امریکن ففتھ جنریشن وار

(Rufan Khan, )

نائن الیون حملے کے بعد اب تک مملکت خداداد مختلف مسائل سے پھنسا ہوا ہے جب گیارہ ستمبر 2001 کو امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سنٹرپر حملہ ہوا تو امریکہ نے سار ا ملبہ نہ صرف پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی بلکہ حملے کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال دی پاکستان نے تمام پروپیگنڈے ناکام بنادیئے جس کی وجہ سے نہ صرف پاکستان کو نقصان ہوابلکہ پوری دنیا کو بھی کافی حد تک نقصان پہنچا یہ پہلا حملہ نہیں تھا جس کا آغاز غیر ملکی قوتوں نے کیا تھا،پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور شاید یہ وجہ ہے کہ اﷲ کی امداد پاکستان کے ساتھ ہے ، امریکہ تو کیا اگر اس کے ساتھ اتحادی ایک صف میں کھڑے ہو جائے کامیابی پھربھی پاکستان کا مقدر بنیں گی ،پاکستا نی افواج ایک مضبوط و باصلاحیت ہیں ،امریکہ اور اس کے اتحادی اپنے ہدف کو پوراکرنے کیلئے مختلف طریقے سے وار کرتے ہیں اب امریکہ نے ایک اور نئی سازش پاکستان میں برپا کردی ہے جس کا نام امریکن ففتھ جنریشن واربتایا جارہاہے ،منظور پشتین بھی ا سی سازش کی ایک کھڑی سمجھا جاتا ہے ،امریکن ففتھ جنریشن وار پاکستان میں میڈیا کے ذریعے غلط معلومات،افواہوں،دھوکے، جھوٹ اور علمی مزاق کے ذریعے پھیلایا جارہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں عدالتیں جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کو منطقی انجام تک پہنچارہی ہے اور لاتعداد میڈیا ہاوسز کو غلط رپورٹنگ، توہین،بدنام کرنے اور تہمت لگانے وغیرہ کے الزامات پر سزا دے چکے ہیں،دشمن کی اس ناپاک عزائم میں کامیابی نہیں ملے گی ،نائن الیوان سے قبل ملک میں امن تھا جب نائن الیوان کا حملہ ہوا تو دہشت گردی نے نہ صرف پاکستان کو بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا یوں ملک کا امن دہشت کی زد میں آگیا،اس کے ساتھ ساتھ ٹارگٹ کلنگ شروع ہوگئی اورآرمی پبلک سکول پشاور ،بنوں منڈان پولیس اسٹیشن ،پولیس لائن ٹو بنوں،ایف سی کمانڈنٹ اورایگریکلچر یونیورسٹی پر حملے ہوئے یہ تو چھوڑوں اﷲ کے گھر بھی نہیں بخشے گئے جس میں ننھے معصوم بچے اور اُس کے والدین شہید ہوئے، میں کیا لکھوں اتنے قاتل عام اور حملے ہوئے کہ زیر غور نہیں لاسکتا ہوں ،ایک بات ذہن میں گردش کررہی ہے ایک دن محلے میں ایک بچہ کھیلتا تھا انتہائی خاموش اورشریف تھا دیگر بچوں کی طرح شرارتی نہیں تھا بدقسمتی سے وہ جب بھی گھر سے نکلتا تھا تو محلے میں بچے اسے تنگ کرتا تھا ایک دن بچے نے ولد کو شکایت کی کہ فلاں شخص کے بچے مجھے تنگ کرتے ہیں والد نے بچے کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا چونکہ بچے کے ساتھ یہ روز ہوتارہا محلے والے بچے اتنے شرارتی ہوگئے تھیں کہ وہ ان کے گھر پر حملہ کرنے سے گریز نہیں کر نے لگے جب بچے کے ولد کو پتہ چلا کہ یہ اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ گھر پر حملہ کر تے ہیں پھر وہ سوچنے لگا کہ یہ تو گھر پر حملہ نہیں ہمارے عزت پر حملہ ہے پھر بدلہ لینا شروع کیا لیکن اب ان کا مقابلہ تھوڑا مشکل تھا قار ئین کرام یہی حال ہمارے ملک کا ہے امریکہ اوراُس کے اتحادیوں نے ایک نئی سازش برپا کردی ہے اورکچھ عناصر ا مریکن ففتھ جنریشن وار کے تحت کام کررہے ہیں جس کا مقصدپختونوں اور پاک فوج کے درمیان تصادم پیداکرنا اوریہ بہت ہی بھیانگ جنگ ہے جس میں کسی بھی دشمن ملک پر حملہ کئے بغیر صرف پروپیگنڈا کرکے لوگوں کو اپنی ہی فوج کے خلاف بھڑکا یا جاتا ہے اور پھر ایسی خوفناک جنگ جنم لیتی ہے کہ ملک راکھ کا ڈھیر بن جا تا ہے چونکہ ہمارے قبائلی اس منصوبے سے لاعلم ہے کہ یہ پاکستان کے خلاف ایک منصوبہ ہے کچھ لوگ اس تحریک کے حامی ہیں اورباشعور طبقہ اس کے خلاف ہے کیونکہ ان کوپتہ ہے اور کہہ جارہاہے کہ ایک سو چے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان کے خلاف منظور پشتین کام کر رہے ہیں یہ بات بھی ہورہی ہے کہ اگر تحریک واقعی قبائل کے حقوق کیلئے کام کررہی ہوتو تحریک کے عہدیدار اُس وقت کہا تھے کہ دن دھاڑے لوگ گھروں سے اٹھاکر اغواء کئے جاتے خودکش دھماکے ہوتے تھے مسجدوں اور سکولوں پر حملے کئے جاتے تھے ملک کے حالات اس حد تک پہنچے تھے کہ لوگ خوف کی وجہ سے گھروں میں محصورر ہوئے تھے آج پاک فوج کی بدولت ملک میں امن لوٹ آیا ہے ہر طرف امن کی فضا بحال ہوئی ہے اورکافی عرصے کے بعد عوام نے سکھ کا سانس لینا شروع کیا ہے اب آپ کوقبائل کی تکالیف یاد آگئیں ،چند دن پہلے بنوں آڈیٹوریم ہال میں پختون تحفظ موومنٹ کی جانب سے امن سیمینار کا انعقاد کیا گیا اس دوران ایک نوجوان قومی پرچم کے ساتھ امن سیمینار میں آیا اور ہال میں داخل ہوتے ہوئے سیمینار منتظمین کے ساتھ توتومیں میں ہوئی اوربعدمیں جانے کی اجازت دی کچھ دیر بعد اسٹیج پر موجود قبائل مشر نے نوجوان کو اشارہ کیا اور کہاکہ جھنڈا مجھے دے دو لیکن نوجوان نے نہیں دیا اس دوران ایک دوسرے نوجوان نے اس سے زبردستی جھنڈا چھین کر لہرایا قبائلی مشر نے قومی پرچم لانے والے نوجوان پر حملہ کرکے تھپڑماردی اور دھکیں دے کر ہال سے باہر نکال دیا ،کیا ایک ایسے ملک جس میں ہم آزادی کا سانس لے رہے ہیں کھاتے پیتے اسی ملک میں زبان غیر کی استعمال کررہے ہیں کیا یہ نمک حرامی نہیں قارئین کرام ایک اسلامی ملک کے اندر کچھ لوگ ملک دشمنی پر تلے ہوئے ہیں اور ایسے ملک کے پرچم کی تقدس کو نہ پہنچانتے ہوئے حماقت سے کام لے رہے ہیں کیا یہ پشتون روایت کے منافی تو نہیں کہ جس برتن کھایا جائے اسی برتن کی اس قدر بے قدری ؟تعجب کی بات ہے ہمارے معزز ادارے برداشت اور خیرسے کام لے رہے ہیں کہ اپنے ہی ملک کے خلاف ایک سوچھی سمجھی منصوبے کے تحت اداروں کو بدنام کرکے اس ملک کو پٹٹری سے اتارنے کی کوشش میں ہیں کیا قبائل کے آباء واجداد نے اس ملک کیلئے عظیم قربانیاں نہیں دی ہیں آج ان قبائل کے بیٹے اسی ملک کے خلاف نفرت کی تعلیمات لینے ،دینے اور سننے کیلئے چوکوں اور چوراہوں پر ڈرامے اور تماشے بنا کر ملک کو نقصان پہنچارہے ہیں ہمیں چاہیے کہ اپنے آباء واجداد کی قربانیوں کو قائم رکھتے ہوئے ایسے سازشی ،منافرت پھیلانے والے اور یہودیوں اور نصارنیوں کے ایجنڈے پر کام کرنے والوں کے خلاف صف آرا ہوجائے اور ایسے لوگوں سے خود بھی محفوظ ہوجائے اور اس پاک دھرتی کو تحفظ دیں۔بقول شاعر
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار کرچکا تو امتحان ہمارا

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rufan Khan

Read More Articles by Rufan Khan: 28 Articles with 10992 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 May, 2018 Views: 657

Comments

آپ کی رائے