پاکستان میں ٹر یفک سگنل کا نظام

(Rizwan Ahmad, )

لند ن، انگلینڈ اور بر طانیہ کے درالحکو مت میں سے سب سے ذ یادہ آ بادی والا اور خو بصو رت شہرہے۔ لند ن میں متعد لوگوں او ر ثقافتوں تعدادہے۔اس شہر میں تین سو سے ذیادہ زبانیں بو لی جاتی ہے۔

برطانیہ میں باون پولیس فورسز ہیں ، جو بنیادی طور پر مقامی بنیاد پر منظم ہیں۔جس میں میڑوپولیٹن فورس جو شہر کی اور لندن فورس کی ذمہ دار ہوتی ہے۔یہ پو لیس ہمیشہ عوام کے سا تھ مسلسل رابطے میں ر ہتی ہے اور سڑکوں پر گشت گشت کرتے ہیں، ہزاروں آنے والی گا ڑیوں کو مشورے سے نمٹے اور مشورے دہتے ہیں۔بر طا نیہ حکو مت کا دنیا میں شروع سے لیکر اب تک ذوال بلند مقام پر رہا ہے۔ اس حکومت نے سب سے پہلے اپنے لوگوں پر بلین ڈالر خرچ کیے ان کو اعلی مقام کے اسکول، کالج،یونیورسٹی اور ہسپتال بناکر دیں، تا کہ لو گوں کو تعلیم اور صحت کی کمی نہ ہو، تا کہ ہمارے بناے ہوے قوانین پر ہر کوئی پاپندی کریں۔ بر طا نیہ حکو مت اپنے مشن میں کا میاب ہوگہی۔جو کہ آج لندن ایک مصروف عالمی شہر بن چکا ہے۔جس میں فن، تجارت، تعلیم، تفریح، فیشن، فنانس، صحت کی دیکھ بھال، میڈیا، پیشہ وارانہ خدمات ، تحقیق وترقی،سیاحت اور تقل وحمل ہیں۔ آ ج لندن دنیا کا سب سے بڑا ما حولیاتی مر کذ بھی ہے۔جو کہ آ ج کل ہمارے حکمرانوں کا آئے دن لندن میں چہل پہل لگارہتا ہے،جس سے اربوں روپے اخراجات ہمارے قومی خزانہ کو برداشت کرنا پرتے ہے۔

۱۸۶۶ء میں ایک سال کے دوران لند ن کی سڑکوں پر سڑک حادثات پیش آئے۔جس کی وجہ سے ۱۱۰۲ افراد ہلاک ہوئے اور ۱۳۳۴ افراد زخمی ہوئے۔ ۱۸۶۸ء میں ایک انگریز ریلوے انجینیر جان(John Peake Knight ) نا ئٹ نے ٹر یفک لا ئٹ کا تعارف کروایا۔یہ ٹریفک کو کنٹرول کر نے اور سڑکوں کے حاداثات کی تعداد کو کم کرنے کے لئے سگنلنک سٹم پیش کیا گیا۔نائٹ کا ایجاد کیا ہوا،ایک ٹریفک پولیس واڑڈن کے زریعہ چلایا گیا تھا۔ ویسٹ مینسٹرپل کے قریب ۹ دسمبر ۱۸۶۸ء کو (Great George Street and Bridge Street, ) لندن SW1 کے چوک پر دنیا کا پہلا ٹر یفک سگنل اینسٹا لیثن کی گہی تھی۔یہ گیس سے چلنے والے لیمپ تھے،جس میں سرخ اور سبز روشنی چلتی تھی۔ کچھ عرصہ بعد گیس لیمپ سے چلنے والی روشنی سے ایک دھما کہ ہوا ، جس سے ایک پو لیس ا ہلکار زخمی ہو گیا تھا۔پھر اس نظام کو ختم کر دیا گیا۔ ۱۹۱۲ء میں ایک مر یکی پو لیس ا ہلکار(Lester Wire) جو بڑھتی ہوئی ٹر یفک سے تعلق رکھتا تھا۔اس کو الیکٹر یکل ٹر یفک لا ئٹ کا خیال آیا۔Lester Wire) ڈیزائن کی بنیاد پر ۵ اگست ۱۹۱۴ء کو ( East 105th Street and Euclid Avenue in Cleveland, Ohio) کے کونے پر پہلی الیکٹر یکل ٹر یفک لا ئٹ انسٹال کی گہی۔۱۹۲۹ہ میں دوبارہ لندن میں لیکٹر یکل ٹر یفک سگنل کو متعارف کر وادیا گیا۔جو کہ آج لندن کی سڑکوں پر کیمپیوٹررائز لیکٹر یکل ٹر یفک سگنل لگے ہوئے ہیں ۔وہاں کے لوگ اپنا پہیہ زبراکراسنگ سے پہلے روکتے ہیں،جب سرخ روشنی چل رہی ہوتی ہے،کیو نکہ وہ جا نتے ہیں کہ ٹر یفک سگنل، گا ڑیوں اور پیدل چلنے والے لو گوں کے لیے، ٹر یفک کو کنٹرول کر نے کے لیے قا بل قدر آلات ہیں۔اس کے ساتھ ٹر یفک سگنل عوام کی بہتر رہنمائی کے لیے ، سڑک کے قریب رفتار کو کم کر نے اور سڑک حادثات سے بچاتی ہے، اس طرح ڈرائیونگ کی عادت کو بھی بہتربناتی ہے۔ وہاں کے لوگوں میں سے اگر کوئی ٹر یفک قوانین کی خلاف ورزی کرے، ڈوران ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال ، سگڑیٹ نوشی، سگنل کا توڑناوغیرہ وہاں ایک بھاڑی جرمانہ ادا کرنا پرتا ہے ،تقریبا ۱۰۰۰ یورویا زیادہ بھی ہو سکتا ہے اور اگر کوئی ۱۸ سال سے کم عمر کے بچے ڈرائیونگ کرے تو اُس کے باپ کو جیل کر دی جاتی ہے۔

پاکستان میں ٹر یفک سگنل کی آمد کا آغازسب سے پہلے کراچی میں ۱۹۵۱ء کو ا نسٹال کئے گئے تھے۔اُس وقت پاکستان نیانیا وجود میں آیا تھا۔ ہماری عوام ابھی اتنی تعلیم یافتہ نہیں تھی ۔اُن کو نہیں پتا تھا ،اس لا ئٹ کا کیا مقعد ہے اور کیوں لگائی گئی ہے۔ و ہ ا ن لائٹ پر اپنا پہیہ نہیں روکتے تھے، سڑکوں پر حادثات آئے دن ہوتے رہتے تھے،جس سے لوگ زخمی بھی اور ہلاک ہوتے تھے۔حکومت نے نوٹس لیا، ٹر یفک قوانین کے سائن بور ڈ بنائے ، جہاں جہاں ٹر یفک لا ئٹ تھی ،اُن کوساتھ ساتھ لگا دیا تا کہ لوگ اس پیغام کو پڑے ٹریفک قوانین کا احترام کرے اور سڑک حادثات سے بچا جائے۔لیکن حکومت ناکام رہی، سڑکوں پر حادثات آئے روز بڑھتے گئے،لوگ کی بھی جانے جاتی رہی،یہ سلسلہ کہی سالوں تک رہا۔ جب نئی حکومت آتی ، تو اُس کے اپنے بنائے قوانین ہوتے ،لیکن ان کے پاس سڑکوں پر حادثات سے بچانے کا کوئی حل نہ ہوتا تھا۔۲۰۰۸ء میں حکومت نے بڑ تی ہوئی ٹریفک اور سڑکوں کے حادثات کو کم کرنے کے لئیپھر سے نوٹس لیا ، اربوں روپے کے اخراجات کئے،ایک نئی ٹریفک پولیس کو متعارف کروایا،لاہور ، دیگر شہروں میں ٹریفک سگنل لائٹ انسٹال کروائی، نئی سڑک، نئے انڈرپاس بنائے تاکہ ہر روز بڑ تی ہوئی ٹریفک اور سڑکوں کے حادثات کو کم کرنے کے لئے یہ منصوبہ بندی کی گئی، لیکن پھر بھی حکومت ناکام رہی ہے۔ آخر کار کیا وجہ تھی ،جس سے حکومت ہمیشہ ناکام رہی ہے۔آج پاکستان کو بنے ۷۰ سال ہوچکے ہے۔آج بھی ہماری ٹریفک کا نظام ویسے ہی ہے جیسا کہ ۱۹۵۱ء کو تھا۔ ہم آج بھی اپنا پہیہ نہں روکتے زبرا کراسنگ لائن سے پہلے جبکہ سرخ بتی بھی چل رہی ہوتی ہے۔آج بھی حکومت اس نظام کو بہتر بنانے کے لیے اربوں روپے خرچ کررہی ہے،تاکہ روزبروز سڑک حادثات ہوتے ہیں ،اس سے مکمل طور پربچا جائے۔اگر حکومت پہلے ہی سے لندن جیسی سوچ رکھتی ،اپنا قومی خزانہ سے آدھا بچٹ لوگوں کی تعلیم اور صحت پر خرچ کرتی ، لندن جیسی اعلی مقام کے اسکول، کالج،یونیورسٹی اور ہسپتال بناکر دیتی تا کہ لو گوں کو تعلیم اور صحت کی کمی نہ ہو، تی تا کہ حکومت کے بناے ہوے قوانین پر ہر کوئی پاپندی کرتا،پھر آج یہ نوبت نہ آتی اور نہ ہی حکومت کو اپنی صحت کی دیکھ بھال کے لیے آج لندن نہ جانا پڑتا ، اگر یہ سب کچھ پاکستان میں بنا ہوتا تو آج اربوں روپے کے اخراجات ہمارے قومی خزانہ کو برداشت کرنانہ پڑتے ۔
میں ادویات بنانے والی کمپنی میں کام کرتا ہوں ۔ میرا ہر روز مختلف سرکاری ہسپتالوں میں دورہ ہوتا ہے۔ وہاں ایمرجنسی کے باہر ریسکیو۱۲۲ ۱ گاڑیوں کی ا یک لمبی قطار کو ہر روز دیکھتا ہوں۔جس میں زیادہ تر لوگ سڑک حادثات کی وجہ سے شدید زخمی ہوئے ہوتے ہیں اوراُن کو او ٹی ایمرجنسی کے کمرے لیجایاجاتا ہے۔ وہاں سینہرڈاکٹرنہ ہونے کی وجہ سے نوجوان ڈاکٹروں بڑا پریشر ہوتا ہیں اور ان تمام مریضو ں کا ڈر ڈر کر علاج کر رہے ہوتے ہیں۔میں نے ریسکیو۱۲۲ ۱ کے صحافی سے کچھ سوالات کیے اور پوچھا، جو لوگ سڑک حا دثات کا سبب بتے ہیں ،اُن کی بنیادی وجہ کیا ہوتی ہے۔ صحافی نے جواب دیا ، زیادہ تر لوگ ٹریفک قوانین کا احترام نہیں کرتے جس سے سڑک حادثات کا سبب بنتے ہیں۔جب کئی سڑکوں پر سڑک حاداثات پیش آتے ہیں ، وہاں کے لوگوں سے پوچھتے اور دیکھتے ہیں ، اُن کی بنیادی وجہ زیادہ تر حد سے زیادہ رفتار ، بے تر تیب کراسنگ، ، ڈوران ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال ، سگڑیٹ نوشی، سگنل کا توڑناوغیرہ یہ زیادہ عوامل دیکھے گئے ہیں۔میں نے آخری سوال کیا اور پوچھا ،زیادہ تر لوگوں کی کیا عمریں ہوتی ہیں ، جو سڑک حا دثات کا سبب بتے ہو تے ہیں۔انھوں نے جواب دیا، مختلف عمر کے لوگ ہوتے ہیں،جس میں زیادہ تر کم عمر کے بچے دیکھے گئے ہیں ، جو ۱۸ سال سے کم ہوتے ہیں۔اگر والدین اپنے بچوں کو سختتی سے منع کرے اور کوئی وہیکل نہ دے ،اس سے سڑکوں پر حادثات کا تناسب کم ہو سکتا ہیں۔(صحافی)

والدین،ہر والدین کی ا یک ہی خواہش ہوتی ہے، کہ اپنے بچوں کو اچھی تربیت دیں اور اچھی تعلیم دلائیں۔لیکن کچھ والدین اپنے بچوں پر اتنا فخر محسوس کرتے ہیں ،انھیں چھوٹی سی عمر میں موٹرسائیکل،گاریاں دیں دیتے ہیں،اور فخر کرتے ہیں،کہ ہمارے بچوں کو سب کچھ ٓاگیاہے۔جبکہ ان کے پاس ابھی ڈرائیونگ لائنس بھی نہیں ہوتا۔جب یہ بچے کسی سڑک حادثات کا سبب بنتے ہے،جس سے شدید زخمی اور ہلاک بھی ہوتے ہیں۔پھر بھی والدین خود کو قصوروارسمجھنے کی بجائے،حکومت کو بُلابلہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ حکومت اپنا سہی سے کام نہیں کر رہی ہے،جبکہ حکومت نے واضح اعلان کیا ہے اور سڑکوں پر بینرزبھی لگائے ہیں کہ کم عمری کے بچوں کو کسی قسم کی وئیکل سختی سے منع ہے۔پھر بھی ہم ان سب کو نظر اندازکر دیتے ہیں اور اپنی مرضی کرتے ہیں۔ والدین کو چائیے کہ گھر میں جو بچے ۱۸ سال سے کم عمر ہے یا ابھی ان کے پاس ابھی ڈرائیونگ لائنس بھی نہیں بنا،ہمیں کو کسی قسم کی وئیکل نہیں چائیے، جبکہ انھیں سائیکل لیکر دینا چائیے،جس کے با شمار فائدے ہیں، ایک تو ملک کی اکانومی مضبوط ہوگی یعنی جتنا کم ازکم پٹرول خرچ ہوگا،اتنا ہی ریٹ کم ہوگا اور روزمرہ کی سازوساما ن بھی کم ریٹ پر ملے گے۔دوسرا،روزانہ کی ورش بھی ہوگی اور صحت بھی تندرست رہے گی۔ہمیں ملک کی بہتری اور مضبوط بنانے کے لیے یہ طریقہ اپنا چایئے۔

اس مطالعہ کے بعد میں نے تجزیہ کیا،ہم واقع میں نہیں روکتے اپنا پہیہ زبراکراسنگ لائن سے پہلے ،جب سرخ روشنی چل بھی رہی ہوتی ہے اور ناہی تڑیفک قوانین کا احترام کرتے ہیں،جس کی وجہ سے سڑکوں پر حادثات ہوتے ہیں، جس سے لوگ شدید زخمی اور ہلاک بھی ہوتے ہیں۔ جبکہ تڑیفک سگنل لا ئٹ ہمیں سبق دیتی ہے، کیا کرنا چایئے کہ کیانہیں اور اس طرح سڑک حادثات سے بچا تی ہے۔ لہذا ہمیں تڑیفک قوانین کا احترام کرنا چاہیے، اپنا پہیہ زبراکراسنگ لائن سے پہلے روکناچاہیے ،جب سرخ روشنی چل رہی ہوتی ہے اوردوسروں کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ، تیز رفتار ہماری زندگی کی آخری رفتار ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ حکومت تڑیفک کت نظام کو بہترسے بہتربنانے میں کو شش کر رہی ہے، پھر بھی سڑکوں پر حادثات کو کنٹرول کرنے میں نا کام ہے۔میرا ایک خیال ہے ۔اگر حکومت آج سے ہی اپنے قومی خزانہ میں سے آدھا بجٹ لوگوں کی تعلیم اور صحت کے لیے رکھ دیں، ، لندن جیسی اعلی مقام کے اسکول، کالج،یونیورسٹی اور ہسپتال بنادیں۔ دس سال کے دوران تب ایک نیا پاکستان وجود میں آسکتا ہے۔

ـــــ( محفوظ ڈرائیونگ ، زندگی کو بچاتی ہے)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rizwan Ahmad

Read More Articles by Rizwan Ahmad: 2 Articles with 778 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 May, 2018 Views: 400

Comments

آپ کی رائے
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات
By: محمد ابو سفیان اعوان, Lahore on May, 20 2018
Reply Reply
0 Like