بچوں کے رویوں کو نظرانداز نہ کیا جائے

(Malik Khan Sial, )

ننھے بچے جوں جوں شعورکی منزلیں چڑھتے جاتے ہیں توں توں ان میں نت نئی خواہشات اور جذبات بھی پیدا ہو رہے ہوتے ہیں۔ جن کے اظہار کے لیے وہ ٹوٹی پھوٹی زبان اور اشاروں سے کام لیتے ہیں ۔ اس دوران ان میں ضد کا عنصر بھی داخل ہونے لگتا ہے۔ یہی وہ موقع ہوتا ہے جب ایک ماں کو نہایت احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے کہ کس طرح بچے کی بات کو پورا کرنا ہے۔ بچے کی ہر بات زبان سے نکلنے کے ساتھ ہی پوری کر دی جائے یا اسے فوراً ہی ضد کہہ کر رد کر دیا جائے۔ ہر دو انتہائیں بچے میں منفی رجحان بڑھانے کا باعث ہو سکتی ہیں۔
٭ ضد کی ایک شکل اپنی خواہش پر اصرار کے ساتھ والدین کی حکم عدولی بھی ہو سکتی ہے۔ جس کا رجحان آجکل بہت بڑھتا جا رہا ہے۔ بچے والدین کے بار بار منع کرنے کے باوجود بھی شرارتیں ، دوسرے بچوں کو تنگ کرنے اور بد تمیزی سے باز نہیں آتے۔ ذرا سی سختی کی جائے تو رد عمل کے طور پر بچے ناراض ہوجاتے ہیں اور مختلف منفی طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ان حالات میں والدین کو طیش میں آنے کی بجائے ٹھنڈے دل سے سوچناچاہیے کہ آخر بچے ایسا کیوں کرتے ہیں۔ تاکہ بچوں کی نافرمانی کی اصل وجہ اور محرکات کا پتہ چل سکے۔ ورنہ نافرمانی کا جواب غصے سے دینا معاملات کو پیچیدہ بنا دیتا ہے۔

٭ بچوں میں بڑھتی ہوئی نافرمانیوں کی سب سے بڑی وجہ طرز زندگی میں تغیرہے۔آج کل تیز رفتار زندگی میں والدین کے پاس بچوں کے لیے وقت کی کمی ہے۔ جس کی وجہ سے والدین اور بچوں کے درمیان تعلق اور اعتماد کا رشتہ قائم نہیں ہو پاتا اور یہی اعتماد کی کمی والدین کی باتوں کو رد کرنے کا موجب بنتی ہے ۔ یوں رفتہ رفتہ نافرمانی کی عادت پختہ ہوتی چلی جاتی ہے اور اس نا فرمانی کی وجہ سے وقت کی کمی کے باعث والدین کی بچوں کے معاملات میں دلچسپی کم ہوتی جاتی ہے۔
٭ عموماً والدین یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے کہ ان کے بچوں کے ہم جولی اور ساتھی کس ماحول سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہر وقت سوشل ویب سائٹس سے جڑے رہنا بچوں پر منفی نقوش مرتب کرتا ہے اور بچوں کا گھروں میں بھی والدین سے زیادہ ٹی وی اور کمپیوٹر سے جڑے رہنا اور والدین کا اسے بچوں کی اچھی مصروفیت سمجھ کر لا تعلق رہناوالدین اور بچوں میں دوریاں بڑھانے کا باعث ہے۔
٭ ناسازگار گھریلو اور خاندانی ماحول کے علاوہ سکول، مدرسے اور علاقے بھی بچے کے رویے کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اہل خانہ یا خانداان کے کسی فرد سے تعلقات میں کشیدگی یا تناؤ براہ راست حساس بچوں کی طبیعتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ سکول میں جبر یا ضرورت سے زیادہ آزادی بھی ایک اہم عنصر ہے۔ اس کے علاوہ بچے کی بنیادی ضروریات کو اگر ضد کہہ کر نظر انداز کر دیا جائے تو یہ بھی بچے کے رویے پر اثر انداز ہوتا ہے۔
٭ بچوں کا اہل خانہ، محلے کے بچوں اور سکول کے ساتھیوں سے ہروقت الجھنا تشویش ناک ہے۔ جو کہ ان کے جذباتی عدم توازن کا واضح ثبوت ہے۔

والدین کے لیے بچوں کے رویوں کو پرکھنا اور ان میں کسی غیر معمولی تبدیلی دیکھنے کی صورت میں ضروری لائحہ عمل اختیار کرنا بے حد ضروری ہے۔ذیل میں اس حوالے سے چند تجاویز درج کی جا رہی ہیں:
…… بچہ طفولیت سے بلوغت تک نشوونما کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے۔ ہر مرحلے کی اپنی خصوصیات ہیں۔ ماہرین کی رائے کے مطابق بہتر طرز عمل اختیار کر کے ان کے رویوں میں بہتری لائی جا سکتی ہے اور ان میں منفی عنصر کا تدارک کیا جا سکتا ہے۔
…… دو سے چھ سال تک کی عمر میں بچہ زیادہ تر گھریلو ماحول اور اہل خانہ تک محدود ہوتا ہے۔ بچہ عموماًایسے کام کرنے کی کوشش کرتا ہے جو بھاگنے دوڑنے والے ہیں۔ وہ ایک جگہ خاموش بیٹھنا پسند نہیں کرتا۔ اپنے کھلونوں سے بھی بہت جلد اکتاہٹ اور بوریت محسوس کرتا ہے۔ اس دور میں بچے کو کنٹرول کرنا خاصا مشکل ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر زیادہ روک ٹوک کی جائے تو بچے میں ضد کا عنصر بڑی تیزی سے پروان چڑھتا ہے جو بعد ازاں نافرمانی کا موجب بنتا ہے۔ ابتدائی عمر میں بچوں کو نت نئے کھلونوں اور کھیل میں مشغول رکھ کر نظم و ضبط کے ساتھ کچھ آزادی دینا زیادہ بہتر ہے۔ جب وہ اس قابل ہو جائے تو کچھ رنگ برنگی تصاویر سے مزین اچھی کتابوں کو اس کا بہترین مشغلہ بنایا جا سکتا ہے۔ جو سیکھنے کے عمل کو براہ راست مہمیز کرے گا۔
…… سات سے بارہ سال کے بچے دنیا سے متعلق واضح فہم حاصل کر لیتے ہیں۔بے تحاشا سوالات کر کے ہر چیز کی اصلیت معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ والدین اکثر تنگ آکر بچے کو جھڑک دیتے ہیں جسے کے ردعمل کے طور پر بچہ بھی پھر والدین کی بات سننے سے انکاری ہوجاتا ہے۔ بچے کی عمر کے اس حصے میں گھریلو ماحول، کھیل کود کے ساتھی اور سکول اثر انداز ہوتے ہیں۔ لہٰذاایسے میں ان کی نگرانی نہایت اہم ہے۔والدین کو اساتذہ سے مسلسل رابطہ رکھنا چاہیے تاکہ باہمی تعاون سے بچے کے انفرادی مسائل اور الجھنوں کو سمجھنے کی مشترکہ کوشش کی جا سکے۔
…… بچے کی عمر کا وہ حصہ جب وہ بچپن کی دہلیز پھلانگ رہا ہوتا ہے سب سے زیادہ احتیاط طلب ہے۔یہ عرصہ تیرہ سے سترہ سال کا ہوتا ہے۔ یہ ذہنی پختگی کا دور ہے ، اس میں بچے بہت جذباتی ہوتے ہیں۔ معمولی نوعیت کی معاشرتی بے اعتدالیاں اور ناانصافیاں شدید رد عمل پیدا کرتی ہیں۔ ا س عمر میں خاص طور پر بچے کو ڈانٹ ڈپٹ سے گریز اور رہنمائی کرنا ضروری ہے۔ تاکہ وہ پریشان نہ ہوں اور منفی سوچوں سے بچے رہیں۔ ان کے تخلیقی رجحانات کو جانچ کر فوری طور پر بہترین میدانوں کی طرف رہنمائی کرنا چاہیے تاکہ وہ بہتر طور پر اپنا مستقبل بنا سکیں۔بلوغت کا وقت بہت حساس ہوتا ہے۔ اس میں بچوں کی خاص طور پر والدین سے دوستی اور رہنمائی بہت ضروری ہے تاکہ وہ عمر کے اس حصے میں والدین کی باتوں کو رد نہ کریں۔
…… بچے چاہے جس عمر سے تعلق رکھتے ہوں چند عمومی اقدام ایسے ہیں جن کا مشترکہ طور پر اپنایا جانا ضروری ہے ۔ چھوٹی چھوٹی باتوں میں بچے کو انتخاب کی آزادی اور فیصلے کا شعور دینا چاہیے۔ رہنمائی کرنے والوں کا یہ کام نہیں ہوتا کہ وہ اپنا فیصلہ بچوں پر مسلط کر دیں۔ البتہ فیصلوں اور نتائج کے بارے میں احساس ذمہ داری پیدا کرنا پہلا قدم ہے۔ تاکہ خود اعتمادی پیدا کی جا سکے۔ بچوں کو بتایا جائے کہ معاشرتی اقدار کیا ہیں ۔ تربیت سے اسے اس قابل بنایا جائے کہ وہ اپنے ارد گرد کے ماحول اور اپنے کردار کا تجزیہ کرنے کے قابل ہو جائیں۔
…… بچے کو گھر اور تعلیمی ادارے میں ایسی خوشگوار فضا ملنی چاہیے جو بچے کو مسرت اور شادمانی ، توازن اور مطابقت سے ہمکنار کر دے۔ مثبت سرگرمیوں کی تلاش ،منفی سرگرمیوں سے آگاہی اور ان سے احتیاط کی تاکید کرنا والدین کا فرض ہے۔ بچے کی جذباتی تعلیم و تربیت اور فرماں برداری کا جذبہ پیدا کرنے کا ایک سنہری اصول یہ بھی ہے کہ والدین خود اپنی جذباتی زندگی میں صحت اور توازن کا ہمہ وقت خیال رکھیں۔ اگر رہنمائی کرنے والوں کی اپنی زندگی، خلش، اضطراب، تلخ کلامی اور لڑائی جھگڑوں سے پاک ہو تو بچے کی جذباتی زندگی میں بھی صحت اور توازن کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

بچے کی تربیت میں والدین کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ بچے کے گھرمیں گزرے وقت کے اثرات عمر بھر اس کی شخصیت پر حاوی رہتے ہیں۔ بچوں کے رویوں میں تبدیلی سے غفلت برتنا ایک سنگین معاشرتی جرم ہے اگر ان پر بر وقت توجہ نہ دی جائے تو وہ بڑے ہو کر اپنی ذات، اپنے خاندان، سارے معاشرے بلکہ بسااوقات پوری دنیا کے لیے زحمت بن جاتے ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Khan Sial

Read More Articles by Malik Khan Sial: 9 Articles with 5837 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 May, 2018 Views: 310

Comments

آپ کی رائے