سلسہ وار ناول۔ رازی قسط نمبر ۵

(Akram Saqib, Sahiwal)

اندھیرا چھانے کو تھا ۔ نازیہ نے اپنا پرس اٹھایا اور باہر سٹرک پر آ کر کھڑی ہو گئی ۔ سٹاپ کی مخصوص جگہ سے کچھ پیچھے کھڑی تھی ۔ تھوڑی دیر بعد ایک لش لش کرتی ہوئی کار ا کر اُس کے قریب رکی اور وہ اُس میں سوار ہو گئی ۔ کار میں بیٹھنے سے پہلے ہی اُس نے اپنے ہنڈ بیگ میں چھپا ہوا ریکارڈر آن کر لیا تھا ۔ اُس نے اُسے لاتعلق سے ڈیش بورڈ پر رکھ دیا۔ اور ساحل سے باتیں کرنے لگ گئی۔
اُس کا اور ساحل کا یہ معمول بن گیا تھا کہ شام ہوتے ہی وہ اپنے دفتر سے نکلتی اتنے میں ساحل آ جاتا ۔ وہ کارمیں ہو کر سوارہو چل دیتے ۔
نازیہ نسوار خان کی پارٹنر تھی اور اُس کی زندگی کا انداز خالص مغربی تھا ۔ وہ عورت کی عزت سے بے خبر تھی ۔ اُس کا کام ہی یہی تھا کہ وہ آئے دن شکار پھانسنے اور پھر اسے بلیک میل کر کے اپنا کام نکالتی رہے ۔ وہ نہایت حسین تھی ہی تو اسے اپنے حسن کی نمائش کرنے کا طریقہ بھی آتا تھا ۔ اُس کی ادائیں ہی ایسی تھی کہ ذرا سا بھی دل پھینک اس کے دام میں آ جاتا اور وہ اُسے اس طرح بد حال کر دیتی کہ وہ اُسی کا ہو جاتا ۔ نازیہ نے ایسے بہت سے اعلیٰ افسران کو اپنے شکنجہ میں کس رکھا تھا ۔ ساحل بھی انہیں میں سے ایک تھا ۔ وہ افغان ریلیف میں نیا نیا آفسر تھا ۔ نازیہ نے پہلے ہی سے زیادہ ادائیں دکھائیں اور اُسے رام کرنے میں کامیاب ہو گئی ۔ اب اگر کبھی نازیہ نہ آتی تو وہ پاگل سا ہو جاتا اور اُسے بار بار بلاتا ۔ منتیں کرتا ہر طرح کی پیشکش کر دیتا ۔
کار میں بیٹھتے ہی نازیہ نے اُس کے مخصوص باتیں پوچھنا شروع کر دیں ۔ کہ آج کل افغانستان کے اندرونی حالات کیا ہیں ۔ کون کون سی ایجنساں کہاں کہاں ہیں ۔ آن کے اعلیٰ افسران کے نام کیا ہیں ۔
اپنی باتوں کے دوران ساحل نے رازی کا ذکر چھیڑا اور بتایا کہ رازی نامی ایک تنظیم افغانستان میں بہت سر گرم ہو گئی ہے ۔ اور ایسا لگتا ہے کہ وہ باقی تمام تنظیموں کو مات دے دی گی ۔ اُس کے پیچھے حضرت صاحب کے ٹرسٹ کا ہاتھ ہے ۔ یہ تنطیم پوری دیانتداری سے افغان عوام کو ریلیف بھی پہنچا رہی ہے اور ساتھ ساتھ انہیں دشمنان اسلام کے خلاف ڈٹ جانے کا درس بھی دے رہی ہے ۔ یہاں تک کہ اُس نے اپنے ٹریننگ کیمپ بھی وہاں قائم کر لئے ہیں جہاں پر وہ مجاہدین کی تربیت بھی کر رہے ہیں ۔
تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا کہ رازی ٹرسٹ کی تنظیم ہے؟ نام ٹرسٹ کا ہی چل رہا ہے ۔ حقیقت میں رازی ہی اس ٹرسٹ کو چلا رہی ہے ۔ یہ ساری باتیں مجھے ایک اندر کے آدمی نے بتائی ہیں۔ وہ بھی ایسے کہ وہ ان کے کام سے اتنا متاثر ہوا کہ مجھے کہنے لگا کہ آپ بھی ان میں شامل ہو جائیں ۔ مین تو ان میں کب سے شمولیت اختیار کر چکا ہوں ۔ ویسے بھی اب رازی راز نہیں رہا بلکہ حقیقت بن کر سامنے آ رہا ہے ۔ وہ اپنے آپ کو چھپاتے بھی نہیں ہیں ۔ کون لوگ اس کے پیچھے ہیں ۔نازیہ نے پوچھا
ان کا اتہ پتہ معلوم نہیں ۔ بس ٹرسٹ اور رازی فرنٹ پہ ہیں ۔
*۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔*
زکریا مختار اور احمد یسیٰن کا برسوں پرانا یارانہ تھا ۔ ان کے خاندانی تعلقات تھے ۔ اُن کی بیویاں ایک دوسری کی بہنیں اور اُن کی اولادیں ایک دوسرے کو رشتہ دار تصور کرتے تھے ۔
یہ تعلق اُس وقت سے تھا جب زکریا مختار ایک بہت ہی مشہور سیاسی پارٹی کے ٹکٹ سے الیکشن جیتا تھا اور اسمبلی میں پہنچا تھا ۔ اور احمد یسیٰن اُس وقت فوج کے ایک حساس ادارے میں بطور آفیسر کام کر رہا تھا ۔
اسے اپنے ادارے کی طرف سے زکریا کے نگرانی کے لئے لگایا گیا تھا ۔ اُس نے زکریا کی کڑی نگرانی کی مگر اُسے ایک سچا اور دیانتدار سیاستدان پایا۔ احمد یسیٰن نے دیکھا کہ زکریا ایک آئیڈیالوجسٹ ہے ۔ وہ سیاست کو انقلاب کا اور حقیقی انقلاب کا ذریعہ سمجھتا ہے ۔ اُسے بڑی آفر ہوئی مگر اس نے زن ، زر اور زمین کی ہر پیشکش کو ٹھکرا دیا ۔ وہ زکریا کا فین بن گیا کیونکہ وہ بھی ایسا ہی شخص تھا ۔ زکریا کرپشن کی سیاست سے نالاں تھا اور ایسے لوگوں کی ہر قسم کی چالوں سے بخوبی واقف تھا ۔ آخر احمد یسیٰن نے اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا اُسے سب کچھ بتایا کہ کس طرح وہ اُسے آزماتار ہا ہے ۔
اسی دوران اسمبلی برخاست ہو گئی ۔ زکریا نے شکر ادا کیا کہ اُس کی جان چھوٹی ۔ ادھر احمد یسیٰن کو بھی اپنی ایمانداری کی پاداش میں اصول پسندی کی وجہ سے نوکری چھوڑنا پڑی ۔ قصور اس کا یہ تھا کہ اس نے وہ معلومات جلا ڈالی تھیں جو بظاہر دوست لیکن اصل میں دشمن ملک کے حوالے ہونے والی تھیں ۔ وہ دونوں اکٹھے اکثر وقت ساتھ گزارنے لگے ۔ پہلے انہوں نے سوچا کہ نئی سیاسی جماعت بنائی جائے مگر عوام کی اور حکمرانوں کی حالت دیکھ کر دلبرداشتہ ہو گئے ۔ پھر NGOبنانے کا ارادہ کیا مگر اس سے بھی نہ متفق ہوئے ۔
وہ تو کوئی ایسا کام کرنا چاہتے تھے جس سے اُن کا نہیں بلکہ پوری قوم اور پوری انسانیت کا فائدہ ہو۔ اس کے لئے انہوں نے ایک تحریک چلانے کا آغاز کیا ۔ اور اپنی تحریک کا نام رکھا TFW۔ یعنی ٹینشن فری ورلڈ ۔ (دکھوں کے بغیر دنیا) اُس کے منشور میں یہ بات تھی کہ دنیا سے تفکرات و آلام و مصائب اسی صورت مین ختم ہو سکتے ہیں جب یہ دین فطرت پر آجائے گی ۔ وہ ملاں بن کر نہیں بلکہ سکالر بن کر یہ بات پھیلا رہے تھے اور اس میں انہیں خاطر خواہ کا میا بیاں بھی مل رہا رہی تھی ۔
پاکستان میں انہوں نے اپنی تحریک کو بڑھایا اور پھر اس کے بعد امریکہ میں کام کرنے کا ارادہ کیا۔ وہ جانتے تھے کہ امریکہ اس وقت اس تنظیم کی سخت ضرورت ہے ۔ انہوں نے اس کا م کے لئے اپنے دوستوں سے رابطے کئے اور بڑے بڑے امریکی شہروں اور ریاستوں میں (ٹی ایف ڈبلیو) TFWکے مراکز قائم کر کے کام کرنا شروع کر دیا ۔
*۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔*
رئیس احمد ناصر نے اپنے انٹر کام کی بیل دی اور سیکرٹری کو اندر بلایا ۔ ہدایات دیں کہ جو بھی ملاقاتی ہو اُس سے خود ڈیل کر لیں۔ مجھے ڈسٹرب نہ کیا جائے ۔ سیکرٹری نے یس سر کہا اور اپنی سیٹ پر آگیا ۔ اُسے اندر بلانا اس لئے ضروری تھا تا کہ وہ اپنی آنکھوں سے رئیس احمد ناصر کو دیکھ لے کہ صاحب اندر ہی ہے کیونکہ وہ کہیں اور جانا چاہتا تھا۔ سیکرٹری کے باہر نکلتے ہی رئیس نے علوی کو کال کیا کہ وہ مجوزہ مقام پر پہنچ جائے وہ پہنچنے والا ہے ۔
رئیس اور علوی نے بھی کام کرنا ہوتا وہ اسی طرح کرتے اور بھیس بدل کر جایا کرتے ۔ آج وہ اُس ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ڈائریکٹروں کی مٹینگ کی رپورٹنگ کے لئے جا رہے تھے۔ اگرچہ یہ اجلاس دو دن بعد ہونا تھا مگر وہ اس سے پہلے اپنا انتظام کرنا چاہتے تھے ۔
دی سام نے جو اجلاس بلایا تھا وہ اُس کے ملک میں نہیں بلکہ پاکستان میں بلایا گیا تھا اور اس کا اہتمام کراچی کے ایک ایسے ہی ہوٹل میں کیا گیا جو ملٹی نیشنل کمپنی کی ہی ملکیت تھا ۔ اس کو مانیٹر کرنے کا بندوبست کرنا تھا۔ ہوٹل انتظامیہ کو خبر دی گئی تھی کہ یہ میٹنگ خفیہ ہو گی اور کوئی غیر متعلقہ شخص یا صحافی اس کی رپورٹنگ نہین کر سکے گا ۔ حتی کہ اس کی کال بھی خفیہ ہی دی گئی تھی ۔ اور اُسے یاسر جمال نے یہ خبر دی تھی کہ کمپنیاں اپنا اجلاس فلاں ہوٹل میں بلا رہی ہیں اور کوئی اہم ایجنڈا زیر بحث ہو گا جس کا تعلق ان کے گروہی مفادات سے ہے ۔اس میں تمام کمپنیوں کے کنٹری ڈائریکٹروں کو اوپر سے خاص ہدایات آنے والی ہیں ۔
یاسر جمال رئیس کا دست راست ہی تھا کیونکہ شروع سے لے کر آج تک وہ یاسر جمال کو ہی اپنے ماتحت کے طور پر لا رہا تھا ۔ یاسر جمال ایک بہت ہی منجھا ہوا کمپیوٹر انجیئنر تھا ۔ وہ ہر طرح کے کمپیوٹر لاکر کھول سکتا تھا ۔ اور ممنوعہ سائٹس بھی کھول سکتا تھا ۔ اسی لئے رئیس نے اُسے اپنے کمپیوٹر کے شعبے کا انچارج بنا دیا تھا۔
رئیس ااور علوی اپنا بھیس بدلا اور ایکسائز ڈیپارٹمنٹ میں اپنے ہمدرد سے ملے اور اُسے صورت حال سے آگاہ کیا ۔ اُس سے ایک لیٹر بنوایا اور اس ہوٹل کی طرف چل دئیے ۔ یہ لیٹر انہوں نے حفظ ماتقدم کے طور پر بنوایا تھا ان کی پلاننگ کچھ اور ہی تھی۔
وہ بڑے دھڑلے سے ہوٹل میں داخل ہوئے اور منیجر کے پاس گئے ۔

جی فرمائیے ،میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں ۔ مینجر نے دریافت کیا ۔
خدمت کرانے کے لئے ہی تو حاضر ہوئے ہیں ۔ علوی نے دہلی کے لہجہ میں اردو بولتے ہوئے کہا۔
تو فرمائیے ۔
ہمیں آپ کا مٹینگ ہال درکار ہے ۔ ایک دن کے لئے۔
جی حاضر ہے کب چاہیے ۔
اسی ہفتے کی کوئی تاریخ عنائیت فرما دیں تو ممنون ہو ں گے ۔
جی میں دیکھ کر بتاتا ہوں ۔
مینجر نے بکنگ کی سائٹ کھولی اور کمپیوٹر سے دیکھ کر بتایا کہ آپ کو اگلے ہفتے کا کوئی بھی دن مل سکتا ہے ۔
کل یا پرسوں نہیں مل سکتا ۔
اتنی جلدی تو نہیں مل سکتا کیونکہ پہلے سے ہال بک ہے۔
رئیس نے پنجابی لہجے میں کہا کہ چلو ٹھیک ہے ۔ اگلے سوموار کے لئے ہمارا آرڈر بک کر لیں ۔
جی اچھا ۔
اپنا ایڈریس فو ن فیکس یا ای میل اور ایڈونس ۔
سب کچھ دیتے ہیں مگر ہم ایک نظر ہال پہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ ہم نے وہاں کچھ اپنی مرضی کا انتظام کرنا ہے ۔
کس مقصد کے لئے آپ کو چاہیے ۔
ہم یہاں مشاعرہ کروانا چاہتے ہیں ۔
آپ ہمیں حکم دیں ۔ ہم آپ کی خواہش کے مطابق انتظامات کر دیں گے ۔
نہ بھائی ۔ یہ ہمارا دستور بھی نہیں اور منشور بھی نہیں ۔ ہم حقیقت پسند ہیں اور جب تک اپنی آنکھوں سے نہ دیکھیں لیں ہمیں اطمینان نہ ہو گا ۔
ٹھیک ہے ٹھیک ہے ۔ آپ کو دکھا دیتے ہیں مگر اس کے لئے آپ کو دوبارہ زحمت کرنا ہو گی ۔
وہ کیوں جناب ؟
وہ اس لئے سر کہ اس وقت ایک میٹینگ چل رہی ہے ۔ اس کے بعد پھر ایک میٹنگ ہے تقریباً رات دس بجے خالی ہو گا تو آپ گیارہ بجے آ کے معائنہ فرما لیں ۔
رئیس نے کہا کہ یہ پھر بکنگ نہ کرنے والی بات ہوئی ۔
مینجر گھبرا سا گیا ۔ نو سر ۔ ہمارے کچھ کاروباری اصول ہوتے ہیں ۔ آپ کو ابھی معائنہ کروا دیتے مگر مجبوری ہے ۔
علوی نے مصالحت کرانے کے سے لہجے میں کہا ٹھیک ہے ۔ ہم گیارہ بجے آ جائیں گے ۔ اگر اُس وقت بھی خالی نہ ملا تو ۔
نو سر ۔ ہماری ساکھ ہی ہمارے وعدے پر ہے ۔
اچھا ٹھیک ہے ۔ ہم پھر آ جائیں گے ۔
دونوں چل دئیے ۔
منیجر نے پیچھے سے پوچھا سر آپ کا ایڈریس ۔
علوی نے مڑتے ہوئے کہا کہ ہماری ساکھ بھی ہمارے وعدے سے قائم ہے ۔ ہم ضرور آئیں گے اور سب کچھ بتا جائیں گے ۔
یہ کہہ کر وہ باہر نکل گئے ۔
*۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔*

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: akramsaqib

Read More Articles by akramsaqib: 71 Articles with 32099 views »
I am a poet,writer and dramatist. In search of a channel which could bear me... View More
10 May, 2018 Views: 355

Comments

آپ کی رائے