مسافرت کے نقوش-اجمیر و بریلی اور دہلی کی مسافتیں

(Ghulam Mustafa Rizvi, India)

خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا
۴؍مئی کی دوپہر تھی۔ آفتاب نصف النہار پر تمازت بکھیر رہا تھا۔ ویسے بھی راجستھان کا علاقہ صحرائی ہے۔ گرمی کی حدّت۔ پیاس کی شدت۔ ایسی سر زمین کو خواجہ غریب نواز علیہ الرحمۃ نے اپنی خدمات کا محور بنایا…… سجستان کا علاقہ آبائی وطن تھا؛ وہ بہاروں کا مسکن تھا۔ لالہ زار تھا۔کوہ زار تھا۔ لیکن دعوتِ دین کا تقاضا تھا کہ وطن کو خیرباد کہہ کر خواجہ غریب نواز علیہ الرحمۃ ہندوستان کی سرزمین پر وارد ہوئے۔لاہور سے دہلی کا سفر،پھر دہلی سے اجمیر کی وادی۔ اُس زمانے میں اجمیر ہندوؤں کا مرکز تھا۔ ان کی عقیدتوں کا محور تھا۔ جہاں تراشیدہ اصنام کے آگے جبیں کا استحصال ہوتا تھا۔ حقوقِ بندگی سے منحرف- پتھروں کے آگے جھکے ہوئے تھے۔یوں مشرکانہ دہشت گردی شباب پر تھی۔
سلطان الہند خواجہ غریب نواز علیہ الرحمۃ نے اپنے دَمکتے کردار، چمکتی سیرت، علم و فضل کے جوہر اور خداداد صلاحیتوں کی بنیاد پر دلوں کی دُنیا میں انقلاب برپا کر دیا۔ یہ انقلاب یوں ہی نہیں آیا۔ قربانیاں دیں۔مشقتوں کی راہ سے گزرے۔ مصائب کی آندھیوں سے ٹکر لی۔ کانٹوں کی راہ چل کر اُمیدوں کے گُل و لالہ کھلائے۔ پورا صحرائی علاقہ لالہ زار بن گیا۔ ایمان کی خوش بو سے مہک مہک اُٹھا۔ مشک بار بن گیا۔ لگ بھگ ۹۰؍لاکھ افراد نے اﷲ کی توحید اور نبی مختار صلی اﷲ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار کر کے شریعت کا کلادہ گلے میں ڈالا۔گمرہی کی وادی سے نکلے، رہبری کی منزل پر فائز ہوئے۔
انھیں تصوّرات میں گم تھے کہ پیشِ نظر خواجہ غریب نواز علیہ الرحمۃ کا درِ اقدس تھا۔ جہاں عقیدتوں کی جبیں خم تھی۔ دل و جاں وجد کناں جھک گئے بہرِ تعظیم۔ ادب و عقیدت کے ساتھ حاضرِ در ہوئے۔ سلام نیاز پیش کیا۔ ہزاروں کا اژدہام یوں ہی نہیں وارد۔ بلکہ خدمتِ دین متین، تحفظِ شریعتِ مصطفی علیہ التحیۃ والثناء کے لیے ایثار نے دلوں کو بارگاہِ خواجہ غریب نواز علیہ الرحمۃ کا اَسیر بنا دیا ہے۔ سمتوں سے اہلِ محبت کی روز آمد ہوتی ہے۔قافلہ در قافلہ۔ کارواں در کارواں ہجوم تہی دامن آتا ہے، شاد شاد جاتا ہے۔
خادمِ آستانہ، خلیفۂ حضور مفتی اعظم، الحاج سید فرقان علی چشتی نے اندرونِ مزار حاضری کے لیے وقتِ شام متعین کیا۔ہم بعد از عصر بارگاہِ اقدس پہنچ گئے۔ حضرت سید فرقان علی چشتی کے صاحب زادے سید اختر رضا چشتی نے دربار میں حاضری کرائی۔ دُعائیں کیں۔ پھر ہم نے اندرون درگاہِ خواجہ غریب نواز علیہ الرحمۃ میں کافی وقت ذکر و مناجات میں گزارا۔
۵؍مئی کی صبح بعد از فجر بریلی شریف واپسی تھی۔ درگاہِ خواجہ غریب نواز علیہ الرحمۃ میں الحاج سید فرقان علی چشتی نے آخری حاضری کروائی۔ نوری مشن کے دائرۂ خدمات میں توسیع اور فروغِ اہلِ سُنّت کے لیے دُعائیں کیں۔ پھر اُن کے حجرے میں مختصر نشست رہی۔ صد سالہ عرسِ اعلیٰ حضرت کی تیاری کے سلسلے میں گفتگو رہی۔ ذکرِ بریلی رہا۔ حضور مفتی اعظم کے اکرام، حضور تاج الشریعہ کی عنایتوں۔ صدرالشریعہ کے قیامِ اجمیر مقدس کے تذکرے رہے۔ دُعاؤں کے سائے میں دودھیا گنبد کا دیدار کیا۔اور سوئے بریلی چل دیے۔جہاں سے اجمیری پیغام کو استدلال کی زبان ملی۔
شہر بریلی کی چند یادگار ساعتیں
۵؍مئی سنیچر کی شام بریلی پہنچے۔ نگہِ عشق نے شامِ اودھ کو بُھلا دیا۔ بریلی کی شام میں روحانی سکون محسوس ہوا۔عقیدت کیشی کے اسباب کیا تھے۔ تصوّرات نے اِس پہلو کو کریدا۔ کتبِ اعلیٰ حضرت کے عنوانات ہی پڑھ لیے جائیں۔ اعلیٰ حضرت کی مقبولیت کا سُراغ مِل جائے گا۔
نشمین پر بجلیاں گرائی گئیں۔ ایمان و عقیدے کا گُلشن تاراج کیا جا رہا تھا۔ رسول کونین صلی اﷲ علیہ وسلم سے ایمانی رشتے منقطع کیے جا رہے تھے۔ اﷲ تعالیٰ نے اپنے محبوبِ پاک صلی اﷲ علیہ وسلم کو بے عیب، مثالی، گناہوں سے پاک، اختیارات و عطا کا محور بنایا۔ لیکن حسد نے دل ایسا زنگ آلود کیا کہ اپنے جیسا سمجھ بیٹھے۔ انگریز کی چال یہی تھی کہ مسلمان کا رشتہ محبوب پاک صلی اﷲ علیہ وسلم سے ختم کردیا جائے۔ ان حالات میں بریلی سے ایک مردِ حق آگاہ امام احمد رضا کی شکل میں اُٹھا۔ اور ناموسِ رسالت کے تحفظ کے لیے ہر لمحہ وقف کر دیا۔ تصانیف، فتاویٰ، تحاریر کے ذریعے عظمت مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم کی سرحدوں کی نگہ بانی کی۔ شاتمانِ رسول، فتنوں کی سرکوبی کی۔ سیکڑوں کتابیں ناموسِ رسالت کے تحفظ میں لکھیں۔ استدلال کے ساتھ عظمتِ رسالت کی قدریں اُجاگر کیں۔
خدماتِ امام احمد رضا مقبول ہوئیں۔ دلوں میں محبت رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی خوشبو بس گئی۔ بزمِ ایمان معطر ہو گئی۔ روشنی پھیل گئی۔ وادیِ عشق لبریز ہو گئی۔ بزم منور ہو گئی۔ یہ انعام رب کی بارگاہ سے ملا کہ۔ جہاں جہاں عشق رسول کا نغمہ بلند ہوا۔ بہ شکل ؂
مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
شمع بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام
وہاں یہ شعر بھی محافظِ ناموسِ رسالت کی خدمات کا آئینہ بن گیا:
ڈال دی قلب میں عظمتِ مصطفی
سیدی اعلیٰ حضرت پہ لاکھوں سلام
دین کی پہچان
اﷲ تعالیٰ دین کو فتنوں سے بچانے کے لیے ہر دور میں کسی مردِ حق آگاہ کو پیدا فرماتا رہا ہے۔ اسی حکمت کا پہلو تھا کہ اکبری الحاد کے مقابل دین کی پہچان مجدد الف ثانی کی ذات بن گئی۔ اور گستاخانِ بارگاہِ رسالت کے مقابل اسلام کی حقیقی شناخت امام احمد رضا کی ذات بن گئی۔ اُن کے مرشدانِ مارہرہ مطہرہ نے اُنھیں -چشم و چراغِ خاندانِ برکات- کہا۔ معاصر سادات نے امام احمد رضا سے تعلق و نسبت پر فخر جانا۔ اپنے عہد کے تمام بڑے حضرات نے ’’اعلیٰ حضرت‘‘ کہا۔ اور حضور سیدالعلماء سید آل مصطفی میاں مارہروی نے تو یہ کہہ کر عظمت و خدمات پر مُہر ثبت کردی ؂
حفظِ ناموسِ رسالت کا جو ذمہ دار ہے
یا الٰہی مسلکِ احمد رضا خاں زندہ باد
کام کی بنیاد پر امام احمد رضا کی ذات مرجع عقیدت بن گئی۔ ان سے نسبت کی بنیاد پر عاشقانِ رسول کا مرکز اُن کا شہر کہلایا۔ حضور احسن العلماء سید مصطفی حیدر حسن میاں مارہروی نے دل لگتی بات کہی ؂
مرکزیت ہے بریلی کو نصیب
نقطۂ پرکار ہے احمد رضا
حالِ دل
ابھی شب کا دامن دراز نہیں ہوا تھا، کہ ہم بارگاہِ امام اہلِ سُنّت امام احمد رضا میں موجود تھے۔ جہاں جلوؤں کا پہرا تھا۔ نور کا سماں تھا۔ صبحِ تابندہ محسوس ہو رہی تھی یہ شب۔ لایا کہاں مجھ کو میرا مقدر۔ ایمان تازہ اور روح نہال تھی۔عقیدت تازہ اور عقیدہ توانا ہو رہا تھا۔ اِسی آستانے میں حضور مفتی اعظم، حجۃ الاسلام علامہ حامد رضاخان قادری، مفسر اعظم ہند، علامہ حسنین رضاخان، حضور ریحانِ ملت، علامہ قمر رضا خان کے مزاراتِ مقدسہ ہیں۔ جو اپنے اپنے عہد کے آفتاب و ماہ تاب تھے۔ جن کی خدمات نے زمانے کو متاثر کیا۔ زمانہ سازی کی۔حضور مفتی اعظم نے تنِ تنہا کروڑوں دلوں کو اسیرِ بارگاہِ رسالت بنایا۔ اسلام و سُنّت کا عظیم مشن آگے بڑھایا۔شُدھی کرن کے زمانے میں جماعت رضاے مصطفی کے نیٹ ورک سے لاکھوں مسلمانوں کو فتنۂ ارتداد سے بچایا، جو مرتد ہو چکے تھے انھیں داخلِ اسلام کیا۔تقدیریں مردِ مومن کی نگاہ سے سنور گئیں۔
امام احمد رضا کی بارگاہ میں مؤدب حاضری دی۔ حکایتِ دل پیش کی۔ ذکر و اذکار سے روح کو طمانیت دی۔ کیفیت تو یہ تھی کہ کاش یہاں قافلے کے قیام کی مدت طویل ہو جائے۔دُعائیں کیں۔ ایمان کی سلامتی کے لیے بارگاہِ الٰہی میں بطفیلِ اعلیٰ حضرت معروضہ پیش کیا۔ جنت نشاں بارگاہ۔ نوری شفا خانہ۔ جہاں ایمان کو تازگی ملتی ہے۔ ابھی حضور مفتی اعظم کے سرہانے پہنچے ہی تھے کہ ایک شعر ذہن میں گردش کرنے لگا۔ شاید قبولیت کے ماتھے کا جھومر تھا یہ شعر ؂
نصیب تیرا چمک اُٹھا دیکھ تو نوری
عرب کے چاند لحد کے سرہانے آئے ہیں
ہم نے حضور مفتی اعظم کی زیارت تو نہیں کی۔ ان کے کلام، ان کی خدمات کے ذریعے ان کی عظمتوں کا تعارف ہوا۔ ان کے سراپا کو حضور تاج الشریعہ کے دیدار سے محسوس کیا ۔
جنھیں دیکھ کر خدا یاد آئے
ابھی شب کا دامن دراز نہیں ہوا تھا۔ گرما کی شب اور بارگاہِ اعلیٰ حضرت کی تابشیں۔ نور کا سماں۔ روحانی کیف و سرور۔ بارگاہِ تاج الشریعہ کو چل دیے۔ کاشانۂ تاج الشریعہ کی سمت دِل کھینچے چلے جاتے ہیں۔ اس مسافرت کا ایک اہم مقصد دیدارِ تاج الشریعہ تھا۔ جس کی تعمیل کا لمحہ قریب تھا۔ ہجر کی گھڑیاں سمٹنے کو تھیں۔ وہ بندۂ مومن جس کی تقویٰ شعار زندگی مقامِ مقبولیت کا استعارہ بن چکی ہے۔ جن کی زباں میں رب نے وہ کشش دی کہ بات دل میں اُترتی ہے۔ جنھیں پاسِ شریعت ایسا کہ کبھی رجوع کی نوبت نہ آئی۔ جنھیں شہرت کی طلب نہیں۔ لیکن شہرت ایسی کہ ذرائع تشہیر ٹی وی، چینل، میڈیا، انٹرنیٹ سے مربوط بھی انگشت بدنداں و حیران و ششدر۔ جن کے چہرے کا دیدار دل کی دُنیا بدل دے۔ جن کی زیارت کو ہجوم اُمڈ آئے۔ جن کی آمد دیہاتوں، جنگلوں، ریگستانوں میں ہوجائے تو ایسا لگے کہ مردانِ غیب نے ندا کر دی ہو کہ اﷲ کا محبوب بندہ آیا ہوا ہے۔ شوقِ دیدار کو چلیں۔ اور مجمع ٹوٹ پڑے۔ مہینوں کی تگ و دو کے بعد جو اجتماع ہوتا ہے۔ویسا آن کی آن میں حضور تاج الشریعہ کی آمد پر یکجا ہو جاتا ہے۔
یہ مقبولیت وہ نہیں جو بازار میں ملتی ہو۔ جو تشہیری بنیادوں پر بنتی ہو۔جو لفاظی اور طلسمی گفتگو سے ملتی ہو۔ بلکہ یہ عطاے الٰہی ہے۔ اﷲ اپنے مخصوص بندوں کی عظمت دلوں میں ڈال دیتا ہے۔ اور ان کی جانب دلوں کو مائل کر دیتا ہے۔یوں ان کے نقوش دل و دماغ میں ثبت ہو جاتے ہیں۔ ان کی زیارت یادِ الٰہی کا سبب بنتی ہے۔ ان کا دیدار آلودہ دلوں کو نیکیوں کا مسکن بنا دیتا ہے۔حضور تاج الشریعہ کی ذات ایسی ہی ہے۔ میرے اِس موقف کی تائید آپ کو ان عام مسلمانوں سے مل جائے گی۔ جن کے دل بڑے صاف ہیں۔ جو سیدھے سادھے ہیں۔ جو مصفیٰ قلب رکھتے ہیں۔ جو مولیٰ کی رضا و خوشنودی کے طالب ہیں۔
دیدارِ مرشد
نمازِ عشا کے فوراً بعد سنجیدہ و مخلص عالم دین؛ مفتی محمد عاشق حسین کشمیری نے ہمیں زیارتِ حضور تاج الشریعہ کا موقع فراہم کرایا۔ حضرت کے چہرے پر نگاہ پڑی۔ سفر کی تکان بھول گئے۔ تازگی آگئی۔ کثیف دل لطافت سے پُر ہو گیا۔ ہم نے دست بوسی بھی کی۔ ولی کے دستِ پاک کا لمس واقعی ایمان کی حرارت بڑھا دیتا ہے۔ یہ معمولی ہاتھ نہیں۔ وہی ہاتھ ہے جس پر ہم نے بہ وقتِ بیعت عہد کیا تھا کہ -ہم نے اپنا ہاتھ غوثِ پاک کے ہاتھ میں دیا- آج انھیں کی بارگاہ میں کھڑے ہیں۔ دل کا عجب عالم ہے۔ مفتی عاشق صاحب نے بتایا: غلام مصطفی رضوی مالیگاؤں سے آئے ہیں۔ علمی و قلمی کام کرتے ہیں۔ نوری مشن سے مطبوعات شائع ہو کر بِنا قیمت تقسیم ہوتی ہیں۔ مشن نے کنزالایمان شریف کی اشاعت کی۔ مسلکِ اعلیٰ حضرت پر استقامت کی دُعا کر دیجیے۔ مرشد کا کرم ہوا۔ دُعا کو لب ہلے۔ مقبولیت کا احساس لیے ہم فرحاں واپس ہوئے۔ ابھی ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھے تھے کہ عزت و شوکت کے کئی جلوے مشاہدہ ہونے لگے۔مرشد کی نگہِ التفات کا فیض مشاہدہ ہو رہا تھا۔
تبرکات کی زیارت
محب گرامی صبوررضا بھائی تشریف لے آئے۔ان کی قیادت میں اس مقدس حجرے میں پہنچے جہاں وقت کا مفتی اعظم مسندِ افتا سے حفظِ شریعت کا فریضہ انجام دیا کرتا تھا۔ حضور مفتی اعظم نے استقامت کا وہ درس دیا کہ حکومتیں سرنگوں ہو گئیں۔ اقتدار کی باگ ڈھیلی پڑ گئی۔ فراعین وقت سرنگوں ہو گئے۔ غلبۂ اسلام کے لیے نیابتِ امام احمد رضا کا فریضہ زائد از نصف صدی سے انجام دینی والی ذات کے قلم و فتویٰ میں اﷲ تعالیٰ نے وہ تاثیر رکھی کہ باطل کے خرمن میں زلزلہ آگیا۔ فرقہ پرستوں، مشرکوں کے خیموں میں ایمر جنسی کے زمانے میں مفتی اعظم کے فتوے نے ہلچل مچا دی۔ اور اسلام غالب آیا۔ دشمنانِ اسلام مغلوب ہوئے۔ ایک مردِ حق آگاہ نے شریعت کے تحفظ کی مثال قائم کی۔
آج کل وہ مکان خلیفۂ حضور تاج الشریعہ، محمد محتشم رضا خان صاحب کی تحویل میں ہے۔ جہاں کئی تبرکات بھی موجود ہیں۔ حضرت شفقت سے پیش آئے۔ خوش دلی سے زیارتِ تبرکات کا موقع عنایت کیا۔ صبور بھائی نے زیارت کروائی۔ سبحان اﷲ! ایمان تازہ ہوگیا۔ رُوح جھوم اُٹھی۔ کیسے کیسے تبرکات :
[۱] سرکار دو عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کی زُلفِ مبارک
[۲] نقشِ قدمِ مبارک سرکار اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم
[۳] موئے مبارک سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ
[۴] موئے مبارک سرکار غوث اعظم رضی اﷲ عنہ
[۵] غلافِ کعبہ کا جُز [جو اعلیٰ حضرت سفرِ حرمین سے ساتھ لائے تھے۔ بروایت محتشم میاں]
[۶] اعلیٰ حضرت کی ٹوپی، صدری، کرتا
[۷] حضور مفتی اعظم کا عمامہ
[۸]حضور مفتی اعظم کا وہ تخت جس پر فتویٰ/تعویذ نویسی فرماتے تھے،
[۹] وہ پتھر جس پر حضور مفتی اعظم وضو فرماتے تھے ……مزید کئی تبرکات جن کی زیارت کا شرف حاصل ہوا،
سمنانی میاں سے ملاقات
منانی میاں کے فرزند حضرت مولانا عمران رضا خان سمنانی میاں کا بُلاوا آیا۔ محبت و اخلاص سے ملے۔علم دوست ہیں۔ رضویاتی کام کا ذوق رکھتے ہیں۔ اشاعتی امور پر تبادلۂ خیال ہوا۔ حضور مفتی اعظم علیہ الرحمۃ کے قائم کردہ ’’ادارۂ اشاعتِ تصنیفاتِ رضا‘‘ کی خدمات کا ذکر رہا۔ جس نے اعلیٰ حضرت کی کئی کتابیں حضور تاج الشریعہ و حضرت منانی میاں کی نگرانی میں شائع کیں۔ صد سالہ عرسِ اعلیٰ حضرت کے ضمن میں بھی اشاعتی منصوبہ بندی کی گئی۔ تصانیفِ رضا کی اہمیت اور ان کی زمانی ضرورت پر گفتگو رہی۔ آپ نے بتایا کہ تمہید ایمان کی جلد اشاعت ہونی ہے۔ جس کی تقسیم بھی ہوگی۔ کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن کی اشاعتِ تازہ کی بابت بھی عمدہ تاثرات دیے۔
تحقیقاتی ادارہ- امام احمد رضا اکیڈمی
شب تاخیر سے مولانا محمد حنیف خان رضوی (سابق پرنسپل: جامعہ نوریہ رضویہ بریلی شریف) کے عظیم ادارہ ’’امام احمد رضا اکیڈمی‘‘ حاضری ہوئی۔ جہاں سے اہلِ سُنّت کی درجنوں کتابیں شائع ہو کر منصہ شہود پر ہیں۔ ادارہ کی باوقار عمارت صالح نگر بریلی شریف میں قائم ہے۔ شب ۱۲؍بجے حاضری ہوئی۔ عمارت تین فلور پر مشتمل ہے۔ جس میں کئی شعبے: آفس، لائبریری، کمپیوٹر روم، تربیتی سینٹر، درس گاہ(جامعۃ الزہراء للبنات) قائم ہیں۔ لائبریری علمی جواہر پاروں سے پُر اور خزینۂ عرفان ہے۔ رضویات کا قابلِ قدر گوشہ بھی قائم ہے۔
امام احمد رضا اکیڈمی نے رضویات پر کام کے زاویے کو وسیع کیا۔ فتاویٰ رضویہ کی تخریج شدہ ۲۲؍جلدیں شائع کیں۔ ۵۰؍جلدوں میں رسائل رضویہ کی اشاعت کی۔اعلیٰ حضرت کے والد محترم علامہ نقی علی خان بریلوی کی کئی کتابیں شائع کیں۔ حضور مفتی اعظم کے فتاویٰ ۷؍ جلدوں میں مرتب کر کے منظر عام پر لایا۔ جامع الاحادیث کی دس جلدیں شائع ہوئیں۔ عن قریب اعلیٰ حضرت پر دائرۂ معارف ’’جہانِ امام احمد رضا‘‘ کی دس سے زائد جلدوں میں اشاعت ہو گی۔علماے کرام کی ٹیم اس پر کام کر رہی ہے۔
امام احمد رضا کے حواشی کا ایک عظیم ذخیرہ ہے جو تشنۂ طباعت ہے۔پروفیسر محمد مسعود احمد لکھتے ہیں: فتاویٰ کے علاوہ امام احمد رضا کی دیگر کتب و تصانیف خاص اہمیت رکھتی ہیں، جن کی تعداد ایک ہزار سے متجاوز ہیں ۔ان کتب و تصانیف میں شروح و حواشی اہلِ علم کی توجہ کے مستحق ہیں۔ امام احمد رضاکے ایک جلیل القدرمعاصر مولانا ہدایت رسول لکھنوی(م۱۹۱۵ء) امام احمد رضا کے حواشی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’اعلیٰ حضرت کے حواشی خود ان کے افاضات و افادات ہوتے ہیں۔‘‘ [رئیس الفقہاء،ص۱۲،طبع مالیگاؤں؛ حیاتِ اعلیٰ حضرت، ج۱، ص۱۳۸، طبع کراچی]
امام احمد رضا کے حواشی پر اکیڈمی کی ٹیم ایک عرصے سے کام کر رہی ہے۔ کتبِ حدیث پر امام احمد رضا کے حواشی بڑے جامع ہیں جن کی اشاعت سے امام کے علم کا نیا جلوہ سامنے آئے گا۔ صد سالہ عرس اعلیٰ حضرت پر اکیڈمی سے کئی حواشی کی اشاعت متوقع ہے، جو کئی جلدوں پر مشتمل ہوں گے۔ کتبِ فقہ پر حواشی بھی تخریج و تحقیق کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ ان کی اشاعت سے دُنیاے علم و فضل شاد ہوگی۔ اﷲ تعالیٰ! ان کے عزائم کو کامیابی و برکات اور وسائل سے نوازے۔ آمین۔ بجاہ سیدالمرسلین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم۔
بریلی شریف میں قلیل قیام کے سبب کئی علما سے ملاقات سے محرومی رہی۔ مفتی محمد سلیم نوری صاحب سے فون پر بات ہوئی۔مفتی حنیف خان رضوی ادھر کئی مدت سے علیل چل رہے ہیں اس لیے ان سے بھی ملاقات کی تشنگی رہی۔
قلبِ ہند میں
اسی شب دہلی روانہ ہوئے۔علی الصبح جامعہ نگر میں واقع ہوٹل ریور ویو پہنچے۔ جہاں مولانا قمر غنی عثمانی(امیٹھی شریف) نے عمدہ ضیافت کی۔ اسی ہوٹل میں موصوف نے تحریک فروغِ اسلام کی میٹنگ طلب کی تھی۔ صبح ۱۱؍بجے میٹنگ کا آغاز ہوا۔ قومی، اصلاحی،اعتقادی،سماجی و فلاحی عنوانات پر کھل کر بات ہوئی۔ ۲۵؍ سے زیادہ مندوبین موجود تھے۔ جنھوں نے بڑی فہم و فراست سے بحث میں حصہ لیا۔ پہلی نشست کا اختتام ۲؍بجے دوپہر ہوا۔ ظہر و ظہرانہ کے بعد ۳؍بجے سے شام ۶؍بجے تک دوسری نشست ہوئی۔ یہاں پر مفتی مقصود عالم ضیائی (کرناٹک)، مولانا غلام مصطفی نعیمی (دہلی)، مفتی راحت خان قادری (بریلی شریف) و دیگر علما، دانشوران، اہلِ علم، عمائدین سے شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ ان کی پُر کیف و پُر عزم باتوں نے دلوں میں گھر کر لیا۔
دہلی تاریخ اسلامی کا مقدمہ ہے۔ جہاں بزم حدیث سجی، بزم عرفان آراستہ ہوئی، ولی اللّٰہی خانوادہ نے اپنی مسندِ تدریس سے علم دین کو تقویت دی، نظامِ تعلیم کو اکنافِ ہند میں پہنچایا۔ حضرت نظام الدین اولیا نے تطہیرِ قلب کا ساماں کیا۔ اپنے مسترشدین و مریدین کے ذریعے روح کی جِلا کے لیے ملک کے طول و عرض میں کارواں بھیجے۔جنھوں نے منزلِ عرفاں کی سمت رہنمائی کی۔صدیوں تک شوکتِ اسلامی کا علَم دہلی کے اُفق پر لہراتا رہا جس کا سایہ ہندوستان پر دراز رہا۔
ایک عہد وہ بھی آیا۔ جب انگریز ملک پر قابض ہوا۔ اولیاے کرام کے مشن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔ اسلامی روایات پر شرک و بدعت کا الزام عائد کر کے قدغن لگانے کی کوشش کی گئی۔ اسی کے قائل مغل سلاطین کو قیدوبند کی صعوبتوں سے گزارا گیا۔ بقاے اسلامی کے مراکز مدارس کو بند کروا دیا گیا۔ اسلامی تمدن کے آثار مٹائے گئے۔ شعائر اسلامی کے خاتمہ کے لیے مشرکین ہند کے ذریعے تحاریک چلائی گئیں۔ جس کے بھیانک عواقب سے امام احمد رضا نے خبردار کیا۔ آج فرقہ پرست اسی زمانے کے بوئے گئے پودوں کے پھلوں سے استفادہ کر رہے ہیں۔ ہر آنے والا لمحہ مسلمانوں کے لیے امتحان کا ثابت ہو رہا ہے۔
تصوّرات کی فضا سمٹنے کو تھی کہ ہم محبوبِ الٰہی حضرت نظام الدین اولیاء کی چوکھٹ پر تھے۔ شوکت و جلالت کا پہرا تھا۔ یہ بارگاہ دہلی کی بربادی و آبادی کی گواہ ہے۔ حکومتیں ختم ہوئیں۔ تاج سرنگوں ہوئے لیکن اس درِ پاک کی تاج وری سلامت رہی۔ بے شک مراکز روحانیت کی شوکت کو زوال نہیں بلکہ اﷲ کی عطا سے عروج ہی عروج ہے۔فراز ہی فراز ہے۔ نیاز مندانہ حاضری دی۔ سکونِ دل نصیب ہوا۔ حضرت امیر خسرو کی بارگاہ میں حاضری دی۔ انھیں کے پائیں جانب سلسلۂ قادریہ کے بزرگ حضرت ابراہیم ایرجی کی بارگاہ میں نذرِ قلبی نچھاور کی، اوراُس وقت واپس ہوئے جب شب کا دامن دراز ہو چکا تھا اور گلشنِ عقیدت میں ہر سمت خوش بوؤں کا راج تھا ؂
بہر ابراہیم مجھ پر نارِ غم گلزار کر
بھیک دے داتا بھکاری بادشاہ کے واسطے
٭٭٭
نوٹ: مسافرت کی یہ منزل ۴؍ مئی سے ۷؍مئی تک پھیلی ہوئی ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Mustafa Rizvi

Read More Articles by Ghulam Mustafa Rizvi: 262 Articles with 145743 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 May, 2018 Views: 595

Comments

آپ کی رائے