رعد الشمال سے خلیج ڈھال تک

(Munzir Habib, )

محمد قاسم حمدان
14فروری سے دس مارچ 2016ء تک اکیس ممالک سے تعلق رکھنے والے تین لاکھ پچاس ہزار فوجیوں نے سعودی عرب کے علاقے حضر الباطن میں دنیا کی سب سے بڑی جنگی مشقوں میں حصہ لیا تھا ان مشقوں کا نام رعد الشمال (شمال کی کڑکتی بجلی)رکھا گیا ۔ان مشقوں میں بیس ہزار ٹینکوں نے حصہ لیا تھا ۔65ء کی پاک بھارت جنگ میں بھارت نے چونڈہ سیالکوٹ سے سات سو ٹینکوں کے ساتھ پاکستان پر ہلہ بولا تھا ۔ایسا تباہ کن حملہ اگرکسی اور ملک کی فوج پر ہوتا تو ٹینکوں کی گڑگڑاہٹ اور اڑتی دھول کو دیکھ کر ہی وہ میدان سے راہ فرار اختیار کر لیتی۔ میجر جنرل راحت لطیف جو اس معرکہ میں شریک تھے ۔انہوں نے ایک ملاقات میں راقم کوبتایا تھا کہ پاک سپاہ نے دلیری ودلاوری کی ایسی مثالیں قائم کیں جن کی رہتی دنیامثال بھی پیش نہ کر سکے گی۔ پاک وطن کے جانثاروں نے سیسہ پلائی دیوار بن کر دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا ،بھارت کے دو دنوں میں سو سے زیادہ ٹینک تباہ ہوئے، اس روز چونڈہ بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بن گیا تھا، ایک طرف اگر جے ہندکے پسپا ہوتے نعرے تھے تو جانب ثانی تکبیر کی صداؤں میں فرشتے اپنے بندوں کی نصرت کے لئے قطار اندر قطار اتررہے تھے۔جنگ عظیم کے بعد یہ ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی تھی جو پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے پرتھویوں کے اخلاف نے مسلط کی تھی جسے پاک فوج کی شجاعت اور عوام کے جذبہ و ولولہ نے اپنے اسلاف غزنویوں ،غوریوں کی طرح پلٹ کر رکھ دیا اور بھارت کے ٹینک پورس کے ہاتھی ثابت ہوئے ۔رعد الشمال میں بیس ہزار ٹینک پرے سے پرا باندھے گھن گرج کے ساتھ حضر الباطن کے میدان میں دشمن پر رعب ودبدبہ طاری کر رہے تھے۔ اتنی بڑی تعداد میں ٹینکوں کا ٹڈی دل عجیب منظر پیش کر رہا تھا ۔رعد الشمال میں مختلف ساخت واقسام کے 2450لڑاکا طیاروں اور 460فوجی ہیلی کاپٹروں نے بھی حصہ لیا اور وسیع تعداد میں آرٹلری،ائیر ڈیفنس،بکتر بند گاڑیوں اور بحری بیڑوں نے بھر پور انداز میں جنگی مشقوں میں شامل ہو کر اپنی استعداداور مشترکہ آپریشن میں شمولیت سے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ۔اﷲ تعالی نے سورہ توبہ میں مسلمانوں کو دشمن سے نبٹنے کے لئے ہمیشہ جنگ کی تیاری کا حکم دیا ہے اور مشقوں کا یہ سلسلہ اسی حکم کی عملی تصویر ہے ۔اس اتحاد میں پاکستان واحد ملک ہے جسے بھارت جیسے مہا ملک سے تین جنگیں لڑنا پڑیں اور پھر اسے را ،موساد اور سی آئی اے نے افغانستان میں بیٹھ کر بدترین دہشت گردی میں الجھا دیا ۔پاک فوج نے بے مثال قربانیوں سے پاکستان کو افغانستان اور لیبیا بننے سے بچا کر دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنادیا ہے ۔پاکستان کی طرح اس کے دوست اور برادر ملک سعودی عرب کو بھی ایسے حالات سے دوچار کیا گیا ، ایسے میں اسلامی دنیا کو ہلاکوو ں کی ہلاکت خیزیوں سے بچانے کے لئے اسلامی اتحاد کا احیا نصرت الہی سے کم نہیں ۔جنرل راحیل شریف کی قیادت میں اسلامی اتحاد میں شامل افواج کی استعداد کو مزید بہتر کرنے اوریمن ولبنان اور شام میں گھات میں بیٹھے دشمنوں کی ہوا کو اکھاڑنے کے لئے گلف شیلڈ(خلیج ڈھال) کے نا م سے عسکری ودفاعی مشقیں گذشتہ ماہ کی گئیں ۔ون کے بعد جلد ٹو اور پھر تھری بھی ہوں گی اور جب تک خطے میں بھڑکائی گئی گماشتہ جنگ کے براہ راست جنگ میں بدلنے کے خدشات معدو م نہیں ہو جاتے تیاری کا یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔خلیج ڈھال مشقیں اس لحاظ سے اہم تھیں کہ یہ رعدا لشمال سے بھی بڑی تھیں اس میں چوبیس ممالک نے شمولیت اختیار کی ۔پاکستان کی جانب سے اسپیشل سروسز گروپ کے کمانڈوز،پاک فضائیہ کے سی ون 30اور جے ایف تھنڈرلڑاکا طیاروں نے حصہ لیا۔ سعودی عرب کے خلیج فارس سے نزدیک ساحلی شہر ظہران میں ہونے والی ان مشقوں کا مقصد گلف میں امن و امان کو برقرار رکھنا اور دوست ممالک کے عسکری تجربات سے فاہدہ اٹھانا تھا۔ ان مشقوں میں بھاری اور ہلکے ہتھیاروں کا استعمال انتہائی مہارت سے کیا گیا جبکہ سپیشل کمانڈوز کے برق رفتار دستوں نے اپنے ہدف کو ٹارگٹ کرتے ہوئے انہیں سرنڈر ہونے پر مجبور کر دیا ۔مشترکہ فضائیہ نے جہاں اپنے فرضی دشمن کے راکٹ ہیڈ کو تباہ کرنے اور ائیر ڈیفنس کو ناکارہ بنانے کا عملی مظاہرہ کیا وہیں ایک دوسرے سے سیکھنے اور اپنی خامیوں کو خوبیوں میں بدلنے کی جستجو کی ۔پاکستان کی فضاؤں میں اڑانیں بھرتے شاہینوں کی ناموری کی ایک دنیا معترف ہے ۔ایم ایم عالم نے دشمن کے چند منٹوں میں بارہ طیارے گرا کر دنیا پر اپنی دھاک بیٹھا دی تھی یہ عالمی ریکارڈ آج تک قائم ہے ۔

خلیج ڈھال مشقوں کی اختتامی تقریب میں فوجی دستوں کی پریڈ بھی ہوئی جسے خادم الحرمین شاہ سلمان ،وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی ،جنرل قمر جاوید باجوہ ،اتحاد میں شا مل اکتالیس ممالک کے سربراہان مملکت اور وزراؤزعماء کی بڑی تعداد نے دیکھا ،شاہد خاقان اور بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی نشستیں ساتھ ساتھ تھیں لیکن دلوں میں بھارت حائل تھا۔دلوں میں چھپی کدورتوں کا عکس چہروں پر چڑھی تیوری کے اتار چڑھاؤسے واضح تھا ۔ یہ اتحاد تو فساد کی بیخ کنی کے لئے قائم کیا گیاہے اس کا مقصد ایک جسم بننا اورسبھی دانوں کو ایک تسبیح میں پرونا ہے ۔پاکستان کو چاہیے کہ وہ بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگے بڑھ کر بنگلہ دیش سے ہاتھ ملائے تاکہ وہ بھارت کے حصار سے باہر نکل سکے خلیج ڈھال کی کامیابی پر بعض ملکوں کو جو خطے میں دہشت گردی کی آگ دھکانے میں پس پردہ کردار ادا کر رہے ہیں انہیں سخت سراسیمگی کا سامنا ہے ۔مشقوں سے قبل بریگیڈئر جنرل عبداﷲ الصبائی نے اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مشقوں کا اہم ترین مقصد جوائنٹ ملٹری کمبیٹ آپریشنل پلان ہے تاکہ خطے میں سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے اور دشمن عناصر کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اس وقت سعودی عرب اور پاکستان کو دہشت گردی کے ناسور کا ایک سا سامنا ہے ۔پاکستان کے مشرق ومغرب میں بھارت داعش اور ٹی ٹی پی کو اسلحہ اور تربیت دے رہا ہے ،بلوچ علیحدگی پسندوں کی ڈور بھی را ہلا تی ہے ۔قارئین کو یاد ہو گا کچھ عرصہ قبل امریکہ وبرطانیہ کے تعاون سے بھارت نے گریٹر بلوچستان کی مہم چلائی تھی اور وہاں کی بسوں پر اس حوالے سے پوسٹرز لگائے گئے تھے ۔اسی طرح سعودی عرب کو تکفیری اور حوثی داعش کی دہشت گردی کے شکنجے نے جکڑ رکھا ہے ۔دونوں داعشوں کے مقاصد ایک ہیں، دونوں کی قتل وغارت اور خونخواری کا انداز ایک ہے ۔دونوں کے سینے میں دل نہیں ،بے رحمی،سفاکی،قسی القلبی اور بے حسی میں دونوں میں کچھ فرق نہیں ہے ۔تکفیری داعش بھی عراق اور شام پر قبضہ جمانے کے بعد سعودی عرب کو تاراج کرنے کی دھمکیاں دیتی تھی، حوثی داعش کی شرانگیزیوں سے مکہ ومدینہ تک محفوظ نہیں ہیں ۔لیکن الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق بعض ممالک کی طرف سے سعودی عرب کو بدنام کرنے کے لئے یہ زہریلا پراپیگنڈا کیا جا تا رہا کہ داعش کو اس کی پس پردہ حمایت حاصل ہے ۔ حالانکہ یہ تیرگی ان کے اپنے نامہ سیاہ میں ہے۔ جنگی مشقوں نے اور سعودی عرب کے عملی اقدامات نے ان کی دروغ گوئی کا پردہ چاک کر دیا ہے ۔دوسرے ملکوں میں اپنے باطل نظریات کو مسلط کرنے کے لئے ان کے امن کو تار تار کرنے والے سعودی عرب پر دوسرے ملکوں میں مداخلت کا الزام دھرتے ہیں لیکن میڈیا کی وہ فوٹیج گواہ ہیں جن میں ان کے اپنے فوجیوں اور جر نیلوں کی لاشوں نے ان کی فسطائیت کودنیا پر ظاہر کر دیا۔

خلیج ڈھال سے اتحاد میں شامل کمزور ملکوں کا حوصلہ بلند ہوا ہے اور انہیں پہلی دفعہ اپنے وجود کی اہمیت کا احساس ہوا ہے۔ امید واثق ہے کہ اخوت و یگانگت ،ربط وضبط،راہ ورسم اوراعانت ومعاونت کی خوش گوار فضا اور مضبوط ہو گی جس سے دشمنوں کے حوصلے پست ہوں گے ۔اس اتحاد کو جیسا کہ مسلم نیٹو فورسز کا نام بھی دیا گیا ہے اب وقت آ گیا ہے کہ اسے صرف فورسز اتحاد تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے یورپین یونین طرز پر مسلم یونین کی ہیت دی جائے ۔اس کی اپنی انتظامیہ، عدلیہ ،اپنی اسمبلی، کرنسی ہو اور تجارت کے فروغ کے لئے ویزہ میں نرمی ہو تاکہ مسلم امہ کے وسائل پر جو لوٹ مار ہوتی ہے اس کا سدباب ہو اور ان وسائل سے اتحاد میں شامل ممالک مستفید ہوں ۔ علاوہ ازیں ان جنگی مشقوں کے دائرہ کار کو بھی وسعت دی جانی چاہیے۔ گلف شیلڈون کی طرح ترکی میں یورپ کی سرحد پر اور پاکستان میں کشمیر شیلڈ ٹو کے نام سے ایسی جنگی مشقوں کا انعقاد از حد ضروری ہے تاکہ بھارت پر واضح کیا جاسکے کہ اگر اس نے کشمیر کو یونہی لہو لہو کئے رکھا تو پھر کشمیری تنہا نہیں بلکہ پوری مسلم امہ ان کے لئے بہت آگے تک جانے کے لئے کمر بستہ ہے ۔اسلامی اتحاد کی بہت سے دیگر ممالک کی طرح بھارت کو بھی بہت تکلیف ہے ۔جب اتحاد قائم ہوا اور راحیل شریف کو اس کی قیادت سونپی گئی تو بھارتی چینلز نے پراپیگنڈے کا طوفان اٹھا دیا اور یہ کہا گیا کہ جنرل راحیل شریف اسے بھارت مخالف اتحاد میں بدل دیں گے ۔جنگی مشقیں بلا شبہ جنگ کی ریہرسل ہوتی ہیں جنگ میں صرف ریہرسل اور سپہ سالاروں کی عسکری اسٹرٹیجی ہی کام نہیں آتی بلکہ جدید اسلحہ سے لیس ہونا بھی ضروری ہوتا ہے اور ادھار یا مانگے تانگے کے اسلحہ سے کبھی کوئی جنگ نہیں جیتی جا سکتی ۔اس وقت پاکستان اسلحہ سازی میں اپنا مقام بنا چکا ہے ۔پاکستان میں ٹیکسلا ہیوی انڈسٹری میں ٹینک،آٹو میٹک رائفلز، جے ایف تھنڈرطیارے اور بہت کچھ تیار ہوتا ہے جو دنیا کی معیاری اسلحہ ساز کمپنیوں سے معیار میں کسی طرح کم نہیں ۔ پاکستان کی صلاحیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے اتحادی ممالک میں اسلحہ سازی کی صنعت کو فروغ دیا جانا چاہییبالخصوص سعودی عرب میں پاکستان کے اشتراک سے ایک اور ہیوی انڈسٹری لگائی جانی چاہیے اس سے پاک سعودی رشتے مضبوط ہوں گے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Munzir Habib

Read More Articles by Munzir Habib: 184 Articles with 71140 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 May, 2018 Views: 430

Comments

آپ کی رائے