ماضی کا دریچہ -میری پیاری دادی

(Mona Shehzad, Calgary)

"میری پیاری دادی"
میں نے اپنا بچپن نانی سے زیادہ دادی کے آنگن میں گزارا. میرے ابا اور اماں آپس میں فرسٹ کزن تھے مگر جائیداد کے تنازعے کے باعث میں نے اپنی دادی اور نانا کو آپس میں ملتے نہیں دیکھا. سگے بہن بھائی آپس میں بات نہیں کرتے تھے مگر کبھی ایک دوسرے کے خلاف بولتے بھی نہیں سنا.ہم جب گرمیوں کی چھٹیوں میں لاہور جاتے تو صبح منہ ہاتھ دھو کر ناشتہ کیے بغیر ہی نانی کے گھر سے دادی کے گھر پہنچ جاتے. دونوں گھر ایک دوسرے سے متصل تھے. پرانے اندرون لاہور کا عجب طلسماتی سا ماحول تھا. شبیر چائے والا نیچے کهوکهے پر چائے بنارہا ہوتا. فضا میں کبوتروں کی غٹرغوں کی آوازیں گونج رہی ہوتیں. تانگے والے آجا رہے ہوتے. ہم تنگ سیڑھیاں چڑھتے کمر پر بیگ ڈالے دادی کے گھر پہنچ جاتے. ہماری پهپهو اور چاچا دادی کے ساتھ رہتے تھے. دونوں غیر شادی شدہ تھے. ہماری پهپهو اپنی نوکری پر جانے سے پہلے ہم سے ہماری فرمائش پوچهتیں. ہم بڑے لاڈ سے کبھی مٹھائی، کبھی کیک کبھی نان کباب کبھی قلفی کی فرمائش کرتے. ان کے پاس پیسے ہیں یا نہیں ہمیں کبھی اس بات کا خیال نہیں آتا تھا.

میری دادی ہمیں پیار سے بٹها کر ناشتہ کرواتیں. پھر ہم حمام سے تھوڑا پانی لے کر گندے برتن دھو ڈالتے. ہم تینوں بہنیں بڑه چڑھ کر دادی کا کام کرتیں. اگرچہ ہماری دادی منع کرتیں. پھر ہمیں وه پڑھاتیں. ہماری دادی زکیہ خاتون نے اپنے وقت میں میٹرک کیا ہوا تھا. ان کو انتہائی نفاست سے انگریزی زبان پر عبور حاصل تھا. میرے دادا ذکا اللہ انگریز کے دور میں ریلوے مسلمان انجینئر تھے مگر ان کی بے وقت موت نے دادی کو عرش سے فرش پر لاکھڑا کیا. اپنوں کو آنکھیں بدلتے دیکھا. مگر ان کے منہ سے کبھی شکوہ نہیں سنا میں نے کبھی ان کے منہ سے اپنی ماں کے متعلق شکوہ یا نانا کی بدخوئی نہیں سنی تھی. اسی طرح اپنی والدہ سے کبھی ساس کے خلاف کبھی کوئی بات نہیں سنی تھی شاید اس وقت رواداری کی بہت اہمیت تھی. ..میری دادی ہمیں ہوم ورک کرواتیں پر دوپہر کے کھانے کے بعد ہمیں ساتھ لٹا کر دلچسپ اور سبق آموز کہانیاں سناتیں. میں اگر آج لکھاری اور شاعره ہوں تو اس کا سارا کریڈٹ میری دادی ذکیہ بیگم اور میری پهپهو زینت بیگم کے سر ہے.
میری دادی محبت کا دریا تھیں. چند الفاظ ان کی نظر.
جهریوں سے بهری، محبت سے گوندهی تھی میری پیاری دادی
مجھ کو محبت کرنا سکھا گئی میری پیاری دادی
وه سناتی تھی روز مجھ کو دور دیسوں کی کہانیاں
کتابوں سے دوستی میری کروا گئی میری دادی
تحمل سے بولتی ،میری اصلاح کرتی میری پیاری دادی
مجھے علم سکھاتی ، میرے چاه اٹھاتی میری پیاری دادی
وه کوئلوں کو دہکا کر شوربہ بناتی ،چاول پکاتی
اپنے ہاتھوں سے لقمے بنا کر میرے منہ میں ڈالتی میری پیاری دادی.
مجھے انسان سے پیار کرنا سکھا گئی میری پیاری دادی.

دور حاضر کا المیہ رشتوں میں تنزل ہے. اب نہ وہ رواداری اور محبت سے گندهے ہوئے وه لوگ رہے اور نہ وه باتیں. اب تو بچوں کو نفرت کا سبق گھر سے ہی دیا جاتا ہے. رشتے بٹ گئے، لوگ تقسیم ہوگئے. ہمارے بچوں کا بچپن خاندانی سیاستوں اور عداوتوں کی نظر ہے.ایماندار رشتے کو بھی بے ایمان بنا ہی دیا جاتا ہے. میں اکثر سوچتی ہوں کاش کاش ........کبھی تو صبح نوید ہو.
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 178748 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
19 May, 2018 Views: 960

Comments

آپ کی رائے