محنت سے حاصل کیا ہوا علم پاٸیدار اور ترقی کا ضامن

(Sameera Siddiqui, Karachi)
ہمیں بچوں کو تعلم ان کی دلچسپی کے مطابق دینی چاہیے تاکہ بچہ اچھا سے اچھا پڑھ سکے

علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین کیوں نہ جانا پڑے“
یہ الفاظ ہم اکثر سنتے رہتے ہیں اور ان الفاظ کی قدروقیمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ لفظ”اقرا ٕ“ ہمارے پیارے محبوب صلی اللہ علٕیہ وآلہ وسلم اس جہاں فانی کے آخری نبی کو غار حرا کے موقع پر سکھایا گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امی تھے مگر آپ کے قلب کو آب زمزم سے دھویا گیا پاک کیا گیا اور آپ پر 22 سال 5 ماہ اور 14 دن میں آہستہ آہستہ بقدر ضرورت قرآن نازل کیا گیا اور ہمیں بتادیا گیا علم حاصل کرو اور اس کی اہمیت کے بارے میں بتایا ۔ جنگ احد میں قیدیوں کو کہا گیا جو لوگ علم کی روشنی سے منور ہوں وہ لوگوں کو علم دیں اور آذاد ہو جاٸیں اور علم آج تک اسی جذبے سے حاصل کیا جارہا ہے اور لوگ علم کی روشنی سے منور ہو رہے ہیں ۔

اگر ہم استاد کے مقام کی بات کریں تو ہمیں معلوم ہو جاۓ گا کہ آج اساتذہ کو کس مقام پر لاکر کھڑا کر دیا گیا ہے۔پہلے لوگ دور دراز علاقوں میں پڑھنے جاتے وہ لوگ ان سے صرف علم حاصل نہیں کرتے تھے بلکہ وہ ان سے بات کرنے کا طریقہ اٹھنے ،بیٹھنے ،کھانے،پینے کا طریقہ اور بہت سی چیزیں جو ان کو کامیاب کرتی ہیں اور سب سے بڑھ کر وہ مقصد جو ان کے اندر جوش و جذبہ کو بیداررکھتا ہےوہ سیکھتے تھے۔ بے شمار اساتذہ سے علم حاصل کرنے کے بعد وہ علم سے سیراب ہوجاتے تو وہ دوسرے لوگوں کو علم دیتے اس طرح علم پھیلتا۔
 
اگر ہم آج کے دور کی بات کریں توہمیں معلوم ہو جاۓ گا کہ آج بھی علم کی وہی قدروقیمت ہے انسان کی نظر میں مگر ہر کام میں آسانی تلاش کرنے والا آج کا انسان یہ بھول گیا کہ ہر کام میں آسانی اس وقت اس کام کو آسان کر دیتی ہے مگر کچھ کام محنت سے کۓ جاٸیں تو ہی اس کام کی قدروقیمت کا اندازہ ہوتا ہے جسے اگر ہم ایک بچہ کی مثال لیں ہمیں معلوم ہوگا کہ آج کا وہ بچہ جو گھر بیٹھ کر علم حاصل کرتا اس کا ذہن پڑھاٸ میں کم اور کھیل کود میں ذیادہ لگتا ہے کیونکہ اس بچے کو معلوم ہوتا ہے کہ استاد تھوڑی دیر پڑھاٸیں گے وہ اس طریقے سے نہیں پڑھ پاتا جس طرح اسےپڑھنا چاہیے اور جوبچہ باہر جا کر پڑھتا ہے گھر سے دور وہ اصل میں پڑھتا ہے اسے معلوم ہوتا ہے اگر میں نہیں پڑھوں گا تو میرے ساتھ کیا ہو گا وہ محنت کرتا ہے اور آگے بڑھتا ہے۔

آج کل ٹیوشن اور قرآن شریف گھر میں پڑھانے کی طرف رجحان بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔ جو بچے گھر میں قرآن یا ٹیوشن پڑھتے ہیں وہ گھر میں تو باآسانی پڑھ لیتے ہیں لیکن وہ ان چیزوں سے محروم ہوجاتے ہیں جو ایک باہر پڑھنے والا بچہ محسوس کرتا ہے۔ جو بچہ باہر جاکر پڑھتا ہے اس کے اندر کچھ سیکھنے کی لگن آگے بڑھنے کا شوق دوسرے لوگوں کو دیکھ کر سیکھنے کا جوعمل ہوتاہے دوستوں سے آگے بڑھنے اور ہر کام میں آگے رہنے جستجو وہ ان بچوں کے اندر پاٸ جاتی ہے اور جو بچہ گھر میں بیٹھ کر علم حاصل کرتا ہے انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ باہر کے لوگوں سے انہیں کس طرح قدم سے قدم ملا چلنا ہے اپنا مقام کیسے بنانا ہے۔

میرے استاد کہتے ہیں جو بچہ گھر میں بیٹھ کر پڑھتا ہے وہ اصل میں علم حاصل نہیں کرتا اس کو اتنی سہولت دے دی جاتی ہے کہ وہ وہ علم حاصل نہیں کرپاتا جو محنت اور لگن سے حاصل کیا جاتا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sameera Siddiqui

Read More Articles by Sameera Siddiqui: 8 Articles with 5291 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 May, 2018 Views: 812

Comments

آپ کی رائے