آزاد کشمیر کا شیشہ گھر اورمرکزی سرکار کی مہربانیاں

(Tahir Ahmed Farooqi, muzaffarabad azad kashmir)
آزاد کشمیر کا شیشہ گھر اورمرکزی سرکار کی مہربانیاں

پاکستان میں عام انتخابات کا سورج سواء نیزے پر آنے کو تیار ہے اورفطرتی تقاضوں کے مطابق آزاد کشمیر گلگت بلتستان کی سیاسی قیادتوں ، کارکنان ، عوام کی تمام تردلچسپی توجہ پاکستان کے سیاسی انتخابی اتارچڑھاؤ پرمرکوز ہے تاہم دونوں خطوں کی حکومتیں اپنے اپنے بجٹ کی تیاریوں میں مصروف ہو چکی ہیں اور لوہا گرم ہوتوچوٹ لگانی چاہیے ، ایسا ماحول بہت سازگار ہوتا ہے اگرآپ جرات ، صلاحیت اوردلیل حقیقت کے ہتھیاروں سے لیس ہو تواپنا کیس پیش کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرنے کے امکانات روشن ہوتے ہیں جنکا استعفادہ کرتے ہوئے اپنے حق میں فیصلہ کرا لیا جائے تو آگے کیلئے مثال بنائی جا سکتی ہے جسکے لئے ان خطوں کی حکومتوں اورمشینری نے کام کاج جاری رکھا ہوا ہے ایسے ماحول میں دیگر ناگزیر سیاسی انتظامی ایشوز پر بھی توجہ دینی پڑجاتی ہے موجودہ حکومت کے دو سال میں دوچار بار ہی ایوان وزیراعظم پریس کانفرنس کے سلسلے میں جانا ہوا تھا اب سال چھ ماہ بعد وزیراعظم اورلبریشن فرنٹ کے قائدین کی نعیم بٹ شہید کیس میں کامیاب ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کے لئے جانا ہوا تو سیکرٹریٹ کے اندر کا ماحول فوجی نہیں تو غیرفوجی ضرور تھاگراؤنڈ فلو رمیں داخل ہونے کے بعد ایک اور گیٹ سے اوپرجانا ہوتا ہے اوران دونوں گیٹوں پر کھڑے اہلکاران کا انداز وہی ہے جو واہگہ باڈر پر پرچم کشائی کے موقع پر ہوتا ہے یہاں سے اوپر جانا بسوں، ٹرکوں کی پشت پرلکھے اپنا اپنا مقدر اپنا اپنا نصیب والی بات ہے مگر اوپربھی پہلے 2 دروازے سے گزر کر دیدار شرف ہوتا تھا اب مذید تیسرا دروازہ بھی وجود میں آچکا ہے تو محرم نہیں ، رمضان جیسا سماں محسوس ہوتا ہے جیسے کمزورافراد کی روزے میں حالت ہوتی ہے کوئی ملاپ اور بات ہی نہ ہو جس سے بگاڑ کا معاملہ درپیش آ جائے تاہم اوپرسے نیچے فرش بہترین ٹائلوں سے سنوارتے ہوئے شیشہ کیفیت بنا دیا گیا ہے دفاتر کے اندر کا ماحول بھی شاندار فرنیچر ، تزین و آرائش کے کے مناظر پیش کرتاہے پھردربانوں کا حق بنتا ہے وہ آنے والوں کو گھوریں اورروکیں انکے باہر گندگی سے بھرے بوٹ دھبے لگا کر شیشہ فرش کو داغدار کریں ، ناانصافی ہے اور ڈیوٹیوں پر تعینات منکر نکیر سلام دعاوالوں کو دیکھتے ہیں نظریں چرا لیں جیسے دیکھا ہی نہیں، میرٹ کا تقاضہ ہے پھر باہر کی دنیامیں رہنے والے لیگی کارکنان اور لوگ اپنے احساس کمتری کا الزام پولٹیکل سٹاف یا آفیشل سٹاف پر لگائے تو یہ بہتان تراشی اور قول وفعل کا تفاد ہے جب وزیربھی اپنے کاموں کیلئے وزیراعظم سیکرٹریٹ کے منکر نکیروں کو فون کرتے ہوں تومطلب صاف ہے یہ تجربے تربیت اور حوصلے کے فقدان کا خمیازہ ہے وزراء کا یہ حال ہے تو پولٹیکل سٹاف وزیراعظم سیکرٹریٹ کس باغ کی مولی ہیں انکے کہنے پرچائے کی پیالی نہیں آتی اور آنے والا چلا جاتا ہے پانی لانے کیلئے بھی خوار باہرجاکر ڈھونڈ کر لانے والے کو بتانا پڑتا ہے پانی لے آؤ انکی حالت وہی ہے جو جنت میں رہنے والے شخص کی ہے حوروں کو دیکھ سکتا ہے چھو نہیں سکتا ہے میڈیا سیل کے مین آفس کے اندر بوسیدہ حال دو تین صوفے اوربلیک وائٹ دور کابند ٹی وی، دیواروں پر لگی تین تصویریں بول سکتیں تویقیناًخون کے آنسوروتیں اوربے بسی کا ماتم کرتیں۔ ایک تھانے دار تھا وہ اپنی سخت مزاجی اوردیانت کے بارے میں بڑی شہرت کا حامل رہا مگرجس تھانے کا ایس ایچ او تھا وہاں کے باقی سارا کاریگرعملہ کی عید ہوگئی کیونکہ تھانے در د کابراہ راست آنے والوں سے رابطہ نہ ہوتا تھا اور تھانے دار کی ھیبت کے خطرات سے خائف کرکے ان سے رسکی کام کے عوض ڈبل ٹرپل نذرانہ وصول کیا جانے لگا ،اور جائز کام ہوئے نہ ہوئے مگر نائز ڈبل ٹرپل ریٹوں پر پہنچ گئے ، ایسی ہی کیفیت ایوان وزیراعظم کے باہر تقریباً سب محکموں میں چل نکلی ہے دو چار کے علاوہ سیکرٹریز سربراہان محکمہ جات ، ماتحت آفیسران دیانت صداقت کے قصے سناتے رہتے ہیں مگر جائز کام کے لئے جب تک وزیراعظم کا فون نہ آئے اس بہانے ان کی حاضری نہ لگے توکام نہیں ہو سکتاہے چاہے وزیرکیوں نہ ہو، عام شخص کے لئے اس کا جائز کام جوئے شیر لانے کے مترادف ہو چکا ہے ،اور ایوان وزیر اعظم جہاں نون لیگی حکومت کے بعد سیکرٹریٹ کے لفٹ والے راستے جبکہ کچھ دن بعد ہاؤس میں بھی باری باری سانپ برآمد ہوئے تھے جو مار دیئے گئے بلکہ سریے مذید مضبوط ہو گئے ، جو گردن میں ہوتے ہیں بڑا سریا تو واقعتا فولادی سریا ہے مگر باقی سریے بھی اس کے خوف سے مذید اکڑ چکے ہیں ، اسطرح کے گریڈوں والے سریے اسلام آباد بھی ہوتے تھے جو زنگ آلود ہوکر اپنا کام دیکھا چکے ہیں ، اسلام آباد سے یہ سرکاری اطلاع ہے فاروق حیدر حکومت نے وہاں کے سیاسی انتخابی ماحول کے باوجود اس کا استعفادہ کرتے ہوئے آزاد حکومت کے انتظامی مالیاتی اختیارات کو توانا کرنے کی طرف پیش رفت کی ہے قومی اقتصادی کونسل کی طرف سے قومی وسائل کی آمدن میں آزاد کشمیر کا حصہ 2.5 سے بڑھا کر 3.6 کر دیا ہے جس سے یکدم 11 ارب کا بجٹ میں آضافہ ہو گا تو خود بخود چاروں صوبوں کی طرح بڑھتا چلا جائے گا اسی طرح واٹر یوز چارجز 15 پیسہ سے بڑھا کر صوبہ خیبر پختونخواہ کے برابر ایک روپیہ 10 پیسے پریونٹ ملیں گے ، تو آئندہ آزاد کشمیر سے ٹیکسوں کا ہدف کشمیر کونسل کے بجائے آزاد حکومت تجویز کرئے گی آزاد حکومت اپنی آمدن سے خالصتاً ضرورت کے تحت آسامیاں تخلیق اورفلاحی حوالے سے منصوبوں پر اخراجات کی منظوری دے سکے گی ، جس کے لئے پہلے اسلام آباد فنانس ڈویژن کی اجازت لازمی تھی ، اسلام آبادسرکارکی یہ اطلاع واقعتا خوش آئند ہے اور انقلابی پیش رفت سے تعلق رکھتی ہے جس میں مظفرآباد سرکاری کی گزشتہ پونے دو سالہ ریاضت کا عمل دخل بھی شامل ہے تو اسلام آباد کے تمام سٹیک ہولڈرز بشمول دفاعی حکام کی تائید و حمایت درخشاں تسلسل کی آئینہ دار ہے اگر چہ قومی اقتصادی کونسل کا 3 صوبوں نے بائیکاٹ کیا ہوا ہے جس کے باعث اس کا کورم ٹوٹ چکا تھا مگر فیصلے کی مثال قائم ہونا عدالتی فیصلے کی طرح دلیل و ٹھوس جواز کے طور پر بڑی کامیابی ہے جس کا سہرا فاروق حیدر حکومت کو نہ دینا بھی انصاف قتل کا میرٹ ہوگا ،پیش رفت کا مطلب ہے فیصلہ ساز فورموں سے متعلق اتھارٹیز کے پاس اپنا کیس لڑنے کا حوصلہ ہوتو کامیابی کی طرف سفر کا آغاز ہو جاتا ہے جو قابل مبارکباد ہے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ahmed Farooqi

Read More Articles by Tahir Ahmed Farooqi: 205 Articles with 70817 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 May, 2018 Views: 423

Comments

آپ کی رائے