زندگی کے سفر کو کریں آساں

(Muhammad Noor-Ul-Huda, )

ہمارے معاشرے میں تقریباً 70 فیصد افرد غربت کی لکیر کو چھو رہے ہیں یا اس سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ ان افراد کی زندگی کا سفر کیسے گزر رہا ہے ، یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم بعض اوقات حقیقت کو سامنے دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتے ہیں ۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی کے مطابق پاکستان کے ہر 10 میں سے 4 افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ۔ ان سفید پوش افراد کیلئے بلاشبہ معاشرے میں کسی نہ کسی سطح ، بالخصوص نجی سطح پر کچھ نہ کچھ کام ہو رہا ہے ۔ ملک میں این جی اوز کا اک جال ہے جو غریب ، متوسط ، کم وسیلہ اور وسائل سے محروم طبقات کے حالات زندگی بہتر کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں ۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ سب سے بہترین این جی او صاحب استطاعت عوام ہے جس نے ملکر مذکورہ طبقات کے حالات سنوارنے کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے ۔ ایسے لوگ ہمارے ہاں زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ہیں ۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان دنیا بھر میں سب سے زیادہ چیریٹی کرنے والا ملک ہے ۔ بلاشبہ پاکستان کو یہ اعزاز انہی صاحب استطاعت لوگوں کی خدا ترسی کی وجہ سے حاصل ہوا ہے ۔

ہر سال ماہ رمضان میں یہ جذبہ خیر مزید بڑھتا ہے اور لوگ عطیات دینے کیلئے افراد اور ادارے ڈھونڈتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ سینکڑوں خیراتی ادارے زکوۃ و صدقات اور عطیات کی اپیل لئے میدان میں نکل آتے ہیں ۔ ماہ رمضان ہمیں یہ بہترین موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اس سے جس قدر استفادہ کر سکتے ہیں ، کر لیں ۔ یہ امر ہمیں یاددہانی بھی کرواتا ہے کہ مالک کائنات نے ہمیں پسے ہوئے طبقات کا کفیل بنایا ہے اور ان کا وسیلہ بننے کی ذمہ داری ہمیں بہرصورت ادا کرنی ہے ۔ اﷲ کا صد شکر کہ اس نے ہمیں بہتر بنایا اور اچھے سے نوازا ہے ۔ سر شکر بجالانے کیلئے اس رب کے آگے بے اختیار جھک جاتا ہے ، جس نے نعمتیں عطا کررکھی ہیں …… اور ہمیں یہ ذمہ داری دے رکھی ہے کہ وسائل سے محروم لوگوں کیلئے جتنا زیادہ ہو سکے ، کیا جائے ۔ بلاشبہ ہمیں اس شکر کے جواب میں ایسے لوگوں کیلئے کچھ عملی اور ایسا کرنا ہے جو وقتی نہیں بلکہ مستقل ہو ۔

لاہور کا ثریا عظیم ہسپتال معیاری علاج اور کم خرچ پر پرائیویٹ چیک اپ کی نسبت سے جانا جاتا ہے ۔ لاہور کے وسط میں موجود یہ ہسپتال مریضوں کو ارزاں نرخوں پر علاج کی جدید سہولتیں فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے ۔ اسی ضمن میں جیسے جیسے عطیات میسر آتے ہیں ، مختلف مشینریاں انسٹال کی جارہی ہیں ۔ اس ادارے کو درپیش موجودہ چیلنج جدیدسہولیات سے آراستہ ڈائیلسز شعبہ اور کارڈیک سنٹر کا قیام ہے ۔ اس کے علاوہ مختلف شعبہ جات میں بھی انہیں ایم آر آئی سمیت دیگر نئی مشینوں کی ضرورت ہے ۔ ایم ایس برگیڈئیر (ر) ڈاکٹر ارشد ضیاء تمام تر درپیش چیلنجز کے باوجود انتہائی محنت اور استقامت کے ساتھ اس ہسپتال کو مستحکم رکھے ہوئے ہیں ۔ وہ خدمت کے میدان میں ایک قدم مزید آگے بڑھتے ہوئے ہسپتال کی اپ گریڈیشن کے خواہشمند ہیں ، جس کیلئے انہیں کم از کم 5 کروڑ روپے درکار ہیں ۔

اچھرہ لاہور کے قریب محمد علی جناح میڈیکل سنٹر کی تین منزلہ خوبصورت بلڈنگ بشیر مہدی کی زیر سرپرستی اپنی مدد آپ کے تحت چل رہی ہے جہاں اہلیان علاقہ کی سفید پوشی کا بھرم رکھا جاتا ہے اور مختلف بیماریوں کے سینئر ڈاکٹرز ، جو عام نجی ہسپتالوں میں ہزاروں روپے فیس لیتے ہیں ، یہاں شام کے اوقات میں صرف 150 روپے پرچی فیس پر مریض چیک کرتے ہیں ۔ اچھرہ کے کم وسیلہ افراد یہاں سے مستفید ہوتے ہیں جبکہ اپنی مدد آپ کے تحت چلنے کی وجہ سے یہ ادارہ مسلسل خسارہ میں ہے ۔ بجٹ کا ایک خاص حصہ تو جنریٹر کا ایندھن ہی لے جاتا ہے جبکہ باقی مسائل اور چیلنجز اس کے علاوہ ہیں ۔

اسی طرح حجاز ہسپتال ، گھرکی ہسپتال ، شوکت خانم ، فاطمید فاؤنڈیشن ، سندس فاؤنڈیشن اور ایسے دیگر مراکز صحت سفید پوش طبقات کی صحتیابی کیلئے میدان عمل میں ہیں اور خدمت کے نظام کا تسلسل برقرار رکھنے کیلئے مخیر حضرات کے منتظر ہیں ۔

ایک اور معاشرتی پہلو کی طرف آئیے ۔ پیارے نبی ﷺ کو کُل عالم کا والی بنانے سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اﷲ تعالیٰ یتیموں سے کتنا انس رکھتے ہیں ۔ یتامیٰ کی کفالت حوالے سے ہمارا مذہب بھی بہت حساسیت رکھتا ہے ۔ جگہ جگہ ان کی سرپرستی کے ضمن میں تاکید کی گئی ہے ۔ باپ کی شفقت سے محروم ان بچوں کی مختلف مدات میں کفالت کیلئے غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ ، ایدھی ہومز ، سویٹ ہومز ، ایس او ایس اور خدمت جیسے ادارے مخیر حضرات کے تعاون سے اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ اگرچہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں بسنے والے یتیم بچوں کی کفالت کا بیڑہ اٹھائے ، لیکن حکومتوں کی ترجیحات میں یہ امر کبھی شامل نہیں رہا ۔ اسی لئے دردِ دل رکھنے والے چند حضرات نے مذکورہ جیسے ادارے بنائے ہیں جہاں ہزاروں یتیم بچوں کی کفالت کا بندوبست ہے ۔ غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ پاکستان کے پسماندہ دیہاتوں میں کم وسیلہ اور یتیم بچوں کی تعلیمی کفالت کو ممکن بنائے ہوئے ہے تو دیگر اداروں میں سے کوئی ان کے طعام ، قیام ، تعلیم اور مکمل یا جزوی کفالت حوالے ذمہ داریاں اٹھائے ہوئے ہیں ۔

تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں بیواؤں اور یتیموں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ مختلف ادارے /این جی اوز تو اپنی اپنی سطح پر ان کی کفالت کا کام کر ہی رہے ہیں ، کوشش کیجئے کہ ہم میں سے ہر فرد یا ہر گھرانہ انفرادی طور پر بھی اپنے اپنے محلے کی کسی ایک بیوہ اور یتیم کے دکھ بانٹنے کا ذمہ لے لے تو یہ بھی اﷲ تعالیٰ سے قربت کا باعث ہوگا ۔

تعلیم موجودہ دور کی اولین ضرورت بن چکی ہے ۔ یہ فرد کو مستحکم اور خودمختار بھی بناتی ہے ۔ تاہم بدقسمتی سے آج اسے تجارت بنا کر رکھ دیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم ایک سفید پوش فرد کی پہنچ سے بھی دور ہو چکی ہے ۔ ایسی صورتحال میں وسائل نہ رکھنے والے بچے عام تعلیمی اداروں میں بھی داخلہ لینے سے قاصر ہیں ۔ جھگی سکولز ، الخدمت بیٹھک سکولز ، غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ سکولز اور ایسے ہی دیگر ادارے مذکورہ جیسے بچوں کیلئے آسانی کا سبب بنے ہیں جہاں ان کیلئے مفت تعلیم کا بندوبست ہے ۔

یتیم پروری اور دکھی انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھنا بلاشبہ بہت بڑی عبادات ہیں ۔ ان محروم طبقات کی زندگیوں میں رنگ بھرنے کیلئے قدرت کی جانب سے ہمیں ’’ سہولت کار‘‘ بنایا گیا ہے ۔ کہتے ہیں کہ فرض اور قرض میں محض ایک نقطے کا فرق ہے ۔ قرض دیجئے کہ فرض بھی پورا ہو اور منافع بھی حاصل ہو ۔ یہ اجر بھی ہے اور صدقہ جاریہ بھی ۔ نیکیوں کا موسم بہار ہے ۔ آئیے ہم ثریا عظیم ہسپتال ، حجاز ہسپتال ، محمد علی جناح میڈیکل کمپلیکس ، غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ ، اخوت ، سندس فاؤنڈیشن ،سعدیہ کیمپس ، رائزنگ سن جیسے اداروں کا ہاتھ تھامیں ، کہ یہ ہمارا فرض بھی ہے اور ہم پر قرض بھی …… یاد رکھئے کہ جب ہم جیسے لوگ اپنا فرض نہیں نبھاتے تو این جی اوز بنتی ہیں ۔ کوشش کیجئے کہ ہم سب اپنی اپنی ذات میں ایک این جی او بن جائیں …… اور ضرورت مندوں کی زندگی کے سفر کو آسان بنانے کی ٹھان لیں ۔ یقیناً خوبصورت سفر وہی ہے جو ہم کسی کی امید کا بجھتا ہوا دیا روشن کرنے کیلئے کرتے ہیں ۔ بلاشبہ یہی اﷲ کی شکر گزاری کا بہترین طریقہ ہے ۔ آئیے ! اﷲ پاک کے اس پسندیدہ ترین راستے اور سفر پر چلنے کیلئے اپنی اپنی استقامت کی دعا کرتے ہیں ۔ (گر ہوسکے تو مداوا ، کیوں نہ کریں ہم کسی کا) ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Noor-Ul-Huda

Read More Articles by Muhammad Noor-Ul-Huda: 48 Articles with 19660 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 May, 2018 Views: 534

Comments

آپ کی رائے