و تلک کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اسلام میں نکاح کی حیثیت ایک معاہدے کی ہے جس میں مرد و عورت قریب قریب مساویانہ حثییت کے مالک ہیں یعنی نکاح کی وجہ سے شوہر بیوی کا اور بیوی شوہر کی مالک نہیں ہوتی اور عورت اپنے خاندان سے مربوط ہوتی ہے والدین کے متروکہ میں تو اسکو لازم میراث ملتا ہے بعض اوقات بھائی بہنوں سے بھی حصہ پاتی ہے ہندو مذہب میں نکاح کے بعد عورت کا رابطہ اپنے خاندان سے ختم ہوجاتا ہے اور شاستر قانون کی رو ح سے وہ اپنے خاندان سے میراث کی حقدار نہیں رہتی کیونکہ جب لڑکی کو گھر سے رخصت کیا جاتا تو اسے کچھ دان دیکر رخصت کیا جاتا ہے مگر بڑے افسوس کے ساتھ اور بدقسمتی سے مسلمانوں نے بھی اس ہندواناں رسم و رواج کو اپنا لیا اب مسلمانوں میں جہیز کے لین دین سے اور لین دین سے بڑھ کر جہیز کا مطالبہ اس سے بھی آگے گزر کر تلک سرانی اور جوڑے کے نام سے لڑکو ں کی طرف سے رقم کا مزید مطالبہ کرنے کا سلسلہ چل پڑا ہے جو کہ اسلامی تعلیمات اور شریعت کے مزاج کے بلکل ہی بر عکس ہے کیونکہ اسلام میں تو اس کے برخلاف مہر اور دعوت ولیمہ کی زمہ داری شوہر پر رکھی ہے اور عورت کو نکاح میں ہر طرح کی مالی زمہ داری سے دور رکھا ہے۔فقہاء اکرام کے نزدیک اس بات کا کوئی تصور ہی نہیں تھا کہ مرد بھی عورت سے روپے کا مطالبہ کرے۔اس لیے اس مسئلے کا عام طور پر کتب فقہا میں زکر نہیں ملتا البتہ اس بات کا زکر ہے کہ لڑکی کا ولی اگر مہر کے علاوہ داماد مزید رقم کا طلب گار ہو تو یہ رشوت ہے یہ مطالبہ جائز نہیں تاہم بعض فقہا ء کے یہاں لڑکے اور اسکے اولیا ء کی طرف سے مطالبے کی صورت کا زکر بھی ملتا ہے اس لیے تلک اور جہیز کا مطالبہ رشوت ہے اسکا لینا تو حرام ہے ہی شدید ضرورت کے بغیر دینا بھی جائز نہیں اور لے چکا ہوتوواپس کرنا واجب ہے میرے دوستوں ہمارے لیے شریعت اسلامیہ میں نبی کریمﷺ کی صاحب زادی لخت جگر حضرت فاطمہ ؓاپنے ساتھ جو مختصر سامان لائی تھی اور اس میں عمر بھر آضافہ نہ ہوسکا آپؓ میں ایک مینڈھے کی کھال تھی جو بستر کا کام دیتی تھی اور اوڑھنے کے لیے ایک مختصر سی چادر تھی اگر سر چھپاتے تو پاؤں کھل جاتے پاؤں ڈہاپنتے تو سر سے سرک جاتی بعض کتابوں میں اس کے علاوہ تکیہ،چکی،اور مشکیزہ وغیرہ کا زکر بھی ملتا ہے۔میرے ساتھیوروزانہ صبح صبح آپ جب اخبار کی ورق گردانی کرتے ہیں تو دل ہلا دینے والی سرخیاں زینت نگاہ بنتی ہیں کہ فلاں نے جہیز کم لانے کے جرم میں بدن پر تیل ڈال کر آگ لگا دی فلاں مقام پر کم جہیز کی وجہ سے گلا گھونٹ کرقتل کر دیا فلاں جگہ پر کم جہیز کی وجہ سے جہیزی بھیڑیوں کی ایذا رسانی کی تنگ آکر عورت خود ہی موت کو گلے لگا لیا آئے دن ایسے رونگھٹے کھڑے کردینے والے حادثات رونماء ہوتے رہتے ہیں اور دختران اسلام کی نسل کشی کا یہ سلسلہ زور پکڑتا جا رہا ہے اس راہ میں نا تو ملک کا قانون ان بے گناہوں کا مداوہ ثابت ہورہا ہے اور نا ہی خود کو حقوق نسواں کے علمبردار کہے جانے والے ادارے اس کے وجو و تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔

میری ارباب اختیار اور معاشرے کے اہلعلم لوگوں سے گزارش ہے کہ برائے مہربانی معاشرے کے اس ناسور کو ختم کرنے کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کریں تاکہ ہماری بیٹیا ں عزت و احترام سے اپنی زندگی گزار سکیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 286 Articles with 98415 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
09 May, 2018 Views: 211

Comments

آپ کی رائے